تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     09-03-2019

ہماری جامعات کا منفرد حال

یہ باہر کی یونیورسٹیوںکا پرابلم ہو گا کہ اُن کا تعلیمی معیار کیا ہے اور اُن میں پڑھنے والوں نے اپنے مخصوص شعبوں میں کون سا مقام حاصل کیا ہے۔ یہ دردِ سر ہارورڈ (Harvard)، ییل (Yale)، پرنسٹن (Princeton)، کیمبرج (Cambridge) اور آکسفورڈ (Oxford) وغیرہ کا ہے کہ اِن کے پروفیسروں میں سے کتنے نوبل انعام یافتہ ہیں اور اِن کے فیکلٹی ممبران اپنے شعبوں میں کون سا نمایاں کام دکھا سکے ہیں۔ ہمارے ہاں یونیورسٹیوں کا معیار اور اِن کی ترجیحات بالکل مختلف ہیں۔ کیمبرج اور آکسفورڈ والے کیا جانیں کہ ہماری جامعات کی پہلی ترجیح نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ اور اِس میں تو کوئی شک نہیں کہ اِس سے زیادہ سنجیدہ کام کوئی اور ہو نہیں سکتا۔ نوبل انعامات کی اہمیت اپنی جگہ لیکن نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کہیں زیادہ اعلیٰ مقصد ہے۔ 
پاکستان کے متعدد کرشمات میں سے ایک یہ ہے کہ ایک خاص طبقۂ فکر کا بڑی جامعات پر کنٹرول رہا ہے۔ اِس طبقۂ فکر کے ہتھیاروں میں صرف نظریہ نہیں تھا بلکہ نظریے کے ساتھ ساتھ ڈنڈے کا آزادانہ اور مؤثر استعمال بھی تھا۔ ڈنڈوں کی افادیت کو بڑھانے کیلئے اِن میں کیلوں کا استعمال بھی رائج کیا گیا۔ مخصوص نظریہ تو تھا ہی لیکن جامعات پہ حاکمیت قائم کرنے کیلئے ڈنڈا نظریے سے بھی زیادہ کارآمد ثابت ہوا۔ 
اِس حاکمیت کو معراج زمانۂ ضیاء الحق میں حاصل ہوئی‘ جب نظریۂ ضیاء الحق اور اِس طبقے کی سوچ بالکل یکساں پائی گئی۔ دونوں اطراف سے یہ سوچ سامنے آئی کہ اِس اتحاد میں اِن کا بھلا ہے۔ مخصوص طبقے کا یہ خیال تھا کہ جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کا دُم چھلا بن کے اِن کی سیاسی آرزوئیں پوری ہوں گی۔ جنرل ضیاء الحق کی سوچ تھی کہ پیپلز پارٹی کے خلاف لڑائی میں اِس سوچ کے ڈنڈا بردار جتھے اِن کے کام آئیں گے۔ اِس طبقے کی آرزوئیں پوری ہوئیں یا نہیں ڈنڈا بردار جتھوں نے ضیاء حکومت کے ہراول دستے کا کام ضرورکیا۔ مجھے یاد ہے کہ 1978ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے پہلے جب پیپلز پارٹی نے ایک کمزور سے احتجاج کی کوشش کی تو کمیٹی چوک راولپنڈی میں پولیس پیچھے کھڑی رہی‘ اور آگے ڈنڈا بردار جتھے تھے‘ جنہوں نے کوئی گنجائش نہ چھوڑی کہ پیپلز پارٹی کے ورکر معمولی سا احتجاج بھی کر سکیں۔
سیاسی میدان میں جب یہ گٹھ جوڑ قائم ہوا تو اِس کا اثر جامعات پہ بھی پڑا‘ اور اُس زمانے میں اگر کسی کا جھنڈا جامعات پہ لہراتا دکھائی دیا تو اِسی ڈنڈا بردار گروہ کا تھا۔ جامعات کی ایڈمنسٹریشن اور فیکلٹیز بھی اِس گروہ کے نیچے لگی رہیں‘ اور اِسی گروہ کا ہر چھوٹے بڑے کام میں حکم چلنے لگا۔ یہ روش خاص طور پہ کہیں دیکھی جا سکتی تھی تو جامعہ پنجاب میں۔ ماضی اِس درس گاہ کا درخشاں ہو گا اور تقسیم ہند سے پہلے اِس میں بڑے نامور سکالر پائے گئے ہوں گے‘ لیکن جس زمانۂ روشنی کی ہم بات کر رہے ہیں اُس میں سکالرشپ کوئی گمشدہ حقیقت بن کے رہ گئی‘ اور سامنے کچھ رہا تو وہی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت‘ اور اُس حفاظت میں استعمال ہونے والے کیل بردار ڈنڈے۔ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے اور بھی جزئیات ہوں گے لیکن ایک اہم جزو اِس نکتے پہ ٹھہرا کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آپس میں گُھل مل نہیں سکتے۔ دیگر جزئیات پہ کمپرومائز ہو سکے‘ اِس نکتے پہ نہیں۔ لہٰذا جہاں جہاں جامعات میں ڈنڈا بردار گروہ کی حاکمیت قائم ہوئی وہاں اِس اَمر کو سختی سے یقینی بنایا گیا کہ لڑکے اور لڑکیاں کسی صورت میں اکٹھے نہ ہو سکیں۔ اور کسی شر پسند سے اگر ایسی غلطی سرزد ہوئی کہ کیفے ٹیریا میں یا کہیں اور کسی لڑکی کے قریب دیکھا گیا تو اُس کی سرزنش فوری اور مؤثر ہوئی۔ اُنہی ڈنڈوں کے ساتھ جو اِس نظریے کا نظریاتی اور حقیقی ہتھیار رہا ہے۔
زمانہ بدل گیا، جنرل ضیاء الحق بھی اِس فانی دنیا سے رخصت ہوئے، قومی اُفق پہ ڈنڈا بردار جتھوں کی وہ ٹہل سہل نہ رہی جو زمانۂ ضیاء میں تھی۔ پہلے اِکا دُکا اِس نظریے کے لوگ اسمبلیوں میں پہنچ جاتے تھے‘ لیکن جب نواز شریف نے اِس جتھے سے جان چھڑائی اور یہ گروہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے پہ مجبور ہوا تو ایوانوں تک اِس کا راستہ بھی بند ہو گیا۔ عام ووٹروں نے اِس نظریے اور اِس کے پیروکاروں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا۔ اَب تو حالت یہ ہے کہ لاہور شہر میں جہاں ایک زمانے میں اِس نظریے والوں کا بڑا رعب اور دبدبہ ہوا کرتا تھا، الیکشنوں میں چند سو ووٹوں تک اِن کی حیثیت محدود ہو چکی ہے‘ لیکن جامعات کی کہانی مختلف ہے۔ اس گہوارۂ تحقیق و تدریس جس کا نام پنجاب یونیورسٹی ہے‘ وہاں اَب بھی ڈنڈے برداروں کا مکمل نہیں تو خاطر خواہ کنٹرول چلا آ رہا ہے۔ اِس حاکمیت کی ایک جھلک باہر کی دنیا کو تب نظر آتی ہے‘ جب کسی طالب علم کے پٹنے کی خبر آئے۔ اس بناء پہ کہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھ کے چائے پینے جیسی فضول حرکت میں مبتلا تھا۔
بہت چیزیں بدل چکی ہوں گی لیکن وہ پہلا نکتۂ منشور اور وہ نظریہ نہیں بدلا کہ دنیا یہاں کی وہاں ہو جائے لڑکے اور لڑکیاں قریب نہیں آ سکتے۔ باہر کی دنیا ہماری یہ اقدار کیسے سمجھتی‘ وہ اپنی سائنس اور اپنی ایجادات میں مست رہی۔ ہمیں اپنا نظریہ عزیز ہے۔ جہاں مقابلہ سائنس کی ایجادات اور ہمارے نظریے کا ہو تو ظاہر ہے کہ ہمارا نظریہ ہی بھاری ٹھہرے گا۔ کیا ہوا کہ اوروں نے انٹرنیٹ اور کمپیوٹر ایجاد کیے۔ ہمیں استعمال کرنا ہو تو کر لیں گے لیکن نظریے پہ کوئی کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔ 
کچھ جامعات البتہ ہیں جہاں اِس نظرے کا زور نہیں چلتا۔ وہ لبرل جامعات کہلاتی ہیں۔ اور وہاں پہ اُلٹی چیز دیکھی جا سکتی ہے۔ کلاس روموں کے باہر اور کوریڈوروں میں لڑکے لڑکیاں گھنٹوں بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ یعنی راہِ تدریس سے زیادہ اِس گپ شپ میں دلچسپی نظر آتی ہے۔ ایسی صورتحال باہر کی یونیورسٹیوں میں نہیں ہوتی۔ کلاسوں کے وقت لیکچر سُنے جاتے ہیں، لائبریریوں میں بھیڑ رہتی ہے اور تفریح کا کام شام کی فرصت میں کیا جاتا ہے۔ ہمارے لڑکے لڑکیوں کو چونکہ کوئی اور موقع نہیں ملتا، وہ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے مال پہ چہل قدمی نہیں کر سکتے، تو وہ ساری کسر اپنی جامعات کے نسبتاً لبرل ماحول میں پوری کرتے ہیں۔ اِس ماحول میں جو آزادی نظر آتی ہے وہ آزادی سے زیادہ فرسٹریشن (frustration) کی علامت ہے۔ اِس اَمر سے یہ مزید عکاسی ہوتی ہے کہ ہمارا معاشرہ نارمل معاشرہ نہیں۔ دنیا کی راہیں الگ ہیں اور ہماری راہ الگ۔
1995ء میں مجھے تین ماہ کے لئے آکسفورڈ یونیورسٹی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اپریل کے مہینے میں انگلستان میں خاصی سردی ہوتی ہے‘ لیکن اُس سال اپریل کے آخر میں اچانک سورج نے اپنا جلوہ دکھایا اور ایک گرمی کی لہر انگلستان سے گزری۔ آکسفورڈ کے کالجوں میں ایسا لگا جیسے نوجوان طالب علموں نے، لڑکے ہوں یا لڑکیاں، اپنے آدھے کپڑے اُتار دئیے ہیں۔ آکسفورڈ شہر میں کالجوں کے درمیان سائیکل کا استعمال بہت ہوتا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں نِکرز پہنے سائیکلوں پہ نظر آتے تھے‘ لیکن میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ نِکریں پہنے لڑکیاں سائیکلوں پہ گزرتی تھیں تو اُن کی طرف کوئی نہیں دیکھتا تھا‘ سوائے ایک شخص کے۔ اُس پورے شہر میں، میں واحد آدمی ہوں گا جس کی نظریں ان کا تعاقب کرتی تھیں۔ 
یہ مثال یہ بتانے کیلئے دی کہ بحیثیت مجموعی ہماری عادات کتنی نارمل سے ہٹ کے ہیں۔ چکوال کو چھوڑئیے، لاہور کے بیشتر علاقوں میں ماڈرن طبقے کی کوئی لڑکی نمودار ہو تو تمام راہگیروں اور دکانداروں کی نظریں وہاں گھوم جاتی ہیں؛ البتہ یہ اَمر دلچسپی سے خالی نہیں کہ لاہور کے جس سرائے میں میرا قیام ہوتا ہے اور مال کے جس کلب میں کبھی کبھار جاتا ہوں‘ کوئی ماڈرن خاتون گزر جائے تو وہاں کے کام کرنے والے اُس طرف دھیان نہیں دیتے۔ یہ اس لئے کہ اُن کیلئے یہ روزمرّہ کا معمول ہے۔ جہاں روزمرّہ کا معمول تنگ نظری اور تنگ دامنی سے عبارت ہونے لگے وہاں وہی کچھ ہوتا ہے جو ہمارا معمول بن چکا ہے اور جس کا ایک خلاصہ... خلاصہ کیا کشید کیا گیا عرق... ہماری جامعات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved