تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     22-05-2019

سرخیاں‘متن‘زاہدؔ مسعود اور رفعت ناہیدؔ

حکومت کی ایک افطاری پر ہی چیخیں نکل گئیں: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''ایک افطاری پر ہی حکومت کی چیخیں نکل گئیں‘‘ جو کہ حکومت نے عوام کی چیخیں نکلوائی تھیں‘ ہم نے حکومت کی چیخیں نکال دیں۔ سو‘ حساب برابر ہُوا ۔اس لیے اب یہ کام نئے طریقے سے ہونا چاہیے‘ جبکہ آئندہ افطاریاں بھی ایسی ہی پُر تکلف ہونی چاہئیں کہ آدمی پورے ایک ہفتے کی افطاری ایک ہی بار کر لیتا ہے‘ کیونکہ افطاری کے دوران حکومت چیخیں مار رہی تھی اور ہم ڈکار پر ڈکار لے رہے تھے اور آئندہ افطاریوں میں سب کو بُلانا ممکن نہ ہو تو خاکسار ہی کو بُلا لینا کافی ہوگا ‘کیونکہ مجوزہ تحریک کا سپہ سالار میں ہوں گا‘ یعنی ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں‘ نیز گاڑی جہاں پٹرول یا ڈیزل سے چلتی ہے ‘وہاں آدمی بھی کھانے پر چلتا ہے اور آدمی کو چلتے ہی رہنا چاہیے کہ چلتی کا نام ہی گاڑی ہے۔ آپ اگلے روز گجرات میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
ووٹ کو عزت دو بیانیہ ہے‘ جعلی وزیراعظم کو نہیں مانتی: مریم نواز
مستقل نا اہل اور سزا یافتہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی سزا یافتہ صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ''ووٹ کو عزت دو بیانیہ ہے‘ جعلی وزیراعظم کو نہیں مانتی‘‘ اگرچہ کافی عرصہ اس بیانیے پر سکوتِ مرگ کی کیفیت طاری رہی ہے‘ لیکن اللہ کی قدرت سے یہ مردہ پھر زندہ ہو گیا ہے اور افہام و تفہیم نہ ہونے سے بھی اس میں کافی جان پڑ گئی ہے‘ جبکہ یہ چچا جان کی دوری کا فیض بھی ہے‘ کیونکہ وہ ہماری دال ہی گلنے نہیں دے رہے تھے‘ نیز؛ اگر وزیراعظم خود کو وزیراعظم منوانا چاہیں تو پہلے مجھے مستقبل کی وزیراعظم تسلیم کریں ‘کیونکہ چچا جان کی جلا وطنی کے بعد اب تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی ہے‘ سوائے بوجہ سزایابی معمولی سی نا اہلی کے اور اب‘ جبکہ عدالتیں بھی ہم پر مہربان ہیں تو اس کی بھی کوئی نہ کوئی صورت نکل ہی آئے گی۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔
عوام کا تیل اتنا نکل گیا کہ ایکسپورٹ بھی ہو سکتا ہے: خورشید شاہ
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ ''عوام کا تیل اتنا نکل گیا کہ ایکسپورٹ بھی ہو سکتا ہے‘‘ کیونکہ ہم نے عوام کا جو تیل نکالا تھا‘ اُسے باقاعدہ ایکسپورٹ کیا گیا تھا‘ جس سے ہمارے اکائونٹس میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا اور جو پیسہ ایکسپورٹ کیا گیا تھا‘ کم فہم لوگ اسے منی لانڈرنگ کہتے ہیں ؛حالانکہ ایکسپورٹ کسی بھی چیز کی ہو‘ ملک کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے ؛چنانچہ ہم نے ملک کو اتنا فائدہ پہنچایا کہ ملک ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا کہ اب بس کر دیں‘ اتنا فائدہ میری برداشت سے باہر ہے اور اس کے بعد ہم نے خود کو فائدہ پہنچانا شروع کیا‘ کیونکہ ہم اپنے مفاد کو قومی مفاد کے سامنے قانونی حیثیت دیتے ہیں اور ساری قیادت تو ماشاء اللہ ذاتی مفاد کو بہت برا سمجھتی ہے‘ یعنی اگر خدا زبردستی چھپّر پھاڑ کر دینے لگے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
زاہدؔ مسعود صاحب اگلے روز تشریف لائے تھے۔ انہوں نے کچھ تازہ شعر بھی عنایت کیے‘ جو پیش خدمت ہیں: 
عجب نہیں کہ فصیلوں میں آسمان کھلے
ہوا رکے تو پروں سے نئی اڑان کھلے
اُتر گئے تھے کھلے موسموں کی نیند میں ہم
نہ خواب ختم ہوئے اور نہ بادبان کھلے
خدا کرے کہ سرِ آئینہ سلامت ہو
وہ اک یقین کہ جس پہ کئی گمان کھلے
رگوں میں بہنے لگی ہے طویل دن کی تھکن
کوئی الائو جلے‘ کوئی داستان کھُلے
بکھر چکا ہے لبوں پہ دُعا کا سنّاٹا
ذرا سی دیر میں شاید کوئی زبان کھلے
اور اب رفعت ناہیدؔ کا یہ تازہ کلامِ بلاغت نظام:
ساونوں کے دن نہیں تھے بارشیں مگر ہوئیں
کہیں ذرا ذرا ہوئیں‘ کہیں یہ ٹوٹ کر ہوئیں
گھٹا اٹھی تو دیر تک مکان بھیگتا رہا
جھاڑیاں گلاب کی مہک سے تر بتر ہوئیں
پو پھٹی تو صحن میں ہر ایک سمت پھول تھے
شبوں کی گل نگاریاں یہیں پہ تا سحر ہوئیں
چاندنی میں کھڑکیوں کے سارے راز کھل گئے
سازشیں ہوائوں کی‘ ہمارے بام پر ہوئیں
ڈاکیا پڑوس میں تمہارا خط گرا گیا
ندامتیں تمہیں خبر نہیں کہ کس قدر ہوئیں
شکایتیں جو تم کو ہیں وہ ہم سے ہیں‘ زہے نصیب
مگر یہ کج ادائیاں اِدھر نہیں‘ اُدھر ہوئیں
حِنا کی‘ پھول ساڑھیوں کی‘ چُوڑیوں کی محفلیں
کبھی تو باغ میں‘ کبھی سہیلیوں کے گھر ہوئیں
آج کا مطلع
یہ سو بسو نہیں اور جا بجا سے ہٹ کر ہے
کہ گفت گو تری حمد وثنا سے ہٹ کر ہے

 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved