تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     16-08-2019

نمونہ ہوں تو صرف آپ

دنیا کا ہر انسان اپنے آپ میں انتہائی منفرد حیثیت کا مالک ہے۔ کوئی سے دو انسان مکمل طور پر ایک سے نہیں ہوتے۔ یہ انفرادیت ہی تو ہے‘ جو انسان کو ڈھنگ سے زندہ رہنے اور کچھ کرنے کی لگن سے ہم کنار رکھتی ہے۔ ہر انسان تحت الشعور کی سطح پر یہ بات جانتا ہے کہ وہ منفرد ہے اور دوسروں سے ہٹ کر بہت کچھ کرسکتا ہے۔ بات کرسکنے کی ہو رہی ہے‘ کرنے کی نہیں۔ کوئی کیا کرسکتا ہے ؟یہ ایک الگ بات ہے اور کیا کر رہا ہے؟ یہ بالکل ایک الگ معاملہ ہے۔ 
ہر انسان چاہتا ہے کہ اُسے ایک خاص شناخت کے تحت سراہا اور یاد رکھا جائے۔ اِس خواہش کو عملی روپ دینے کی کوشش کرنے والے ؛البتہ کم ہوتے ہیں۔ منفرد شناخت کی خواہش عام طور پر خواہش ہی رہتی ہے۔ اور ‘جو لوگ اس خواہش کو عملی شکل دینے پر مائل ہوتے ہیں ‘اُن کی شان بھی دنیا دیکھتی ہے۔ 
قدم قدم پر مسابقت سے دوچار کرنے والی‘ اس دنیا میں اگر کوئی کچھ بننا اور کرنا چاہتا ہے تو لازم ٹھہرتا ہے کہ وہ خود کو بھیڑ یا ہجوم سے الگ کرے۔ بھیڑ کا مطلب ہے ‘عمومی سطح پر زندگی بسر کرنے والے لوگ۔ عام آدمی زندگی کو اُسی طور قبول کرتا رہتا ہے‘ جس طور وہ اُس تک پہنچ رہی ہوتی ہے۔ یہ عمومی انداز جب زندگی کے ہر پہلو پر محیط ہو جاتا ہے تو دوسروں سے ہٹ کر کچھ کرنے کی لگن بھی ماند پڑتی جاتی ہے۔ 
ہر دور میں دنیا کے ہر انسان کے لیے زندگی ایک امتحان ہی رہی ہے۔ ہر دور چند خاص چیلنجز لے کر آتا ہے اور اُن چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور کوشش کیے بغیر ڈھنگ سے زندگی بسر کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ہم بھی ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں ‘جس میں ہر طرف امکانات کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی ہیں۔ چیلنجز کو امکانات میں تبدیل کرنا آسان نہیں۔ ایسا کرنے کی ہمت چند ہی لوگ کر پاتے ہیں۔ اور جو لوگ اِتنی ہمت کر پاتے ہیں وہ دوسروں سے بہت مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ غیر معمولی اعتماد ہی سے ممکن ہے۔ جس میں غیر معمولی اعتماد ہو اُس کے لیے راہ آسان ہوتی چلی جاتی ہے۔ کوئی بھی چیلنج اُسی وقت ہمارے لیے کسی امکان میں تبدیل ہوتا ہے ‘جب ہم اُس سے مطابقت رکھنے والے عمل کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ محض سوچنے اور تماشا دیکھتے رہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اپنی پسند کے مطابق ‘کسی تبدیلی کو یقینی بنانے کے لیے لازم ہے کہ انسان عمل نواز رویے کا مظاہرہ کرے اور اپنے آپ کو عمل کی کسوٹی پر جس قدر بھی پرکھ سکتا ہے ضرور پرکھے۔ 
چیلنجز کو امکانات میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنے والے اگر مکمل طور پر کامیاب نہ بھی ہو پائیں تو اس بات سے دل کو سکون میسر رہتا ہے کہ اپنی سی کوشش کرنے سے تو نہیں چُوکے۔ جو لوگ کوشش کرنے سے گریز کرتے ہیں‘ اُن کے مقابلے میں وہ لوگ زیادہ مطمئن رہتے ہیں ‘جو کوشش کرتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ 
عمل پسندی انسان میں غیر معمولی اعتماد پیدا کرتی ہے۔ یہ اعتماد جب زندگی کے ہر معاملے پر محیط ہو تو انسان کی شان کچھ اور ہی دکھائی دیتی ہے۔ عمل پسندی‘ اگر بڑھتی جائے ‘تو پورے گھرانے یا خانوادے پر محیط ہو جاتی ہے۔ ایسے میں متعلقہ گھرانے یا خانوادے کا مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کرنا آسان ہوتا چلا جاتا ہے۔ مختلف شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے گھرانے اِسی طور معرضِ وجود میں آتے اور پنپتے ہیں۔ بھرپور اعتماد جب دنیا کے سامنے آتا ہے تو اُس کی الگ ہی بہار ہوتی ہے۔ 
اعتماد کا سفر نسل در نسل جاری رہتا ہے۔ کسی بھی شعبے میں عمدہ کارکردگی سے اولاد‘ بھائی بہن اور خاندان کے دیگر افراد کام کرنے کی تحریک پاتے ہیں۔ اولاد کا معاملہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ ہر بچے کے لیے اُس کا باپ ہی سُپرمین ہوتا ہے۔ باپ کی کارکردگی اگر بہتر ہو اور لوگ اُسے جانتے ہوں تو بچے میں بھرپور اعتماد کا پیدا ہونا اور پنپنا فطری امر ہے۔ 
ویسے تو دنیا کے ہر انسان کو اپنی کارکردگی کا گراف بلند رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے ‘مگر بعض حوالوں سے اِس کی اہمیت زیادہ ہے‘ مثلاً :ہر انسان اپنی اولاد کے لیے ہیرو یا سپرمین کا درجہ رکھتا ہے۔ باپ کو کسی بھی شعبے میں غیر معمولی کارکردگی کا حامل دیکھ کر بچہ بہت کچھ سیکھتا ہے۔ پہلا نمبر اعتماد کا ہے۔ باپ کا غیر معمولی اعتماد اولاد کو بہتر زندگی کے لیے نفسی طور پر تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے‘ لہٰذا یہ اہم نکتہ ذہن نشین رہنا چاہیے۔ 
ہر انسان کو ویسے تو اور بھی بہت کچھ کرنا ہوتا ہے مگر وہ سب کچھ بعد کی بات ہے۔ اُسے اِتنی محنت تو ضرور کرنی چاہیے کہ جب اولاد میں خود اعتمادی پیدا کرنی ہو تو کسی اور کو مثال یا نمونے کے طور پر پیش نہ کرنا پڑے! کسی بھی بچے کے لیے اس سے بڑی خوش نصیبی بھلا کیا ہوسکتی ہے کہ وہ جب کچھ کرنے کی ٹھانے تو اُس کے لیے بہترین یا قابلِ رشک مثال کی صورت میں اُس کے اپنے والد کی ہستی سامنے ہو۔ والد یا والدین اگر بہترین نمونے کا درجہ رکھتے ہوں تو بچے کو بہت کچھ کرنے کی تحریک ملتی ہے۔ 
جب بھی کوئی انسان کچھ بننے اور کرنے کی سوچتا ہے تب اُسے شدت سے یہ بات محسوس ہونے لگتی ہے کہ سب کی نظریں اُس پر جمی ہوں گی اور وہ مرکزِ نگاہ بن جانے کے باعث اُس کی ذمہ داری بھی بڑھ جائے گی۔ بھرپور کامیابی کا حصول محض سوچنے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے بہت تگ و دَو کرنا پڑتی ہے۔ ایسا کیے بغیر کسی کو کبھی کچھ نہیں ملا۔ عمومی سطح پر زندگی بسر کرنے کا آپشن سب کے لیے ہے۔ اِس میں کسی کے لیے کوئی الجھن نہیں۔ مشکلات کا سامنا تو اُنہیں کرنا پڑتا ہے کہ جو دوسروں سے ہٹ کر‘ اُن سے بڑھ کر کچھ کرنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے تگ و دَو کرنے پر بھی مائل ہوتے ہیں۔ کامیابی کی راہ میں حائل مشکلات انسان کو زیادہ محنت کرنے کی تحریک دینے کا ذریعہ بھی ثابت ہوتی ہیں۔ جو لوگ دوسروں سے ہٹ کر کچھ کرنا چاہتے ہیں ‘وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اُنہیں بہت کچھ کرنا پڑے گا اور بہت کچھ برداشت بھی کرنا پڑے گا۔ مشکلات اِس لیے نہیں ہوتیں کہ اُن سے گھبراکر گوشہ نشینی اختیار کی جائے‘ اگر یہ روش اپنائی جائے ‘تو دنیا میں کوئی بھی کامیاب نہ ہو۔ 
ہر انسان کو دوسرے بہت سے امور کے ساتھ ساتھ اِس بات کی کوشش بھی کرنی چاہیے کہ اُس کی کارکردگی کسی اور سے کہیں بڑھ کر اُس کی اپنی اولاد کے لیے اعتماد کا ذریعہ ثابت ہو۔ بچے والدین اور بالخصوص والد سے بہت کچھ غیر محسوس طور پر سیکھتے ہیں۔ اعتماد بھی غیر محسوس طور پر ہی پروان چڑھایا جاتا ہے۔ کوئی بھی بچہ جب اپنے باپ کو غیر معمولی کارکردگی کا حامل دیکھتا ہے تو اُس میں اس حوالے سے تفاخر کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ غیر محسوس یا تحت الشعوری طور پر کچھ بننے اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ اپنے اندر پاتا ہے۔ 
الغرض کامیابی کا حصول یقینی بنانے اور اُسے برقرار رکھنے کیلئے انسان بہت کچھ کرتا ہے ‘مگر حقیقی مزا تو جب ہے کہ اُس کی کامیابی اُس کی اپنی اولاد کیلئے ایک نمونہ ہو جس کی بنیاد پر وہ کچھ بننے کا سوچے اور سوچے ہوئے پر عمل کر گزرے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved