تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     06-05-2019

مسلم لیگ کس کا گھر بسائے گی؟

تخیل ِ پاکستان سے لے کر آزادی کی جدوجہد تک مسلم لیگ تابناک تاریخ رکھتی ہے ۔ بکھرے ہوئے کمزور اور مایوس انسانوں کی آواز بنی‘ حوصلہ ابھارا‘ متحرک کیا‘ منزل کی نشاندہی کی اور پھر ایک عظیم مملکت کا قیام‘ سب کچھ اس کے کریڈٹ پر ہے ۔ فکری ‘ سماجی اور سیاسی طور پر مسلمان انتشار کا شکار تھے ۔ اقتصادی بدحالی سب سے بڑھ کر تھی۔ فرقہ پرستی‘ لسانی تعصب‘ علاقائی تقسیم نے اُن کے معاشروں میں گہری دراڑیں ڈالی ہوئی تھیں۔ زوال اور انحطاط کے عالم میں یقین‘ تنظیم اور اتحاد کی عملی صورت معمولی کارنامہ نہیں۔دبی ہوئی قوم کی صفوں میں سے دانشور ‘ وکیل اور تاجر نکلے تو ضرور مگر قلیل تعداد میں ۔ سرسید احمد خان اور اُن کے ساتھیوں نے وہ راز پالیا ‘جس سے معاشروں اور قوموں کی تقدیر بدلتی ہے ۔ اُنہوںنے جامعات قائم کیں‘ جدید علوم سکھانے کا بندوبست کیا اور ہر رنگ کی سماجی اور سیاسی تحریکوں کی بنیاد رکھی ۔ شعور کا تعلق علم سے ہوتاہے ۔اس کے بغیر فرد یا معاشرہ اپنے فطری اوصاف کو نہیں نکھار سکتا۔ 
مسلم لیگ کے قیام کے پس ِ منظر میں کئی صدیوں پر محیط سماجی‘ عملی اور مذہبی اصلاح کی تحریکیں تھیں۔ سب کا نقطۂ آغاز ایک تھا۔ بدلے ہوئے حالات میں جبکہ اقتدار اور طاقت انگریز کے پاس تھی‘اور دیگر اقوام وقت کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہوئے ترقی کے زینے طے کررہی تھیں تو ایسی صورت میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟ ایک اور مسئلہ بھی درپیش تھاکہ آخر اُن کی منزل کیا ہے ؟ یہ کہنا درست نہیںکہ صرف مسلم لیگ اوراُس کی قیادت کی جدوجہد ‘ تصورات اور سیاسی حرکیات کی بدولت ہی ہمیں آزادی ملی۔ دیگر تحریکوں‘ رہنمائوں اور غیر سیاسی میدانوں‘ جیسا کہ ادب اور جدید تعلیم میں ہونے والی پیش رفت کا بھی بہت بڑاحصہ ہے ۔ اُن کا بھی ہے جنہوں نے بظاہر قیام ِ پاکستان کی مخالفت کی تھی‘ اور اُن کے پا س اس کا اصولی موقف بھی موجود تھا‘ لیکن ہم انہیں اپنی تاریخ سے رد نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے بھی بلواسطہ طور پر مسلمانوں کی بیداری اور شناخت کے عمل کو تقویت دی تھی ۔ 
ایک صدی پہلے مسلم لیگ کی قیادت‘ سربراہی‘ تربیت‘ تنظیم اور رہنمائی کا فریضہ قائد ِاعظم محمدعلی جناح‘ علامہ اقبال ؔاور اُن سے پہلے سرآغا خان اور دیگر رہنما سرانجام دیتے رہے ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پنجاب میں انگریز کا پالا ہوا زمیندار اور ثروت مند طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کچھ اور سوچ رہا تھا۔ مجھے اُن کے نظریے سے بھی اختلاف نہیں ‘کیونکہ یونینسٹ پارٹی ہندئووں‘ سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان اتحادچاہتی تھی ۔ کم از کم پنجاب کی حد تک وہ اکٹھے تھے ۔ کیا وہ مذہبی گروہوں کی بڑھتی ہوئی جنونیت کو پنجاب قوم پرستی کی ڈھال سے روکنا چاہتے تھے‘ یا پنجاب کے زمینداروں کا اتحاد تھاکہ وہ مل کر اپنے مشترکہ مفاد کا تحفظ کریں گے‘ اور کم از کم پنجاب کو مسلم لیگ اور کانگرس کے اثر و رسوخ سے محفوظ رکھ سکیں گے ؟ جو بھی تھا‘ اُس وقت تاریخ کا دھاراکسی اور سمت تھا۔ آخر کار زمینداروں کا اتحاد مذہبی فرقہ واریت کی آگ میں پگھل گیا۔ اس کے بعد دو ہی راستے بچے تھے: ہندوستان‘ یاپاکستان۔ مختلف سمتوں سے روانہ ہونے والے قافلے ایک جھنڈے تلے ‘ ایک مقصد کے حصول کے لیے اپنی منزل تک پہنچے۔ کامیابی نے قدم چومے ‘ پاکستان وجود میں آگیا۔ لیکن یہ متاثر کن اتحاد چند سالوں بعد ہی دھڑے بندیوں میں تبدیل ہونے لگا۔ قائد ِ اعظم خالق ِ حقیقی سے جا ملے ‘ لیاقت علی خان شہید کردیے گئے اور مسلم لیگ وہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہی جو کانگرس نے ہندوستان میں کردکھایا تھا ۔ آزادی کے بعد ریاست اور قوم کی تعمیر کے لیے نئی نظریاتی اساس درکار تھی ۔ صرف قومی امنگوں سے ہم آہنگ آئین ہی مطلوبہ نظریاتی بنیاد فراہم کرسکتا تھا۔ لیکن آئین سازی کیا ہونی تھی‘ مسلم لیگ کے بہت سے وارث نکل آئے ۔یہ جماعت دھڑے بندیوں کا شکار ہوگئی‘ اور ہر دھڑا دوسرے سے متحارب تھا۔ 
مسلم لیگ کے زوال کے ساتھ ہی انگریز ی سامراج کے سائے میں توانا ہونے والی مغرور اور آمریت پسند نوکر شاہی اقتدار پر قابض ہو گئی۔ یہ کردار ‘جو اُس وقت پاکستان کے سفید و سیاہ کے مالک تھے‘ آج تاریخ کے صفحات میں گھنائونے کرداروں کی طرف دکھائی دیتے ہیں۔ ایک جمہوری‘ پارلیمانی ‘ آزاد اور ترقی پسند ریاست کا خواب ‘جو بانیان ِ پاکستان نے دیکھاتھا‘ ایک دہائی میں ہی تحلیل ہوگیا۔ مسلم لیگ اپنی شاندار تاریخ کے حوالے سے عوام کے دلوں میں جگہ تو ضرور رکھتی تھی لیکن اس کے بہت سے وارث اور دعویدار تھے‘ اور اکثر جعلی تھے ؛ چنانچہ وہ عوام کا اعتماد حاصل نہ کرسکے ۔ تاہم مسلم لیگ کی دوخوبیاں ریاست پر غالب نوکر شاہی اور بعد میں ایوب خان کی فوجی حکومت کی نظر میں بہت کارآمد ثابت ہوئیں۔ نوکر شاہی اور آمریت نے دیکھا کہ مسلم لیگ کی صورت ان کے پاس ایک تیار شدہ نسخہ موجود تھا۔ ایوب خان کو حقیقی جمہوریت‘ سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی نظام سے نفرت تھی لیکن قیام ِ پاکستان کی تحریک اور آئینی جمہوریت کے خدوخال معاشرے میں گہرے اثرات قائم کرچکے تھے ؛ چنانچہ ایوب خان کو اپنی حکومت کے تحفظ کے لیے ایک آئینی خول درکار تھا۔ دکھاوے کے لیے ''بنیادی جمہوریت ‘‘ استصواب ِرائے اور پھر مسلم لیگ کا سہارا لیا۔ اس جماعت کے کئی دھڑے ہوچکے تھے ‘ لیکن سب سے بڑا دھڑا‘ کنونشن مسلم لیگ‘ ایوب کے ساتھ تھا۔ لیکن ایوب کا اقتدار ختم ہوتے ہی کنونشن مسلم لیگ ہوا میں تحلیل ہوگئی ۔ 
تیسری فوجی حکومت‘ جنرل ضیا الحق کی تھی ‘جو انہوںنے ''سیاسی بحران ختم کرنے ‘ ملک کو خانہ جنگی سے بچانے اور نوے دن میں انتخابات کرانے ‘‘ کا وعدہ کرکے قائم کی تھی ۔ ہمیشہ کی طرح ملک نازک دور سے گزر رہا تھا؛ چنانچہ انتخابات کا مناسب وقت میسر نہ آسکا۔ مفاد پرست افراد گروہ در گروہ جنرل صاحب کے گرد جمع ہونے لگے۔ شیر اور بکری سب ایک گھاٹ پرتھے ۔ ان دنوں لاہور کے ایک نوجوان‘ میاں محمد نواز شریف کوسیاسی میدان میں اتارا گیا۔ موصوف تحریک ِ استقلال کا کچھ تجربہ رکھتے تھے ۔ جنرل صاحب کی سیاسی فوج میںبطور وزیر بھرتی ہوگئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو ٹھکانے تو لگادیا گیا لیکن کیا کیجیے‘ وہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں اور طبقات کے لیے ہمیشہ کے لیے شہید کا درجہ پاگئے ۔ بے شک بھٹو دور بھی تضادات‘ ناکامیوں اور محرمیوں کا دور تھا‘ لیکن یہ سب کچھ بھلا دیا گیا۔ یاد یہ با ت رہ گئی کہ وہ فوجی حکومت اور عدلیہ ‘ جو اس وقت آزاد نہ تھی ‘ کے ستم کا شکار ہوئے تھے ۔ اسلامی نظام نافذ کرنے کی خواہش مند کچھ اور جماعتیں جو جنرل صاحب کے ساتھ تھیں‘ بھٹو کی پھانسی کا سیاسی اور تاریخی بوجھ اٹھانے کی ہمت نہ کرسکیں اور الگ ہوگئیں لیکن میاں نواز شریف ثابت قدم رہے ۔ فوجی حکومت کے سائے میں پروان چڑھے‘ ہراول دستے میں تھے‘اور نعرہ یہ تھا کہ پاکستان کو جمہوریت نہیں‘ سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی ضرورت ہے ۔ جنرل ضیا کے طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہونے کے بعد نواز شریف مدتوں ان کی قبر پر حاضر ی دے کر تجدید ِ عہد کرتے رہے ۔1985 ء کے غیر جماعتی انتخابات میں محمد خان جونیجو نامزد وزیر ِاعظم بنے لیکن جب انہوں نے ایک آزاد وزیر ِاعظم کا کردار ادا کرنا چاہا تو جنرل صاحب کا مزاج برہم ہوگیا۔ جونیجو صاحب نے جمہوریت کے لیے سیاسی جماعتوں کو لازمی قرارا دیا‘ مسلم لیگ کو زندہ کیا‘ اسے منظم کیا‘ اپنی حیثیت میں اسے ایک بااصول اور باکردار قیادت فراہم کی۔ اس کے سربراہ کے چنائو کے لیے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں کنونشن کا انعقاد ہوا تو میاں نواز شریف سینکڑوں'' گلوبٹ ‘‘ساتھ لائے اور پارٹی انتخابات جونیجو صاحب کے حق میں جانے کے خطر ے کے پیش ِ نظر ہنگامہ کھڑا کردیا۔ دروغ برگردن ِراوی‘ شنید ہے کہ اسلام آباد کے بہترین ہوٹل کی پلیٹیں شام کے کھانے کے لیے کم پڑگئیں۔ زیادہ تر پلیٹیں راکٹوں کی طرح مخالفین کے سروں کی طر ف اُڑتی دیکھی گئیں۔ خیر جب جنگ و جدل کے بادل چھٹے تو میاں نواز شریف مسلم لیگ کے صدر تھے ۔
اس کے بعد مہربانوں نے مسلم لیگ مستقل طور پر میاں محمد نواز شریف کے نام کردی۔ باقی تاریخ ہے ...!! 
آج ایک اور کشمکش کا آغاز ہور ہا ہے ۔ میاں صاحب کے اقتدار کے سورج کا ایک بار پھر طلوع ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے ۔ صحت‘ عدالتیں‘ احتساب۔ سب حقیقتیں سامنے موجود ہیں۔ اب مسلم لیگ کے بہت سے دعویدار دیکھے جائیں گے لیکن چونکہ یہ جماعت خود سپردگی کی بے مثال خوبی رکھتی ہے ‘ تو دیکھتے ہیں کہ اب یہ کون سا گھر آبادکرتی ہے ۔ ایک ‘ یا ایک سے زیادہ؟ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved