تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     08-05-2019

سرخیاں‘ متن اور سید عامر سہیل کا تازہ کلام

ہم مصنوعی مہنگائی کی اجازت نہیں دیں گے: عثمان بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ''ہم مصنوعی مہنگائی کی اجازت نہیں دیں گے‘‘ کیونکہ جب اصلی مہنگائی ٹنوں کے حساب سے موجود ہے‘ تو مصنوعی مہنگائی کی کیا ضرورت ہے اور نہ ہی ہم اپنی پیدا کردہ اصلی مہنگائی کی توہین ہونے دیں گے‘ اسی طرح نہ ہم مصنوعی نالائقی اور نا اہلی کی اجازت دیں گے اور نہ اپنی نا اہلی اور نالائقی پر کوئی حرف آنے دیں گے کہ اس کے سامنے کوئی مصنوعی نالائقی لا کر کھڑی کر دی جائے‘ تاہم ہماری پیدا کردہ مہنگائی زیادہ دیر نہیں رہے گی‘ کیونکہ اس کے نتیجے میں لوگ رفتہ رفتہ اللہ کو پیارے ہوتے جائیں گے اور کوئی مہنگائی کی شکایت کرنے والا باقی ہی نہیں رہے گا اور ہر طرف امن و سکون کا دور دورہ نظر آئے گا اور صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے‘ مہنگائی جن کا مسئلہ ہی نہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں صوبائی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان سے گفتگو کر رہے تھے۔
نثار کا نام سن کر نواز شریف خاموش ہو جاتے ہیں: رانا ثناء اللہ
نواز لیگ کے صفِ اوّل کے رہنما اور صدر پنجاب مسلم لیگ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ''نثار کا نام سن کر نواز شریف خاموش ہو جاتے ہیں‘‘ اور ان کی طویل خاموشی کی وجہ بھی یہی ہے ‘کیونکہ ان کے کانوں میں ہر وقت چوہدری نثار کا نام گونجتا رہتا ہے‘ ورنہ ان کی خاموشی کی اور کوئی وجہ نہیں ہو سکتی‘ تاہم اب اللہ اللہ کر کے انہوں نے اپنے کان بند کروائے ہیں‘ تا کہ اس خاموشی کو توڑ سکیں اور اپنے ترک کردہ مشہور و معروف بیانیے کو پوری گھن گرج کے ساتھ دوبارہ شروع کر دیں کہ ویسے بھی‘ جو کام منت سماجت اور چپ رہنے سے نہیں نکلا‘ شاید شور شرابہ کرنے سے ہی نکل آئے‘ جبکہ انہیں اپنی اس خوشی کا اظہار بھی کرنا ہے‘ جو انہیں شہباز شریف کا پتا کاٹ کر محسوس ہو رہی ہے کہ اب انہیں مریم بی بی کا راستہ بالکل صاف اور بغیر کسی رکاوٹ کے نظر آ رہا ہے‘ماسوائے عدالتی رکاوٹ کے۔ آپ اگلے روز ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔
معیشت کو براہ راست آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گیا: سراج الحق
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ''معیشت کو براہ راست آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گیا‘‘ حالانکہ براہ راست کی بجائے ایسا کرنے کے کئی اور طریقے بھی موجود تھے؛ اگر حکومت ہی سے مشورہ کر لیں اور جہاں وہ باہر سے بُلا بُلا کر اتنے وزیر‘ مشیر مقرر کر رہی ہے۔ خاکسار کو بھی ایک چانس دے کر تماشا دیکھتی‘ بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ جہاں معیشت نے حکومت کو اس قدر پریشان کر رکھا ہے‘ تو وہ اس سے اپنی جان کیوں نہیں چھڑوا لیتی‘ تاہم یہ نسخہ کیمیا میں اُس کو باہر بیٹھ کر نہیں بتا سکتا ‘کیونکہ آج کل مفت مشورے کا زمانہ نہیں۔آپ اگلے روز پارلیمنٹ لاجز کے باہر صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں سید عامر سہیل کا تازہ کلام:
مُلک بُجھاتی داعش کی
شام کوئی گرمائش کی
اک لہجہ درویشی خُو
دو آنکھیں آسائش کی
اُس کو پاس بُلا بھیجا
جب ہونٹوں نے خواہش کی
بات سلونی بھُول گئے
گھُپ راتوں نے سازش کی
اور عشاء ملکوتی سی
اور تہجّد بارش کی
گم صُم بیٹھی لڑکی سے
نخروں کی فرمائش کی
کات کے کھدّر فجروں کا
زخموں کی آرائش کی
رات اسے معبود کیا
مٹّی کو فہمائش کی
حمدوں سے گُلدان بھرا
غُصے کی پیمائش کی
یاد بھری پیمانے سے
گلی گلی افزائش کی
اک سینے‘ اک زینے سے
چُن چُن پھول نمائش کی
اُس کی حمد
جب وہ سحر البیان پڑھتی ہے
تب سمندر میں جان پڑتی ہے
سُرخ پھولوں کی پتیوں والا
آسماں موم بتیوں والا
غرب کی ڈوریا ہلاتا ہے
اُس کے سر کی قسم اٹھاتا ہے
اُس کو سوئی کو دیکھنے کے لیے
اک ستارہ زمیں پہ آتا ہے
آئینے میں دمشق جلتا ہے
فجر جلتی ہے‘ عشق جلتا ہے
آج کا مقطع
راستا خود ہی بتاتا ہے ظفرؔ 
راستے میں کب ٹھہرنا چاہیے

 

 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved