تحریر : بیرسٹر حمید باشانی تاریخ اشاعت     14-08-2019

اب غلطی کی گنجائش نہیں ہے!

سرینگر شہر محصور ہے۔ اس کے باسی اپنے گھروں میں بند ہیں۔ یہاں خوف کے سائے ہیں۔ دہشت ہے۔ فوجی پہرے اور کرفیو کے باوجود کچھ لوگ سڑکوں پر نکل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ شہر بند ہے۔ اس پر خوف چھایا ہے۔ مگر اس شہر کو لے کر دنیا بھر کے کئی دوسرے شہروں میں بھی احتجاج ہو رہا ہے۔ جلسے جلوس ہو رہے ہیں۔ لوگ غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ جمہوریت اور انسانی حقوق پر شب خون کی مذمت کر رہے ہیں۔ جمہوری اور انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ غم و غصہ، جوش و جذبہ فطری ہے۔ جس طریقے سے ریاستی عوام کو بیک جنبش قلم ان کے صدیوں کے حقوق سے محروم کیا گیا ہے‘ یہ اس کا فطری رد عمل ہے۔ یہ ایک خوفناک صورت حال ہے۔ لوگوں کے جذبات ابل رہے ہیں۔ غم و غصہ عروج پر ہے۔ یہی وہ نازک لمحہ ہوتا ہے جب قوموں سے غلطیاں ہوتی ہیں، جن کی سزا ان کی آنے والی نسلیں بھگتتی رہتی ہیں؛ چنانچہ اس ہیجان خیز وقت میں کشمیری قیادت اور عوام کے لیے لازم ہے کہ وہ دانش سے کام لیں۔ صبر اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔ ان غلطیوں سے بچیں جو ظلم کی اس سیاہ رات کو طوالت بخش سکتی ہیں۔ جو کشمیری عوام کے جائز اور مسلمہ موقف کو کمزور کر سکتی ہیں، اور قابض قوتوں کی حیثیت کو مزید مضبوط کر سکتی ہیں۔
کشمیر کی تاریخ میں ایسا ہیجان خیز وقت کئی بار پہلے بھی آیا۔ اس ہیجان خیز وقت میں سنگین غلطیاں سرزد ہوتی رہیں، جن کی وجہ سے آزادی کی منزل قریب آنے کے بجائے دور ہوتی گئی۔ اسی طرح کی ایک ہیجانی کیفیت میں ایک تاریخی غلطی شیخ عبداللہ سے ہوئی تھی۔ شیخ صاحب بلا شبہ ایک دانش مند لیڈر تھے‘ مگر انیس سو چھیالیس میں ''کشمیر چھوڑ دو‘‘ تحریک چلا کر انہوں نے پہاڑ جیسی غلطی کی تھی۔ مہاراجہ ہری سنگھ انگریزوں کی طرح سمندر پار سے نہیں آیا تھا۔ وہ اس دھرتی کا بیٹا تھا۔ اس کے آبائواجداد نے یہ ریاست بنائی تھی اور اس پر سو سال تک حکومت کی تھی۔ اوپر سے مہاراجہ قوم پرستی کے جذبات سے مغلوب تھا، اور ریاست کے مستقبل کے بارے میں اسی طرح سوچتا تھا جس طرح شیخ صاحب سوچتے تھے۔ واحد اختلاف مستقبل میں ریاست کے معاشی اور سیاسی نظام پر تھا۔ مہاراجہ ایک آزاد خیال آدمی تھا۔ وہ ریاست سے جاگیرداری نظام اس طرح ختم کرنے کے حق میں نہیں تھا، جس طرح شیخ صاحب تھے۔ شیخ صاحب کا ''نیا کشمیر‘‘ کشمیری پنڈتوں نے لکھا تھا جو زیادہ تر کمیونسٹ تھے۔ وہ بلا معاوضہ زمینیں لے کر کسانوں میں تقسیم کرنا چاہتے تھے، جو بعد میں انہوں نے کیا بھی۔ اس معاملے پر مہاراجہ کو کسی درمیانی حل پر قائل کیا جا سکتا تھا۔ اصل سوال جو اس وقت درپیش تھا وہ مستقبل کی ریاستی سیاست میں مہاراجہ ہری سنگھ کا مقام تھا۔ اس معاملے میں کئی یورپی ریاستوں کی نظیر سے استفادہ کیا جا سکتا تھا، جنہوں نے اپنے بادشاہوں کو جدید جمہوری بندوبست کا حصہ بنا دیا تھا۔ بعد میں شیخ عبداللہ بھی ایسا ہی کرنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے مہاراجہ کے بیٹے ڈاکٹر کرن سنگھ کو صدر ریاست مان لیا۔ مگر یہ کام بہت دیر سے ہوا۔ اس وقت تک ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا تھا۔ اس کی وحدت پارہ پارہ ہو چکی تھی۔ انیس سو چھیالیس میں اگر یہ کام کر دیا جاتا، تو آج حالات مختلف ہوتے۔ ریاست بندر بانٹ سے بچ جاتی‘ اور جو لاکھوں لوگ ہندو مسلم فسادات میں مارے گئے وہ بچ جاتے۔ اس طرح ریاست کے اندر جو مذہبی رواداری کی روایات تھیں‘ وہ مجروح ہونے سے بچ جاتیں۔ مگر آدمی جتنا بڑا ہوتا ہے، اس سے غلطی بھی اتنی ہی بڑی سرزد ہوتی ہے۔ اس غلطی کا خمیازہ آج ہماری نسل بھگت رہی ہے۔ اب موجودہ رہنمائوں پر لازم ہے کہ وہ ایسی غلطیاں نہ کریں، جن کا خمیازہ ان کی نسلوں کو بھگتنا پڑے۔
آج کے عالمی تناظر میں دنیا میں کسی تحریک کو تباہ کرنا ہو تو اس کا آسان نسخہ یہ ہے کہ اسے مذہبی رنگ دے دیا جائے۔ کشمیر کے اندر کچھ لوگ جان بوجھ کر یہ غلطی کر رہے ہیں۔ ان کی تقاریر، تحریروں اور بیانات سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ایک قوم کی آزادی کی تحریک کے بجائے یہ کوئی ہندو مسلم تنازعہ اور سوال ہے۔ اس طرح کا بیانیہ آگے لانے سے مسئلے کے پیچھے موجود تاریخی، اخلاقی اور قانونی جوازیت کمزور پڑ جاتی ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جموں اور کشمیر کا جو علاقہ"''یونین ٹیری ٹوری‘‘ قرار دیا گیا ہے، اس علاقے میں صرف مسلمان آباد نہیں ہیں۔ جموں میں ہندو ڈوگروں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ وادی میں اگرچہ ہندوئوں کی تعداد کم رہ گئی ہے، مگر جو بڑی تعداد میں پنڈت وہاں سے نکلے ہیں‘ انہوں نے ریاست کی شہریت ترک نہیں کی ہے۔ وہ بدستور کشمیری ہیں۔ قانونی اور آئینی طور پر وہ تمام معاملات میں رائے دینے کے حق دار ہیں۔ اس طرح یہ آج بھی ایک کثیر ثقافتی اور کثیر مذہبی علاقہ ہے۔ اس علاقے میں مذہب کی بنیاد پر چلائی جانے والی تحریک کشمیری عوام کے اندر مزید دشمنی اور منافرت کا باعث بن سکتی ہے، جس فائدہ صرف قابض قوت کو ہی ہو سکتا ہے۔ اس وقت سوال مذہبی شناخت کا نہیں، بلکہ ریاستی تشخص کا ہے، جسے اس کے درست تناظر میں پیش کرنا ضروری ہے۔
دوسری بڑی غلطی جو کچھ لوگ کر رہے ہیں وہ حق خود ارادیت کو اس کے تاریخی اور قانونی تناظر سے کاٹ کر دیکھنے اور پیش کرنے کی ہے۔ حق خود ارادیت ایک انسانی حق ہے۔ اس کا اطلاق کشمیر میں بسنے والے تمام انسانوں پر بلا تفریق ہوتا ہے۔ اس میں سکھ‘ عیسائی‘ مسلمان سب ہی شامل ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی شامل ہے، اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا منشا بھی یہی ہے۔
مگر بد قسمتی سے کچھ لوگ حق خود ارادیت کو محدود و مشروط سمجھ رہے ہیں یا بنا کر پیش کر رہے ہیں حالانکہ یہ غیر مشروط حق ہے۔ یہ حق جس طرح مسلمانوں کے لیے غیر مشروط ہے، اسی طرح اقلیتوں کے لیے بھی غیر مشروط ہے۔ جس طرح مذہبی وابستگی کی بنیاد پر ریاست کے مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ الحاق پاکستان کا نعرہ لگائیں‘ اس طرح ہندو عقیدے کے حامل لوگ بھی مذہب کی بنیاد پر نعرہ لگانے کے مجاز ہیں۔ حق خود ارادیت کے اسی غیر مشروط اصول کے تحت خود مختاری کا مطالبہ کرنا بھی کشمیری عوام کا حق ہے۔ یہ سارے تسلیم شدہ حقوق اپنی جگہ ہیں، مگر اس وقت یہ نعرے قبل از وقت اور بے موقع ہیں۔ اس وقت ریاست میں سوال اس کے اندر جمہوری حقوق اور شہری آزادیوں کی بحالی ہے۔ میڈیا کی آزادی اور انسانی حقوق کے تحفظ کا ہے۔ ریاست میں شہری آزادیوں اور انسانی حقوق پر جس طرح کی سخت پابندیاں عائد ہیں‘ ان کے خلاف ایک متحدہ آواز اور متحدہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ انسانی حقوق پر یقین رکھنے والوں کو ایک بہت بڑی امید بھارتی سپریم کورٹ سے بھی تھی۔ سپریم کورٹ میں اس سلسلے میں کئی درخواستیں دائر تھیں۔ ان میں دفعہ تین سو ستر اور پینتیس اے کی بحالی سے لے کر جمہوری حقوق اور شہری آزادیوں کی بحالی جیسی گزارشات تک شامل تھیں‘ مگر سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر فوری سماعت اور فیصلے سے اجتناب کیا اور وادی میں صورت حال معمول پر آنے تک انتظار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ فیصلہ آنے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اب اس باب میں کشمیری عوام کی جدوجہد کٹھن اور طویل ہو گی۔
بھارتی پارلیمنٹ پہلے ہی اس شب خون کی توثیق کر چکی ہے جو کشمیری عوام کے انسانی حقوق اور شہری آزادیوں پر مارا گیا۔ سپریم کورٹ نے بھی اس باب میں کوئی فوری مداوا کرنے سے انکار کر دیا، جس سے لگتا ہے کہ اب ظلم کی رات لمبی ہو گی۔ اب غلطی کی گنجائش نہیں ہے؛ چنانچہ اب کشمیری عوام کے پاس واحد راستہ سیاسی جدوجہد ہے۔ یہ جدوجہد پُر امن ہونی لازم ہے تاکہ بڑے پیمانے پر خون خرابے یا آبادی کے انخلا سے بچا جائے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved