تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     31-08-2019

سرخیاں‘ متن اور اس ہفتے کی تازہ غزل

'' دو دن میں استعفیٰ دیں ورنہ اسلام آباد بند کر دیں گے‘‘ فضل الرحمن
جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''عمران خان دو دن میں استعفیٰ دیں ورنہ اسلام آباد بند کر دیں گے‘‘ جبکہ اصل مقصد یہ ہے کہ شور شرابا کرنے پرمجھے بند کر دیا جائے گا، اور جیل کی دلفریب سہولیات کا ذائقہ بھی چکھ لوں گا اور اپنی پسند کا کھانا پیٹ بھر کے کھانے کا موقعہ ملے گا کیونکہ عزیزی بلاول کی افطاری کے بعد ڈھنگ کا کھانا ہی دستیاب نہیں ہوا۔ نواز لیگ والے تو پرلے درجے کے کنجوس ہیں، جاؤ تو ایک پیالی چائے اور دو چار بسکٹوں پر ہی ٹرخا دیتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی والوں کی صورت حال بھی کچھ اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے ؛چنانچہ اس طرح کی افطاری کے لیے اب اگلے سال کا انتظار کرنا پڑے گا جبکہ انتظار کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ موت سے بھی زیادہ بد ترہوتا ہے اور فی الحال میرا مرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ میں کفرانِ نعمت کا مرتکب ہونا نہیں چاہتا یہ نعمتیں جس کے پاس بھی ہوں ان سے کبھی کبھار استفادہ ہوتا ہی رہتا ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
آدھ گھنٹہ کھڑے رہنے سے کشمیریوں کو کیا ملے گا: احسن اقبال
سابق وفاقی وزیر اور نواز لیگ کے مرکزی رہنما چودھری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''آدھ گھنٹہ کھڑے رہنے سے کشمیریوں کو کیا ملے گا‘‘ کیونکہ اگر کھڑا ہی رہنا ہے تو چوبیس گھنٹے تو کھڑے رہیں ۔ اگرچہ چوبیس گھنٹے کھڑے رہنے سے پاؤں سُوج جائیں گے لیکن پاؤں کی اتنی پروا نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اللہ نے ہاتھ جو دیئے ہیں جبکہ ہمارے قائدین ہاتھ ہی، بلکہ دونوں ہاتھوں ہی سے کام کرتے تھے اور چوبیس گھنٹے کرتے رہتے تھے‘ جس کے اتنے خوشگوار نتائج برآمد ہوئے کہ ساری دنیا حیرت زدہ رہ گئی تھی اور اب احتساب اداروں کو وخت پڑا ہوا ہے کیونکہ ہماری کمائی میں برکت بھی بہت ہوئی ہے لیکن اس برکت کی وجہ سے ہی حکمرانوں کے پیٹ میں مروڑ اُٹھ رہے ہیں اور در حقیقت تو حکمرانوں کو چاہیے کہ مروڑوں کے لیے دوا کھائیں اور پرسکون ہو جائیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ پرسکون ہونا ان کی قسمت میں ہی نہیں ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
مہنگائی سے غریبوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے: قمر زمان کائرہ
پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر اور مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ''مہنگائی سے غریبوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں‘‘ لیکن شکر ہے کہ ہم اشرافیہ کے چولہے چوبیس گھنٹے ہی گرم رہتے ہیں جو کہ میں نے خود ہاتھ لگا کر بھی دیکھا ہے اور ٹھنڈے چولہوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لیے غریبوں کو چاہیے کہ انہیں بیچ کر چار پیسے ہی کھرے کر لیں اور پیسہ چونکہ فساد کی جڑ ہوتا ہے، اس لیے ہم دونوں پارٹیوں نے اسے اپنی تحویل میں لے کر فساد کی اس جڑ کو ہی ختم کر دیا ہے اور ہر طرف امن و امان کا دور دورہ ہے، تاہم جو تھوڑا بہت پیسہ ہماری کاوشوں کے باوجود بچ رہا تھا اسے ڈاکو حضرات ٹھکانے لگانے میں مصروف ہیں اور اگر ان کی یہ مساعی جمیلہ جاری رہیں تو ملک بہت جلد امن و امان کا گہوارا بن جائے گا۔ آپ اگلے روز اوکاڑہ میں پی پی کے صدر اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کر رہے تھے۔
معیشت کی بہتری کا سفر آسان نہیں ہے: ڈاکٹر حفیظ شیخ
وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ''معیشت کی بہتری کا سفر آسان نہیں ہے‘‘ اس لیے ہم اس پر لعنت بھیج کر دیگر آسان اور مفید کاموں میں مصروف ہیں جن میں ہماری پہلی ترجیح صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کے حالات اور سہولیات کو بہتر بنانا ہے تاکہ ان کی دیکھا دیکھی غریبوں کو بھی اپنے حالات بہتر بنانے کی ترغیب حاصل ہو ورنہ وہ تو حال مست ہیں اور انہیں غریب رہنے کی عادت بھی پڑ چکی ہے اس لیے ہم بھی ان کی عادتیں خراب کرنا نہیں چاہتے، جبکہ ویسے ہی یہ سست المزاج لوگ ہیں اور ہماری طرح کچھ نہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں حالانکہ ہم اتنا تو کر ہی رہے ہیں کہ عوام کو بار بار تسلی دیتے رہتے ہیں کہ آزمائش کی یہ گھڑی جلد ختم ہو گی‘ لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ گھڑی خراب ہے اور ایک ہی جگہ پر رُکی ہوئی ہے اور کوئی اسے ٹھیک کرنے والا بھی نہیں ہے اور یہ دردِ سر ہمارا بھی نہیں ہے کیونکہ ہم یہاں حکومت کرنے آئے ہیں، گھڑیاں ٹھیک کرنے کے لیے نہیں اور ہم یہ کام نہایت خوش اسلوبی سے کر بھی رہے ہیں۔ آپ اگلے روز ایس ای سی پی کے تحت اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ 
اور، اب آخر میں اس ہفتے کی یہ تازہ غزل:
وہ دن بھی خواب ہی کی طرح گزارے تھے
کسی کے بھی نہیں تھے آپ جب ہمارے تھے
ہمارے بیچ محبت کا ایک دریا تھا
ہم ایک دوسرے سے دُور دو کنارے تھے
تُو جھلملاتا ہوا آسمان تھا اور ہم
وہیں کہیں ترے ٹوٹے ہوئے ستارے تھے
انہی میں بھٹکے ہوئے تھے کوئی مسافر ہم
ہر ایک سمت سبھی راستے تمہارے تھے
جہاں جہاں مری لاحاصلی کو حاصل تھا
تمہارے پاس حساب و کتاب سارے تھے
جواب دوسروں سے پوچھتے رہے یہاں تُم
سوال جو بھی تمہارے ہمارے بارے تھے
اسی سبب سے کہ انصاف تم نے کرنا تھا
یہ کھیل وہ تھا کہ ہم جیت کر بھی ہمارے تھے
گریز پائی کا ماحول بن رہا تھا کوئی
وہی تمہارے کنائے، وہی اشارے تھے
ہمیشہ ہم نے جلائی ہے اپنی آگ، ظفر
ہمارے اپنے خس و خار تھے، شرارے تھے
آج کا مقطع:
چل بھی دئیے دکھلا کے تماشا تو ظفرؔ ہم
بیٹھے رہے تا دیر تماشائی ہمارے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved