تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     30-05-2019

اُف رے ڈالر، ہائے ری گرمی

التجائیں مستجاب ہوئیں۔ قوم پر ایک ہفتے سے جو شدید تشنّج کی سی کیفیت طاری تھی اُس کا کچھ توڑ تو ہوا۔ گرمی اور ڈالر نے مل کر اہلِ پاکستان کو شدید خلجان میں مبتلا کر رکھا تھا۔ صد شکر کہ دونوں کا زور کچھ ٹوٹا۔ کئی دن سے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ناطقہ کس نے زیادہ بند کر رکھا ہے ... ڈالر نے یا گرمی نے؟ دونوں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی فکر میں مبتلا تھے۔ ہر گزرتا ہوا دونوں کی طرف سے ڈھائے جانے والے ستم میں اضافے کا باعث بن رہا تھا۔ ایک ہفتے کے دوران گرمی اور ڈالر کی ڈھٹائی اوروں کے لیے قابلِ دید رہی ہو تو رہی ہو‘ ہمارے لیے تو قابلِ مذمت ہی تھی۔ دِلوں میں رہ رہ کر ہَول اٹھتے تھے کہ اگر ڈالر کی پرواز پر قابو نہ پایا گیا تو یہ کہاں جاکر رکے گا‘ کس مقام پر اپنے پَر سمیٹے گا۔ ڈالر کے ہاتھوں قومی معیشت کا وہ حال ہوا کہ کچھ دن تک تو کچھ بھی ٹھکانے پر دکھائی نہ دیا ع
آندھیاں غم کی یوں چلیں باغ اُجڑ کے رہ گیا 
اِدھر گرمی کہہ رہی تھی میرا کام۔ خنک اور معتدل موسم کے مزے لوٹنے والوں کو گرمی نے یوں پکارا کہ ہر طرف سے ہائے توبہ کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ اہلِ کراچی پر سورج کی ایسی ''مہربانی‘‘ رہی کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ چھٹی کے دودھ سمیت پتا نہیں کیا کیا یاد آگیا! لوگ یہ کہتے بھی پائے گئے کہ اہلِ کراچی نے الگ صوبہ مانگا تھا‘ الگ سورج نہیں! 
خیر گزری کہ کراچی میں ہیٹ ویو صرف دو دن کے لیے تھی؛ اگر یہ سلسلہ ایک ہفتے جاری رہ جاتا‘ تو خدا جانے جسم و جاں پر کیسی کیسی قیامتیں گزر جاتیں۔ شہر کا حال یہ ہے کہ سبزہ اگانے سے شہریوں کو ایسی ہی بیزاری ہے گویا خدا واسطے کا بَیر ہو۔ شہر کیا ہے‘ کنکریٹ کا جنگل ہے۔ پتھر‘ سیمنٹ اور لوہے کی سلاخیں‘ پھر بھلا ذرا سی بھی گرمی بہت زیادہ کیوں محسوس نہ ہو؟ معاملہ ''فیل‘‘ پر ٹھہرا ہے۔ انگریزی کا feel ہمارے لیے فارسی کے فیل میں تبدیل ہوگیا ہے! جب پورے ماحول کو تہس نہس کردیا گیا ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہر چیز کے اثرات اصل سے کہیں زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں بڑے بڑے تعمیراتی ڈھانچوں کے باعث گرمی اپنی اصل سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہی حال دوسرے بہت سے معاملات کا بھی ہے۔ خرابیاں ضرور ہیں‘ مگر اُن کے اثرات جتنے ہونے چاہئیں ‘اُن سے کہیں زیادہ دکھائی دیتے اور محسوس ہوتے ہیں۔ 
ڈالر نے ایسی دھماچوکڑی مچائی کہ ایک آدھ ہفتے تک تو حکومت کو بھی کچھ نہ سُوجھا کہ کرے تو کیا کرے۔ ڈالر چھلانگیں مار کر آگے نکلتے چلے جانے پر تُلا ہوا تھا۔ امریکا نے اپنی پالیسیوں سے دنیا بھر میں جو خرابیاں پیدا کر رکھی ہیں کچھ ویسی ہی خرابیاں ڈالر ہماری معیشت میں بھی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اُس نے پہلے بھی کئی بار دست اندازی کی ہے اور اب پھر نئے رنگ اور نئی بُو کے گل کھلانے پر تُلا ہوا ہے۔ قوم کی دعائیں رنگ لائی ہیں اور ڈالر کچھ نیچے آیا ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری نے ایک بیان میں قوم کو ''نوید‘‘ سنائی ہے کہ ڈالر مزید چار پانچ روپے نیچے آئے گا۔ اس حوالے سے بہت زیادہ پرامید رہنے کا بظاہر کوئی جواز نہیں‘ مگر پھر بھی اللہ اُن کی زبان مبارک کرے۔ قوم تو ایسی ہر نوید پر فِدا ہونے کو بے تاب ہے۔ مصیبت کی گھڑی میں چھوٹی سے چھوٹی اچھی بات بھی بہت بڑی خوش خبری لگتی ہے۔ 
حکومت پر بُرا وقت آن پڑا ہے۔ اب کے گرمیوں میں غیر معمولی گرما گرمی کے آثار ہیں۔ ایک طرف تو موسم کی گرمی اور دوسری طرف معیشتی خرابیوں کی پیدا کردہ اضافی گرمی۔ شدید گرمی میں حواس کا ٹھکانہ ہوتا ہے نہ مزاج کا۔ ایسے میں لوگ اپنے دل و دماغ کو قابو میں رکھ پائیں تو بڑی بات ہے۔ عمران خان اور اُن کی ٹیم کے لیے اِس وقت بھرپور انداز سے سنبھلنا لازم ہے۔ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اُنہیں جان لگاکر محنت کرنا ہے۔ 
اب مسئلہ یہ ہے کہ گرمی کا توڑ کرنے والے اقدامات کی بجائے ایسے اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں‘ جن سے بُرے اثرات کی گرمی بڑھنے ہی کا خدشہ ہے۔ شُنید ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مزید بڑھانے کی تیاری ہے؛ اگر ایسا ہوا تو حکومت کے خلاف فضاء تیار کرنے میں اپوزیشن کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑے گی۔ موسم کی خرابی کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے ارادوں کی خرابی بھی تو حکومت کو جھیلنی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے طے کر رکھا ہے کہ عیدالفطر کے بعد حکومت مخالفت تحریک چلائی جائے گی۔ یہ وقت حکومت مخالف تحریک چلانے کا ہرگز نہیں ‘مگر حکومت بھی ایسی پھنسی ہوئی ہے کہ مخالفین کو موقع پر موقع دیئے جارہی ہے۔ 
جب ڈالر نے اونچی اڑان بھری تھی ‘تب سوشل میڈیا پر ترکی کی مثال بھی دی گئی کہ کس طور وہاں کے لوگوں نے وطن پرستی کے جذبے سے سرشار ہوکر ڈالر کو پچھاڑنے پر کمر باندھی اور میدان میں نکل آئے۔ ڈالر کو فروخت کرنے کا رجحان اس تیزی سے پروان چڑھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اُس کی قدر میں گراوٹ واقع ہوئی اور ترک کرنسی مستحکم ہوگئی۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہی کچھ کرنے کی ضرورت ہے‘ مگر امکان و آثار اس لیے نہیں کہ ایسا کرنے کے لیے وطن سے حقیقی محبت بھی تو ہونی چاہیے۔ ہم وطن سے محبت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں ‘مگر جب عمل کا موقع آتا ہے‘ تو اٹھتے قدم رک جاتے ہیں۔ کہنے اور کرنے میں بہت فرق ہے۔ اس فرق کو ختم کرنا کمال ہے۔ کم لوگ ہی ایسا کر پاتے ہیں۔ 
ماہِ صیام کا آخری عشرہ چل رہا ہے۔ قوم محض عید کی شاپنگ نہیں‘ عبادت بھی کر رہی ہے۔ دعائیں بھی مانگی جارہی ہیں۔ اس وقت وطن عزیز کو صدقِ دل سے کی جانے والی دعاؤں اور حُسنِ عمل کی اشد ضرورت ہے۔ ہم مشکل میں ہیں۔ بحرانی کیفیت ہے کہ زیادہ سے زیادہ خطرناک ہوتی جارہی ہے۔ ایسے میں لازم ہے کہ اللہ سے رجوع کرکے خیر و برکت کی بھیک مانگی جائے۔ قومی کرنسی کو زیادہ سے زیادہ مستحکم کرنے کے لیے جو کچھ بھی عام پاکستانی کرسکتا ہے ‘وہ ضرور کرنا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ غیر ضروری درآمدات سے جان چھڑائی جائے۔ جو کچھ ملک میں آسانی سے دستیاب ہے ‘وہ ہرگز نہ منگوایا جائے۔ ایسا کرنے سے زرِ مبادلہ ضائع ہوتا ہے۔ 
شدید گرمی میں بجٹ بھی پیش کیا جانے والا ہے۔ اب کے بجٹ ایسا ہونا چاہیے کہ عوام کے لیے‘ اگر ریلیف کا اہتمام نہ ہو تو تکلیف کا گراف بھی بلند نہ کیا جائے۔ حالات نے عام پاکستانی کو ویسے ہی بے دم سا کر رکھا ہے۔ اگر بجٹ کے نام پر عوام کی جیب مزید خالی کرنے کا سوچا گیا تو اِسے مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق ہی قرار دیا جائے گا۔ 
ڈالر اب تک پوری طرح قابو میں نہیں‘ رہ رہ کر اچھلتاہے اور روپے کی گردن دبوچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ کیفیت ختم کرنے پر حکومت کو خاص توجہ دینی ہے ‘تاکہ بے یقینی ختم ہو اور قوم سکون کا سانس لے۔ یہ سب کچھ محض کہہ دینے سے نہیں ہوگا۔ گرمی اللہ کے اختیار میں ہے‘ مگر اُس سے بچاؤ کا بندوبست کرنا تو ہمارے اختیار کا معاملہ ہے۔ ڈالر کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ہمیں طے کرنا ہے کہ ڈالر کے آگے روپے کو مزید سجدہ ریز نہیں ہونے دینا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved