تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     27-03-2019

سشما مودی سیکولرازم کے چیتھڑے

دو ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا پر پریس کانفرنس کرنے سے پہلے سشما سوراج بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کو'' پر کھوں کے گھر واپسی‘‘ کے نام پر زبردستی ہندو بنانے کے بد نما داغ کی جانب دیکھ لیتیں؟ 23 مارچ کو ہریانہ کے گائوں کتھال سرسوئی میں سکھ گردوارہ کو مسمار کرنے سے روکے جانے پر انتہا پسند ہندوئوں کے حملے سے ہلاک ہونے والے54 سالہ شمشیر سنگھ پنیا اور چندی گڑھ کے پوسٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں زیر علاج 14 زخمی سکھوں کی جانب دیکھ لیتیں؟ ہریانہ کی تحصیل ہسار کے گائوں میںمستار ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ کے اندر سکھ خاندان پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی تنظیم یوتھ ہریانوی کے حملے کے نتیجے میں سات ماہ کی حاملہ سکھ خاتون اور اس کے خاندان کو مودی کے خلاف بات کرنے پر‘گائوں نہ چھوڑنے پر زدو کوب کرتے ہوئے اس سکھ خاتون اور اس کے شوہر کو زخمی کرتے ہوئے ضائع ہو جانے والے حمل کی پولیس اور میڈیکل رپورٹ ہی دیکھ لیتیں ؟ حاملہ خاتون کو جنتا پارٹی کے غنڈوں کے ہاتھوں لگنے والے زخموں پر دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی اور آل انڈیا سکھ سٹوڈنٹس فیڈریشن نے سکھوں پرانتہا پسند ہندوئوں کے ان حملوں کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے جنتا پارٹی کے ان غنڈوں کو فوری گرفتار کرنے کا جو مطالبہ کیا ہے ‘سشما سوراج سندھ کی دو ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا پر سیا سی پریس کانفرنس کرنے سے پہلے اس اپیل کی جانب ہی دیکھ لیتیں۔
نریندر مودی اور سشما سوراج سندھ کی دو لڑکیوں کے مبینہ اغوا پر ڈرامہ رچانے سے پہلے گڑ گائوں میں اس مسلم فیملی کے زخموں کی جانب دیکھ لیتے جنہیں اس جرم میں مار مار کر ان کے گھروں سے نکال دیا گیا کہ ان کے بچے ہولی کے دن سکول سے چھٹی ہونے کی وجہ سے اپنے گھروںمیں کر کٹ کھیل رہے تھے۔ ان بچوں کو ہولی کے موقع پر کرکٹ کھیلنے کی سزا ان کی ماں اور بہنوں کو‘ ان کے جسموں پر ڈنڈوں کی بارش کرتے ہوئے دی گئی۔ سندھ کی دو لڑکیوں کے نام پر ڈرامہ رچانے سے پہلے سشما سوراج اور مودی علی گڑھ بھارت کےSlumمیں رہنے والے ان100 مسلم خاندانوں کی ویڈیو بھی دیکھ لیتے جس میں ان سب کو زبر دستی ہندو بنانے کے لیے تشدد کرتے ہوئے لے جایا جا رہا ہے اور پھر پنڈتوں کے سامنے آگ اور گیندے کے پھولوں اور ناریل پر ہاتھ رکھواتے ہوئے 100 مسلم خاندانوں کے پانچ سو سے زائد مردوں‘ عورتوں اور بچوں کے ماتھوں پر تلک لگا کر ان کو ہندو بنانے کے بعد دھمکی دی گئی کہ اگر کسی نے اپنے ماتھے پر لگے ہوئے تلک کو دھونے کی کوشش کی تو اس کو اسی Slum میں دفن کر دیا جائے گا ۔
سندھ کی دو ہندو لڑکیوں کے مسلمان ہو جانے پر بھارت شور مچا رہا ہے جبکہ بھارت کے اپنے اندر پانچ سو مسلم خواتین اور مردوں کو ہندو بنانے پر نہ تو ان کے وزیر اعظم نے اور نہ ہی پاکستان کی کسی این جی اور نہ ہی انسانی حقوق کی کسی چیمپئن نے زبان کھولی۔ سشما سوراج کو پریس کانفرنس کرنے سے پہلے گڑگائوں ہریانہ اور علی گڑھ کے Slum میں اپنے ''سیکولر ازم‘‘کے بد نما داغ نظر کیوں نہیں آئے؟پلوامہ خود کش حملے کے نتیجے میں بھارت کیCRPFکے چالیس افسروں اور جوانوں کی ہلاکت کے بعد صرف بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر حصے میں موجود انتہا پسند ہندوئوں نے مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کو نفرت آمیزنظروں سے دیکھنا شروع کر دیا۔ جب ان کے دو مگ جہازوں اور ایک ہیلی کاپٹر کی چتا پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوئی تو یہ نفرت دو چند ہو گئی۔بنکاک میں موجود میرے ایک دوست بتاتے ہیں کہ جب یہ خبریں آئیں کہ بھارتی فضائیہ نے سرجیکل سٹرائیک کرتے ہوئے بالا کوٹ میں'' جیش محمد کے تربیتی کیمپ اور مدرسے کو تباہ کرتے ہوئے350 دہشت گردوں کو ہلاک ‘‘کر دیا ہے تو بنکاک میں ہر بھارتی ہم پاکستانیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے ہمیں تحقیر آمیز نظروں سے دیکھنے لگا‘ لیکن پھر جیسے ہی دنیا بھر کے میڈیا سے یہ خبریں ملیں کہ بھارت کے دو مگ طیاروں اور ایک ہیلی کاپٹر کو پاکستانی ائیر فورس نے بھسم کر کے رکھ دیا ہے تو یہ ہم سے نظریں چرانے لگے اور اس کا بدلہ پاکستانیوں سے نفرت اور غصے بھری آگ میں دنیا بھر کے کسی بھی حصے میں موجود پاکستانیوں کو اپنے اختیارات کی دہشت کا نشانہ بنا کر لینا شروع کر دیا‘ جس کو سنگا پور‘ ملائیشیا‘ انڈو نیشیا ‘ مسقط اورامارات تک محسوس کیا جا رہا ہے۔ 
مگ طیاروں اور ہیلی کاپٹر کی تباہی‘ مقبوضہ کشمیر کے چھ مقامات پر پاک فضائیہ کی الارمنگ نشانے بازی اور ابھینندن کا غصہ‘ بھارتیوں کے رگ وپے میں سرایت کر گیا ہے جس کا اظہار بیرون ملک آنے اور جانے والے پاکستانی مسافروں کو کرنا پڑ رہا ہے ۔سنگا پور‘ مسقط‘ ہیتھرو اور دوسرے یورپی ممالک میں اکثر انڈین وہاں کی امیگریشن کا کنٹرول لئے ہوئے ہیں اور ان جگہوں پر وہ اپنا تعصب اور نفرت پاکستانیوں پر بھر پور طریقے سے نکال رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری وزارتِ خارجہ اور داخلہ کو ان ممالک سے سخت احتجاج کرنا ہو گا ورنہ نتائج اچھے نہ ہوں گے۔ بد قستی دیکھئے کہ سنگا پور کے علا وہ چند ایک عرب ممالک اور ان کی ائیر لائنز کے ذمہ داران کو تو جلد ہی اس جانب توجہ دلانا ہو گی کیونکہ امریکہ جانے کے لیے خلیج کی ایک فضائی سروس ابو ظہبی سے ہی کچھ عرصے سے امریکہ اور لندن داخلے کے لیے امیگریشن کے مراحل طے کر لیتی ہے اور اس کے لیے امیگریشن کے فرائض انڈین عملہ انجام دے رہا ہے‘ اور جو سلوک یہ پاکستانی مسافروں سے کر رہے ہیں اس نے مسافروں کوخوار کر کے رکھ دیا ہے۔ امیگریشن کے بعد ان فضائی کمپنیوں میں سروس کا تمام عملہ بھی انڈینز پر مشتمل ہے اور امریکہ جانے والے پاکستانیوں سے ان کا رویہ انتہائی ہتک آمیز ہوچکا ہے ۔ وہ خلیج کی اس ریاست سے ہی باقاعدہ ویزا لگے پاکستانیوں کو کئی قسم کے اعترا ضات لگا کر واپس بھیج رہے ہیں۔ پنجاب کے ایک اہم صوبائی وزیر صرف بھارت کے انتہا پسند ہندوئوں کا ذکرکرنے پر ہمارے لبرلز کی ہا ہا کار پر گھر بٹھا دیے گئے‘ لیکن مقابلے میں بھارت کے وزرا تو ایک طرف وزیر اعظم مودی تک مسلمانوں کے قتلِ عام پر تالیاں بجا نے میں کسی قسم کی عار محسوس نہیں کر رہے۔ یو پی اور ہریانہ کے مسلمانوں کو اس جرم میں قتل کیا جا رہا ہے کہ ان کے منہ سے آنے والی گوشت کی بو کا مطلب ہے کہ انہوں نے لازماً گائے کا گوشت کھایا ہو گا؟
امریکہ سمیت مغرب کے انتہائی تعلیم یافتہ اور خود کو روشن خیال کہنے والے معاشرے کی ذہنی پستی ہی کہا جا ئے گا کہ9/11 کے بعد مسلمانوں سے تعصب رکھنے والے میڈیا نے دنیا بھر میں اسلام کو دہشت گردی سے منسلک کر دیا حالانکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے کہیں انفرادی تو کہیں اجتماعی طور پر انتہائی خطرناک قسم کی دہشت گرد کارروائیاں کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ دور نہ جایئے بدھ مت کے پیرو کار ‘جن کے بارے میں یہی سنا جاتا رہا کہ وہ کسی کیڑے کو بھی نقصان پہنچاتے ہوئے ڈرتے ہیں‘ انہوں نے میانمار میں ہزاروں بے گناہ بچوں ‘عورتوں اوربوڑھے اور معذور مردوں کا اس بہیمانہ طریقے سے قتل عام شروع کر رکھاہے کہ جگہ جگہ نصب بدھا کے مجسمے بھی اس بر بریت پر کانپ کر رہ گئے ہوں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved