تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     06-07-2019

نئی دہلی کا کرفیو اور سفید گاڑی

پانچ جون کو بدھ کے روز صبح سویرے دہلی کے علاقے فیروز شاہ کوٹلہ کی قدیم مسجد میں نمازِ عید کی ادائیگی کے بعد مسلمان آپس میں گلے مل کر ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دے رہے تھے کہ اچانک سفید رنگ کی ایک ہونڈا سٹی گاڑی آندھی اور طوفان کی طرح ان پر چڑھا دی گئی‘ جس کے نتیجے میں 17 نمازی شدید زخمی ہونے سے ہر جانب چیخ و پکار شروع ہو گئی۔ زخمیوں کے بدن سے بہنے والے خون سے عید گاہ کا وہ حصہ سرخ ہو گیا‘ جہاں یہ واردات ہوئی تھی۔ مشتعل نمازیوں نے جب قریبی چوک پر اس دہشت گردی کے خلاف مظاہرہ کیا تو پولیس کے دستوں نے ان پر لاٹھی چارج کر دیا۔ جب مسلمان لیڈروں کی جانب سے اگلے دن اس واقعہ پر احتجاج شروع ہوا تو ڈپٹی کمشنر پولیس شاہدرہ (دہلی) نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 17 نمازیوں کو قتل کی نیت سے گاڑی کے نیچے کچلنے والے کی تلاش جاری ہے‘ لیکن ابھی تک ہمیں اس کار سوار اور اس سفید گاڑی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ جس طرح رانا ثنااﷲ کے خلاف اے این ایف کے مقدمے پر اینکرز کا ایک گروپ اور استادیاں دکھانے والے یک زبان ہو کر درد سے چلانا شروع ہو گئے ہیں‘ کاش کبھی بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر بھی ان کی زبان سے کوئی ایک آدھ لفظ نکل آئے! انہیں مسنگ پرسنز کا بہت دکھ ہوتا ہے لیکن دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید کئے جانے والے سکیورٹی فورسز کے افسروں اور جوانوں کا رتی برابر بھی دکھ اور افسوس نہیں ہوتا۔ شاید ہمارے ان استادیاں دکھانے والوں کو نئی دہلی پولیس کے افسران کی باتیں زیادہ پسند آئیں‘ جنہوں نے یہ بتا کر سب کو حیران کر دیا کہ انہیں سفید گاڑی کے نیچے کسی کے بھی زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ جبکہ دہلی ہی کے ایک ہسپتال میں یہ زخمی کئی روز تک پڑے کراہتے رہے تھے۔ ان استادیاں دکھانے والوں کو کالعدم بی ایل اے اور پی ٹی ایم کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کے غنڈوں سے بھی نہ جانے کن کے کہنے پر پیار و محبت کرنے کی عادت ہو چکی ہے‘ جبکہ انہیں مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کی کھالیں کھینچنے، انہیں زبردستی گائے کا گوبر اور پیشاب پلانے والوں کے خلاف ایک لفظ بھی بولنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ کیا ان بے حسوں نے کبھی بھی نہیں دیکھا کہ آر ایس ایس کے غنڈے مسلم خواتین کو درختوں سے باندھ کر ڈنڈوں سے ان کو پیٹتے ہیں۔ یہ واقعہ تو ابھی چند روز قبل کا ہے۔ 30 جون کی شام سر پر سفید ٹوپی پہنے اور ہلکی سی داڑھی لئے ہوئے ایک بیس سالہ نوجوان آس محمد پرانی دلی کے پہاڑ گنج کی مارکیٹ کے سامنے والے حصے میں واقع ایک گلی کے ساتھ مندر کے قریب ابھی اپنا نیا چمچماتا ہوا سکوٹر کھڑا کر ہی رہا تھا کہ تین چار لڑکوں‘ جن میں سے ایک کا نام بعد میں سنجیو کمار گپتا معلوم ہوا‘ نے گندی سی گالی دیتے ہوئے اسے اپنا سکوٹر وہاں سے فوری ہٹانے کا کہا۔ آس محمد نے کہا: بھائی مارکیٹ میں رقم دینے کے بعد صرف تین چار منٹ میں مجھے یہاں سے چلے جانا ہے‘ اس لئے تین چار منٹ تک انتظار کر لیں۔ لیکن بغیر کوئی انتظار کئے گپتا اور اس کے ساتھیوں نے آس محمد کے سکوٹر کو دھکا دے کر گرا دیا۔ آس محمد نے جب اس پر احتجاج کیا تو سنجیو کمار گپتا اپنے چاروں ساتھیوں سمیت اس مسلم نوجوان پر پل پڑا اور اسے اس قدر مارا کہ اس کا چہرہ اور کپڑے خون سے تر ہو گئے۔ اس کے منہ سے خون کی دھاریں بہہ رہی تھیں اور پورا جسم خون آلود ہو چکا تھا۔ مارکیٹ میں کھڑے پولیس کے دو جوان کچھ دورکھڑے یہ سب کچھ ایسے دیکھ رہے تھے‘ جیسے یہ سب کسی فلم کی شوٹنگ ہے۔ گپتا اور اس کے ساتھی جاتے ہوئے آس محمدکی جیب میں موجود رقم بھی لوٹ کر لے گئے۔ ان کے ادھر ادھر کھسکنے کے بعد پتہ چلا کہ نئے سکوٹر والا نوجوان مسلمان تھا اور اسے بری طرح مارنے والے انتہا پسند راشٹریہ سیوک سنگھ کے لوگ تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ایک ہجوم اکٹھا ہو گیا‘ جس میں ہندو اور مسلم دکان داروں کے ساتھ وہاں خریداری کیلئے آئی ہوئی فیملیز بھی شامل تھیں۔ شدید زخموں سے بے ہوش مسلم نوجوان کو کچھ لوگ جلدی سے ایک رکشا میں بٹھا کر قریبی ہسپتال لے گئے‘ جہاں کئے گھنٹے بعد وہ ہوش میں آیا۔ اس کی کئی پسلیاں اور دو دانت ٹوٹ چکے تھے اور جسم کے مختلف حصوں میں لگنے والی چوٹیں اس کا درد سے بُرا حال کر رہی تھیں۔ 
چار پانچ روز پہلے‘ یعنی یکم جولائی کو پہاڑ گنج اور اس سے ملحق آبادیوں اور مارکیٹوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے سڑکوں پر آ کر آر ایس ایس کی اس غنڈہ گردی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ ان چاروں ہندو غنڈوں کو فوری گرفتار کیا جائے کیونکہ ان سب کے چہرے سی سی ٹی وی فوٹیج میں صاف دیکھے جا سکتے ہیں اور ان کی با قاعدہ نشاندہی بھی ڈپٹی کمشنر پولیس مندیپ سنگھ رندھاوا کو کر دی گئی ہے۔ مارکیٹ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان لٹیروں سے آس محمد کی چھینی گئی رقم بھی برآمد کی جائے‘ جو اس نے مارکیٹ میں ادا کرنی تھی۔ حوض قاضی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او نے بجائے ملزمان کی گرفتاری اور ان سے رقم کی واپسی کے‘ یہ مشورہ دیا کہ وہ آر ایس ایس کے مقامی سربراہ سے جا کر ملیں۔ آس محمد کے عزیزوں نے جب دیکھا کہ ان کی کوئی بھی نہیں سن رہا تو مارکیٹ کی ایکشن کمیٹی نے احتجاج کا فیصلہ کرتے ہوئے مارکیٹوں میں علامتی ہڑتال اور ریلی نکالی‘ لیکن ان کے احتجاج اور ریلی کا مقامی انتظامیہ پر رتی برابر بھی اثر نہ ہوا‘ بلکہ ان چار ہندو غنڈوں کے تیس سے زائد ساتھی بھی ان کے ساتھ شامل ہو کر انہیں دھمکیاں دینے لگے‘ جس پر پہاڑ گنج، لال کنواں، دریا گنج، جامعہ مسجد اور چاندنی چوک کے دکان داروں نے اپنی دکانیں بند کرتے ہوئے حوض قاضی پولیس سیشن کو وارننگ دے دی کہ جب تک ان ہندو مہا سبھائیوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا‘ اس وقت تک شٹر ڈائون اور احتجاجی جلوسوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
جب مسلمان دکان داروں کی جانب سے شٹر ڈائون کا اعلان کیا جا رہا تھا تو راشٹریہ سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشد کے لڑکے ہاتھوں میں ڈنڈے لئے ہوئے ایک مسجد کی جانب بڑھنا شروع ہو گئے۔ ان کو مسجد کی جانب آتا دیکھ کر مسلمان ان کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ اب دونوں جانب سے نعرے بازی شروع ہو گئی۔ ہندو انتہا پسندوں کی کوشش تھی کہ مسجد کو آگ لگا دیں جبکہ مسلم نوجوان ان کے ڈنڈوں کے سامنے خالی ہاتھ کھڑے انہیں روک رہے تھے۔ آج کے سیٹلائٹ کے اس دور میں یہ خبر ارد گرد کی آبادیوں میں پھیل گئی کہ آر ایس ایس والے دریا گنج کی مسجد کو آگ لگانے جا رہے ہیں جیسے ہی یہ خبر پھیلی تو دیکھتے ہی دیکھتے مشتعل مسلمانوں کے گروہ اپنے اپنے علاقوں سے مسجد کی جانب چل پڑے‘ جہاں انتہا پسند ہندوئوں نے ان کا راستہ روک لیا۔ ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کے بعد دونوں گروپ آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ دونوں جانب سے کئی لوگ زخمی ہوئے۔ جب آر ایس ایس کے غنڈوں کی جانب سے مسجد کی بے حرمتی کی جانے لگی تو مسلم نوجوان ان کو روکنے کیلئے آگے بڑھے۔ کوئی ایک گھنٹے بعد سی آر پی ایف کے دستے ان علا قوں میں پہنچ گئے‘ اور انہوں نے ہندو بلوائیوں کو روکنے کی بجائے ان کا ساتھ دینا شروع کر دیا جبکہ دریا گنج، پہاڑ گنج، جامعہ مسجد اور چاندنی چوک کو مکمل بند کرتے ہوئے کسی بھی مسلمان کو گھر سے باہر نکلنے سے سختی سے روک دیا گیا۔ چاروں جانب کرفیو کا سماں تھا‘ کسی بچے یا خاتون کو بھی باہر نکلنے کی اجازت دینے سے سختی سے انکار کیا جاتا رہا۔
یہ ساری تفصیلات بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں سمیت تمام اقلیتیں آج بھی اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہیں اور ماضی کی طرح آج بھی ان کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے بھارت کے ایک سیکولر ملک ہونے کے دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے‘ لیکن باقی دنیا سے بھارتی اقلیتوں کے حق میں کبھی کوئی آواز سننے میں نہیں آئی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved