تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     26-06-2019

سرخیاں‘متن اور ابرار احمد کی نظم

ملکی ترقی کے لیے خود کو بدلنا ہوگا: وزیر اعظم عمران خان
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ''ملکی ترقی کے لیے خود کو بدلنا ہوگا‘‘ جس کے لیے میری اپنی مثال کافی ہے‘ جو میں ہر تیسرے دن اپنے آپ کو بدل لیتا ہوں‘ جسے یُو ٹرن کہا جاتا ہے اور جو ایک صحیح لیڈر کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس لیے عوام بھی‘ اگر صحیح عوام بننا چاہتے ہیں تو اس سنہری اصول کو اپنائیں ‘ جیسا کہ ہم نے پہلے سوچا تھا کہ شوگر ملوں پر ٹیکس لگائیں‘ لیکن پھر ہم نے ترس کھاتے ہوئے الٹا انہیں سبسڈی دے دی‘ اس لیے عوام بھی ہم پر ترس کھاتے ہوئے ٹیکس ادا کرنے کی عادت ڈالیں‘ اسی طرح ہم نے پہلے سوچا تھا کہ کے پی کے میں تمباکو فیکٹریوں پر ٹیکس لگائیں ‘لیکن پھر ترس کھاتے ہوئے ان کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا‘ کیونکہ ترس کھانا بجائے خود ایک مستحسن اقدام ہے۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی کی خصوصی ٹرانسمیشن میں گفتگو فرما رہے تھے۔
میں شہباز اور مریم کی رائے کے درمیان کھڑا ہوں: خواجہ آصف
نواز لیگ کے سینئر رہنما خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ''میں شہباز اور مریم کی رائے کے درمیان کھڑا ہوں‘‘ کیونکہ نہ میں شہباز شریف کی رائے کو نظر انداز کر سکتا ہوں‘ نہ مریم کی رائے سے اختلاف کر سکتا ہوں‘ اس لیے میں دونوں کا طرفدار ہوں اور کسی طرف کا نہیں ہوں‘ اس لیے دونوں کے لیے بہتر ہے کہ مجھے آدھا آدھا تقسیم کر لیں؛ اگرچہ اس عمر میں تقسیم ہونا میرے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوگا‘ جبکہ ایک کی رائے شمال کی جانب ہے تو دوسری کی جنوب کی طرف اور‘ اگر دونوں کو مجھ سے اختلاف ہو تو یہی سمجھا جائے کہ میرے بیان کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے‘ کیونکہ بیان یا تو سیاسی ہوتا ہے یا توڑا مروڑا ہوا اور‘ ہر بیان کی بعد میں وضاحت کرنا پڑتی ہے۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شریک تھے۔
ارکان اسمبلی کو اپنی سیٹوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''ارکان اسمبلی کو اپنی سیٹوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے‘‘ جبکہ میں نے الیکشن کے فوراً بعد بھی ان سے یہی مطالبہ کیا تھا ‘لیکن چھلانگیں لگاتے ہوئے اسمبلیوں میں پہنچ گئے اور اب خوار ہو رہے ہیں؛ حالانکہ این آر او لینے کا وہی صحیح وقت تھا اور اب خوار ہو رہے ہیںاور مزید یہ کہ ایک غیر منتخب شخص کی سربراہی قبول کر کے مزید خوار ہو رہے ہیں اور اب بھی اُن کا جواب یہ ہے کہ آپس میں مشورہ کر کے جواب دیں گے؛ حالانکہ اُن کا جواب مجھے پہلے سے ہی معلوم ہے‘ بلکہ مجھے تو اے پی سی کا بھی کوئی مثبت نتیجہ نکلتا دکھائی نہیں دیتا اور دونوں پارٹیوں کے ارکان کوئی اشارہ ملتے ہی مجھے بیچ منجدھار کے چھوڑ کر رفو چکر ہو جائیں گے۔ کم از کم انہیں میرے بیروزگاری ہی کا کوئی خیال کرنا چاہیے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
لفظ سلیکٹڈ پر پابندی کیخلاف آئینی ماہرین سے مشورہ کروں گا: زرداری
سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ''لفظ سلیکٹڈ پر پابندی کے خلاف آئینی ماہرین سے مشورہ کروں گا‘‘ تا کہ اس کے لیے اضافی فیس بھی نہیں دینی پڑے گی ‘کیونکہ جعلی اکائونٹس مقدمات کے سلسلے میں وہ پہلے ہی ہر وقت ساتھ ہی رہتے ہیں؛ اگرچہ ان مقدمات کے ضمن میں وہ کوئی حوصلہ افزا بات نہیں کرتے‘ خاص طور پر بلاول کے بارے تو انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس پر اتنے مقدمات اور بھاری بوجھ ہے کہ اس کی باقی عمر یہ مقدمات لڑتے ہی گزر جائے گی ‘ کیونکہ وہ بیچارہ کیا بتائے گا کہ اس کے اکائونٹ میں 34 ارب روپے کہاں سے آئے تھے؟ اس لیے میں آصفہ کو تیار کر رہا ہوں کہ اُس کی غیر حاضری اور میری سرپرستی میں عوام کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہے‘ کیونکہ میں جیل سے بھی اُسے سربراہی فراہم کرتا رہوں گا کہ یہ دس بارہ سال ہی کی تو بات ہے۔ آپ اگلے روز پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اور‘ اب ابرار احمد کی یہ خوبصورت نظم پیش خدمت ہے:
ہمارے گھر کوئی آتا نہیں ہے
دریچے سے لگی آنکھیں پلٹتی ہیں / پلٹ کر لوٹ آتی ہیں / رسوئی میں اندھیرا ہے / کوئی برتن کہیں بجتا نہیں ہے / کھُلا رہتاہے دروازہ / نشستوں پر گرے پتے بتاتے ہیں / ہمارے گھر کوئی آتا نہیں ہے / یہ کل کی بات ہے ‘آتش دہکتی تھی / سُلگتی کیتلی کی بھاپ سے چہرے دمکتے تھے / لڑھکتے قہقہے ٹکرا کے دیواروں سے / ہم پر لوٹ آتے تھے / کہیں خوابوں کی تلچھٹ کے نشے میں چُور ہو کر / دن کی گلیوں سے سے گزرتے تھے / کبھی آنکھوں میں خالی پن کے ڈورے کھینچ کر / تکتے تھے‘ اس دُنیا کے چہرے کو ... کدھر کو کھو گئے / ماچس بجاتے‘ گیت گاتے‘ دل زدہ ساتھی / نہ جانے کون سی سمتوں سے / ہنستے‘ گنگناتے آ دھمکتے تھے /کہیں افسوس کی تانیں لیے / افسوں کی گہری نغمگی لے کر / کدھر کو عازم ہجرِ مسلسل ہیں / کہاں سوئے پڑے ہیں خواب کی بیمار جکڑن میں / کہولت ہے کہ بیماری / سہولت ہے کہ دشواری / درو دیوار کو تکتے ہیں / اور گرتے پلستر‘ نم زدہ اینٹوں کی سیلن میں / کہیں تحلیل ہوتے جا رہے ہیں / وہ روزِ عید ہو / چھٹی کا یا پھر کام کا دن ہو / ہمارے گھر کوئی آتا نہیں ہے / کوئی آسیب ہے‘ شاید / جو دیواروں سے / اپنی ہانپتی تاریکیاں لے کر / پڑا رہتا ہے قدموں میں / کسی منحوس لذت کی طرح / بستر سے اٹھنے ہی نہیں دیتا / نہ جانے کیا ہوا ہے / رونقیں آنے نہیں دیتیں / کہ ویرانی نے گھیرا ڈال رکھا ہے / کہ گہری دھند ہے اطراف میں پھیلی ہوئی / کوئی آشوبِ زر ہے / یا کشا کش زندگی کی ہے / کہ سیلِ عمر کا کوئی تھپیڑا ہے / کسی کے گھر کوئی آتا نہیں ہے / ہمارے گھر کوئی آتا نہیں ہے
آج کا مطلع
چلو اتنی تو آسانی رہے گی
ملیں گے اور پریشانی رہے گی

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved