تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     30-05-2019

سرخیاں ‘متن اور ’’دوستوں کے درمیان‘‘

آئینی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کروں گا: نواز شریف
مستقل نا اہل اور سزا یافتہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''آئینی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کروں گا‘‘ جیسا کہ قانون کے مطابق پلی بارگین کی سہولت موجود ہے کہ کرپشن وغیرہ سے حاصل کردہ رقم کا ایک معمولی حصہ لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے‘ لیکن نیب سارے کے سارے پیسوں کا مطالبہ کر رہا ہے‘ جو کہ خلافِ قانون ہے اور میں کوئی خلافِ قانون کام نہیں کرنے دوں گا‘ کیونکہ میں نے خود کبھی خلافِ قانون کام نہیں کیا‘ جبکہ یہ کہیں نہیں لکھا کہ اثاثوں کا ذریعہ بھی بتایا جائے ‘جو کہ باقاعدہ گناہ کی ذیل میں آتا ہے‘ کیونکہ دولتمند بنانا اللہ تعالیٰ کو زیب ہے‘ کوئی شخص یا ادارہ اس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ اوپر سے ایٹمی دھماکے کے سلسلے میں بار بار میرا نام لیا جا رہا ہے؛ حالانکہ یہ کیا کرایا کسی اور کا تھا‘ مجھے تو صرف بٹن دبانے کو کہا گیا تھا ‘جو میں نے دبا دیا‘ جبکہ یہ ساری شرارت ذوالفقار علی بھٹو کی تھی۔ آپ اگلے روز جیل میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔
برطانوی عدالتی نظام میں حقوق کے لیے لڑوں گا: اسحاق ڈار
لندن میں مقیم سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ''برطانوی عدالتی نظام میں حقوق کے لیے لڑوں گا‘‘ جو کہ میری پاکستان واپسی کے لیے ایک سازش تیار کی جا رہی ہے اور برطانیہ کے ساتھ ہماری کٹھ پتلی حکومت نے میری واپسی کے لیے معاہدہ کر لیا ہے؛ حالانکہ میری حیثیت برطانیہ میں ایک پناہ گیر کی ہے اور کسی پناہ گیر کو ملک بدر کرنا برطانوی حکومت کو ہرگز زیب نہیں دیتا‘ جبکہ یہاں قیام کے دوران میں نے کوئی خلافِ قانون حرکت نہیں کی؛ البتہ پاکستان کی بات اور ہے‘ کیونکہ وہاں قانون کے مطابق کوئی کام نہیں ہوتا‘ جیسا کہ ایک بھولے بھالے درویش صفت وزیراعظم کو سابق بنا کر اندر کیا گیا ہے اور اب اُسے بغرضِ علاج یہاں آنے نہیں دیا جا رہا اور اسی ظلم و ستم کی بناء پر شرفا کو یہاں آنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ آپ اگلے روز لندن میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
وزیراعظم چور دروازے سے آئے‘ دنیا میں عزت نہیں: مریم نواز
سزا یافتہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی سزا یافتہ صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ '' وزیراعظم چور دروازے سے آئے‘ دنیا میں عزت نہیں‘‘ جبکہ عزت صرف سابق وزیراعظم کی ہے‘ جو کرپشن وغیرہ میں سزا یاب ہو کر مردانہ وار جیل چلے گئے اور اس طرح جوانمردی کی ایک مثال قائم کی اور جہاں تک چور دروازے سے اقتدار میں آنے کا تعلق ہے‘ تو ایک ہی چور دروازہ ہے ‘جس کے ذریعے اقتدار میں آیا جاتا ہے‘ جس طرح لاہور میں بھاٹی دروازہ‘ لوہاری دروازہ اور دہلی دروازہ وغیرہ ہیں‘ اس طرح یہ چور دروازہ بھی ہے‘ جس کے ذریعے اقتدار میں داخل ہونا سیاستدانوں کی مجبوری بن چکا ہے۔ آپ اگلے روز ماڈل ٹائون میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھیں۔
سی پیک سے استفادہ کیلئے موثر حکمت عملی بنائیں گے: وزیراعلیٰ
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ''سی پیک سے استفادے کے لیے موثر حکمت عملی اپنائی جائے گی‘‘ جو کہ ہمارے پاس حکمت عملی تو ہر وقت تیار ملے گی‘ لیکن اس کا موثر ہونا خود حکمت عملی پر منحصر ہے کہ وہ موثر ثابت ہوتی ہے یا نہیں‘ کیونکہ کچھ چیزیں انسانی اختیار میں ہوتی ہیں اور کچھ نہیں‘ جبکہ ہم بھی انسان ہیں اور کوئی خیر انسانی قسم کی ملاوٹ ہم میں نہیں پائی جاتی اور اس کے باوجود لوگ ابھی تک میری فراغت کی تاریخیں دے رہے ہیں ‘بلکہ یہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ پارٹی میں وزیر اعظم عمران کی جگہ لینے کیلئے بھی کئی افراد موجود ہیں ع
محوِ حیرت ہوں کہ دُنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
بلکہ اب تو میں نے دورے بھی شروع کر دیئے ہیں اور ٹھیک ٹھاک سیر سپاٹا ہو جاتا ہے جس سے صحت بھی کافی بہتر ہو گئی ہے۔ آپ اگلے روز اپنے دفتر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
دوستوں کے درمیاں
ممتاز شاعر ارشد معراج کی نظموں کا یہ تازہ مجموعہ ہے‘ جسے رومیل ہائوس آف پبلی کیشنز نے چھاپا ہے ؛دیباچہ ڈاکٹر تبسم کاشمیری نے لکھا ہے ‘جبکہ پس سرورق محمد حمید شاہد کی تحسینی رائے درج ہے۔ اندرون سرورق ڈاکٹر رشید امجد اور ڈاکٹر نجیبہ عارف کی تحریریں ہیں۔ یہ نظمیں انہوں نے اپنے ہم عصروں‘ دوستوں اور دیگر ادبا کو مخاطب کر کے لکھی ہیں‘ جن میں اُنہیں خراج تحسین پیش کرنے کے علاوہ اپنی واردات بھی بیان کی ہے اور اس طرح شاعر کے ساتھ ساتھ قاری کئی دیگر ادبا و شعراء سے بھی ایک پُر لطف ملاقات سے سرفراز ہوتا ہے۔ ڈاکٹر تبسمؔ کاشمیری کے مطابق: ''یہ نظمیں ایک نئی معروضیت میں جنم لینے والی وجودی کشمکش کی داستانیں بیان کرتی ہیں۔ شاعر ایک مستقل کرائسس کی حالتوں سے گزرتا ہے۔ مجھے اس پُورے مجموعے کی نظموں میں یہ کرائسس کہیں بھی تھمتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس لیے کہ کرائسس کو پیدا کرنے والی قوتیں کرائسس پیدا کرنے کے عمل میں بدستور مصروف ہیں۔ نا اُمید اور مایوسی میں تیرتے ہوئے شہر اور شہر کے لوگ اپنے عذاب کو سمیٹتے ہوئے ملتے ہیں۔‘‘
خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ اسے بہترین گیٹ اپ میں شائع کیا گیا ہے ‘جو اس خوبصورت شاعری کے شایان ِشان بھی ہے۔ ارشد معراج کو اس پر دلی مبارک باد۔
آج کا مقطع
اسی کا بوجھ اٹھائے پھرا ہوں‘ جانِ ظفرؔ
وہ عشق جو مرے سر پر سوار بھی نہیں تھا

 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved