تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     17-02-2019

کیا افغانستان کی طویل‘ خونیں جنگ ختم ہونے کو ہے؟

عام قیاس یہ ہے کہ علاقائی ممالک افغانستان سے امریکی فوجوں کا جلد انخلا چاہتے ہیں۔ کم و بیش دو دہائیوں سے برسرِ پیکار افغان طالبان کا مقصد بھی یہی ہے۔ طالبان اپنی مزاحمتی جنگ کو آزادی کی جنگ سمجھتے ہیں اور کابل میں برسر اقتدار حکومت کو ایک کٹھ پتلی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اسی لیے اب تک وہ صدر اشرف غنی کی حکومت سے براہِ راست مذاکرات پہ آمادہ نہیں ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کا جنگی اور سیاسی نقشہ تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ امریکہ افغانستان میں اپنی وسیع جنگی بساط سمیٹنے پہ آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سٹیٹ آف دی یونین تقریر میں واضح طور پر کہا ہے کہ ''بڑی قومیں لا متناہی جنگ روا نہیں رکھتیں‘‘ اور یہ کہ پائیدار امن اور افغانستان میں سیاسی استحکام کے پیشِ نظر طالبان سے مذاکرات جاری رکھیں گے۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل ایک بڑی سیاسی اور سفارتی تبدیلی کی علامت ہے۔ دونوں جانب سے روایتی ہٹ دھرمی اور فیصلہ کن جنگ کے ارادوں کو ترک کر دیا گیا ہے۔ مذاکرات کے چار ادوار کے بعد واضح پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسی ماہ کے آخر میں پانچواں دور ہو گا جس میں امکانی معاہدے کے بارے میں فریم ورک پہ اتفاقِ رائے پیدا ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں۔
طالبان کا سب سے بڑا مطالبہ یہ رہا ہے کہ افغانستان پہ قابض بیرونی فوجیں ان کے ملک سے نکل جائیں۔ کچھ ماہرین پاکستان اور دیگر ممالک میں یہ تاثر پیدا کرتے رہے ہیں کہ امریکہ کبھی بھی افغانستان سے اپنی افواج نہیں نکالے گا اور وہاں قائم اپنے اڈے ختم نہیں کرے گا۔ لیکن افغانستان کی تاریخ، اور امریکہ کی خارجہ پالیسی‘ دفاعی امور کا ادراک رکھنے والوں کی سوچ اور اندازے قدرے مختلف تھے۔ پھر بھی غالب سوچ یہی رہی ہے کہ افغانستان پر امریکی تسلط برقرار رہے گا۔ حالیہ واقعات اسی تاثر کی تائید کرتے ہیں۔ 
مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود خدشات باقی ہیں۔ افغانستان کے بارے میں چند حقائق آپ کے سامنے رکھنا ضروری ہیں۔ ان حقائق کے ادراک کے بغیر ہم کسی معنی خیز نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔ افغانستان ہمیشہ کی طرح کئی دھڑوں میں منقسم ہے‘ جن میں دو واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ ایک وہ جو امریکی افواج کی سرپرستی میں اقتدار میں آئے ہیں اور جنہوں نے مال و دولت اسی جنگ کے دوران اکٹھی کی ہے۔ اُنہیں اقتدار میں رہنے کے لیے امریکہ کے بم بار طیاروں اور خصوصی عسکری دستوں کی چھتری کی ضرورت ہے۔ اُنہیں خطرہ ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد اقتدار ان کے پاس نہیں رہے گا یا کم از کم انہیں طالبان کو اقتدار میں شامل کرنا پڑے گا۔ حقیقت پسندی کا تقاضا تو یہی ہے۔ امن اور استحکام کے لیے طالبان کا اقتدار میں شامل ہونا ضروری ہے، اس لیے کہ طالبان عملی طور پر افغانستان کے نصف حصہ پر قابض ہو چکے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ کسی صوبائی دارالحکومت پر قبضہ قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نہ تو ان کے پاس فوجی صلاحیت، لشکر اور جنگی ساز و سامان ہے نہ بیرونی حمایت‘ جس سے وہ کابل پر قبضہ کر سکیں‘ بلکہ افغانستان کی طاقتور فوج ان کی ایسی کسی بھی کاوش کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہے‘ اور ان کی حمایت میں امریکہ اور ان کے اتحادی بھی میدان جنگ میں کود پڑیں گے۔
ایک اور بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کابل انتظامیہ کمزور ضرور ہے اور مضافاتی علاقوں میں اس کا اثر و رسوخ کم ہوا ہے، مگر وہ شہروں کا دفاع موثر طریقہ سے کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔ گزشتہ چند سالوں سے عملی طور پر جنگ افغانستان کی حکومتی فوجوں نے لڑی ہے۔ امریکی افواج کا کردار عسکری مشاورت اور معاونت تک محدود رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ وہ چودہ ہزار فوج میں سے سات ہزار کا انخلاچاہتے ہیں، طالبان کے حوصلے بلند ہوئے، اور ان کے حملوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ ذمہ داری کے ساتھ اور ایک معاہدے کے بعد اپنی فوجیں افغانستان سے نکالے۔ امریکہ اگر ایسا نہیں کرے گا تو افغانستان کی خانہ جنگی میں شدت آئے گی‘ اور جو کچھ امریکہ افغانستان کی تعمیرِ نو کے لئے کر چکا ہے وہ دھڑام سے نیچے آ گرے گا۔ ان معاہدے کا جو ڈھانچہ تیاری کے مراحل میں ہے، اس میں جنگ بندی کی شق اولین ہو گی۔ اس سے پہلے کہ جنگ بندی کا اعلان ہو، طالبان زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے، تا کہ زمینی حقائق اور طاقت کا توازن مزید ان کے حق میںہو جائے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کے اثرات، امن کے بعد سیاسی طور پر طالبان کے دھڑے کے لیے مثبت نتائج پیدا کریں گے۔
صدر ٹرمپ اور دیگر سیاسی رہنما افغانستان اور مشرق وسطیٰ کے جنگی میدانوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ آخر کار وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایسی جنگیں جہاں کئی برسوں سے امریکہ کی فوجیں میدان میں ہیں‘ معیشت اور معاشرت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ بڑی سے بڑی طاقت بھی ان اثرات سے بچ نہیں سکتی۔ اس طویل جنگ کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امریکہ کے اندر افغانستان کی جنگ کے بارے میں ایک مکالمہ زور و شور سے درس گاہوں اور پالیسی ساز اداروں کے علاوہ ذرائع ابلاغ پر جاری ہے۔ اکثریت کی رائے یہ ہے کہ افغانستان کی جنگ امریکہ کی جنگ اب نہیں رہی۔ اس ملک کا مستقبل اور وہاں پر امن اور استحکام کی بنیادی ذمہ داری افغانستان کے جنگجو دھڑوں، کابل حکومت اور وہاں کے عوام کی ہے۔ امریکہ جو زر اور خون کی قربانی افغانستان کے ''امن‘‘ کے لیے دے چکا ہے، اسے مزید جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔
اس حقیقت کے برعکس بعض مبصرین یہ سوال شد و مد سے اٹھاتے ہیں کہ کیا واقعی امریکہ افغانستان سے فوجی انخلا کے بارے میں مخلص ہے؟ میری رائے میں امریکہ چاہتا ہے کہ وہ اس ''طویل اور خونیں‘‘ جنگ کو ختم کرے۔ جو نتائج امریکہ اپنی مداخلت اور جنگ سے حاصل کر سکتا تھا، وہ اس نے کر لیے ہیں۔ القاعدہ اور اس کے رہنمائوں کا اب اس خطے میں سراغ نہیں ملتا۔ یا تو وہ مارے جا چکے ہیں یا وہ مغرب سے متحارب ہونے کا نظریہ تبدیل کر چکے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنے اور ایک مربوط اور طویل المدت حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد جو اس کے داخلی حالات کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ وہاں خانہ جنگی کی وجہ سے مہاجرین، جنگجو دھڑوں اور شدت پسندی نے ہمارے معاشرے کو کئی لحاظ سے متاثر کیا۔
حقیقت یہ کہ جنگ کا خاتمہ مزید جنگ سے نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان میں امن کا واحد راستہ سیاسی حل ہے، جس کے لیے مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ پاکستان کو اس کی حمایت کامیابی تک جاری رکھنی چاہیے۔ افغانستان امن کے قریب اتنا کبھی نہیں تھا‘ جتنا اس وقت ہے۔ ویسے تو کئی علاقائی اور دور دراز کے ممالک افغانستان کی جنگوں سے متاثر ہوئے ہیں، لیکن ان جنگوں کی وجہ سے جن مسائل نے پاکستان کو گھیرے میں لے رکھا ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ بیرونی ممالک کی مداخلت اور مزاحمتی جنگوں نے پاکستان کے داخلی استحکام اور قومی سلامتی کو بے حد نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے پیشِ نظر، ہم افغانستان میں جنگ اور مداخلت کے معاملات سے لا تعلق نہیں رہ سکتے، نہ رہے ہیں اور نہ رہیں گے۔ ہمارے قومی مفادات کا تقاضا یہ ہے کہ افغانستان میں امن ہو، یہ ملک متحارب جنگی دھڑوں میں تقسیم نہ ہو، ہمارے مخالف ملک افغانستان کی دھرتی اور لوگوں کو ہمارے خلاف استعمال نہ کر سکیں اور افغانستان کی حکومتوں کے ساتھ ہمارے تعلقات دوستانہ ہوں۔ سب سے بڑا مقصد اس وقت یہ ہے کہ جنگ ختم ہو۔ بہت خون بہہ چکا۔ اب خطے کو امن کی ضرورت ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved