تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     07-09-2019

نیا پاکستان اور عوام کی توقعات

گزشتہ تقریباً ڈھائی تین برس سے ملکی سیاست کے افق پر جو بیانیہ چھایا ہوا ہے، یہ ہے کہ پاکستان میں غربت اور مہنگائی سے لے کر بیروزگاری، پس ماندگی، ٹیکس چوری، قوم کے سروں پر بیرونی قرضوں کے بوجھ اور خارجہ پالیسی کی ناکامی تک تمام مسائل کی جڑ کرپشن ہے اور کرپشن کی وجہ قوم کے لیڈر کا خود کرپٹ ہونا ہے۔ اگر لیڈر صادق اور امین ہوگا تو اس کے نیچے کرپشن غائب ہو جائے گی‘ اور کرپشن غائب ہوتے ہی ملک میں بیروزگاری کا مسئلہ حل ہو جائے گا، معیشت سدھر جائے گی، مہنگائی ختم ہو جائے گی، حکومت کو اندرونی اور بیرونی قرضہ جات لینے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ ٹیکس دہندگان آگے بڑھ کر بڑے شوق سے ٹیکس ادا کریں گے، جس سے حکومت کا خزانہ بھر جائے گا اور دنیا میں ملک اور قوم کی تکریم اور عزت میں اضافہ ہو گا کیونکہ حکومت کی باگ ڈور ایک ''صادق اور امین‘‘ شخص کے ہاتھ میں ہو گی‘ جس کا مشن ملک سے کرپشن اور منی لانڈرنگ کا خاتمہ ہے اور ان دونوں برائیوں کے ختم ہونے کے نتیجے میں نہ صرف ملک کے سرمایہ دار اور صنعتکار، اپنی تجوریوں کے منہ کھول کر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کریں گے بلکہ باہر سے بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ایک لمبی قطار لگی ہو گی جو سب کے سب ''نئے پاکستان‘‘ میں نئی صنعتیں اور کارخانے لگانے کیلئے بے تاب ہوں گے کیونکہ ایک صادق اور امین حکمران کے دور کا آغاز ہو چکا ہو گا۔ یہ تاثر بھی قائم کیا جاتا رہا ہے کہ اس دور کے آغاز کے ساتھ ہی روزمرہ استعمال اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں دھڑام سے نیچے آ جائیں گی اور کوئی بے روزگار نہیں رہے گا کیونکہ نئے پاکستان میں لاکھوں نوکریوں کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ہر ایک کے سر پر چھت ہوگی کیونکہ 50لاکھ نئے گھروں کی تعمیر کی جائے گی۔ بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا سر فخر سے اونچا ہوگا کیونکہ برسہا برس سے چلے آنے والے مالیاتی اور بجٹ کے خسارے پر قابو پانے کے بعد ملک معاشی طور پر مضبوط ہو جائے گا اور یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ اس ملک کی دنیا میں عزت ہوتی ہے جو معاشی طور پر مضبوط ہوتا ہے کیونکہ اسے بجٹ کے خسارے پر قابو پانے اور تجارتی عدم توازن کو ختم کرنے کیلئے دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانے پڑتے۔ معیار زندگی اور فی کس آمدنی میں اتنا اضافہ ہو جائے گا کہ پاکستان یکدم غریب ملکوں کی صف میں سے نکل کر ایک ایسی کیٹیگری میں شامل ہو جائے گا کہ غیروں سے امداد لینے کی بجائے امداد دینے والا ملک بن جائے گا۔ سب سے اہم یہ کہ بیرون ملک محنت مزدوری کرنے والے لاکھوں پاکستانی‘ جن کی بھیجی ہوئی کمائی ملک کے بیرونی زرمبادلہ کا واحد ذریعہ ہے، اربوں ڈالر کی اپنے وطن میں سرمایہ کاری کریں گے۔ لیکن ''نئے پاکستان‘‘ کے قیام کے بعد ملکی معیشت کی جو صورت حال ابھری ہے وہ بڑی مایوس کن ہے۔ حکومت کے اپنے اداروں کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق معیشت بہتری کی بجائے برابر ابتری کی طرف جا رہی ہے۔ 
شروع سے ہی پاکستانی معیشت تین بڑے مسائل سے دوچار رہی ہے۔ بڑھتا ہوا بجٹ اور مالیاتی خسارہ، بیرونی ادائیگیوں میں عدم توازن اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی۔ گزشتہ تقریباً 60 برسوں سے پاکستانی معیشت بجٹ اور مالیاتی خسارے کا شکار چلی آ رہی ہے جس کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرتے چلے آ رہے ہیں اور چونکہ آمدنی سے زیادہ خرچ کو ہم اپنے قومی ذرائع سے پورا نہیں کر سکتے، اس لئے اُدھار لینا پڑتا ہے اور ادھار لیتے لیتے اتنا ادھار سر پر چڑھ چکا ہے کہ پاکستان کی وزارت خزانہ کے فراہم کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ٹیکسوں کی مد میں اکٹھے ہونے والے 3.8 ٹریلین (3800 بلین روپے) میں سے 2.1 ٹریلین (2100 بلین) روپے بیرونی قرضوں پر سود وغیرہ کی ادائیگی اور موجودہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ان کے حصے کی رقم منتقل کرنے کے بعد، حکومت کو دفاع، ترقیاتی منصوبوں اور روزمرہ کے انتظامی اخراجات پورا کرنے کیلئے اندرون ملک بینکوں اور باہر کے مالیاتی اداروں سے قرض لینا پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک تو پاکستان کے بیرونی اور اندرونی قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف ملک میں ترقی کی رفتار انتہائی سست بلکہ زیرو پر پہنچ چکی ہے۔ سابقہ حکومتوں پر سب سے زیادہ تنقید اندرونی اور بیرونی قرضوں میں اضافے کی و جہ سے کی جاتی تھی‘ لیکن قرضوں میں اضافے کا یہ رجحان نئی حکومت کے آنے سے کم نہیں ہوا بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے۔ خود حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق موجودہ حکومت کے ایک برس میں قومی قرضوں میں 7.6 ٹریلین (7600 بلین) روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بجٹ اور مالیاتی خسارے میں اور اضافہ ہوگا۔ حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق یہ خسارہ کل قومی آمدنی (GDP) کے 8.9فیصد تک پہنچ چکا ہے اور اس کا اثر معیشت کے دیگرشعبوں پرپڑنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرقومی ترقی میں اضافے(GDP) کی رفتار ہے۔ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے (یعنی جون 2018 میں) اس کی رفتار 5.8 فیصد سالانہ تھی۔ اسی وجہ سے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں بھارت اور بنگلہ دیش کے بعد قومی ترقی کے میدان میں سب سے زیادہ تیز رفتار ملک کہا جانے لگا تھا۔ اب یہ رفتار گھٹ کر صرف 3فیصد رہ گئی ہے بلکہ خدشہ ہے کہ اس میں اور بھی کمی ہوگی‘ کیونکہ موجودہ حکومت نے ترقیاتی بجٹ آدھا کر دیا ہے۔ اب کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا جا رہا بلکہ جو رقوم ترقیاتی بجٹ کے نام پر رکھی گئی ہیں، ان میں سے پرانے منصوبوں کے جاری اخراجات پورے کئے جا رہے اور ان کی تکمیل کی رفتار بھی کچھوے کی رفتار کے برابر ہے کیونکہ غیر ترقیاتی اخراجات پورے کرنے کے بعد، ترقیاتی منصوبوں کے لئے کوئی رقم باقی نہیں بچتی۔ 
موجودہ حکمران پارٹی نے مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے قوم سے وعدہ کیا تھا لیکن حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ایک برس (جون 2018 تا جون 2019) میں اس میں 2.2 ٹریلین (2,200 بلین) روپے سے 3.4 ٹریلین (3400 بلین) روپے تک کا اضافہ ہو چکاہے۔ یہ رقم آئی ایم ایف کے مقررکردہ ہدف سے زیادہ ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکومت اس میں ناکامی کے اعتراف کے ساتھ آئی ایم ایف سے نئے ہدف کی درخواست کرنے والی ہے۔ مالیاتی خسارے میںاضافہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ ایک برس میں قرضوں اور دیگر ادائیگیوں کے بوجھ میں 30 ٹریلین (30000 بلین) روپے سے 40 ٹریلین (40,000 بلین) روپے کا اضافہ ہو چکا ہے‘ یعنی موجودہ حکومت کے صرف ایک برس میں ہمارے قرضوں میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے‘ جس کی ملک کی پوری تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اس سے زیادہ مایوس کن معاملہ ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے حصول میں ناکامی ہے۔ موجودہ حکمران پارٹی ماضی میں ٹیکس وصولیوں میں کمی کی ذمہ دار کرپٹ حکمرانوں کو گردانتی تھی لیکن یہ مسئلہ موجودہ ''صادق اور امین‘‘ حکومت میں بھی بدستور موجود ہے۔ حکومت کے اپنے ذرائع کے مطابق گزشتہ حکومت کے دور میں ٹیکس وصولیوں میں ہر سال 20 فیصد اضافے کے بعد جب سابقہ ''کرپٹ اور بدعنوان‘‘ حکومت اقتدارسے رخصت ہوئی تو جون 2018 میں حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں 3800 بلین وصول ہوئے تھے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ موجودہ ''صادق اور امین‘‘ حکومت کے دور کا مالیاتی سال (2018-2019) پہلا سال ہے کہ اس میں ٹیکس وصولیوں کی مد میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا‘ حالانکہ افراط زر کی شرح تین گنا ہو چکی ہے اور روپے کی قیمت میں بھی ایک تہائی کمی ہو چکی ہے۔ ان دو عوامل کی وجہ سے وصول ہونے والے ٹیکسوں میں خودبخود اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایک ذرائع کے مطابق اس وقت افراط زر کی شرح 10.40فیصد تک پہنچ چکی ہے اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ امسال جولائی اور اگست میں افراط زر کی شرح 10.3فیصد تھی۔ سابقہ ''کرپٹ اور بدعنوان‘‘ حکمرانوں کے دور میں افراط زر کی شرح اس سے کافی کم تھی۔ بیرونی سرمایہ کاری آدھی رہ چکی ہے۔ ''نئے پاکستان‘‘ کے ایک برس میں 50 لاکھ سے زیادہ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں جبکہ 15لاکھ مزید افراد روزگار سے محروم ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ الارمنگ بات یہ ہے کہ حکومتی ذرائع کے اندازوں کے مطابق آئندہ برسوں میں افراط زر کی شرح 13سے 15فیصد ہو سکتی ہے، بجلی، گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہ ہے ''نیا پاکستان‘‘ اور اس میں عوام کو درپیش آنے والے مسائل کی صورتحال۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved