تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     20-04-2019

ایک میلے کی کہانی… (3)

جام اقبال کے چہرے پر پھیلی خوشی دیکھ کر میں مطمئن ہو گیا۔ دھکم پیل اب بھی جاری تھی۔ بولے: چل بھائی تیرا کام ہو گیا۔ یہ تو مجھے اندازہ تھا کہ کسی بندے کو دیکھ کر ہی ان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔ تو کیا وہ اس بندے کے ذریعے ٹکٹ لینے کے چکر میں تھے؟ لیکن اب وہ بندہ اگر کوشش بھی کرے گا تو کہاں سے ٹکٹ لائے گا؟ پہلے ہی مین گیٹ پر بہت رش تھا اور لوگ ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے۔ جب سے سپیکر پر اعلان ہوا تھا کہ ریچھ اور کتوں کی لڑائی شروع ہو گئی ہے‘ مجمع میں اندر جانے کا جنون بڑھ گیا تھا۔ 
جام اقبال نے میرا ہاتھ پکڑا اور تیزی سے اس دیوار کی طرف بڑھے جس کے اندر ریچھ اور کتوں کی لڑائی شروع ہو چکی تھی۔ دیوار زیادہ اونچی نہیں تھی لیکن اتنی چھوٹی بھی نہ تھی کہ میرے جیسا ساتویں جماعت کا لڑکا اس کے اوپر سے دیکھ سکتا؛ تاہم کچھ لوگ ابھی دیوار پر چڑھنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے تاکہ وہ اندر جھانک کر لڑائی دیکھ سکیں۔ جام اقبال نے کسی کو آواز دی۔ وہ بندہ سیدھا ان کی طرف دوڑا آیا۔ جام اقبال بولے: تم ایک کام تو کرو۔ وہ بولا: جام صاحب حکم۔ جام اقبال بولے: اسے ریچھ اور کتے کی لڑائی دکھانی ہے۔ اس بندے نے حیران ہو کر پہلے جام اقبال اور پھر مجھے دیکھا اور پھر اس کی نظریں بے ساختہ اس گیٹ کی طرف بڑھ گئیں جہاں لوگ ایک دوسرے کو دھکے دے کر اندر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔وہ بولا: جام صاحب لڑائی تو پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ وہاں کے حالات آپ دیکھ رہے ہیں۔ اب تو ٹکٹ ملنا بھی بند ہو گئے ہیں۔ اب کیا ہو سکتا ہے۔ جام صاحب بولے: یہ سب مجھے مت بتائو۔ مجھے علم ہے۔ وہ بندہ پھر بولا: تو اور کیا ہو سکتا ہے؟ 
جام اقبال نے اسے پکڑا اور دیوار کے قریب لے جا کر کہا: تم کچھ دیر کے لیے یہاں سیڑھی کا کام دو۔ بچے کو اپنے اوپر سوار کر کے دیوار کے اوپر سے لڑائی دیکھنے دو۔ چند منٹ کی ہی تو بات ہے۔ اس کا شوق پورا ہو جائے گا۔ وہ بندہ بے یقینی سے ہم دونوں کو دیکھتا رہا۔ میں بھی جھجک گیا لیکن چپ رہا کہ چلیں وہ بندوبست کرنے کی کوشش تو کر رہے تھے۔ اس بندے نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر میری طرف دیکھا‘ جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں تولنے کی کوشش کر رہا ہو کہ اگر اس باگڑ بلے کو اپنے اوپر بٹھا کر دیوار کے پار کشتی دکھانے کی کوشش کی تو کوئی زیادہ وزن تو نہیں ہوگا۔ مجھے محسوس ہوا‘ وہ بندہ جام صاحب کو انکار نہیں کر سکتا تھا۔ برسوں بعد میں نے ایک دن جام اقبال صاحب سے پوچھا: کیا بات تھی‘ وہ بندہ چاہتے ہوئے بھی آپ کو انکار نہ کر سکا۔ جام صاحب ہنسے اور بولے: وہ ایک سیکرٹ ہے۔ میں نے اصرار کیا: اب تو بتا دیں۔ ہنس کر بولے: نہیں۔ 
مجھے یاد آیا‘ جام اقبال سے پہلی ملاقات ان کی دکان پر ہی ہوئی تھی جو ہائی سکول کے قریب واقع تھی۔ نعیم بھائی نے ایک دفعہ کہا تھا: کوئی مسئلہ ہو تو جام اقبال کے پاس چلے جانا۔ جام اقبال ان کے اس وقت سے دوست تھے جب نعیم بھائی خود ہائی سکول کوٹ سلطان میں پڑھتے تھے۔ یوں اب دوستی ان سے چلتی ہوئی چھوٹے بھائیوں تک آ گئی تھی۔ جب بھی میں سکول کے بعد اس دکان کے آگے سے گزرتا تو جام اقبال مجھے آواز دے کر بلا لیتے۔ پنکھے کے نیچے بٹھاتے اور پھر پوچھتے: کچھ کھائو گے؟ نعیم کا کیا حال ہے؟ نعیم بھائی ان دنوں بہاولپور میڈیکل کالج میں ڈاکٹر بن رہے تھے۔میں پوری دکان پر ایک نظر دوڑاتا۔ ہر طرف بوریاں بھری نظر آتی تھیں جن میں چاول‘ گڑ‘ دالیں‘ چینی اور دیگر سودے ہوتے تھے۔ لیکن جو چیز مجھے بہت پسند تھی وہ تھی مرتبان میں بند گُل قند تھی۔ شاید یہ بہت میٹھی تھی اس لیے۔ اکثر لوگ اسے پان میں استعمال کرتے ہیں۔ وہ مجھے مرتبان سے گل قند نکال کر دیتے اور میں اسے کھا کر کافی دیر تک انگلیاں چاٹتا رہتا تو وہ مسکرا کر ایک اور بڑا چمچ مجھے دے دیتے۔ یوں میں پیٹ بھر کر وہاں سے گھر کے لیے روانہ ہوتا تھا۔
خیر وہ بندہ نیچے جھکا اور میں اس کی کمر پر سوار ہو گیا۔ وہ دھیرے دھیرے اوپر اٹھتا گیا اور میرے سامنے دیوار چھوٹی پڑنا شروع ہو گئی۔ میں نے برابر پہنچ کر دیوار کے اوپر اپنے دونوں ہاتھ جمائے اور نظریں اس چھوٹے سے گرائونڈ پر جما دیں جہاں ریچھ اور کتوں کی لڑائی شروع ہو چکی تھی اور ہر طرف شور شرابہ تھا۔ لوگ چیخیں مار رہے تھے جبکہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں بھی اب ان آوازوں میں شامل ہو گئی تھیں۔ ایک طرف تماشائیوں کا جوش تھا تو دوسری طرف کتوں کے بھونکنے اور ریچھ پر حملہ آور ہوتے وقت کی آوازوں پر سب سے بھاری آواز ریچھ کی تھی‘ جو ایک زنجیر سے بندھا ہوا بار بار پہلو بدل رہا تھا۔ زنجیر کے ساتھ بندھے ریچھ پر تین کتے مختلف سمتوں سے حملہ آور ہو رہے تھے۔ وہ ریچھ اپنے وزن اور قد کے زور پر کتوں کو قریب نہیں آنے دے رہا تھا؛ تاہم ایک کتا اس کی ٹانگوں پر کاٹنے کی کوشش کرتا اور وہ تیزی سے مڑتا تو پیچھے پیٹھ پر دوسرا کتا کاٹ لیتا۔ وہ تیسرے کتے کی طرف بڑھتا تو وہ بھاگ جاتا جبکہ ریچھ پوری قوت کے باوجود بھی کتے کے پیچھے نہیں جا سکتا تھا کیونکہ وہ زمین میں گڑی چند فٹ کی زنجیر کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ ریچھ کا مالک ایک طرف کھڑا یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ ریچھ زنجیر تڑوا کر مجمع پر ہی حملہ آور نہ ہو جائے جبکہ ان کتوں کے مالکان کا جوش دیدنی تھی۔ انہیں یہ بھی فکر تھی کہیں ریچھ ان کے شکاری کتوں کو ہی نہ مار ڈالے۔ کتوں کے منہ سے زور زور کی آوازیں نکل رہی تھیں تو ریچھ کے منہ سے جھاگ۔ غور سے دیکھا تو مجھے ریچھ کے منہ پر کچھ لہو نظر آیا۔ پتا نہیں وہ لہو ریچھ کا تھا یا کتوں کا۔ ریچھ بے بسی سے تین خونخوار کتوں کے ساتھ اکیلا لڑنے میں لگا ہوا تھا۔ لیکن ایک ریچھ کو باندھ کر اس پر تین آزاد خونخوار کتے چھوڑنا کہاں کا انصاف اور کہاں کا دنگل تھا۔ 
مجھے اس لمحے اس کھیل سے شدید نفرت محسوس ہوئی۔ یہ کیا وحشیانہ کھیل ہے‘ جس کے لیے یہ سب لوگ پیسے دے کر یہاں اکٹھے ہوئے تھے؟ ایک بے بس‘ زنجیروں میں جکڑا جانور اکیلا کتوں سے کب تک لڑے گا۔ مجھے اس ریچھ کے مالک پر غصہ آیا جس نے اپنے پالتو جانور کے ساتھ یہ ظلم ہونے دیا تھا تاکہ وہ چند روپے کما سکے۔ بیک وقت تین کتوں کو حملہ آور ہوتے دیکھ کر اس کالے ریچھ کی بے بسی مجھ سے مزید نہ دیکھی گئی۔ میں اس ظالمانہ کشتی کو نہ رکوا سکتا تھا۔ میں ایک ہی کام کر سکتا تھا جو میں نے کیا۔ میں نے دیوار سے ہاتھ چھوڑے اور جمپ لگا کر نیچے اتر گیا ۔ 
جام اقبال ذرا فاصلے پر کھڑے کسی اور بندے سے باتیں کر رہے تھے۔ مجھے چھلانگ لگا کر اترتے دیکھا تو فوراً میری طرف آئے اور بولے: کیا ہوا‘ ریچھ اور کتوں کی لڑائی تو ابھی جاری ہے۔ انہوں نے اس بندے کو دیکھا جس کی کمر پر میں سوار تھا۔ وہ سمجھے شاید وہ تھک گیا تھا یا اس نے اتار دیا تھا۔ میں نے کہا: نہیں بھائی جان میں نے مزید یہ کھیل نہیں دیکھنا۔جام اقبال نے حیرانی سے میری طرف دیکھا۔ میرے چہرے پر پھیلی اداسی دیکھ کر چپ رہے۔ میں نے کہا: یہ کیا بات ہوئی ایک جانور باندھ کر اس پر تین کتے چھوڑ دو۔ میں نے نہیں دیکھنی یہ کشتی۔
برسوں بعد جام اقبال سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا: ایک بات مجھے آج تک تنگ کرتی ہے۔ اس بندے کی کیا مجبوری تھی کہ وہ آپ کو ناں نہ کر سکا تھا اور بے چارہ مجھے اپنے کندھوں پر بٹھا کر کشتی دکھاتا رہا تھا۔ جام اقبال بولے یہ تو بہت پرانا راز ہے۔ میں نے کہا: نہیں مجھے بتائیں۔ وہ ہنس کر بولے: تمہیں پتا ہے میری کوٹ سلطان میں بہت بڑی دکان تھی‘ جہاں تم گل قند کھاتے تھے۔ وہ بندہ مجھ سے ادھار پر سودے لے جاتا تھا۔ اب وہ بے چارہ مجھے کیسے انکار کر سکتا تھا۔
چند منٹ ہی کی تو بات تھی! 
میرا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا تو جام اقبال صاحب بولے اور کیا کرتا۔ تم اس وقت بچے تھے۔ ضد پر اترے ہوئے تھے۔ سیانے کہتے ہیں بچہ‘ بوڑھا اور عورت ضد پر اترے ہوئے ہوں تو ان کی ماننا ہی پڑتی ہے! (ختم)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved