تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     05-07-2019

سرخیاں‘متن اور کشور ناہید کی نظم

عمران خان کی ہٹلر والی سوچ‘ سارا ایجنڈا 
ہی ن لیگ کے خلاف ہے: شہباز شریف
سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''عمران خان کی ہٹلر والی سوچ‘ سارا ایجنڈا ہی ن لیگ کے خلاف ہے‘‘ حالانکہ پیپلز پارٹی والے بھی ہم سے پیچھے نہیں ہیں‘ بلکہ ہم سے چار ہاتھ آگے ہی ہوں گے‘ لیکن سنا ہے کہ زرداری کے خلاف ریفرنس میں بلاول کا نام شامل نہیں‘ جبکہ اس اصول کی بنا پر حمزہ شہباز کو بھی کلیئر کر دینا چاہیے‘ لیکن یہ کھلی جانبداری ہے؛ حتیٰ کہ نواز شریف کے گھر سے باہر بنائے گئے بنکرز بھی ہٹا دیئے گئے ہیں اور میرے فرنٹ مین رانا ثناء اللہ کو عام قیدیوں کے ساتھ بیرک میں رکھا گیا ہے اور سارے قیدیوں کے ساتھی جیل میں ایک جیسا سلوک رکھنے کا پروگرام بھی بنا لیا گیا ہے ‘جو کہ سخت ناانصافی ہے اور خاص آدمیوں کے ساتھ عام آدمیوں جیسا سلوک روا رکھ کر کیاآخر حکومت ثابت کیا کرنا چاہتی ہے۔ آپ اگلے روز رانا ثناء اللہ کے اہل خانہ سے ملاقات کر رہے تھے۔
غیر جانبدارانہ انتخابات مسائل کا واحد حل ہے: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''غیر جانبدارانہ انتخابات مسائل کا واحد حل ہیں‘‘ جبکہ اس کے علاوہ کئی اور حل بھی ہیں ‘مثلاً ؛اگر لوگوں کے انفرادی مسائل ہی ایک ایک کر کے حل کر دیئے جائیں تو غیر جانبدارانہ انتخابات کی ضرورت ہی نہیں رہے گی‘ جس کا آغاز خاکسار سے کیا جا سکتا ہے اور اس طرح انتخابات کے خرچے سے بھی بچا جا سکتا ہے‘ نیز میرا منتخب ہونا دوبارہ انتخابات کے ذریعے بھی ممکن نہ ہوا تو بھی یہ ایک سعیٔ لا حاصل ہوگا اور اس سے بڑا مذاق اور کیا ہو سکتا ہے کہ مجھے رہبر کمیٹی کا سربراہ بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور میرے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی اور وہاں کھجلایا جا رہا ہے جہاں کھجلی ہو ہی نہیں رہی‘ اوپر سے ساری اپوزیشن ہی رفتہ رفتہ تتر بتر ہو رہی ہے اور ‘اگر ن لیگ کے ارکان اسمبلی عمران خان سے ملاقات کر کے اپنے مسائل بیان کر سکتے ہیں تو میں بھی ایسا کیوں نہیں کر سکتا۔ آپ اگلے روز امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کر رہے تھے۔ 
سندھ حکومت کی تبدیلی پی ٹی آئی کا خواب ہے: مراد علی شاہ
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ''سندھ حکومت کی تبدیلی پی ٹی آئی کا خواب ہے‘‘ جو منظور وسان صاحب کے خوابوں کی طرح خواب ہی رہے گا اور کوئی تعبیر نہیں نکلے گی اور ‘اگر نکلی بھی تو الٹی ہی نکلے گی‘ کیونکہ ملک عزیز میں کوئی کام بھی سیدھے طریقے سے نہیں ہو رہا‘ جیسے کہ تقریباً آدھے کراچی پر ناجائز قابضین کا تسلط ہے‘ جو سارے کے سارے ہمارے نیاز مند ہیں‘ اس لیے انہیں پریشان کرنا کوئی عقلمندی نہیں ہوگی ‘کیونکہ کل کو ہم نے یہاں سے الیکشن بھی لڑنا ہے اور اپنے پائوں پر کلہاڑی کون مارتا ہے؛ اگرچہ جعلی اکائونٹس والا سارا معاملہ بھی اپنے پائوں پر کلہاڑی ہی ثابت ہو رہا ہے اور زرداری صاحب کا پائوں بھی زخمی ہوتا نظر آ رہا ہے‘ جبکہ ہمارے جیسے جانثار تو پہلے پولے ہی شہید ہوں گے اور اگر ان میں سے بلاول کا نام نکل سکتا ہے ‘تو حکومت میرے بارے میں مہربانی کر سکتی ہے۔ آپ اگلے روز کراچی میں اخبار نویسوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
خزانہ لوٹنے والوں کو حساب بھی دینا ہوگا: عثمان بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ''خزانہ لوٹنے والوں کو حساب بھی دینا ہوگا‘‘ یعنی صحیح اعداد و شمار بتا دیں اور چین کی بانسری بجائیں ‘کیونکہ ایسے مقدمات کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا کرتا اور ہمیں بھی صرف وہ بیانات ہی بچتے ہیں ‘جو وزیراعظم سمیت ہم سب دیتے رہتے ہیں ‘جبکہ سیاست میں سارا کام بیانات ہی سے چلتا ہے اور کام کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی‘ کیونکہ فریقین کی طرف سے بیان کا جواب آتا ہے ‘ پھر اس کا جواب اور پھر جواب الجواب‘ اور اس طرح کسی کو سر کھجانے کی بھی فرصت میسر نہیں ہوتی؛ حالانکہ سب کے سر میں جوئوں نے ڈیرہ ڈال رکھا ہوتا ہے‘ بلکہ فریقین کے حصے کا کام بھی ان کی جُوئیں ہی کر رہی ہوتی ہیںآپ اگلے روز لاہور میں ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں معروف شاعرہ کشور ناہید کے تازہ شعری مجموعے ''شیریں سخنی سے پرے‘‘ میں سے یہ نظم پیش خدمت ہے۔ 
برگشتگی
تم کتنے بدنصیب تھے / تمہارے جانے کی خبر سن کر / میری آنکھوں میں آنسو بھی نہ تھے / بار بار یاد کرتی ہوں / کوئی لمحہ تو یاد آئے / جس میں تم نے اپنے قرب کی نشانیاں / چھوڑی ہوں / کوئی رات تو آنکھوں میں چمکے / جب کہکشاں کے بدلتے پہلو میں / رات گزار کر / ابھرتے سورج پہ پائوں دھرتے ہوئے / ہم زمین پر اترے ہوں / کبھی تو ٹرین کا وہ سفر یاد آئے / جو ہمیں جھولا جھلا رہی تھی / کبھی تو صحرا میں یک جان / وہ جسم یاد آئیں / جو ریت میں اپنی کوئی نشانی نہ چھوڑنے پر / خوشگوار حیرت سے ہنس رہے تھے / شاید کبھی ہم نے دن کو / رات کی طرح اوڑھا تھا / اور کبھی رات کو دن کی طرح جیا تھا / یوں بھی تو شاید ہوا تھا / کہ کسی غیر ملک میں ہم اچانک ملے تھے / پب میں بیٹھتے ہوئے / ہمیں ایک دوسرے کے پسند کی / وائن کے نام یاد تھے / برس ہا برس بعد / دنیا کے کسی جزیرے میں ہم ملتے / تو مکئی کے کھلتے دانوں کی طرح / بیتے زمانے اچھلتے ہوئے نکلتے تھے / خزاں کے سرخ پتوں کی طرح / آنکھیں لیے اپنی اپنی گاڑی میں / سوار ہو کر چلے جاتے تھے / لگتا ہے صدیوں کی لہریں / میری آنکھوں میں پھر رہی ہیں / مگر پھر بھی مانوس چہرہ / نہیں بن رہا ہے / میں زندگی کی لائبریری میں / بوسیدہ دیمک زدہ کتاب کے / پیلے پڑے ہوئے صفحات کو / الٹتے پلٹتے دیکھ کر سوچ رہی ہوں / تمہارے وجود کی کوئی نشانی مل جائے / یا میں شاید وہ نہیں ہوں / جو تم سے ملی تھی!
آج کا مقطع
ظفرؔ‘ بیمارِ الفت ہو تو دل سے دُور مت رہنا
قسم لے لو اثر اس خاک میں اکسیر جیسا ہے

 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved