تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     14-07-2019

سرخیاں‘ متن اور ابرار ؔاحمد کی تازہ نظم

رانا ثناء اللہ کے ساتھ کھڑے ہیں‘ بچہ بچہ 
کہتا ہے کہ کیس جھوٹا ہے: شاہد خاقان عباسی
سابق وزیراعظم اور نواز لیگ کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ''رانا ثناء اللہ کے ساتھ کھڑے ہیں‘ بچہ بچہ کہہ رہا ہے کہ کیس جھوٹا ہے‘‘ البتہ بڑوں کی رائے ذرا مختلف ہے ‘ورنہ میں نے جتنے بھی بچوں سے پوچھا ہے‘ سب نے بتایا ہے کہ کیس جھوٹا ہے ‘جبکہ ہم نے بہت سے بچوں کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی ہے‘ کیونکہ آج کل سارے فیصلے ویڈیوز پر ہی ہو رہے ہیں۔ اور‘ ہم رانا ثناء اللہ کے ساتھ اس لیے کھڑے ہیں کہ ہم بھی اُنہی جیسے ہیں ۔اور‘ چونکہ بھینسیں بھینسوں کی بہنیں ہوتی ہیں‘ اس لیے سیاستدان بھی آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں‘ جن میں سے اکثر برادرانِ یوسف ہی نکلتے ہیں‘ جبکہ ایک بچہ تو یہ بھی کہہ رہا تھا کہ اس نے حکومت کو جھوٹا کیس بناتے خود دیکھا ہے اور اب‘ چشم دید گواہ کی موجودگی میں اور کسی گواہ یا ثبوت کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟ اس لیے رانا ثناء اللہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ آپ اگلے روز میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
بھاڑ میں جائیں سب‘ کوئی نوٹس ملا نہ پیش ہوں گے: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''بھاڑ میں جائیں سب‘ کوئی نوٹس ملا نہ پیش ہوں گے‘‘ کیونکہ اگر میرے پاس آمدنی سے زائد اثاثے ہوتے تو کیا میں کوڑی کوڑی کیلئے محتاج پھرا کرتا؟ اور‘ اگر اثاثے ہیں بھی تو میرا بھی وہی جواب ہے‘ جو میاں نواز شریف نے دیا تھا کہ اگر‘ میرے اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں تو کسی کو کیا؟ ہیں جی؟ جبکہ دنیاوی اثاثے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ اصل اثاثے وہی ہوتے ہیں ‘جو عاقبت میں کام آئیں۔اور‘ ساری دنیا کو معلوم ہے کہ ایسے کے حوالے سے میری صورتحال کیا ہے، اس لیے میں نے سوچا ہے کہ اپنے سارے دنیوی اثاثے غریبوں میں تقسیم کر جاؤں؛ اگرچہ ایسا کرتے وقت مجھے خاصی تکلیف ہوگی‘ لیکن کوئی بات نہیں۔ آپ اگلے روز پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
کب تک امپائر کی انگلی پکڑ کر حکومت کی جائے گی: سراج الحق
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ''آخر کب تک امپائر کی انگلی پکڑ کر حکومت کی جائے گی‘‘ اگرچہ مجھے کسی نے بتایا ہے کہ امپائر کی انگلی پکڑی نہیں جاتی‘ بلکہ اس کے اُٹھنے کا انتظار کیا جاتا ہے اور جس کا مطلب یہ ہے کہ خود حکومت کو بھی کرکٹ کے اصولوں کا کچھ علم نہیں‘ ورنہ وہ امپائر کی انگلی نہ پکڑتی ‘جبکہ ویسے بھی امپائر حضرات اتنے کمزور نہیں ہوتے کہ کسی ٹیم کا کوئی کھلاڑی یا کپتان اپنا کام چھوڑ کر امپائر کی انگلی پکڑ کر کھڑا ہو جائے اور امپائر اسے کچھ نہ کہے؛ اگرچہ مخالفین کا بیان تو یہ تھا کہ حکومت بننے سے پہلے امپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کیا گیا تھا اور اب ‘شاید حکومت نے یہ انگلی اس لیے پکڑ رکھی ہے کہ اپنے انگلی اُٹھا کر آؤٹ قرار نہ دیدے‘ تاہم ان بجھارتوں کو سمجھنے کیلئے میں خود کرکٹ کے آداب سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں‘ دوست احباب میرے لیے دعائے خیر کریں۔ آپ اگلے روز ملتان میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
بیان حلفی میں رتی بھر سچ نہیں‘ والد کو رہا کیا جائے: مریم نواز
مستقل نااہل اور سزا یافتہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی سزا یافتہ صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ''بیان حلفی میں رتی بھر سچ نہیں‘ والد کو رہا کیا جائے‘‘ اگرچہ اس سارے پنڈورا باکس کے کھلنے سے والد صاحب کی سزا میںاضافہ بھی ہو سکتا ہے یاایک نئے کیس میں بھی سزا ہو سکتی ہے‘ لیکن انہیں کم از کم وقتی طور پر تو رہا کر دیا جائے‘ تاکہ میں ان سے سرخرو ہو جاؤں؛ اگرچہ میں اپنی بھی خیر منا رہی ہوں کہ یہ ملبہ آخر مجھی پر گرنا ہے‘ کیونکہ یہ ساری موسیقی میں نے ہی شروع کی تھی اور اب اس میوزک کا سامنا بھی مجھے ہی کرنا ہے‘ لیکن اس کا ایک خوش آئند پہلو یہ بھی ہے کہ ساتھ ہی چچا جان بھی دیوار سے لگ جائیں گے‘ جو خاموشی سے میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے‘ لیکن انہیں عدالت نے طلب ہی نہیں کیا ۔اور‘ یہ بڑی زیادتی کی بات ہے‘ کیونکہ ان کا چپ چاپ ساتھ بیٹھنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس کارروائی سے متفق ہیں۔ آپ حسب ِ معمول و عادت اگلے روز ٹویٹر پر ایک پیغام جاری کر رہی تھیں۔
اور اب آخر میں ابرارؔ احمد کی تازہ نظم پیش ِ خدمت ہے:
مری آواز سنتے ہو؟
تمہیں دیکھا تھا میں نے/ اپنے چاندی جیسے بازو کھول کر/ مستی میں لہراتے ہوئے/ سکرین پر/ آواز کے رنگوں کے چھینٹوں میں
مگر تم آج میرے سامنے کیسے؟/ کدھر سے آ گئے ہو/ کس تمنا کا بلاوا ہو/ مرے کس رنج کی کروٹ؟/ مرے ماتھے پہ چسپاں/ روشنی کے روبرو تم ہو؟ یہ میرے سامنے کاغذ پہ کس کا نام لکھا ہے؟/ یہ کیا افسوں ہے/ کیسی شام ہے/ بارش سی گرتی ہے---/ مری آواز سنتے ہو/ کہ پچھلی رات سے/ اک جال میں الجھا/ کسی بے نام سے اک خواب میں/ تم سے کہے جاتا ہوں/ کیا کیا کچھ---کہیں بستر پہ جانے کس طرف سے/ بچھتی جاتی ہے/ تمہاری چاندنی---/ مری آواز سنتے ہو/ تو اس کو رائیگاں عمروں کی جانب سے/ کسی بے سمت راہی کے/ تھکے قدموں سے نسبت دو/ یہ دروازہ/ ذرا سی دیر کو کھولو/ تمہارے لمس سے‘ ملبوس سے/ دیوار ودر سے/ اپنی سانسوں کو بھروں گا/ اور کسی انجان بستی کو نکل جاؤں گا/ اپنے ساتھ وہ پنچھی لیے--- تمہارے رس بھرے ہونٹوں کی شاخوں سے/ جو میرے جھکتے کاندھے کے لیے/ بے چین ہے---/ میں خاموشی کے رستے پر/ اسے آنسو پلاؤں گا/ اسے تھپکوں گا/ اپنی نیند کی باہوں میں/ اس کی ہم رہی میں/ گیت گاؤں گا/ کوئی قصہ سناؤں گا/ جہاں پر راستہ گم ہو رہا ہو گا/ اسے آزاد کر دوں گا!
آج کا مقطع
فصیلِ شوق اٹھانا‘ ظفرؔ‘ ضرور‘ مگر
کسی طرف سے نکلنے کا راستا رکھنا

 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved