تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     25-04-2013

سرخیاں اور متن

ہم جیتے تو پھر کسی کی باری نہیں آئے گی: عمران تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ’’ہم اقتدار میں آئیں گے تو پھر کسی کی باری نہیں آئے گی‘‘ اور اسی لیے ہم نے یہ انتظام کیا ہے کہ اقتدار میں نہ ہی آئیں کیونکہ یہ اخلاقی طور پر بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ دوسروں کے لیے اقتدار میں آنے کا راستہ ہی بند ہوجائے؛ چنانچہ اسی سلسلے میں کچھ ایسے لوگوں کو بھی پارٹی ٹکٹ دے دیے گئے ہیں تاکہ پارٹی نظر بد سے بھی محفوظ رہے، اگرچہ یہ پہلے ہی اس کا شکار ہوچکی ہے تاہم اب تو پارٹی پیپلزپارٹی کی طرف ہی امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے کہ کہیں کہیں وہ بھی نوازدشمنی میں کچھ دال دلیا کر دے جبکہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اندرون خانہ تعاون بے حد ضروری بھی ہے جیسا کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی اب تک اس کے مزے لوٹتے رہے ہیں، اگرچہ ہم تو لوٹ مار کے سخت خلاف ہیں لیکن مزے لوٹنے میں ہم کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جو کہتا ہوں وہی کروں گا‘‘ اگرچہ کچھ کرنے کے لیے اقتدار میں آنا بھی ضروری ہے ورنہ تو لطیفے کے مطابق جو کچھ کرنا ہے شیر نے ہی کرنا ہے کیونکہ شیر سامنے آجائے تو اکیلا اور نہتا آدمی کر بھی کیا سکتا ہے۔ آپ اگلے روز مالا کنڈ، لوئر دیر اور اپر دیر میں جلسوں سے خطاب کررہے تھے۔ ایک اداکارہ کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی گئی: فضل الرحمن جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ’’ ایک اداکارہ کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے‘‘ جو خاکسار کو پہلے بھی کافی پریشان کر چکی ہے کہ عورت پر ہاتھ اٹھانا یا اس کے دوبدو ہونا ہم اخلاقی طور پر بھی درست نہیں سمجھتے جبکہ اسلام کے نام پر تو وہ ووٹ بھی مانگ نہیں سکتی، بیشک اس نے دینی معلومات پر کافی دسترس حاصل کر رکھی ہے اور یہ بھی اس کی اداکاری کا ہی ایک حصہ ہے اور اگرچہ ہم سیاسی لوگ بھی اداکار ہی ہوتے ہیں لیکن ہم نے عملی طور پر یعنی کسی فلم یا ٹی وی ڈرامے وغیرہ میں ہرگز کبھی حصہ نہیں لیا، ماسوائے ان ٹی وی ٹاکس کے جن میں ہم کبھی کبھار اداکاری کے جوہر دکھایا کرتے ہیں۔ اللہ معاف کرے! انہوں نے کہا کہ ’’جمہوری عمل کا جاری رہنا ضروری ہے‘‘ کیونکہ اسی سے وہ سارے فیوض و برکات سمیٹے جاسکتے ہیں جو اس نظام کی اپنی دین ہے اور جس کے لیے سارے سیاسی رہنما اس قدر دیوانے ہوئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’مشرف بھی ہماری طرح ایک عام آدمی ہے‘‘ اگرچہ سیاست میں آنے کے بعد ہم تو کچھ ایسے عام آدمی نہیں رہے اور کئی اطراف سے خاص آدمی بھی بن چکے ہیں۔ ماشاء اللہ آپ اگلے روز ملتان اور مظفرگڑھ میں میڈیا سے گفتگو اور ایک کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ عوام کے لیے سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں: نوازشریف مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف نے کہا ہے کہ ’’ہم عوام کے لیے سب کچھ قربان کر دیں گے‘‘ اور اس سے بڑی قربانی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم عوام کی خدمت کے لیے وقت نکال لیتے ہیں اور اسی مصروفیت میں دن کا کھانا رات کو کھانا پڑتا ہے اور رات کا کھانا اگلی دوپہر کو۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک میں ڈاکوئوں اور لٹیروں کے لیے کوئی جگہ نہیں‘‘ ماسوائے ان معززین کے جن کا پکڑے جانے پر ہی پتہ چلتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ستار العیوب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’11مئی ملک اور عوام کی تقدیر بدلنے کا دن ہے‘‘ لیکن اگر تبدیلی کا نعرہ لگانے والے واقعی آ گئے تو ہمارا سارا کیا کرایا خاک میں مل جائے گا اور ساری توجہ پھر سے کاروبار پر ہی دینی پڑے گی۔ آپ اگلے روز ٹنڈوالٰہ یار میں جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ انتخابات میں حیران کن نتائج دیں گے: بلاول بھٹو زرداری پیپلزپارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’’عام انتخابات میں حیران کن نتائج دیں گے‘‘ اور اگر کئی جگہوں سے پارٹی کا صفایا ہی ہوجائے تو اس سے زیادہ حیران کن بات اور کیا ہوسکتی ہے، اگرچہ ہم گزشتہ پانچ برسوں میں اپنی جرأت مندانہ کارگزاریوں سے ملک بھر کے علاوہ ساری دنیا کو بھی کافی حیران کر چکے ہیں بلکہ زیادہ تر لوگ حیران ہونے کے ساتھ پریشان بھی ہیں کہ یہ سب کچھ اس قدر دیدہ دلیری سے کیسے کر لیا گیا اور مستقبل کے نیک ارادے بھی کچھ اس سے مختلف نہیں ہیں کیونکہ یہ طریقہ کار بھی جمہوریت کا حسن ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’11مئی تک امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں رہیں‘‘ اوراس بات کی پروا ہرگز نہ کریں کہ لوگ ان کی گزشتہ کارفرمائیوں پر ان سے گلوگیر ہونے کو پھرتے ہیں اور اگر ایک آدھ کو پھینٹی وغیرہ بھی لگ جائے تو پارٹی کی خاطر یہ قربانی ضرور دی جائے۔ آپ اگلے روز کراچی میں ویڈیو لنک کے ذریعے پارٹی رہنمائوں سے خطاب کررہے تھے۔ آج کا مطلع وقت پہلے تو کچھ ایسا کبھی آیا نہیں تھا توڑ بیٹھے ہیں اسے بھی جو بنایا نہیں تھا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved