تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     07-05-2019

سُرخیاں، متن اور ریکارڈ کی درستی


لیگی قیادت اپنی خاموشی جلد توڑ دے گی: رانا ثناء اللہ
نواز لیگ پنجاب کے صدر اور مرکزی رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ''لیگی قیادت اپنی خاموشی جلد توڑے گی‘‘ کیونکہ ابھی این آر او سے مکمل طور سے مایوس نہیں ہوئی ہے اور تیل دیکھ رہی ہے اور تیل کی دھار، لیکن حکومت نے تیل مہنگا ہی اتنا کر دیا ہے کہ اس کی دھار ویسے ہی غائب ہو گئی ہے، اس لیے اب ہم پانی کی دھار دیکھ رہے ہیں کہ یہ کب سر سے گزرتا ہے اور اُدھر بڑے میاں صاحب کا ... ڈھونڈ کر اس کی جھاڑ پھٹک کر رہے ہیں تاکہ بالآخر اسی پر گزارہ کرنا پڑے اور عدلیہ کی جو تعریف کی ہے وہ بھی واپس لینی پڑ جائے کہ کھوٹا پیسہ بھی کسی وقت کام آ جاتا ہے اور وہی دستیاب بھی ہے کیونکہ کھرا پیسہ تو جتنا تھا، ہم پہلے ہی ٹھکانے لگا چکے ہیں اور اب اُسی کی فکر بھی پڑی ہوئی ہے اور ہمارا فکری سرمایہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے جو رفتہ رفتہ فکرمندی میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ آپ اگلے روز فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
عوام روٹی کے لیے محتاج ہو گئے، شاید روزہ بھی نہ کھول سکیں: خورشید شاہ
پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید علی شاہ نے کہا ہے کہ ''عوام روٹی کے لیے محتاج ہو گئے، شاید روزہ بھی نہ کھول سکیں‘‘ حالانکہ روٹی کے بغیر روزہ رکھ ہی نہیں سکیں گے تو کھولنے کا سوال کہاں سے پیدا ہوگا اور صرف عید ہی منا سکیں گے، یعنی عید کی نماز پڑھ سکیں گے کیونکہ اس کے لیے کچھ کھانا ضروری نہیں ہوتا بلکہ نماز پڑھ کر دُعا بھی مانگ سکیںگے کیونکہ لڑائی کی طرح دُعا بھی پیٹ بھوکا ہو تو زیادہ لگتی ہے جو زیادہ تر اپنے قائدین کی رہائی اور گلوخلاصی کے کے لیے ہوگی، روٹی زیادہ کھانے سے جن کا ہاضمہ خراب ہو چکا ہے حالانکہ ان کا ہاضمہ ماشاء اللہ لکڑ ہضم، پتھر ہضم تھا بلکہ ایسا لگ رہا ہے کہ جو کھایا پیا تھا، اب قے کر کے باہر نکالنا پڑے گا البتہ پلی بار گین کی پھکی سے صورت حال بہتر ہو سکتی ہے لیکن وہ بھی ہمارے وارے میں نہیں ہے چنانچہ اب شریف برادران کی طرف دیکھ رہے ہیںکہ وہ کیا کرتے ہیں۔ آپ اگلے روز سکھر میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
روحانیت کو سپر سائنس بنائیں گے: عمران خان
وزیراعظم عمران خاں نے کہا ہے کہ ''ہم روحانیت کو سپر سائنس بنائیں گے‘‘ اس لیے پہلے ہم ... کو سپر سائنس بنانے کا تجربہ کریںگے حتیٰ کہ آہستہ آہستہ روحانیت کی باری بھی آ جائے گی کیونکہ یہاں پر ہر کام اپنی باری پر ہوتا ہے جیسے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ اپنی اپنی باری لے چکی ہیں اور اب ہماری باری آئی ہے اور جب یہ ختم ہو جائے گی تو ایک اور باری کی درخواست کریں گے جو یقینا منظور ہوگی کیونکہ پہلے بھی باریاں کسی کارکردگی کے بغیر ہی دی جاتی تھیں، نیز حکومت کرنا اس لیے آسان ہو جائے گا کہ بھوک اور افلاس کی وجہ سے آبادی ویسے ہی کم ہو جائے گی اور صرف سابق اور موجود حاکم لوگ ہی رہ جائیں گے جو آپس میں لڑنے کی بجائے اُس پر فیصلہ کر لیا کریں گے اس لیے ہماری کوشش ہوگی کہ لگے ہاتھوں اُس کو بھی سپر سائنس بنا دیں تاکہ کچھ تو ہم سے یادگار رہ جائے، اگرچہ یادگار رہنے کے لیے ہم خود ہی کافی ہوں گے۔ آپ اگلے روز سہاوہ میں القادر یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھ رہے تھے۔
حکومت پٹرول کے نرخوں میںاضافہ فوری واپس لے: سراج الحق
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ''حکومت پٹرول کے نرخوں میں اضافہ فوری واپس لے‘‘ اور اب تو اسے واپس لینا ہی پڑے گا کیونکہ میں نے جو کہہ دیا ہے اور اگر میرے کہنے سے اس نے اقتدار میرے حوالے کرنے کا مطالبہ نہیں مانا تو اُسے کم از کم یہ تو کرنا ہی چاہیے یعنی 
گندم اگر بہم ... بھُس غنیمت است
حالانکہ کھائی صرف گندم جاتی ہے اور بھُس یعنی بھوسہ صرف مویشیوں کے کام آتا ہے، اس لیے میں نے سوچا ہے کہ دو چار بھینسیں وغیرہ ہی پال لوں ورنہ اتنا بھُس ضائع ہی چلا جائے گا اور ان کے سامنے بجانے کے لیے ایک بین بھی خریدی جائے گی کیونکہ ہم نے یہ شعر بھی پڑھ رکھا ہے ؎
لیا آتے ہی اُس نے سینگوں پر
اب کہو عقل ہے بڑی یا بھینس
آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
ریکارڈ کی درستی
کل والے کالم میں میری جو غزل شائع ہوئی تھی اُس میں گڑ بڑ یہ ہوئی کہ اس میں دو شعر ایک دوسری غزل کے شامل ہو گئے جس کی وجہ میری کوتاہی اور میرے اسسٹنٹ کی غلطی تھی جیسے دو غزلیں دی گئی تھیں کہ اخبار کو ایک غزل وائٹس اپ کر دے۔ دونوں میں ردیف کا معمولی فرق تھا اس لیے اس نے ایک غزل میں دو شعر دوسری غزل کے گھسیڑ دیئے۔ جو شعر شامل ہونے سے رہ گئے تھے وہ یہ ہیں:
یہ راستا سجھائی نہیں دے رہا جو صاف
گرد و غبارِ ترکِ تمنا ہے ساتھ ساتھ
آغاز کا سُراغ ابھی لگ نہیں رہا
انجامِ کار اُس کے علاوہ ہے ساتھ ساتھ
اس ... کے لئے قارئین سے معذرت خواہ ہوں۔

 

آج کا مطلع
بھلا دیا اسے جس کو بھلا نہ سکتے تھے
گھر آ گئے جو کبھی واپس نہ آ سکتے تھے

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved