تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     08-10-2019

سیلف میڈ لوگوں کا المیہ…(2)

کاشف بول رہا تھا اور میں ہمہ تن گوش اس کی کہانی سن رہا تھا ''ـمیڑک کانتیجہ آیا تو سکول میں میری پہلی پوزیشن تھی‘ اس روز میری ماں بہت خوش تھی۔ مجھے یاد ہے اس نے مجھے اپنے ساتھ لگا کر کتنا پیار کیا تھا۔وہ مجھے دیوانہ وار چوم رہی تھی اور کہہ رہی تھی :میرے اللہ تیرا شکر ہے‘ میرے مولا آئندہ بھی میرے بیٹے کی مدد کرنا‘ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھنا‘ اسے اس غربت کے چُنگل سے نکالنا۔ مجھے یاد ہے سکول جانے کے ساتھ ساتھ میں سبزی منڈی میں کام کرتا تھا‘ سڑک کے کنارے پھل بیچتا تھا ‘کچہری میں مزدوری کرتا تھا ۔ میرے سامنے میری ماں کا خواب تھا‘ جو مجھے آگے بڑھا رہا تھا پھر میں نے D.Com کا امتحان بھی پاس کر لیا ‘اب نوکری کا مرحلہ درپیش تھا‘ میرے پاس سفارش نہیں تھی‘ مجھے سرگودھا میں ایک جگہ عارضی کام ملا‘ پھر میں نے اسلام آباد جانے کی ٹھانی‘ میں نے سنا تھا کہ وہاں کام کی گنجائش زیادہ ہے‘ مجھے یاد ہے جب میں راولپنڈی آ رہا تھا تومیرے پاس ایک دوست سے مانگا ہوا سوٹ تھا‘ ایک پھٹا ہوا بیگ اور 600 روپے جو سرگودھا کی ملازمت سے ملے تھے ۔ راولپنڈی میں مجھے ایک کمرے میں کچھ اور لوگوںکے ساتھ سر چھپانے کا ٹھکانہ مل گیا‘ اس ایک کمرے میں ہم تین لوگ رہتے تھے‘تینوں اپنے گھروں سے دور غربت کی چکی میں پِس رہے تھے۔ان میں سے ایک تندور پہ کام کر تا تھا‘ دوسرا گولیوں اور ٹافیوں کا کاروبار کرتا تھا‘ تیسرا بتاشے بیچتا تھا۔ کمرے میں ایک ٹب تھا جس کا پانی سارے استعمال کرتے تھے۔میں نے ٹائپنگ اور شارٹ ہینڈ سیکھ لی تھی ‘اسی وجہ سے مجھے راولپنڈی میں ایک وکیل کے پاس نوکری ملی گئی‘ مجھے یاد ہے پہلے کیس میںمجھے دس روپے ملے تھے۔ان وکیل صاحب کا میں عمر بھر شکر گزار رہوں گا‘ جنہوں نے مشکل وقت میں مجھے سہارا دیا۔رات تک میں وکیل صاحب کے دفتر میں کام کرتا‘ یہاں طرح طرح کے لوگ آتے‘ جن کے اپنے مسائل ہوتے ۔ جب رات کومیں تھک ہار کر اپنے کمرے میں جاتا اور چارپائی پر لیٹتا تومیری آنکھوں کے سامنے اپنے باپ کا چہر ہ آ جاتا جس کی ساری زندگی بھٹے پر مزدوری کرتے گزر گئی۔ مجھے چھوٹا بھائی یاد آتا جو مجھے بہت یاد کرتا تھا‘ میں بہت اداس ہو جاتا‘ پھر ماںکا چہرہ میرے سامنے آ جاتا ۔ہمیشہ کی طرح میرا حوصلہ بڑھاتا ہوا‘ مجھے تسلی دیتا ہوا ‘مجھے نصیحت کرتا ہوا ''تم نے آ گے جانا ہے‘ بہت آگے‘‘اور ماں کی آواز سنتے سنتے میں نیند کی آغوش میں چلا جاتا۔ میں وکیل صاحب کے دفتر شام کو جاتا اور صبح نوکری کی تلاش کرتا ہر روز میں راولپنڈی سے جی ٹی ایس کی بس میں اسلام آباد سیکر ٹریٹ جاتا ‘وہاں مواصلات کی وزارت میں ہمارے گائوں کا ایک جاننے والا تھا‘ اس کے دفتر ٹائپ کی پریکٹس کرتا اور مختلف محکموں میں درخواستیں ارسال کرتا ‘پھر مجھے 1986ئمیں ایک تعلیمی ادارے میںسٹینو ٹائپسٹ کی نوکری مل گئی اور وہیں آپ سے پہلی بار ملاقات ہوئی ۔ میں نے تو اپنے خواب میں بھی کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے اسلام آباد کے ایک بہت بڑے تعلیمی ادارے میں نوکری ملے گی اور مجھے اتنے بڑے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا۔ نوکری ملنے کے بعد میں ماں باپ سے ملنے گاؤں گیا‘ میں نے اپنے آنے کا گھر والوں کو نہیں بتایا تھا‘ گائوں میں رات کا کھانا جلدی کھا لیتے ہیں‘ گھر پہنچا تو گھر والے کھانا کھا رہے تھے‘ مجھے دیکھ کر سب حیران رہ گئے ۔ماں نے مجھے اپنے ساتھ لگا لیا ‘میں نے ماں کو نئی نوکری کا بتایا تو وہ بہت خوش ہوئی‘ لیکن یہ خوشی عارضی تھی۔ میں ایک رات رہ کر اگلے روز گاڑی پر واپس آ گیا۔اب میں بیک وقت دو نوکریاں کر رہا تھا‘ صبح کے وقت تعلیمی ادارے میں اور شام کو وکیل صاحب کے دفتر میں۔ سکول کے زمانے سے مجھے محنت مزدوری کی عادت تھی‘ یہ عادت وقت کے ساتھ ساتھ اور پختہ ہو گئی۔ لوگ مجھے اپنے بچپن اور جوانی کے قصے سناتے ہیں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ کس دنیا کی باتیں کر تے ہیں ۔میری زندگی میں نہ بچپن کے کھیل تماشے تھے نہ جوانی کی رنگین کہانیاں۔ سردیاں ہوتیں یا گرمیاں مجھے دونوں نوکریوں پر جانا ہوتا‘ اب میں تنخواہ سے کچھ پیسے بچا بھی رہا تھا‘ ان پیسوں سے ہم نے اپنے گائوں کے مکان کو بہتر بنایا‘دو بھائیوں کی شادیاں بھی کیں۔ اس دوران میرے والد کا انتقال ہو گیا۔ 
میرے والد لوگوں کے کام آتے تھے‘ یہی وجہ ہے کہ ان کے جنازے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ والد کی وفات کے بعد ہماری ماںنے ہمارے والد کی کمی بھی پوری کی‘ وہ ہمارے سروں کا سائبان تھی۔ ماں کی نصیحت ہمیشہ میرے ساتھ رہی کہ تم نے پڑھنا ہے‘ تم نے آگے بڑھنا ہے ۔میں نے نوکری کے ساتھ ساتھ بی اے کیا‘ پھر ایم اے‘ اور پھر ایم فل‘ اب میری ترقی گریڈ 17 میںگئی اور میری تنخواہ میں بھی اضافہ ہوا۔اب ماں نے مجھے شادی کے لیے قائل کیا ۔اللہ نے مجھے نیک بیوی عطا کی‘ جس نے میری جدو جہدمیں میرا بھرپور ساتھ دیا۔وہ فارغ وقت میں کپڑے سیتی اور اور یوں ہم دونوں زندگی کی گاڑی کھینچنے لگے۔ والد صاحب کے جانے کے بعد والدہ بھی بیمار رہنے لگی تھیں‘ ساری زندگی کی مشقت نے انہیں نڈھال کر دیا تھا۔پھر کچھ عرصے بعد والدہ بھی چل بسیں۔وہ تو چلی گئیں لیکن ان کا خواب میرے ساتھ ساتھ رہا ۔ شروع دن سے میری کوشش تھی کہ میں بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کروں‘ انہیں ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے جو میرے حصے میں آئیں‘ اللہ کا شکر ہے کہ میرا بڑا بیٹا ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں نوکری کر رہا ہے‘ ایک بیٹی اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی ہے‘ چھوٹا بیٹا بی اے کر رہا ہے ۔
کاشف اپنی کہانی سنا رہا تھا اور میں اسے غور سے دیکھ رہا تھا ‘پھر وہ اچانک کھڑا ہو گیا‘ مسکراتے ہوئے بولا : سر کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی‘ اس نے زبردستی ویٹر کو چائے کے پیسے دیے اور مجھے کہنے لگا: سر آئیں ‘وہ مجھے لے کر سڑک کے پار ایک زیرِ تعمیر مکان کی طرف لے گیا ‘مکان کا سٹرکچر تیار تھا ‘گیٹ بھی لگ چکا تھا۔ وہ گیٹ کے او پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا :سر یہ میرا مکان ہے‘ بس تقریباً بن گیا ہے‘ میرے بچے اب اس گھر میں رہیں گے‘ انہیں وہ سہو لتیں میسر ہوں گی جو مجھے نہیں ملیں۔ انہیں سڑک کے کنارے بیٹھ کر مزدوری نہیں کرنی پڑے گی۔ بس سر جی چار پانچ سال اور لگیں گے اس کا رنگ و روغن بھی ہو جائے گا۔میں نے کاشف کو غور سے دیکھا اس کے سر کے بال سفید ہو چکے تھے ‘ آنکھوں کی چمک ماند پڑنے لگی تھی‘ آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے نظر آ رہے تھے‘ وہ 19برس کی عمر میں روزگار کی تلاش میں اسلام آباد آیا تھا اور اب مشقت کا سفر طے کرتے ہوئے بڑھاپے کی دہلیز پر آ پہنچا تھا۔ مجھے امجد اسلام امجد یاد ا ٓ گیا‘ جس نے سیلف میڈ لوگوں کے بارے میں کہا تھا۔
ـفصلِ گُل کے آخر میں پھول ان کے کھلتے ہیں
ان کے صحن میں سورج دیر سے نکلتے ہیں
میرے دل میں ایک عجیب سا خیال آیا کہ کاشف کو منزل ملی بھی تو کب ‘جب ا س کی زندگی کا آفتاب اپنے سفر کے آخری مرحلے میں تھا۔ یہ ہم سب سیلف میڈ لوگوں کی کہانی ہے‘ جن کی ساری زندگی تگ و دومیں گزر جاتی ہے اور جب منزل نظر آنا شروع ہوتی ہے تو رخصت کی گھڑی بھی دُور نہیں ہوتی۔ کاشف کی آنکھوں میں اطمینان کی روشنی تھی ‘اس نے اپنی ماں کا خواب پورا کر دیا۔ اس کی ماں کہا کرتی تھی ''بیٹا تم نے افلاس کے اس جال کو توڑنا ہے‘ تم نے آگے بہت آگے جانا ہے‘‘۔کاشف نے دن رات محنت کر کے واقعی افلاس کے جال کو توڑ دیا تھا‘ لیکن یہاں تک پہنچتے پہنچتے وہ خود بھی ٹوٹ چکا تھا ۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved