تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     19-04-2019

ہو سکتا ہے

پاکستان میں ہر سیاسی تبدیلی کے اندر کوئی نہ کوئی بیرونی ربط رکھنے والا عنصر موجود ہوتا ہے۔ کیسے کہوں ؟ آج بھی صورت حال یکساں نہیں؟جب پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشیں ہو رہی تھیں‘ ان کی تہہ میں حسب ِروایت دو گروپ بن چکے تھے۔یہ نئی بات نہیں۔جب کسی تیاری اور منصوبہ بندی کے بغیر دریائے توی کو پار کر کے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں محاذ آرائی کی کوشش کی گئی‘ توہماری یکجہتی کو ضرب لگی۔ کہانی بڑی درد ناک ہے۔اس محاذ آرائی کے بارے میں عسکری قیادت دوحصوں میں تقسیم تھی۔جب مشرقی پاکستان میں شکست کی ''تیاریاں‘‘ ہو رہی تھیں‘ تو حسب ِروایت شیخ مجیب الرحمن کو یقین دہانیاں کرائی جا چکی تھیں۔ ایک ٹولہ یحییٰ خان کا تھا‘ جس نے شیخ مجیب کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے‘ پورے پاکستان پر قبضہ جمانے کے لئے دو گروہ بنا لئے تھے۔ ایک گروہ شیخ مجیب الرحمن کو حوصلہ دے رہا تھا‘ جبکہ دوسر ی طرف عوام کی بھاری اکثریت کے ووٹ لینے والے‘ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو بحران سے نکالنے کے جتن کر رہے تھے۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ دوفریق کون تھے؟ زیادہ غور و فکر کی ضرور ت نہیں ہے۔ سب کچھ سامنے آچکا ہے۔عوام کی خواہش تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دے کر پاکستان کو متحد اور یکجا رکھاجائے ۔تاریخ بتاتی ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجوہ کیا بنیں؟ ایک گروپ وہ تھا‘ جو مجیب کی حمایت کرتے ہوئے مغربی پاکستان‘ کے منصوبے بنا چکا تھا‘ جبکہ دوسرا گروپ وہ تھا‘ جو بھارت کے ساتھ پرُ امن بقائے باہمی کے خواب دیکھنے میں مصروف تھا۔
اب یہ راز باقی نہیں رہ گیا۔ انتہائی خونخوار جنگ کے بعد پاکستان کو دولخت کرنے کا منصوبہ صاف دکھائی دینے لگا۔وہ منصوبہ کیا تھا؟مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب کے ''رضا کاروں‘‘ نے پاک افواج کو دبائو میں لانا شروع کر دیا۔جیسے ہی یہ دبائوبڑھا‘ ذوالفقار علی بھٹو مشرقی پاکستان کے حصار میں آنے کی بجائے‘ ہنگامی انداز میں پاکستان کا جہاز لے کر مغربی پاکستان آپہنچے۔ بھارت اور مجیب الرحمن کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا دکھائی دینے لگا۔بھارت کی درپردہ فوجی مدد سے مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان کے کنٹرول سے باہر کرنے کی صورت حال پیدا کر دی گئی۔پاکستانی افواج کو ہتھیاروں سے محروم کر نے کا سلسلہ شروع کیا گیا اورپھرپاک فوج کو بھارت کے کیمپوںمیں محفوظ مقامات پر مقید کر کے رکھ لیا گیا۔ بعد کی کہانی بڑی درد ناک ہے‘پھرپاک بھارت مذاکرات کا ماحول پیدا ہوا۔ عالمی طاقتوں کے دبائو سے پاکستان اور بھارت کے باہم مذاکرات شروع کرا دئیے گئے۔ ان مذاکرات کی کڑی نگرانی کی گئی ۔ شملہ معاہدہ پر دستخط ہوئے۔ صورت حال بدل گئی۔بعد کی کہانی بڑی کر بناک ہے ۔
سوویت یونین اور عالمی طاقتوں کے فیصلہ کن دبائو کے نتیجے میں‘ پاکستان کو معاہدے پردستخط کرنا پڑ گئے۔میں کیسے بتائوں کہ اس دور میں کیسے کیسے دلفریب معاہدے کئے گئے؟ ان معاہدوں کی ٹھنڈی ہوائیں آج بھی یاد آرہی ہیں۔بات صرف یہ ہے کہ معاہدہ سرد ماحول میں ہوا اور اب ہم جس طرف بڑھ رہے ہیں‘ وہ موسم گرما ہو گا۔ معاہدے پر بھارت کی وزیراعظم مسز اندرا گاندھی نے دستخط کئے اور پاکستا ن کی طرف سے ذوالفقار علی بھٹو کو تاریخ کا ایک دور مکمل ہو گیا۔
بھٹو صاحب نے اس جبری معاہدے پر دستخط کر کے اپنی زندگی کا آخری باب لکھ دیا۔ برصغیر کے نئے نقشے میں بعض ''نئے کردار‘‘ بھی شاید شامل ہو جائیں۔ نقشے کی لکیروں میں تھوڑا سا فرق آتا ہوادکھائی دے رہا ہے؟اس مرتبہ ایک نیا کردار زبردستی گھسنے کے لئے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے‘ یہ مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے؛اگر آپ نے توجہ دی ہو تو گزشتہ چند ماہ سے بھارتی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ‘کشمیر میں کردار ادا کرنے کو بے تاب ہے۔جہاں تک میرا اندازہ ہے‘ تنازع کشمیر کے حل میںامریکہ کا قریب قریب وہی کردار ہو گا‘ جو شملہ میں سوویت یونین اور عالمی طاقتوں نے ادا کیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ دستخط سری نگر میں ہوں۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved