تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     12-04-2019

ابتدا

کوئی ابتدا کرے۔شاید کچھ سعید روحیںمتوجہ ہوں۔ اللہ کو کسی لشکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ہر مرض کی دوا ہے اور انسانوں پر ان کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔
قرار چاہئے۔ آتش و آہن کی اس بارش میں، اس گرم گفتاری سے ملک کا بھلا نہیں ہوگا۔ ڈالر کی قیمت بڑھ گئی، کاروباریوں نے ہاتھ کھینچ لیا ۔ عام آدمی خوف زدہ ہے۔
یہ تباہ کن صورتِ حال ہے۔ حکومت کو مگر پروا ہے نہ اپوزیشن کو۔ مورچے سنبھالے، وہ ایک دوسرے پر گولہ باری میں مصروف ہیں۔ کیا یہ دانائی کی بات ہے؟
اچھی خبریں بھی ہیں۔ نیلم جہلم منصوبہ تکمیل کو پہنچا اور تھر کے دو بجلی گھر بھی۔ پاکستانی حدود میں بحیرہ عرب سے گیس اور تیل کی نوید ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 75 سے 90 بلین ڈالر مالیت کے ۔ ایک آدھ دن میں نہیں سمندری خزانہ تو برسوں کی بات ہے۔ اندازے مختلف ہیں۔ سات آٹھ سال انتظار کرنا ہوگا۔ اس دوران ہم کیا کریں گے؟
ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اور اب عالمی مالیاتی ادارے کی پے در پے شائع ہونے والی رپورٹس ایک اور ہی کہانی کہتی ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ایک کے بعد دوسری دستاویز میں اور بھی کم شرح افزائش کی پیش گوئی ہے۔
بین الاقوامی سیاست پہ نگاہ رکھنے والے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان تجزیوں کا تعلق، عالمی استعمار سے بھی ہوتا ہے۔ عتاب کے شکار کسی ملک کو سزا دینا مقصود ہو تو مبالغہ بھی کیا جاتا ہے۔ داستانیں تراش بھی لی جاتی ہیں۔
مدتوں ہم نے امریکہ پہ انحصار کیے رکھا۔ اب ہمیں قیمت چکانی ہے۔ ہمارا جرم کیا ہے؟ معمول کی بد نظمی اور بد سلیقگی اپنی جگہ۔ چین کی تجارتی راہداری ایسی جسارت ہے، انکل سام جو معاف نہیں کر سکتا۔ بھارت اس کا تزویراتی حلیف ہے۔ برہمن کو علاقے کا تھانیدار بنانے کا اس نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ بیجنگ بیچ میں کود پڑا۔چین امریکہ بہادر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، تیزی سے جو ایک عالمی طاقت بن کے ابھر ااور پھیلتا جا رہا ہے۔ بھارت کے بل پر، اس پہ دبائو رکھنا مقصود ہے۔ اسی لیے ایٹمی کلب کا ممبر اسے بنایا گیا۔ اسی لیے افغانستان میں ایک بڑا کردار سونپا گیا۔ بھرپور امریکی موجودگی کے باوجود، افغانستان سے تخریب کار بلوچستان اور قبائلی پٹی میں داخل ہوتے رہے، حتیٰ کہ ایران سے بھی۔ اسی بنا پر بھارت کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دی گئی۔ چاہ بہار کی بندر گاہ پر سرمایہ کاری کرنے کی بھی۔ اس کے باوجود کہ بظاہر واشنگٹن تہران کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی، داخلی صورتِ حال کی عکاس ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، ہماری سول سروس ایسی ہو گئی کہ کسی بھی طاقت کے لیے اسے استعمال کر گزرنا ممکن ہے۔ ایک پہلو اس کا یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں آئینی تحفظ سے محروم کر دی گئی، یعنی سیاستدانوں کے رحم و کرم پہ جا پڑی۔ دوسری طرف اس بے دردی سے برتی گئی کہ اس کے صحت مند عناصر کمزور سے کمزور ہوتے گئے۔ خدا کی پناہ 23 ہزار سرکاری افسر، دہری شہریت کے حامل ہیں۔
کبھی ہم نے اسے سدھارنے اور بہتر بنانے کی کوشش نہ کی۔ کہا جاتا ہے کہ نوکر شاہی آہنی ڈھانچے کی طرح ہوتی ہے، سرکاری نظم کی عمارت جس پر استوار ہوتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ انگریز کے عطا کردہ نظام کو ہم نے گلے کا ہار بنا ئے رکھا، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ پست سے پست تر ہوتی گئی، حتیٰ کہ فواد حسن فواد اور احد چیمہ ایسے لوگ اہم ترین عہدوں پہ براجمان ہوئے۔ اسٹیبلشمنٹ سے متعلق اہم ترین امور پر فواد حسن فواد سے مشورہ کیا جاتا، حتیٰ کہ سمندر پار شاہی خاندان کی سرمایہ کاری پر بھی۔
اس پر وہ عدالتی نظام، جو جزا و سزا کی کچھ زیادہ قدرت نہیں رکھتا۔ جس میں فولاد کو موم بنایا جا سکتا ہے۔
اس پر وہ سیاسی پارٹیاں جو در حقیقت سیاسی پارٹیاں ہی نہیں۔ کرپشن تو رہی ایک طرف، شاہی گھرانوں کا تصور الگ، غیر ذمہ داری کا چلن ایسا کہ خلقِ خدا حیران ہے۔ فیصل واوڈا کو کیا کہئے، شائستہ اور متوازن مزاج سمجھے جانے والے صدر عارف علوی پہ تعجب ہے۔ ایوانِ صدر میں مشاعرہ کیا تو 36 لاکھ روپے اڑا دیئے۔ اس موسم میں یہ جسارت؟ دوسری عنایات کے علاوہ ہر شاعر کو پانچ ہزار روپے کی ایک عدد شال پیش کی گئی۔ کرنے کے بہت کام صدر کے ہیں۔ وفاقی یونیورسٹیوں کو بہتر بنائیں۔سفارت کاروں سے رابطہ رکھیں اور صوبائی حکومتوں سے بھی۔ مشاعرے کی انہیں کیا سوجھی؟ فنونِ لطیفہ کی سرپرستی مقصود تھی تو تمغے عطا کرتے ہوئے، اہلِ ہنر کا اکرام کیا ہوتا۔ اس طرح کے طفلانہ مشغلوں کا مطلب کیا ہے؟ 
میدان میں مولانا فضل الرحمن اترے ہیں کہ حکومت کو اکھا ڑ پھینکیں ۔ جاتی امرا میں ان سے سرد مہری برتی گئی۔ جناب آصف علی زرداری نے بظاہر تپاک کا مظاہرہ کیا۔ جس طرح کی رزم آرائی کے لیے موصوف آرزو مند ہیں، اس کے لیے انہیں شریف خاندان اور جماعت اسلامی کی بھرپور حمایت درکار ہو گی۔ اوّل تو وہ خود طوفان کی زد میں ہیں‘ زرداری صاحب خواہش مند بھی ہوں تو گرما کے جان لیوا ایّام میں کتنے کارکن سندھ سے بھجوا سکتے ہیں، جہاں سورج ابھی سے آگ اگلتا ہے۔ نون لیگ کا مسئلہ یہ ہے کہ کارکنوں کی نہیں، وہ لیڈروں کی پارٹی ہے۔ حضرت مولانا کا مؤقف یہ ہے کہ اصلاً اسٹیبلشمنٹ قصور وار ہے۔ بجا ارشاد، مگر کیا لیگی کارکن اس کے خلاف ہنر آزمانے پر آمادہ ہوں گے، پنجاب اور پختون خوا کے عام لوگ؟کیا جماعت اسلامی کے کارکن اس شخص کی قیادت قبول کریں گے، جو ان کی نمایاں ترجیحات میں سے ایک، کشمیر کے لیے اپنے کردار کی قابلِ قبول وضاحت کبھی پیش نہ کر سکا۔جماعت اسلامی اگر شامل بھی ہوئی تو اس عزم و ہمت کے ساتھ شاید نہ ہو، جو اس کا خاصہ ہے۔ البتہ اپنے مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے مدارس کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد وہ لا سکتے ہیں۔
نتیجہ اس کا کچھ نہیں ہوگا۔ بھارت کے ساتھ مخاصمت کے ماحول میں مہم جوئی پہ رائے عامہ شاد نہ ہوگی۔ دوسرے یہ کہ کسی حکومت کی کارکردگی کتنی ہی بری ہو، عام لوگ ابتدائی طور پر مہلت دینے کے حق میں ہوتے ہیں۔ سیاستدانوں کی اپنی ترجیحات ہیں، عامی زیادہ عملیت پسند ہوتے ہیں۔ روز روز کی اکھاڑ پچھاڑ انہیں خوش نہیں آتی۔ مولانا فضل الرحمن کی ساکھ ایسی ہرگز نہیں کہ خوش دلی سے خلق ان کا خیر مقدم کرے۔
اس مرحلے پر ایک اور شورش، پہلے سے منتشر معیشت کیلئے ایک اور دھچکا ہوگی۔
زخم کھانے والے نئے زخموں کے متحمل نہیں۔ قوم نڈھال ہے اور ملک ایسی متبادل قیادت کا آرزو مند، جو اس کے زخموں پہ مرہم رکھ سکے۔ پے در پے صدمات نے اسے سکھا دیا ہے کہ سیاستدانوں کی ہنگامہ آرائی کا آخری نتیجہ خرابی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
پنجاب میں نون لیگ اور سندھ میں پیپلز پارٹی کے ووٹروں کی ایک بڑی اکثریت ضرور موجود ہے۔ انتخابات کے درمیانی عرصے میں زیادہ اہم کردار مگر فعال طبقات کا ہوتا ہے۔ وہ کھربوں کے کھاتے کھولنے والے شریف اور زرداری خاندان کا راستہ کیوں ہموار کریں گے؟
مولانا فضل الرحمن کا خواب متشکّل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
قوم کے مقدر میں آزمائش کے مہ وسال ابھی باقی ہیں۔ اظہارِ خیال کے آداب سے ناآشنا حکمران اور ہمیشہ کی تنگ نظر اپوزیشن۔ فیصل واوڈا اور عامر کیانی ایسے وزرا اور مولانا فضل الرحمن ایسے رہنما۔
جنہیں اللہ نے درد بخشا اور ہوش مندی عطا کی ہے، سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے۔ ٹھنڈے دل سے امکانات پہ غور کرنا چاہئے۔ ٹھنڈے دل سے، انصاف اور غیر جانبداری کے ساتھ۔ لیڈروں کا موجودہ ٹولہ، سارے کا سارا ناکام ہے اور بری طرح ناکام۔
کوئی ابتدا کرے۔شاید کچھ سعید روحیںمتوجہ ہوں۔ اللہ کو کسی لشکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ہر مرض کی دوا ہے اور انسانوں پر ان کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved