تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     22-07-2019

سرخیاں‘متن اور سحر تاب رومانی کی ’’دھوپ کے پار‘‘

زلزلہ متاثرین کے پیسے کھانا مُردار کھانے 
کے برابر سمجھتا ہوں: شہباز شریف
سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''زلزلہ متاثرین کے پیسے کھانا مُردار کھانے کے برابر سمجھتا ہوں‘‘ لیکن جس طرح ناگزیر ضرورت میں چوری کرنا جائز ہے‘ اسی طرح ضرورت‘ اگر مجبور کر رہی ہو تو باقی چیزو ںکی گنجائش بھی نکل سکتی ہے‘ تاہم میں اسے بہت بُرا سمجھتا ہوں‘ نیز مُردار تو اس قدر بدبو دار ہوتا ہے کہ آدمی کھانا چاہے بھی تو نہیں کھا سکتا‘ جس کیلئے ناک بند کرنا پڑتا ہے‘ جو خاصا مشکل کام ہے؛ اگرچہ میں مشکل کام بھی ایک چیلنج سمجھ کر قبول کرتا ہوں اور جو کام میں اپنی وزارت کے دوران چٹکی میں کر لیا کرتا تھا‘ وہ بھی کوئی آسان کام نہیں تھے‘ یعنی ہمت مرداں مددِ خدا۔ آپ اگلے روز احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
ڈیل نہیں ہوتی‘ ادھر اُدھر سے پیغام آتے رہتے ہیں: مریم نواز 
مستقل نااہل اور سزا یافتہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی سزا یافتہ صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ''ڈیل نہیں ہوتی‘ اِدھر اُدھر سے پیغام آتے رہتے ہیں‘‘ تاہم پھوکے پیغامات سے بھی دل کو تسلی رہتی ہے کہ کبھی یہ سچ بھی ثابت ہو سکتے ہیں اور یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے ‘کیونکہ ع
گندم اگر بہم نہ رسد بھس غنیمت است
اس لیے جو کچھ میسر ہو‘ اس پر خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ہم ناشکرے نہیں ہیں اور اس ویڈیو کیس کی مصیبت سے بھی نکل سکتے ہیں ‘لیکن دل کو اتنی تسلی ضرور ہے کہ اس میں کسی نہ کسی طرح چچا جان بھی موجود ہیں اور جو نتیجہ بھی نکلا ‘ وہ بھی برابر کے حصہ دار ہوں گے۔ع
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔
عمران خان کی حکومت آئی نہیں‘ لائی گئی ہے: سراج الحق
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ''عمران خان کی حکومت آئی نہیں‘ لائی گئی ہے‘‘ اور سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان کی حکومت لائی جا سکتی ہے تو ہم درویشوں اور عاجز مسکینوں کی حکومت کیوں نہیں لائی جا سکتی؟ اور اسی لیے حکومت کے خلاف تحریک ہم الگ سے چلا رہے ہیں کہ ہمارا بھی چانس نکل آئے ‘کیونکہ اس ملک میں سب کچھ ہو سکتا ہے‘ بس تھوڑی سی عوام کی نظرکرم کی ضرورت ہے؛ بشرطیکہ عین وقت پر وہ نظر بد میں تبدیل نہ ہو جائے ‘کیونکہ چیزیں یہاں تبدیل ہونے میں بھی کوئی دیر نہیں لگاتیں ‘جبکہ عمران خان کی طرح ہم بھی صدر امریکہ سے ملاقات کر سکتے ہیں‘ میرا تو امریکہ جانے کو ویسے بھی جی بہت چاہتا ہے‘ جبکہ اللہ میاں کے آگے کوئی چیز بھی ناممکن یا مشکل نہیں۔ آپ اگلے روز کراچی میں طلبا کی خصوصی تربیت گاہ میں خطاب کر رہے تھے۔
حکومت نے کنٹینر دینے کی بجائے 
گرفتاریاں شروع کر دیں: مصدق ملک
نواز لیگ کے مرکزی رہنما سینیٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ ''حکومت نے کنٹینر دینے کی بجائے گرفتاریاں شروع کر دیں‘‘ اور اسے کہتے ہیں سجی دکھا کر کھبی مارنا‘ جو کہ انتہائی معیوب بات ہے اور ہم نے کبھی ایسا نہیں کیا اور عوام کو سجی دکھاکر سجی ہی سے اُن کی تواضع کرتے رہے‘ جس کے نتائج وہ آج تک بھگت رہے ہیں ‘اس لیے ہم نے عوام سے کم از کم دھوکا نہیں کیا اور ہمارے قائدین خدمت کا کہہ کر دن رات خدمت ہی کرتے رہے‘ جس میں کسی اور چیز کی ملاوٹ نہیں ہونے دی‘ کیونکہ ہم ٹی ٹی کے پیپوں کی طرح کھرے آدمی ہیں‘ بیشک کوئی ٹھونک بجا کر دیکھ لے‘ سوائے نصیب کے‘ جسے یہ کام آتا ہی نہیں ہے ‘جو ٹھکائی بجائی بعد میں کرتی ہے اور گرفتاری پہلے‘ جبکہ ہر کام اپنے وقت اور اپنی باری پر ہی اچھا لگتا ہے‘ جیسے وقت کی نماز ہوتی ہے اور بے وقت کی ٹکریں۔ آپ اگلے روز فیصل آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
دھوپ کے پار
یہ سحر تاب رومانی کا مجموعۂ غزل ہے ‘جسے ''تہذیب‘‘ نے چھاپا ہے۔ انتساب رسا چغتائی اور احمد صغیر صدیقی کے نام ہے۔پس سرورق مصنف کی تصویر درج ہے۔بالعموم چھوٹی بحر میں غزل کہتے ہیںاور عمدہ شعر بھی نکال لیتے ہیں۔ ان کے تازہ شعری مجموعے '' دھوپ کے پار‘‘ سے کچھ منتخب اشعار پیش ِ خدمت ہیں: 
پہلے میں نے آگ جلائی
اور پھر اس میں کود گیا
آؤ اُس کا کلام سنتے ہیں
وہ جو محوِ کلام تھا ہی نہیں
کچھ وہاں واقعی تھا لیکن
کچھ وہاں واقعی نہیں تھا
وہ مجھے پہلے کیوں بتایا نہیں
جو مجھے بعد میں بتایا گیا
تم نے اپنی نماز پڑھنی ہے
مجھ کو اپنا طواف کرنا ہے
پہلے پتھر بنا رہا تھا
اب میں ٹھوکر بنا رہا ہوں
لوگ دیوار دیکھنے کے لیے
پار دیوار کے نکل آئے
وہ جو معلوم نہیں ہے مجھ کو
کوئی پوچھے تو بتا سکتا ہوں
آج کا مقطع
جہاں جہاں مرے عیبوں کی آندھیاں ہیں‘ ظفرؔ
وہیں میں لے کے چراغ ِ ہنر بھی آتا ہوں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved