تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     13-09-2019

جنگ ِستمبر کی کہانی؛دشمن کی زبانی !

گنے کے کھیت سے نکلنے والا کیچڑ میں اس طرح لت پت تھا کہ اس کاجسم ایسے نظر آ رہا تھا کہ جیسے اس پرمٹی کا لیپ کیا گیا ہو‘ تاہم اس کی فوجی وردی پر کسی قسم کے رینک اور فوجی شناخت کی علا مت تک نظر نہیں آ رہی تھی اور یہ شخص کوئی اور نہیں‘ بلکہ لاہور پر حملہ کرنے والی بھارتی فوج کا میجر جنرل نرنجن پرشا دتھا ‘جو بغیر کسی ہیڈ کور( جنگی ہیلمٹ) کے جنرل ہر بخش سنگھ کی آمد کی اطلاع پا کر گنے کے کھیت سے نکل کر اس کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کی شیو بڑھی ہوئی تھی‘ جسے دیکھ کر جنرل ہر بخش سنگھ نے طنزیہ انداز میں کہا ''تم ایک ڈویژن فوج کی کمانڈ کرنے والے جنرل ہو یا کوئی قلی؟‘‘۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے نیتائوں اور بھارتی افواج کے چھوٹے بڑے ترجمانوں سمیت ان کے حلقہ آغوش میں پرورش پانے والے اندرونی اور بیرونی میڈیا ہائوسز کے علا وہ پاکستان کے اندر سے کچھ مفاد پرست شخصیات اور ان کے چیلے54 برسوں سے ہماری نئی نسل کو یہ باور کروانے کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہیں کہ6 ستمبر1965ء کی 17 روزہ جنگ میں بھارتی افواج نے پاکستان کو اصل میں شکست دے دی تھی اور ہماری فوج تو بھارتی حملے کے وقت سوئی ہوئی تھی‘ وغیرہ وغیرہ۔
قارئین کو میں اپنے چند ایک گزشتہ کالموں میں ''کارگل جنگ کی کہانی؛ بھارت کے سینئر جرنیلوںکی زبانی‘‘ سنا چکا ہوں۔ میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ وہ بات کہی جائے‘ جسے دشمن اپنی زبان سے تسلیم کر رہا ہے‘ نہ کہ وہ باتیں‘ جودشمن کا میڈیااپنے ملک کی نام نہاد انا کو بچانے کیلئے جھوٹ کا ویر چکر چلاتے ہوئے بول رہا ہو۔صرف دونوں ممالک کی ائر فورس کا پیمانہ سامنے رکھ کر اگر جنگ کا جائزہ لیا جائے ‘تو دو جمع دو کا آسان سا جواب ہے کہ بھارتی ائر فورس کے 106 طیارے اور پاکستان کی ائرفورس کے30 طیارے تباہ ہوئے‘ یعنی بھارت کا نقصان تین گنا سے بھی زیادہ ہوا۔کیا اسے پاکستان کی جنگ ستمبر میں شکست کہنا مناسب ہو گا؟کیا اسے جنگ ستمبر میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی واضح فضائی بر تری کہنا درست نہیں ہے ؟لہٰذا دشمن کی زبان بولنے والے کچھ تو سوچ کر بولا کریں۔
جنگ ستمبر کے وقت کانگریس کے لال بہادر شاستری کی حکومت میں بھارت کے وزیر دفاع وائی بی چوان کے پرنسپل سیکرٹری آر ڈی پردھان کی1965ء کی پاک بھارت جنگ کے تناظر میں لکھی جانے والی کتاب''In side Story'' کے ایک ایک لفظ کو پڑھا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اپنی کتاب میں پرادھن لکھتے ہیں کہ چند روز قبل چھ ستمبر کو پاکستان آرمی اور اس کی عوام بڑے فخر سے یوم دفاع پاکستان کے طور پر منا رہی تھی ‘یہ ان کا حق ہے‘ لیکن اس جنگ ِستمبر کے بارے میں ؛چونکہ بہت سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں اور دونوں ملکوں کی افواج اور ان کا میڈیا ان واقعات کو اپنے وقار اور ببر تری کیلئے پیش کرتا چلا آ رہا ہے‘ اس لیے میںکوشش کر رہا ہوں کہ اس جنگ کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو سامنے لا کر ایک بار پھر تجزیہ کر سکوںکہ اس جنگ میں کس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اور جنگ کا اصل فاتح کون تھا اور شکست کس نے کھائی ؟
جنرل ہر بخش سنگھ اورR.D Pradhan جنگ ستمبر کے دو ایسے مرکزی چشم دید اور اہم کردار ہیں‘ جن کا اس جنگ سے براہ راست تعلق ہونے کی وجہ سے وہ بہت سے اندرونی واقعات سے با خبر ہیں۔ جنرل ہر بخش سنگھ لاہور‘ قصور کھیم کرن اور پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر لڑنے والی بھارتی فوج کی کمانڈ کر رہے تھے‘ جبکہ آر ڈی پردھان اس وقت کے وزیر دفاع وائی بی چاون کے پرنسپل سیکرٹری تھے ۔ان دونوں حضرات نے اپنے اپنے طور پر اور اپنے اپنے انداز میں جنگ ستمبر پر کتابیں لکھی ہیں ‘جس میں ان کے پاس وہ قابل اعتماد اطلاعات تھیں‘ جن سے باقی لوگ قطعی بے خبرتھے اور یہ اطلاعات جنگ کے نقطہ آغاز اور اس کے خاتمے تک پاک بھارت سرحدوں پر دن بدن نہیں ‘بلکہ جنگ سے لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی صورت حال سے متعلق تھیں۔
RD Pradhan کی کتاب کا پیراگراف نمبر آٹھ سامنے رکھیے‘ جس میں لاہور کے محاذ پر بھارتی فوج کے کمانڈر میجر جنرل نرنجن پرشاد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جب پاکستانی افواج نے توپ خانے اور ٹینکوں سے جوابی حملہ کیا تو وہ بارش کی طرح برسنے والے فائر سے خوف زدہ ہو کر بھاگ نکلے۔ لاہور کے محاذ کے آپریشنل کمانڈر انڈین آرمی کو جب ااطلاع ملی کہ جنرل ہر بخش سنگھ اور کور کمانڈر جونگا‘ جیپ میں بیٹھ کر محاذ ِجنگ کی طرف آ رہے ہیں‘ توا س وقت انہیں پاکستانی ائر فورس کی بھارت کی جی ٹی روڈ اورا س کے اطراف میں حرکت کرنے والی بھارتی فوج کی گاڑیوں پر موسلا دھار بارش کی طرح ہونے والی بم باری نے سخت پریشان کر کے رکھ دیا تھا۔ پاکستانی ائر فورس کے ان طیاروں کی گولہ باری اور راکٹ فائرنگ کی استعداد اس قدر بھر پور اور تباہ کن تھی کہ دور دور تک انڈین آرمی کی وہیکلز‘ توپیں اور ٹینکوں سے بلند ہونے والے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے اور محفوظ رہ جانے والے بھارتی فوجی اپنے وہیکلز کو اسی طرح چلتا چھوڑ کر ادھر ادھر کھیتوں میں چھپنے کیلئے بھاگنا شروع ہو گئے تھے۔
RD Pradhan اپنی اسی کتاب کے باب نمبر12میں جنگ ِستمبر 1965ء کے احوال بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ '' انڈین آرمی چیف نے تجویز دیتے ہوئے کہاکہ لاہور کے محاذ پر بھارت کے بھر پور حملے کے نتیجے میں‘ اگر دشمن کے توپ خانے اور اس کی ائرفورس جوابی حملہ کرتے ہوئے شدید جوابی کاروائی کرتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم اپنے فوج کو ان کا شکار اور وہیکلز کو نشانہ بنانے سے بچانے کیلئے دریائے بیاس کے پیچھے تک پسپا ہو جائیں‘‘ بھارت کے وزیر دفاع وائی بی چوان کا حوالہ دیتے ہوئے پرادھن لکھتے ہیں کہ ''وائی بی چوان‘ جنرل چوہدری کی اس پلاننگ پر تلملا کر رہ گئے‘ جس میں اس نے اپنی رپورٹ دیتے ہوئے وزیر اعظم اور وزیر دفاع کو اس باب کے حوالے سے لکھا تھا کہ بیاس کے مغربی حصے میں ہونے والی خوفناک اور تباہ کن جنگ سے‘ اگر انڈین آرمی کو بہت زیا دہ نقصان اٹھانا پڑا تو میری اوپر دی گئی تجویز پر عمل نہ کرنے کی صورت میں اس تباہی کے بعد دشمن فوج کو برائے نام مزاحمت کو روندتے ہوئے دہلی تک پہنچنے کیلئے کھلا میدان مل سکتا ہے‘ جس پر وزیر دفاع اور جنرل ہر بخش سنگھ نے کہا :سر! اگر آپ کی تجویز پر عمل کیا گیا تو آدھا پنجاب تو مفت میں پاکستان کے ہاتھ لگ جائے گا...‘‘۔
بھارت کے وزیر دفاع چوان نے9ستمبر کواس جنگ کی تازہ ترین صورت حال پر دی جانے والی انٹیلی جنس معلومات کی روشنی میں ایک نوٹ لکھا '' ہمیں ہر محاذپر سخت مزاحمت کا سامنا ہے‘‘۔ قصور کے محاذ کا ذکر کرتے ہوئے چوان نے لکھا کہ ''پاکستان آرمی نے قصور سیکٹر پر جوابی حملہ کرتے ہوئے انڈین آرمی کے مورچوں پر اس قدر تباہی مچا دی ہے کہ آرمی چیف کی جانب سے فیصلہ ہوا ہے کہ یہاں سے انڈین فوج پیچھے کی جانب ہٹتے ہوئے محفوظ مقام پر ڈیپلائے کی جائے‘‘۔وائی بی چوان نے لکھا کہ ' ' مجھے افسوس تو اپنے آرمی چیف جنرل چوہدری پر ہو رہا ہے‘ جو کوئی فیصلہ کرنے سے کترا رہے ہیں ۔ان کے پاس کوئی پلان ہی نظر نہیں آ رہا‘ جو بھارتی وزیر اعظم شاستری جی کیلئے پریشان کن صورت حال پیدا کر رہا ہے‘ جبکہ شاستری جی کے کہنے پر میں نے جنرل چوہدری کو اگلے مورچوں اور محاذ جنگ پر جانے کا کہہ دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کل دس ستمبر کو ہم اپنی ساری فورس کے ساتھ اگلے محاذ وں پر جا رہے ہیں‘‘۔
انڈین ایکسپریس کے ایڈیٹر شیکھر گپتا کے مطا بق '' جنرل ہر بخش نے اسے اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ مختلف محاذوں سے ملنے والی اطلاعات پر جنرل چوہدری اس قدر بد حواس ہو رہا تھا کہ اگر اس کے ہر حکم کو تسلیم کر لیا جاتا تو وہ آدھا پنجاب جنگ ستمبر میں پاکستان کے حوالے کرنے کو تیار ہو چکا تھا‘ جس میں ہم سکھوں کا مقدس ترین گولڈن ٹیمپل ‘امرتسر شہر بھی شامل تھا ‘‘۔ (جاری)

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved