تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     24-07-2019

مدارس، تاریخی کرداراورتنظیم ِنو

دینی مدارس کے باب میں معاشرہ‘ بالخصوص آزاد خیال لبرل طبقہ مغالطہ‘ غلط فہمی اور کسی درجے کی حقارت رکھتا ہے۔کچھ حلقے تو اصلاح اور تنظیم ِنو کے نام پر اُن کی تالا بندی چاہتے ہیں۔افغانستان اور روس کی جنگ کے تناظر میں‘ اور پھرامریکہ کی افغانستان میں اٹھارہ سال پر محیط جنگ کے دوران پاکستان اور مغربی ممالک میں مدارس کے خلاف المناک بیانیہ تشکیل دیا گیا۔ دانشورانہ ناانصافی اورجانبداری کا یہ عالم کہ مدارس کا تعلق دہشت گردی سے جوڑا گیا۔ کئی مقالے‘ کتابیں اور سینکڑوں کالم اس نیت سے لکھوائے گئے کہ مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کو کم علم‘ کم عقل‘ مغرب مخالف اور جہالت کے اندھیروں میںبھٹکے ہوئے انتہا پسند ثابت کرنا ہے ۔
یہ بات درست ہے کہ مدارس کا نصاب اور طرز ِتعلیم وسعت اور جدیدیت کے متقاضی ہیں‘ اور ا س کی ضرورت وفاق المدارس کے منتظمین اور اساتذہ بھی محسوس کرتے ہیں‘ مگر یہ مفروضہ کہ مدارس انتہا پسندی کو جنم دیتے ہیں‘ ان سے شدت پسندی کو فروغ ملتا ہے‘ یک رخے تعصب پرمبنی ہے ۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کسی ایک مدرسے‘ سکول‘ جامعہ یاملک کے داخلی ماحول کی پیداوار نہیں۔ اس کے اسباب صرف مذہب ‘ اور ایک مذہب اور اس سے وابستہ مدرسوں میں تلاش کرنا معروضی حقائق سے چشم پوشی‘ تکبر اور جانبداری کے سوا اور کچھ نہیں۔ 
افغانستان میں چالیس سال سے جنگ‘ یا جہاد‘ جاری ہے۔ اس کے لیے امریکہ نے بھی دس سال تک مالی اور عملی معاونت کی ۔ قومیت پرستی ماضی میں جنگوںکو تحریک دینے کے لیے ایک پراثر عامل تھی۔ افغانستان میں قومیت پرستی اور جہاد کو کبھی الگ نہیں سمجھاگیا۔ روس کے خلاف جنگ میں یہ دونوں پہلو کھل کر سامنے آگئے ۔ پاکستان روس کے پھیلتے ہوئے اثر اور خوف کے پیش ِ نظر خفیہ مگر منظم طریقے سے افغان مزاحمت کاروں کی مدد کررہا تھا۔ امریکہ اشتراکیت کے خلاف سرد جنگ کے تقاضوں کے تحت پاکستان اور افغان مجاہدین کا اتحادی بنا۔ اس دوران علما اور دینی مدارس طلبہ بھی متحرک ہوئے‘مگر افغانستان میں جہاد کرنے والے پاکستانیوںاور دیگر اسلامی ممالک سے آنے والے عربوں اور غیر عرب نوجوانوں کی اکثریت جدید سکولوں اور جامعات سے اٹھ کر آئی تھی ۔ اُن کی تعداد کامحتاط اندازہ چالیس ہزار کے لگ بھگ تھا۔ 
افغان جہاد کے دوران قبائلی اور سرحدی علاقوں میں مدارس کی تعداد بڑھنے لگی۔ مقصد افغان بچوں کوزیور ِتعلیم سے آراستہ کرنا تھا۔ پشتون علاقوں سے آنے والے مہاجرین کے لیے دینی مدارس ہی مانوس اور مقبول ادارے تھے۔ وہ نام نہاد جدت پسند تعلیم کو تعلیم تصور نہیں کرتے تھے۔ راقم الحروف جدید جامعات میں کئی عشروں سے سماجی علوم کے شعبے میں استاد ہے۔ علم کیا ہے‘ اور کیا نہیں ہے؟کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے؟ یہ بحث عرصہ ٔ دراز سے جاری ہے ۔اس پر حرف ِآخر ممکن نہیں۔ ان کے بارے میں کوئی صائب رائے رکھتا ہے تو کوئی عمومی ۔ 
نوآبادیاتی تعلیمی نظام سے پہلے مکتب اور مدرسے ہی اسلامی معاشرے میں تعلیم کے مراکز تھے ۔ تعلیمی معیار کے لحاظ سے سب یکساں نہیں تھے‘ کچھ بنیادی تعلیم تک محدود تھے ‘ کچھ ثانوی‘ اور بہت کم اعلیٰ درجے کے حامل تھے ۔ نصاب بھی یکساں نہ تھا‘ مگر طلبہ اسلامی روایات اور اسلامی بقا اور ترویج کے لیے قرآن ‘ حدیث‘ فقہ‘ اصول ‘ منطق‘ اسلامی تاریخ اور فلسفے سے فیضیاب ہوتے تھے۔ زبان‘ ادب‘ فن ِ تقریر‘ اور فارسی زبان و ادب کی کتب نصاب میں شامل تھیں۔ 
انیسویں صدی کے تمام مسلمان مفکر‘ دانشور‘ صحافی‘سیاست دان اسلامی روایات اور تہذیبی اسلوب کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے‘ لیکن انیسویں صدی کے آخری ربع میں انگریزی تعلیم ‘ مغربی ادب اور فلسفہ سے متعارف ہونے کے بعد مسلمان ادیبوں اور مفکرین نے اپنے موضوعات وقت کے تقاضوں اور نئے علم کی روشنی میں تبدیل کرنا شروع کردیے ۔ مولانا محمد حسین آزاد کی تصنیف‘ ''نیرنگ ِ خیال‘‘ اس کی دلیل ہے۔ اُس وقت کے مولانا شاعر‘ ادیب‘ مورخ ‘مفکر اور مصلح تھے۔ اُن میں سے کوئی بھی مغربی تعلیم سے فیضیاب نہ تھا۔ سرسید احمد خاں نے مسلمانوںکو جدید سائنسی تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی ۔سرسید نے ہندوستان کے مسلمانوں کو جدید تعلیم سے آشنا کرنے کے لیے شاندار ادارے قائم کیے۔ دوسری جانب مدارس نے اپنی روایات ‘ اسلامی طرز ِزندگی اور تہذیبی شناخت کی علامت کو قائم رکھا۔ وہ تنقیدی اور تجزیاتی سائنسی تعلیم کو اسلام اور اسلامی تہذیب کے لیے ایک خطرہ اور سازش تصور کرتے تھے۔ بدقسمتی سے بر صغیر میں اسلامی احیاء کی دو مختلف تحریکوں کے دھارے متوازی چلتے رہے ‘ لیکن باہم مل نہ پائے ۔ قیام ِپاکستان کے بعد ان میں خلیج وسیع ہونے لگی۔ مغربی تعلیم کے تہذیبی اثرات کے پیش ِنظر مدارس اپنے دفاع میںقلعہ بند ہوگئے۔ علمی اور فکری کاوش راستہ ہموار کرنے کی بجائے دیواریں بلند کرنے لگی۔ اس کے نتیجے میں تعلیمی مقاصد جدا ہوگئے۔ جدید جامعات کے اساتذہ اور طلبہ اور منتظمین نے اپنی دنیا بسا لی۔ مدرسوںنے تقدیس کی قبا اُوڑھ لی ۔ ان کے درمیان علمی مباحث‘ فکری ربط ‘ یہاں تک کہ سماجی تعلق بھی ختم ہوگیا‘ بدگمانیاں بڑھتی گئیں۔
ہماری ریاست‘ حکومتوں اور طاقتور حلقوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بوجوہ مدارس کی افزائش اور توسیع میں مدد کی‘ مگر اعدادوشمار اور تعلیمی اخراجات اور ریاستی پالیسیوں کا جائزہ لیں تو یہ سب باتیں افسانہ بن جاتی ہیں ۔ جدید تعلیمی نظام کے مقابلے میں مدارس میں طلبہ کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے ۔ غریب والدین اور بیوہ مائیں اپنے بچوں کو مدارس میں داخل کرادیتی ہیں‘وہاں اُنہیں تعلیم‘ کھانا‘ رہائش‘ سب کچھ مل جاتا ہے ‘ تاہم یہ سہولت جدید ہاسٹلز جیسی نہیں ہوتی ۔اساتذہ کی تنخواہ برائے نام ہوتی ہے ۔ کم از کم اپنا تجربہ بتاتاہوں‘ کہ جن مدارس میں جانے کا اتفاق ہوا‘ وہاں غربت اور کسمپرسی دیکھی۔ مشاہدہ اُس تاثر سے مختلف تھا جو بیرونی دنیا میں ان کے بارے میں پھیلا‘ یا پھیلایا گیا ہے ۔ مدارس کے جن اساتذہ اور طلبہ سے ملاقات ہوئی‘ یا بات کرنے کا موقع ملا‘ اُن میں دینی پختگی‘ حلم ‘ شفقت اور قناعت کا توانا جذبہ پایا۔ اس کے برعکس اپنی جامعات میں بداخلاقی‘ تکبر‘ ہوس اور مایوسی کا غلبہ زیادہ ہے ۔ دینی مدارس کے نصاب پر بات بعد میں ہوتی رہے گے‘ پہلے اپنی جامعات میں علم کے مصنوعی پن پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ 
باایںہمہ‘ مدارس کی تعلیم کو ازسرِنو مرتب کرنا ضروری ہے ۔ دینی تعلیم کے ساتھ ہنر اور جدید تعلیم کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے ‘ تاکہ یہ طلبہ بھی ریاست کی مالیاتی سرگرمیوں میںحصہ لے سکیں۔ اس وقت اعلیٰ ترین حلقوں میں یہ مدارس کے کردار اور ان میں اصلاحات کے موضوع پر بات ہورہی ہے ۔ یہ اچھی بات ہے ۔ ہم بیس ہزار مدار س کو نہ تو مکمل طور پر بند کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ بیک جنبش ِقلم جدید تعلیمی اداروں کا روپ دھار سکتے ہیں۔شاید عام لوگوں کو علم نہ ہو‘ لیکن اصلاحات کا آغاز کافی عرصے سے ہوچکا ہے ۔ مدارس کے طلبہ ایک بڑی تعداد عام تعلیمی بورڈز کا امتحان دے رہی ہے۔ اس تعداد میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے ۔ جب سے ان کی تعلیمی اسناد کو حکومت نے تسلیم کیا ہے‘ عربی‘ فارسی اور اسلامیات کے شعبوں میں مدارس کے طلبہ جدیددرسگاہوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ مدارس کی اپنی مالی حیثیت ایسی نہیں کہ دینی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم کا بندوبست کرسکیں۔ جہاں بھی حکومت نے اساتذہ کی صورت کوئی سہولت فراہم کی ہے‘ وہاں انہوں نے قومی نصاب کو رائج کیا ہے ۔ خیبرپختونخوا حکومت کا دارالعلوم حقانیہ میں جدید ڈگری کالج قائم کرنا مستحسن فیصلہ ہے ۔ ایسے کئی مدارس ہیں جو اپنے طلبہ کے لیے جدید تعلیم کا راستہ کھولنا چاہتے ہیں۔ انہیں حکومت کی اعانت درکار ہے ۔ یہ بھی ہمارے بچے ہیں‘ یہ متبادل تعلیم سے کیوں محروم رہیں؟ 
موجودہ حکومت اور وفاق المدارس کے درمیان حالیہ دنوں سمجھوتہ ہوا ہے کہ قومی نصاب کے لازمی مضامین مدارس میں پڑھائے جائیں گے۔ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے ۔ دینی مدارس کا ایک اپنا تشخص ہے‘جو قائم رہنا چاہیے‘ لیکن جدید تعلیم تک رسائی ان اداروں کے طلبہ کا اتنا ہی حق ہے‘ جتنا دیگر اداروں کے طلبہ کا۔ حکومت کی طرف سے اصلاحات ڈنڈے کے زور سے نہیں‘ وسائل کی فراہمی سے نافذ ہوں گی۔ افہام و تفہیم سے راستہ نکلتا ہے‘ جبر اور زبردستی سے فاصلے بڑھتے ہیں۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved