تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     30-06-2019

اُنہی کو مبارک رہے‘ ڈائٹنگ!

مولانامحمد حسین آزادؔ نے لکھا ہے کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔ بات حرف بہ حرف درست ہے۔ وہ انسان ہی کیا جو ہر حال میں خوش رہ کر اپنے آپ کو حقیقی شکر گزار ثابت کردے۔ جس نے یہ کائنات خلق کی ہے اور انسان کو بھی وجود بخشا ہے‘ اُسی ہستی کا فرمان ہے کہ انسان جلد باز اور ناشکرا ہے۔ اب ‘اس کے بعد کچھ کہنے کی گنجائش ہی کہاں باقی رہتی ہے؟ 
انسان اپنے حال سے ناخوش ہوکر اُسے بدلنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے؛اگر کسی کو اچھی آواز عطا کی گئی ہے ‘تو وہ اُس پر متوجہ ہوکر دُنیا کو مستفید کرنے کی بجائے اِس بات کا رونا روتا رہتا ہے کہ اللہ نے صورت معمولی بخشی ہے۔ کسی کی صورت اچھی ہے تو اس بات کا غم ہے کہ آواز میں برائے نام دم ہے۔ کوئی صحت مند ہے تو شکر ادا کرنے کی بجائے اپنے سے زیادہ صحت مند افراد کی طرف دیکھ دیکھ کر اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہے۔ یہی حال اُن کا ہے‘ جو سدا بیمار رہتے ہیں۔ وہ اپنے سے زیادہ بیمار افراد کی طرف دیکھ کر اپنی حالت پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ 
کسی بھی حال میں خوش نہ رہنے کے فطری میلان نے ڈائٹنگ کے عذاب کو جنم دیا ہے۔ ہر وقت پریشان رہنے کے شوقین افراد کے لیے ڈائٹنگ ایک خوب صورت اور کارگر بہانہ ہے۔ ہمارے دوستوں میں اللہ نے ایسی مخلوق بھی رکھی ہے ‘جو ڈائٹنگ کے نام پر خود کو اذیت دیتی رہتی ہے دوسروں کے لیے تفریحِ طبع کا اہتمام کرتی ہے! 
ایک زمانے تک ہم نے جن چند دوستوں کو کھانے پینے کے معاملات میں انتہائی محتاط و پیچیدہ پایا اُن میں سید خورشید عالم بھی شامل ہیں۔ وہ کھانے پینے کے معاملات میں عجیب ہی مزاج کے واقع ہوئے ہیں۔ ایک زمانے میں ہم ساتھ کام کرتے تھے تب ہم نے پایا کہ وہ بیک وقت ڈائٹنگ کرتے بھی ہیں اور نہیں بھی کرتے۔ وہ بہت دُبلے تھے۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا تھا کہ شاید اُنہیں پورے شہر کی فکر لاحق ہے اور اُس فکر نے اُن کے جسم و جاں کو مضمحل کردیا ہے! معمول یہ تھا کہ گھر سے اُبلے ہوئے آلوؤں کی قتلیاں لاتے تھے۔ یہ گویا اِس بات کا اشارا تھا کہ ڈائٹنگ ہو رہی ہے۔ معاملہ ذرا گھما پھراکر تھا۔ ڈائٹنگ ضرور ہو رہی تھی‘ مگر دوسروں کی! خورشید عالم گھر سے لائی ہوئی آلو کی قتلیاں دوسروں کے سامنے رکھتے تھے اور دوسروں کے سالن پر انتہائی پُرسکون و سنجیدہ انداز سے ہاتھ صاف کرتے تھے! خورشید عالم کا یہ ''طریقِ واردات‘‘ خاصی طویل مدت تک لوگوں کی سمجھ میں نہ آسکا۔ سبب اس کا یہ تھا کہ وہ انتہائی درجے کے بذلہ سنج تھے۔ کھانے کے دوران بھی چُٹکلے چھوڑتے رہتے تھے اور لوگ اُن کی باتوں میں گم ہوکر اُن کے منفرد طریقِ واردات کے بارے میں سوچنے کی طرف نہیں جاتے تھے! اور جب تک لوگوں کو سمجھ میں آئی تب تک بہت دیر ہوچکی تھی ‘یعنی خورشید عالم اپنے طریقِ واردات کے ساتھ کسی اور ادارے کی طرف جاچکے تھے! 
خیر‘ ہمارے مقدر میں ڈائٹنگ کے کئی اور شوقین بھی لکھے ہوئے تھے۔ اُن میں سلمان بھی تھے ‘جو ڈائٹنگ کے معاملے میں انتہائی درجے کے احتیاط پسند تھے۔ وہ کھاتے وقت مقدار کا ایسا خیال رکھتے تھے‘ گویا ایک لقمہ بھی زائد لیا تو بھینس پانی میں چلی جائے گی! غیر معمولی ڈائٹنگ کا نتیجہ بھی غیر معمولی ہی برآمد ہونا تھا اور ہوا۔ کم کھاتے رہنے سے اُن کا معدہ سُکڑ گیا اور پھر یوں ہوا کہ وہ پانی بھی تھوڑا زیادہ پی لیتے تھے تو معدہ الجھنے لگتا تھا! لوگ سمجھا سمجھاکر تھک گئے‘ مگر وہ مان کر نہ دیئے‘ پھر ہم نے وہ زمانہ بھی دیکھا جب وہ کھانے پر آئے اور ڈائٹنگ کو لپیٹ کر طاقِ نسیاں پر رکھ دیا! کبھی نہ کھانے کی انتہا تھی اور اب کھانے کی انتہا ہوگئی۔ 
ڈائٹنگ کی راہ پر چلنے والوں کا یہی المیہ ہے۔ وہ ہمیشہ انتہائی سِروں پر رہتے ہیں یا تو کھاتے پیتے نہیں یا پھر کھانے پینے کی راہ پر دوڑتے پھرتے ہیں۔ ایک انتہا دوسری‘ مخالف انتہا‘ جو جنم دیتی ہے۔ ہمارے دوستوں میں طالوت اختر بھی ہیں‘ جو آج کل ڈائٹنگ کے گھوڑے پر یوں سوار ہیں کہ ایڑ پر ایڑ لگائے جارہے ہیں۔ کئی ماہ سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ اُن کا اُبلے ہوئے چنوں اور کھیرے پر گزارا ہے۔ سمجھانے والے سمجھا سمجھاکر تھک گئے ہیں۔ کہنے والوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ بھائی! اتنے چنے باقاعدگی سے کھاؤگے تو کسی دن ہنہناتے پائے جاؤگے! مگر جناب'' زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد‘‘ کے مصداق طالوت سُننے کو تیار ہیں نہ سمجھنے کو۔ احباب کی طرف سے سمجھانے کی ہر کوشش کو وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کے درجے میں رکھتے ہیں! 
ہم نے بھی سمجھانے کی اپنی سی کوشش کی کہ صحافی ہو‘ کوئی پہلوان تو ہو نہیں کہ کسی کو پچھاڑنا ہو۔ خبر کو پچھاڑنے یا اُس کی ایڈیٹنگ کرنے کے لیے جتنی ذہنی قوت درکار ہوتی ہے‘ وہ تو اللہ نے دے ہی رکھی ہے‘ پھر ''ہارس پاور‘‘ پیدا کرنے والی خوراک پر جینے کی منطق کیا ہے! ہاں ‘اگر دفتری احباب میں سے کسی کو پچھاڑ کر لمبا لِٹانے کا ارادہ ہے تو اور بات ہے‘ مگر وہ اب تک ''اصلاحِ معدہ‘‘ پر آمادہ نہیں ہوئے ہیں۔ ڈائٹنگ کے نام پر چنے کھا کھاکر اپنے جسم کو ''گوجرانوالوی‘‘ بنانے پر تُلے ہوئے ہیں! 
طالوت کی ڈائٹنگ نے ہمارے حلقۂ احباب میں عمر راشد کو بھی متاثر کیا۔ ایک دن وہ بھی اُبلے ہوئے چنوں اور کھیرے کی منزل تک پہنچ گئے‘ مگر یہ معاملہ ایک ہی دن کا تھا۔ ہوا یہ کہ عمر نے جذباتی ہوکر گھر والوں سے کہا ؛ڈھائی تین پاؤ کالے چنے اُبالو۔ اور پھر کم و بیش آدھا کلو چنے ایک ہی نشت میں ڈکار گئے۔ نتیجہ؟ یہی کہ ایک دن میں غُدودانِ معدہ میں حالتِ خانہ جنگی نے اُن کے ہوش اُڑادیئے۔ ''ہارس پاور‘‘ پیدا کرنے کے ضامن چنوں نے عمر کے دماغ کو گھوڑے کو طرح دوڑایا اور وہ ایک ہی دن میں سمجھ گئے کہ اِس راہ میں دو چار بہت سخت مقام آتے ہیں! 
ناپسندیدگی کے لحاظ سے ڈائٹنگ مرزا کے پسندیدہ ترین موضوعات میں سے ہے۔ وہ جب بھی کسی کو ڈائٹنگ کی راہ پر گامزن دیکھتے ہیں آپے سے باہر ہوکر لتاڑنے لگتے ہیں۔ مرزا کا ''نظریہ‘‘ یہ ہے کہ جو لوگ ڈائٹنگ کے نام پر معدے کو درست کرنے کی راہ پر چل پڑتے ہیں‘ اُن کے دماغ درست کرنے کی ضرورت ہے! اُن کا استدلال ہے کہ اللہ کے بخشے ہوئے اچھے خاصے جسمانی نظام کو درست کرنے کی ذہنی کجی دور کرنے کے لیے متعلقین کو جُوتے لگائے جانے چاہئیں اور وہ بھی سَر پر! مرزا کا ڈائٹنگ سے چِڑنا قابلِ فہم ہے۔ بات یہ ہے کہ وہ ٹھہرے کھانے پینے کے شوقین نمبر ون اور اولاد ڈائٹنگ کے نام پر خود کو ڈنڈے سے تِنکا بنانے پر تُلی ہوئی ہے! مرزا اور اُن کی اولاد کے ڈیل ڈول میں اتنا فرق ہے کہ اولاد کھانے پینے کے معاملے میں احتیاط برتنے کے حوالے سے باضابطہ احتجاج آمیز مطالبے کرنے لگی ہے‘ مگر وہ مرزا ہی کیا جو اولاد کے آگے جھک جائیں! 
اب آپ سے کیا چُھپانا۔ ہم نے بھی کئی بار سوچا کہ تھوڑی سی ڈائٹنگ کے ذریعے اپنے جسم کو درست کرنے کی طرف جائیں مگر جب ڈائٹنگ کرنے والوں کے روکھے اور پھیکے شب و روز دیکھے تو اپنی رائے سے رجوع کرنا پڑا! جسم کو سیدھا کرنے کے نام پر کی جانے والی کوششوں سے اگر منہ کا مزا ہی ٹیڑھا ہوجائے تو جینے میں کیا خاک مزا رہے گا! 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved