تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     07-05-2013

عباس! تُو واقعی چلا گیا؟

ایک ہنگامہ خیز زندگی کے آخری چند مہینے ‘ بسترعلالت پر گھسیٹ کے عباس اطہر‘ اللہ کو پیارا ہو گیا۔ آج جب اس کا لکھا ہوا گیت ‘ اس کی موت کے بعد ٹی وی پر چلا‘ تو بے اختیار آنسو بہنا شروع ہو گئے‘ جو عباس کے لئے کم اور ہماری 50سالہ طویل اور خاردار رفاقت کے لئے زیادہ تھے۔ عباس نے اسے اپنی کسی کتاب کے دیباچے میں \"Love And Hate Relationship\" قرار دیا تھا۔ ہم لڑتے بھی بہت تھے اور پیار بھی بہت کرتے تھے۔ جب 1964ء میں عباس نے ریلوے کی ملازمت چھوڑ کر‘ صحافت میں آنے کافیصلہ کیا تو میں دنیا میں واحد آدمی تھا‘ جس کے پاس کراچی جا کر اس نے اپنے ارادے کا اظہار کیا۔ میں ان دنوں ’’انجام‘‘ کراچی میں پروف ریڈر تھالیکن ادبی اور فلمی ایڈیشنوں کا انچارج بھی تھا اور اس زمانے کے میرے ادبی ایڈیشن میں جی الانا‘ مشتاق احمد یوسفی‘ ابن انشا اور مشفق خواجہ جیسے نامور اہل قلم لکھا کرتے تھے اور ان میں سے جب کوئی مجھ سے ملاقات کے لئے آتا‘ تو میں اپنی میز پر وہ تختی رکھ دیتا‘ جس پر جلی حروف میں لکھا ہوتا ’’پروف ریڈر‘‘۔ دراصل یہ میرا احتجاج تھا‘ جو میں پروف ریڈر کی حیثیت میں سب ایڈیٹر کی ذمہ داریاں نبھانے پر کیا کرتا۔ یہ بڑے اہل قلم ‘ جب میرے ایڈیٹر طفیل احمد جمالی کے پاس جاتے‘ تو تعجب سے پوچھتے کہ ’’کیا نذیر ناجی کو آپ نے پروف ریڈر رکھا ہوا ہے؟‘‘ مہمان کے جاتے ہی جمالی صاحب مجھے بلاتے اور اپنے مخصوص انداز میں کہا کرتے’’ارے میاں! تم نے مجھے بدنام کرنے پر کمر باندھ رکھی ہے۔ تم اپنی میز پر پروف ریڈر کی تختی کیوں رکھتے ہو؟‘‘ میرا جواب ہوتا ’’اگر غلط ہے تو ہٹا دیتا ہوں۔‘‘ جمالی صاحب پیار بھرے انداز میں جواب دیتے ’’تمہارا کچھ کرنا ہی پڑے گا۔‘‘ وہ زیادہ دیر اس صورتحال کا مقابلہ نہ کر پائے اور مجھے سب ایڈیٹر بنا دیا۔ کام میں محنت اور دفتر میں سب کے ساتھ چھیڑخانیوں کی وجہ سے‘ پنجابی ہونے کے باوجود‘ دفتر میں سب کے ساتھ میرے تعلقات گڈی گڈی تھے۔ اس پس منظر کا‘ صحافتی زندگی میں عباس کی آمد سے خاص تعلق ہے۔ جب اس نے اخباری ملازمت کی فرمائش کی‘ تو سب سے پہلے میں نے کراچی میں اس وقت کے بڑے اخبار روزنامہ ’’حریت‘‘ میں اس کی ملازمت کا انتظام کیا۔ میگزین ایڈیٹر‘ اے آر ممتاز میرے بہت اچھے دوست تھے۔ ان سے عباس کی ملازمت کے لئے کہا تو انہوں نے اخبار کے مالک فخرماتری مرحوم پر زور دے کر میگزین سیکشن میں ایک سب ایڈیٹر کی پوسٹ پیدا کروا لی۔ جب میں نے عباس کو خوشخبری سنائی‘ تو وہ خوش ہونے کے بجائے فکر مند ہو گیا۔ وہ نیوز سیکشن میں آنا چاہتا تھا۔ میں نے بڑی محنت سے یہ جگہ بنوائی تھی۔ ظاہر ہے مجھے افسوس ہوا اور میں نے احتجاج کیا کہ ’’یہ بات مجھے پہلے بتا دیتے۔ اب اس نوکری کا کیا کروں؟‘‘( اس زمانے میں بھی آج ہی کی طرح ملازمتیں ملنا مشکل تھا)۔ عباس کا جواب مزید غصہ دلانے والا تھا۔ ’’مجھے کیا؟ یہ تم جانو۔‘‘ میں دو دن اس پر خفا رہا۔ اس دوران میں نے افسر آذر کو اس ملازمت پر رکھوا دیا۔ افسر آذر ایک بڑے افسانہ نگار تھے۔ سروے آف پاکستان میں درمیانے درجے کے افسر تھے۔ ان کی تنخواہ ‘ ان کی دریا دلی میں‘ حقیر تنکے کی حیثیت رکھتی تھی۔ 323 روپے ماہانہ کی پارٹ ٹائم ملازمت انہیں آسودہ کر سکتی تھی۔ ترجمہ وہ کمال کا کرتے تھے۔ اے آر ممتاز نے انہیں شام کی ڈیوٹی پر لگا دیا۔ عباس جب تیسرے دن میرے پاس آیا‘ تو میرے ذہن سے اپنی ہی نکلوائی ہوئی ایک ملازمت ضائع جانے کا افسوس دم توڑ چکا تھا۔ عباس نے مجھے دو چار طنزیہ جملوں سے مشتعل کر کے‘ جمالی صاحب سے بات پر منوا لیا۔ میرے تامل کی وجہ یہ تھی کہ ان دنوں جمالی صاحب سے میں‘ اپنی ترقی کے معاملے پر احتجاج کر رہا تھا۔ میرا موقف تھا کہ ’’میں تو اپنی ترقی کا مطالبہ نہیں منوا پا رہا‘ میرے کہنے پر نئی ملازمت کیسے دی جا سکتی ہے۔‘‘ لیکن اشتعال کی حالت میں آدمی کچھ بھی کر جاتا ہے۔ عباس مجھے اس حالت میں لا چکا تھا۔ میں سیدھا جمالی صاحب کے پاس گیا۔ ان سے درخواست کی۔سوال ہوا’’وہ کیا کرتا رہا ہے؟‘‘ مجھے پتہ تھا کہ عباس نے اخبار کا دفتر تک نہیں دیکھا۔ میگزین سیکشن کی نوکری سے وہ بھاگ چکا ہے۔ نیوزسیکشن ہی رہ جاتا ہے۔ میں نے جلدی سے جواب دیا’’وہ نیوزروم میں کام کر سکتا ہے۔‘‘ جمالی صاحب بے یقینی سے میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور کہا ’’جائو نظام کے پاس بٹھا دو۔‘‘ نظام صدیقی درمیانی شفٹ کے انچارج تھے۔ نیوزروم والے مجھے بڑی بڑی ذمہ داریاں ملنے پر روایتی حسد کیا کرتے۔ ایک بار انہوں نے بلاوجہ کی ایمرجنسی بنا کر‘ مجھے نیوزروم میں لے لیا۔ میں ریڈیو پر تو نیوزروم کا کام کر چکا تھا۔اس زمانے میں چھوٹے اخبار ‘ ریڈیو کے خبرناموں پر انحصار کیا کرتے تھے۔ اے پی پی اور پی پی آئی کو معاوضہ دینا ان کے بس میں نہیں تھا۔ لیکن انگریزی سے ترجمہ کرنامیرے لئے بے حد دشوار تھا۔ مجھے یاد ہے جب میں نیوزروم کی شفٹ میں گیا‘ اس روز نیویارک کی تاریخ کا سب سے بڑا بلیک آئوٹ ہوا تھا۔ نظام صدیقی نے وہ خبر میرے ذمے لگا دی۔ ایک نظر پڑھا تو اس میں امریکہ کی مقامی اصطلاحوں کی بھرمار تھی۔ اس دور میں نیوزروم کی شفٹ ایک لمبے چوڑے ڈیسک پر بیٹھا کرتی تھی‘ جس کے اوپر‘ چار پانچ ڈکشنریاں دھری رہتی تھیں۔ میں نے اللہ کا نام لے کر ایک ایک مشکل لفظ ڈکشنریوں میں ڈھونڈ کر حاشیے میں اس کا ترجمہ لکھنا شروع کر دیا اور سارا کام مکمل کرنے کے بعد‘ ترجمہ کرنے لگا۔ دیر تو لگ گئی اور نظام صدیقی نے بار بار ٹوک کر میری سست روی پر طبع آزمائی بھی کرلی۔ لیکن میں بہرحال امتحان میں کامیاب رہا۔ واپس اپنی میز پر آیا‘ تو عباس نے اپنی ملازمت کا دریافت کیا۔ میں نے جواب دیا’’نوکری تو لگ گئی ہے۔ مگر امتحان دینا ہو گا۔ شفٹ انچارج نظام صدیقی ہے۔ تم لاہور سے آئے ہو۔ دنیا کی مشکل ترین انگریزی میں لکھی ہوئی خبر وہ تمہارے سپرد کرے گا۔ ‘‘ عباس اطہر نے بے یقینی کے عالم میں کہا ’’پھر میں کیا کروں گا؟‘‘ میں نے عاجزی سے جواب دیا ’’جو میں نے کیا تھا‘‘ اور اس کے بعد نیوزروم میں اپنی پہلے دن کی کہانی سنا دی اور مشورہ دیا کہ ’’صحافی بننا ہے تو یہ مشکل مرحلہ طے کرنا ہو گا۔ ورنہ واپس جائو اور ریلوے میں بھاڑ جھونکو۔‘‘تب کوئلے سے چلنے والے انجن زیادہ تھے۔ میں اسے ساتھ لے کر نیوزروم میں چلا گیا اور عباس اس حالت میں ساتھ آیا جیسے کوئی بے بس بکرا‘ قصائی کے پاس جاتا ہے۔ دونوں کا تعارف کرا کے‘ میں نے جمالی صاحب کا آرڈر سنایا اور نظام صدیقی نے ’’دیکھ لیتا ہوں بچو!‘‘ جیسی نظروں سے عباس کا استقبال کرتے ہوئے کرسی کی طرف اشارہ کیا‘ جو نئے سب ایڈیٹر کے لئے رکھی گئی تھی۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سلامت علی کی لکھی ہوئی ایک خبر‘ جو اس زمانے میں ٹیلیگرام کے ذریعے آتی تھی ‘ عباس کے سپرد کر دی۔ سلامت علی اسلام آباد میں ہمارے نمائندہ تھے اور ساتھ ہی ’’فارایسٹرن اکنامک ریویو‘‘ کے پاکستان میں خصوصی کارسپانڈنٹ بھی تھے۔ ان کی مشکل انگریزی سے ہمارا پورا نیوزروم‘ ڈرتا تھا۔ بڑے مشکل الفاظ میں محاوروں بھری انگریزی خبر کا ترجمہ کرنا واقعی امتحان ہوتا۔ عباس اطہر کو بیٹھتے ہی اس امتحان کا جوکھم پڑ گیا۔ ساتھی سب ایڈیٹرز نے بھی ڈرا دیا۔ عباس بے حوصلہ ہو کر میرے پاس آیا۔میں نے کہا ’’اگر صحافی بننا ہے‘ تو چیلنج قبول کرو۔ تم نے باقاعدہ سکول اور کالج میں انگریزی پڑھی ہے۔ مجھے تو یہ موقع بھی نہیں ملا۔ جب میں ایسے امتحان سے گزر سکتا ہوں‘ تو تم کیوں ڈر رہے ہو؟ ایک ایک مشکل لفظ کا ترجمہ ڈکشنری سے ڈھونڈ کر‘ اس کے آس پاس لکھ لو اور پھر اطمینان سے خبر بنا لینا۔‘‘ عباس نے وہی کیا۔ نظام صدیقی‘ جس نے عباس کا امتحان لیا تھا‘ خبر دیکھ کے بہت خوش ہوا۔ اس نے ’’اوکے‘‘ کی رپورٹ دے دی۔ میں نے جمالی صاحب کو پہنچا دی۔ عباس کی نوکری ہو گئی۔ بعد میں عباس اطہر اور نظام صدیقی اتنے گہرے دوست بنے کہ زندگی بھر کا ساتھ ہو گیا۔ آخر میں ایک چٹکلہ۔ کراچی میں ’’س‘‘ سے شروع ہونے والے کئی الفاظ سے پہلے الف لگایا جاتا تھا۔ لاہور میں ایسا نہیں ہوتا۔ نیوزڈیسک پر جب عباس کی یہ ’’غلطی‘‘ پکڑی گئی اور اسے جو سکھایا گیا‘ اس کی روشنی میں عباس نے پہلے ایک خبر لکھی اور اس کے بعد جہاں جہاں’’ س‘‘ کا حرف آیا‘ اس سے پہلے الف لگاتا گیا۔ اسکول‘ اسٹیشن جیسے الفاظ پر تو یہ ٹھیک رہا۔ لیکن سبی‘ سمندری اور سوات جیسے لفظوں کے سامنے یہ مضحکہ خیز بن گیا۔ کراچی کے پرانے دوستوں کو یہ بات آج بھی یاد ہے۔ مگر وہ رہ کتنے گئے ہیں؟ نصف صدی بہت ہوتی ہے۔ کالم کی حد تک جو بن پڑا‘ لکھ دیا۔ ہمارا تعلق رونے دھونے والا نہیں تھا۔ لڑنے بھڑنے کا تھا۔ عباس ہی نہیں رہا‘ تو اس سے کیا لڑنا؟ ٭٭٭

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved