تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     14-04-2019

بڑے اور بڑپّن

حکومت ہے کہ دعووں کی سطح سے بلند نہیں ہو پارہی اور ''سسٹم‘‘ ہے کہ اپنے ہونے کا کوئی نشان نہیں دے رہا۔ لوگ ایک مدت سے ڈھونڈ رہے ہیں مگر یہ ظالم خدا جانے کس کونے میں منہ چھپائے بیٹھا ہے کہ لوگ تھک ہار کر یہ کہتے ہوئے اپنی راہ لیتے ہیں کہ ؎ 
نشاں بھی کوئی نہ چھوڑا کہ دل کو سمجھائیں 
تری تلاش میں جائیں تو ہم کہاں جائیں! 
حکومت کو یہ فکر لاحق ہے کہ کسی نہ کسی طور معیشت کا قبلہ درست کیا جائے۔ بہت کچھ سوچا جارہا ہے اور اس میں سے جو تھوڑا بہت منظر عام پر آیا ہے اسے جان کر لوگ حیران کم اور پریشان زیادہ ہیں۔ پریشانی یوں زیادہ ہے کہ جو کچھ حکومت کرنا چاہتی ہے اس کے نتیجے میں نظم و تنظیم کو تو خیر کیا پیدا ہونا ہے ‘ انتشار ہی بڑھنا ہے۔ 
قومی خزانہ خطرناک حد تک خالی پڑا ہے۔ اسے بھرنے کے لیے ایک بار پھر عوام ہی پر نظریں گاڑی جارہی ہیں۔ حکومت کو چلتی حالت میں رکھنے سے متعلق عوام کی سکت خطرناک حد تک گِرچکی ہے۔ انہیں محصولات کی چکی میں بری طرح پیسا جارہا ہے۔ متعلقہ مشینری کو اب یہ بات کون سمجھائے کہ اس گائے سے مزید دودھ نہیں دوہا جاسکتا۔ اب تو انہیں نشانے پر لینے کی ضرورت ہے جو مختلف حوالوں سے مقدس گائے کا درجہ رکھتے ہیں۔ جن کی تجوریاں بھری ہوئی ہیں‘ وہ ملک کو چلانے میں اپنا کردار ادا کریں تو کچھ بات بنے۔ مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق محصولات کا تازیانہ آخر عوام پر کب تک برسایا جائے؟ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے نام پر صرف زیریں متوسط طبقے کو گھیرا جارہا ہے۔ یہ طبقہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ع
ہم کہاں تک ترے پہلو سے سرکتے جائیں! 
معاملہ کچھ ایسا پیچیدہ بھی نہیں کہ سمجھ میں نہ آسکے۔ ٹیکس نیٹ میں وسعت لانے کے لیے جس طبقے کی جیب ڈھیلی کرائی جانی چاہیے وہ تو الگ سے ایک پائی بھی دینے کو تیار نہیں۔ جن کی طرف سے دیا جانے والا ٹیکس ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرسکتا ہے وہ ٹیکس چوری میں مصروف ہیں۔ ایسی حرکتوں کا نتیجہ اس کے سوا کیا نکل سکتا ہے کہ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جائے؟ طبقات کے درمیان آمدن اور وسائل کا فرق اتنا بڑھ چکا ہے کہ عمرانیات کے ماہرین کے لب و لہجے میں بات کیجیے تو محتاط ترین انداز سے بھی صورتِ حال کو بھیانک اور دھماکہ خیز ہی کہا جائے گا۔ 
کسی بھی معاشرے یا ریاست کو سسٹم کے بغیر نہیں چلایا جاسکتا۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے ہاں سسٹم نہیں ہے۔ ہاں‘ یہ سسٹم اتنا ڈھیلا ہوچکا ہے کہ کوئی بھی اس سے کِھلواڑ کرسکتا ہے اور کر ہی رہا ہے۔ یاروں نے مل کر اسے موم کی ناک بنا ڈالا ہے کہ جس طرف جی چاہے موڑ دیجیے۔ کوئی روکے گا نہ ٹوکے گا۔ 
سسٹم کا ڈھیلا پن اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب قدم قدم پر یہ احساس یا خدشہ ستانے لگتا ہے کہ سسٹم ہے بھی یا نہیں۔ خاطر جمع رکھیے۔ سسٹم ہے اور نظری اعتبار سے گیا گزرا بھی نہیں۔ ہاں‘ سسٹم کی ڈوریں ہلانے والوں کی نیت میں اتنا فتور واقع ہوچکا ہے کہ وہ قومی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر انفرادی نوعیت کے مفادات یقینی بنانے کے لیے سرگرم رہنے ہی کو زندگی کا بنیادی مقصد سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ صورتِ ایسی ہے کہ دیکھ دیکھ کر دل میں ہَول اٹھتے ہیں‘ ذہن کام کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ صبر کا دامن تھامنا بہت اچھا وصف ہے مگر یہاں تو دل و دماغ پر نومیدی غالب آچکی ہے۔ حالات کی نوعیت کچھ ایسی پیچیدہ اور وحشت انگیز ہے کہ ع 
... دامانِ خیالِ یار چُھوٹا جائے ہے مجھ سے! 
والی کیفیت پیدا ہوچلی ہے۔ لوگ جتن کر کرکے تھک جاتے ہیں مگر دل کو قرار آتا ہے نہ امید ہی بندھتی ہے۔ 
وزیر اعظم اور ان کے رفقائِ کار جو کچھ چاہتے ہیں اُس میں یقیناً سب کچھ ہر اعتبار سے مطلوبہ معیار کا نہیں ہوسکتا۔ جہاں خرابیاں ہی خرابیاں ہوں وہاں قدم قدم پر مایوسی ہی پیدا ہوتی ہے مگر یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ ہمیں دستیاب معاشرے ہی میں جینا ہے اور اسی کو درست بھی کرنا ہے۔ اپنے اور معاشرے کے لیے درست راہ کا تعین ہم ہی کریں گے۔ کوئی اور ہمارے لیے یہ کام کرنے نہیں آئے گا۔ 
معاشرے کو درست کرنے کی سمت پہلا قدم معاشی معاملات میں توازن پیدا کرنا ہے۔ اس مقصد کا حصول یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ہر اعتبار سے بروقت‘ جامع اور معقول و متوازن ہونے چاہئیں۔ اب لازم ہوچکا ہے کہ انتہائی متموّل طبقہ کچھ قربانی دے۔ دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی جارہی ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو صرف بگاڑ پیدا کرتا رہے گا۔ ہر شعبے کو چند اداروں نے اجارہ داری کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ 
کئی معاشروں میں ایسا ہوا ہے کہ جب معاشی معاملات انتہائی بگاڑ سے دوچار ہوئے اور دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوئی تو چند بڑوں نے تھوڑے بہت ''ایثار‘‘ کا مظاہرہ کیا اور اپنے مفادات کسی حد تک قربان کرکے معاشرے کے لیے زندہ رہنے کی گنجائش پیدا کی۔ ہمارے ہاں بھی یہی کیفیت پائی جارہی ہے۔ اختیارات اور وسائل چند خاندانوں‘ اداروں یا خاصی توانا ہو جانے والی اشرافیہ تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اب بیشتر معاشی معاملات میں ریاست کا کردار محض تماشائی کا رہ گیا ہے۔ عوام کو پرسکون رکھنے کی خاطر چند ایک نیم دلانہ اعلانات کر بھی دیئے جائیں تو ان پر عمل کرانے میں ریاست کے دانتوں تلے پسینہ آ جاتا ہے۔ 
ریاستی ڈھانچے کو چلانے والا نظام مثالی حیثیت میں تو ہر طرح کے دباؤ اور انفرادی مفادات کی تکمیل سے بالا ہونا چاہیے۔ ہمارا نظام اب تک سلامت تو ہے مگر عمل کی کسوٹی پر پرکھیے تو بگاڑ ہی بگاڑ دکھائی دیتا ہے۔ یہ بگاڑ اس لیے ہے کہ نظام کو عوام کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جارہا۔ اشرافیہ نے سسٹم کو موم کی ناک میں تبدیل کرکے دوسروں کے لیے کھیلنے کی بہت ہی کم گنجائش چھوڑی ہے۔ چھوٹے یا بڑے پیمانے پر بے ایمانی کے ساتھ ہی سہی‘ کھیلنا اسی وقت ممکن ہے جب کھیل کا میدان سلامت ہو۔ اگر میدان ہی داؤ پر لگ جائے تو کوئی کہاں کھیلے گا؟ 
ریاستی نظام کی خرابیوں کو دور کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں ہونا چاہیے اور ہمیں یقین ہے کہ بہت حد تک ایسا ہی ہوگا مگر مشکل یہ ہے کہ زمینی حقیقتیں کچھ اور ہی کہانی سنا رہی ہیں۔ اگر ہم حکومت کو نیک نیت مان بھی لیں تو مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔ بات تو جب ہے کہ کچھ کرنے کی ٹھانی جائے اور پورا نہیں تو معقول حد تک عمل بھی دکھائی دے۔ یہاں تو ''نِل بٹے سنّاٹا‘‘ والا معاملہ دکھائی دے رہا ہے۔ ملک کو ڈھنگ سے چلانے کے لیے ان سے رس نچوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے جو پہلے ہی پھوس میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ 
تحریکِ انصاف نے نیا پاکستان یقینی بنانے کے نام پر اقتدار پایا ہے۔ اب لازم ہے کہ پہلے انقلابی قدم کے طور پر ان سے کچھ ایثار یقینی بنائے جن کی تجوریاں اور پیٹ لبالب بھرے ہوئے ہیں۔ عوام پر محصولات کا اضافی بوجھ ڈالنا سسٹم کو مزید کمزور کرنے کا باعث بنے گا۔ بالواسطہ محصولات کے شکنجے میں عوام کو ایک حد تک ہی کسا جاسکتا ہے۔ ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں انتہائی متموّل طبقے پر سے وسائل کا ''بوجھ‘‘ کم کیا جانا چاہیے۔ سسٹم کو مضبوط کرکے نئی زندگی بخشنے کی یہی ایک کارگر صورت دکھائی دے رہی ہے۔ زمینی حقیقتیں اس امر کی متقاضی ہیں کہ عوام کو نچوڑنے کے بجائے ملک بھر کی دولت پر قابض ہو بیٹھنے والے چند بڑوں کو جھنجھوڑا جائے‘ ان کا ضمیر جگایا جائے تاکہ وہ ریاست اور اس کے سسٹم کو چلتا رکھنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔ عوام منتظر ہیں کہ سسٹم کو ڈھنگ سے چلانے کے لیے بڑے ذرا بڑپّن دکھائیں۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved