تحریر : ڈاکٹر حسن عسکری رضوی تاریخ اشاعت     02-04-2019

اکیسویں صدی کی عالمی سیاست

جاری اکیسویں صدی کو عالمی بالا دستی کی جدوجہد میں اہم تبدیلیوں کا دور کہا جا سکتا ہے۔ اس میں علم، سائنس اور ٹیکنالوجی خصوصاً کمیونی کیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجیز میں نئی نئی ایجادات بھی شامل ہیں۔
امریکہ آج بھی طاقتور ترین عسکری قوت اور بین الاقوامی نظام میں ایک عظیم معاشی طاقت ہے؛ تاہم اس کی عالمی نظام کو اپنے من پسند قالب میں ڈھالنے کی استعداد کافی متاثر ہو چکی ہے۔ اب وہ اکیلا بین الاقوامی سسٹم کی کمان کرنے کے اہل نہیں رہا کیونکہ اب طاقت کے بہت سے ایسے مراکز وجود میں آ چکے ہیں‘ جنہوں نے امریکہ کے واحد سپر پاور ہونے کے کردار کو محدود کر دیا ہے۔ اس کی کامیابی کا دار و مدار اپنے لئے سپورٹ پیدا کرنے یا کم از کم طاقت کے نئے ابھرتے ہوئے مراکز مثلاً یورپ، ایسٹ ایشیا، جاپان اور چین کی طرف سے مخالفت کو نیوٹرلائز کرنے پر ہے۔ روس بھی رفتہ رفتہ طاقت کے ایک نئے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
آج ہم ایشین صدی کی بات کرتے ہیں تو ہمارا فوکس ایشیا پیسیفک ریجن کی معیشتوں پر ہوتا ہے۔ چین بھی اپنے بیلٹ ایند روڈ پروجیکٹ کی صورت میں معاشی روابط کے ذریعے اپنی روز افزوں عالمی توسیع پسندی کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ سی پیک بھی چین کی اسی نئی معاشی ڈپلومیسی کا مظہر ہے۔
ماضی کے مقابلے میں اکیسویں صدی میں ڈپلومیسی زیادہ پیچیدہ صورت اختیار کر چکی ہے۔ اب دنیا کو ایسے واضح پاور بلاکس کی صورت میں نہیں دیکھا جا سکتا جن میں ایک یا دو ریاستیں ہی اپنے سیاسی مفادات کے تابع فیصلے کرتی ہوں۔ اب دوستانہ اور مخاصمانہ تعلقات کے بیچ کوئی واضح لائن نہیں کھینچی جا سکتی۔ دو ممالک بیک وقت ایک مسئلے پر تعاون اور دوسرے پر عدم تعاون کر سکتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں مثبت اور منفی تال میل جاری رکھا جا سکتا ہے۔ ریاستی تعلقات کا تعین کرنے میں سیاسی نظریات کا کردار بڑی حد تک مفقود ہو چکا ہے۔ آج کی کثیر جہتی دنیا میں کسی ملک کی مثبت مطابقت زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے جو تجارت اور باہمی معاشی تعامل، سرگرم ڈپلومیسی اور غیر سرکاری سماجی تال میل پر محیط ہو۔ کوئی ملک کس حد تک اشیائے صرف، سروسز، آئیڈیاز اور عوام کو علاقائی سرحدوں کے آر پار نقل و حرکت کی سہولت فراہم کرتا ہے اور سرمایہ کاری کے لئے کتنا موزوں ماحول فراہم کرتا ہے؟
اس طرح کے کئی ایک معاشی اور سماجی تعلقات باہمی انحصاری کو جنم دیتے ہیں‘ جو ممالک کے باہمی تعلقات کو ختم نہیں ہونے دیتے۔ تعلقات میں مکمل بریک ڈائون اسی وقت دیکھنے میں آتا ہے جب یہ صرف ریاست کی حد تک محدود ہوں اور معاشی و سماجی تعامل نہایت کم ہو۔ پاکستان اور بھارت کے لئے اپنا باہمی تعامل کسی بھی وقت معطل کرنا بہت آسان اس لئے ہے کہ دونوں کے معاشی و سماجی تعلقات ان کی خارجہ پالیسی اور معیشت کے تناظر میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔
تاہم امریکہ اور چین اپنے تعلقات میں تعطل کی توقع بھی نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ نہایت طاقتور معاشی مفادات وابستہ ہیں۔ چین اور امریکہ بحیرہ جنوبی چین میں ایک دوسرے کے خلاف کمر بستہ ہو سکتے ہیں یا دو طرفہ تجارت پر اضافی ٹیرف عائد کر سکتے ہیں؛ تاہم ان کی یہ چپقلش کبھی مکمل کشیدہ تعلقات کی شکل اختیار نہیں کر سکتی۔ وہ بیک وقت تعاون اور مسابقت جاری رکھیں گے۔
روس بھی عالمی سطح پر ایک مؤثر کھلاڑی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آج کل وہ اپنے ہمسایہ ممالک میں اپنی عسکری طاقت کا مظاہر ہ کر رہا ہے اور وسطی ایشیا کے ساتھ اس نے مضبوط معاشی اور سکیورٹی تعلقات استوار کر لئے ہیں۔ باقی دنیا کے ساتھ بھی وہ اپنے تعلقات کو توسیع دے رہا ہے‘ اور بالواسطہ طور پر جنوبی امریکہ، مشرق وسطیٰ اور مشرقی ایشیا میں امریکی مفادات کے لئے نئے چیلنج پیدا کر رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں روس پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لا کر اپنی خارجہ پالیسی کے آپشنز میں وسعت دینے کی طرف گامزن ہے تاکہ بھارت کے امریکہ کی طرف بھاری جھکائو میں توازن پیدا کیا جا سکے؛ تاہم روس، چین اور امریکہ کی ان کوششوں میں بھی شریک کار ہے کہ کسی طرح افغان طالبان اور امریکہ کے مابین سیاسی مفاہمت کروا کے افغانستان میں جاری جنگ اور تشدد کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں وہ پاکستان کے ساتھ بھی رابطے میں ہے‘ جس نے افغانستان کے حوالے سے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
چین اور ایشیا پیسیفک خطہ اکیسویں صدی کے ابھرتے ہوئے ستارے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس صدی کو اکثر ایشیا اور چین کی صدی قرار دیا جاتا ہے۔ اس خطے کے بعض ممالک کی معجزاتی معاشی اور انسانی ترقی کی بدولت عالمی سیاست اب شمالی امریکہ اور یورپ سے ایسٹ ایشیا پیسیفک ریجن کا رخ کر رہی ہے۔ یہ خطہ اب ایک قابل رشک معاشی مظہر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ امریکہ بھی اب نہ صرف اپنے معاشی مفادات کے پیش نظر اس خطے کی طرف کھنچا چلا آ رہا ہے بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ چین کا معاشی پھیلائو اور جنوبی بحیرہ چین کے بعض جزائر پر کنٹرول کے لئے اس کے بعض ممالک کے ساتھ پیدا ہونے والے مسائل بھی ہیں۔ امریکہ کے لئے اس خطے میں تشویش کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا اور جاپان کو لاحق خطرات لاحق ہیں‘ اور اس کے ساتھ ساتھ اس ریجن میں مقیم امریکی افواج اور امریکی مفادات کے لئے سکیورٹی چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔ شاید اس خطے میں چین اور امریکہ کے مابین مسابقت شدت اختیار کر جائے‘ مگر اس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مکمل بریک ڈائون کبھی نہیں ہو گا۔
چین افریقہ میں سرمایہ کاری، تجارت، تعمیر نو اور معاشی امداد کی صورت میں ایک جارحانہ ڈپلومیسی کی راہ پر گامزن ہے۔ کئی افریقی ممالک میں اس کی اقتصادی موجودگی خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ اگست 2017ء میں چین نے قرن افریقہ (Horn of Africa) کے ملک جبوتی میں پہلا فوجی اڈہ قائم کیا ہے۔ اس کا معاشی اشتراک کا بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ دنیا کے اہم بر اعظموں کو بری اور بحری تجارتی راستوں سے باہم منسلک کرتا ہے۔ یہ ایسا منصوبہ ہے جسے بعض ناقدین جدید نو آبادیات سے تعبیر کر رہے ہیں۔ یہ ایک گمراہ کن تاثر ہے کیونکہ بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ کسی طور دنیا پر چین کی تجارتی بالا دستی کی یقین دہانی نہیںکرا سکتا۔ کبھی کوئی ایک طاقت تنہا دنیا پر کنٹرول حاصل نہیں کر سکی۔ اکیسویں صدی میں تو ایسی بالا دستی کا تصور ہی محال ہے کیونکہ اب ایک ہی فوکل پوائنٹ سے بین الاقوامی سیاست کو چلانا یا کنٹرول کرنا ممکن نہیں رہا۔
امریکہ کی انسداد دہشت گردی کی سٹریٹیجی اور افغانستان اور عراق کے خلاف فوجی کارروائی اس کی عسکری توسیع پسندی کی عکاس ہے؛ تاہم عراق اور افغانستان میں جارحیت کے بعد پیدا ہونے والے مسائل اور شام میں امریکہ کے بالواسطہ یا بلا واسطہ ملوث ہونے سے اس امر کی بخوبی عکاسی ہوتی ہے کہ عسکری توسیع پسندی کسی طور عالمی نظام میں آپ کی بالا دستی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ اکیسویں صدی میں امریکی کردار محدود ہونے کی وجہ دیگر ریاستوں کا بتدریج اوپر آنا، پیچیدہ سماجی اور معاشی مسائل کا ظہور، بعض ممالک میں داخلی شورش کا برپا ہونا اور سرحدوں سے ماورا دہشت گردی کا سنگین سکیورٹی ایشو کے طور پر سامنے آنا ہے۔ 
اکیسویں صدی کی ایک اور اہم خصوصیت علاقائی طاقتور ممالک کا وجود میں آنا ہے‘ جو فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ معاشی توجہ بھی حاصل کر لیتے ہیں‘ جس سے ان کے ارد گرد واقع چھوٹی ریاستوں پر دبائو بڑھ جاتا ہے۔ مگر دیگر ریاستوں کی کثیر جہتی معاشی اور سیاسی ڈپلومیسی اور فوجی قوت ان علاقائی ریاستوں کے بالا دستی کے ایجنڈے کو بروئے کار لانا مشکل بنا دیتی ہیں۔
اکیسویں صدی اپنے قومی مفادات سے متعلق چوکس رہنے، ریاست کے داخلی استحکام میں تسلسل، انسانی وسائل کی ترقی کی طرف توجہ اور باقی دنیا کے ساتھ مثبت معاشی اور سفارتی تعاون قائم رکھنے کا زمانہ ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved