تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     23-10-2019

دانہ پانی لگا ہو تو نا اُمیدی کاہے کی

دال روٹی کا بندوبست ہونا چاہیے باقی فضول کی باتیں ہیں۔ شرط یہ ہے کہ بندوبست معقول ہو، پیسے پیسے کو انسان نہ ترسے۔ جن کا ایسا بندوبست ہے وہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھیں۔ یہ اور بات ہے کہ آدمی کا جی نہیں بھرتا اور اکٹھا کرنے میں لگا رہتا ہے۔ اِس کو بد قسمتی سمجھنا چاہیے۔ 
صبح جب اخباروں کا پلندہ نظروں سے گزرتا ہے تو عجیب سی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ مجموعی طور پہ قوم کا احوال یا اُس احوال کے بارے میں خبریں ڈپریشن اور مایوسی کا سماں پیدا کرتی ہیں۔ اس میں مبالغہ نہیں کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ لیکن محض سینہ کوبی کا کیا فائدہ؟ دیکھنا تو یہ چاہیے کہ کون سی قومی عادات تبدیل ہو سکتی ہیں اور کون سی ہمارے مقدر کا حصہ بن چکی ہیں۔ جو ہمارے حالات کا ستیا ناس ہوا ہے‘ وہ کسی اور نے نہیں کیا، اُس کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ تو پھر رونا کیا بنتا ہے؟
مثال کے طور پہ گندگی کے ڈھیر لگانے سے ہمارا ایک خاص شغف ہے۔ صفائی رکھنا ہمارے قومی مزاج میں نہیں۔ جہاں دیکھیں گندگی کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں۔ بطور معاشرہ عبادات پہ ہمارا بہت زور ہے۔ لیکن ان عبادات کا ہم پہ اثر کیا ہے؟
آبادی ہماری پھیلی جا رہی ہے۔ اس پھیلاؤ کی کسی کو کوئی فکر نہیں۔ بیس پچیس نہیں تو تیس سالوں میں موجودہ آبادی دُگنی ہو جائے گی۔ جو آبادی ہے وہ سنبھالے میں نہیں آ رہی۔ ڈبل ہو گئی تو پھر کیا صورت حال ہو گی۔ 
تعلیم نام کی چیز پہ ہمارا کوئی دھیان نہیں۔ جو سوکھے لوگ ہیں اپنے بچوں کو انگریزی سکولوں میں بھیجتے ہیں۔ باقیوں کا گزارہ سرکاری سکولوں پہ ہوتا ہے۔ مدرسوں میں غریب لوگ جاتے ہیں جن کا اور کوئی تعلیمی ٹھکانہ نہ ہو۔ آدھی سے زیادہ قوم ویسے ہی نا خواندہ ہے۔ قوم کے اس حصے کو تعلیمی اداروں سے کوئی واسطہ نہیں۔ پاکستان کے بننے سے لے کر آج تک اس صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تو کس بنیاد پہ یہ اُمید باندھی جا سکتی ہے کہ آئندہ کے وقتوں میں اس صورت حال میں تبدیلی آئے گی؟
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ روشیں ہماری پکی عادات بن چکی ہیں۔ یا یوں کہیے کہ ہماری سوچ کا پختہ حصہ بن چکی ہیں۔ ان عادات پہ رونا فضول کی بات ہے۔ جو مرض لا علاج ہو اس کے بارے میں ہاتھ پاؤں کیا مارا جائے۔ شاید یہ باتیں جو منہ سے نکل رہی ہیں عمر کا تقاضا بتاتی ہیں۔ جوانی کب کی ہماری پیچھے رہ گئی۔ درمیانی عمر بھی گزر چکی۔ اب تو ہم با قاعدہ سینئر سٹیزن ہیں۔ جیل روڈ لاہورکی ایک میڈیکل لیب ہے‘ جس میں کبھی معمول کے ٹیسٹ کرانے جاؤں تو بڑا عجیب لگتا ہے‘ جب وہاں سینئر سٹیزن ڈسکاؤنٹ ملتا ہے۔ کہاں ہماری جوانی کی تڑپ اور کہاں یہ سینئر سٹیزن کا لیبل۔ یہ برملا اعتراف ضروری ہے کہ اب بھی ہماری کئی عادات بڑھاپے کی نہیں اور وقتوں کی ہیں۔ باہر کا کوئی اخبار ہوتا تو تفصیل میں بھی جایا جا سکتا تھا لیکن ظاہر ہے یہاں ایسا ممکن نہیں۔ لیکن عمر کا اتنا اثر ضرور ہے کہ فضول کی اُمیدوں سے ہم نکل آئے ہیں۔ اُس کی وجہ یہ ہے کہ معلوم ہے کہ بیشتر چیزیں ایسے ہی رہنی ہیں۔ انگریزوں نے پنجاب پہ فقط اٹھانوے سال حکومت کی۔ یعنی سو سال بھی پورے نہ ہوئے لیکن اُنہوں نے دھرتی کا نقشہ بدل دیا۔ ہماری قومی زندگی کو بہتر تہتر سال ہو گئے ہیں اور ہم نے چیزوں کا ستیاناس ہی کیا ہے۔ 
گفتگو میں پتہ نہیں اپنے آپ کو کیا پھَنے خان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے جغرافیائی محل وقوع کا ایسے ذکر کرتے ہیں جیسے وسطی ایشیاء کا تمام نقشہ ہمارے گرد گھومتا ہے۔ بات بات پہ ہم یہ کہتے نہیں شرماتے کہ ہماری اہمیت بڑھ رہی ہے۔ جب اندازِ گفتگو ہی ایسا بگڑا ہوا ہو تو دیگر کسی چیز کے بارے میں کیا اُمید لگائی جا سکتی ہے۔ 
اسی لیے کہا کہ بس دال روٹی کا معقول بندوبست ہو۔ یہ فکر نہ ہو کہ رات کا کھانا کہاں سے آئے گا۔ کچھ روپے جیب میں ہوں، رات کے کھانے کا یقین ہو اور کبھی کبھار جب دل میں اُلجھاؤ پیدا ہو یا شبِ ماہتاب ہو تو رات کے کھانے کے ساتھ معمولی سے اور لوازمات کے اہتمام کی استطاعت ہو۔ اور کیا چاہیے؟
ہاں صحت ٹھیک ہو۔ یہ لازمی شرط ہے۔ ہم پنجابی ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے۔ ہسپتالوں کا چکر نہ لگانا پڑے۔ دو وقت کا کھانا کھایا جا سکے۔ نیند بغیر دوا کے آ جایا کرے۔ صبح اخباروں کا پلندہ ہو اور اچھی کافی بھی۔ دیگر کسی چیز کی ضرورت نہیں رہنی چاہیے۔
ہمارا قومی مزاج البتہ بڑا عجیب قسم کا ہے۔ بہت سی چیزیں تو کوشش کے باوجود ہم سے ہوتی نہیں۔ لیکن ہمارا یہ بھی کمال ہے کہ خواہ مخواہ کی اُلجھنیں پیدا کر کے اُنہیں قومی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔ مغلوں کے زمانے میں ہندوستان میں کوئی حدود آرڈیننس رائج نہ تھا۔ غالب کے زمانے میں کوئی ایسی قدغن نہ تھی۔ اُن کے بارے میں تو مشہور ہے کہ ایک دفعہ ہاتھ میں پیسے آئے تو تمام روپوں سے روحانی غذا گدھے پہ لاد کے لے آئے‘ جبکہ گھرمیں بیگم صاحبہ کے ہاتھ کوئی خرچہ نہ تھا۔ یہ مشہورقصہ ہے ۔ بیگم نے پوچھا تو مرزاغالب نے کہا کہ رزق کا وعدہ تو اوپر والے نے کیا ہے‘ روحانی غذا کا نہیں‘ اس لیے میں اس کا خود بندوبست کر آیا۔ 
سر سید احمد خان کے زمانے میں ایسا قانون نہ تھا۔ 1905ء میں ڈھاکہ میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تو جو قانون آج پاکستان میں رائج ہیں وہ تب نہ تھے۔ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد دیا تو اُس میں پاکستان کی جھلک تو تھی ایسے کسی قانون کا ذکر نہ تھا۔ 1940ء میں جب منٹو پارک لاہور میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی کسی ایسی قدغن کے ذکر کی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔ پاکستان بنا، قائد اعظم گورنر جنرل ہوئے، لیاقت علی خان وزیر اعظم ہوئے، آئین ساز اسمبلی بیٹھی، قرارداد مقاصد منظور ہوئی لیکن کسی اہل دین نے بھی ایسے قوانین کا ذکر نہ کیا۔ لیکن ہم نے اپنے اوپر بیکار کے بوجھ ڈال دئیے ہیں اور ہٹانے کا نام نہیں لیتے۔
ہماری زندگی میں بھی جو چند اُلجھنیں رہ گئی ہیں اُن میں سے یہ ایک ہے۔ لاہور کو ہم نے خیر باد کہا ہے اور جو کام کرتے ہیں وہ اب اسلام آباد سے کیا کریں گے۔ جب ایسا فیصلہ کیا تو لازم ٹھہرا کہ روحانی عنایات کا بھی کچھ خاطر خواہ بندوبست کیا جائے۔ ایک پرانے مہربان‘ جن سے پرانے وقتوں میں مستفید ہوتے تھے‘ سے عرصے بعد رجوع کیا۔ بڑے پُرتپاک انداز سے اُنہوں نے خیر مقدم کیا۔ روحانی فضیلت مہیا تو ہوئی لیکن جیسے ڈر تھا دو نمبر نکلی۔ اِس چیز کا علاج کیا ہے؟ جو ممالک اپنے آپ کو مہذب کہتے ہیں کسی ایک میں ایسی صورت حال کارفرما نہیں۔ جگر اور دل نے اَب تک ساتھ دیا ہے۔ یہی دعا ہے کہ یہ ساتھ رہے لیکن یہ بھی کوئی معاشرہ ہے کہ ایک چھوٹی سی حرکت جو کہ باہر کے دیسوں میں نارمل حرکت تصور کی جاتی ہے اتنا بڑا مسئلہ بن جائے؟
عجیب کیفیت ہے۔ چکوال میں بیٹھا سکھ کا سانس لے رہا ہوں۔ قوم کے مستقبل کی فکر سے ہم آزاد ہو چکے۔ یہ فکر اب آنے والے کریں۔ کل اسلام آباد جانا ہے۔ جس کلب یا سرائے میں قیام ہوتا ہے وہاں کمرہ بُک ہے لیکن اگر دھڑکا لگا ہوا ہے تو روحانی فضیلت کا۔ حکومت کیا افسانے گھڑ رہی ہے، پچاس لاکھ گھر بنیں گے اور ایک کروڑ نوکریاں ہوں گی۔ کوئی پرلے درجے کا احمق ہی ایسی باتوں پہ یقین کرے۔ ہماری فکر محدود ہے۔ لیکن ہماری مانی جائے تو اور مسائل شاید حل نہ ہوں ملک کی عمومی فضا کچھ بہتر ہو جائے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved