تحریر : ڈاکٹر حسن عسکری رضوی تاریخ اشاعت     24-10-2019

سڑکوں پر احتجاج اور جمہوری کلچر

پاکستانی سیاستدان قانونی طور پر قائم حکومت کو گرانے یا اسے دبائو میں لانے کے سلسلے میں اکثر سڑکوں پر احتجاجی تحریک چلانے، ٹریفک جام کرنے اور عام آدمی کے معمولات زندگی میں انتشار پیدا کرنے کیلئے ماورائے پارلیمان حربے استعمال کرتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابھی ہمارے ہاں جمہوریت کی کوالٹی بہت غیر معیاری ہے‘ نیز یہ کہ ہمارے سیاسی حلقوں میں جمہوری کلچر کا فقدان ہے۔ ہمارے سیاسی رہنماء اس طرح کی جمہوریت اور جمہوری کلچر کو فروغ دینے کیلئے کام نہیںکر رہے جس سے تحمل و برداشت، دوسروں کیلئے گنجائش پیدا ہو اور تنازعات کو مسلمہ جمہوری اداروں اور طریقوں کی مدد سے حل کیا جا سکے۔ وہ اقتدار حاصل کرنے یا اپنے سیاسی حریف کیلئے حکومتی امور چلانے کو مشکل بنانے کے حوالے سے پُر تشدد حربے آزمانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
اب تک پاکستان میں کئی مرتبہ قومی اور صوبائی الیکشن ہو چکے ہیں‘ مگر ایسی ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ شکست خوردہ سیاسی جماعت نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہو اور کامیاب ہونے والی جماعت کو اس کی فتح پر فراخدلی سے مبارکباد دی ہو۔ جہاں بھی اور جب بھی شکست ہوتی ہے امیدوار اور سیاسی جماعتیں دھاندلی کی شکایت کرتی ہیں۔ جو الیکشن ہارنے والے شاید ہی جیتنے والے کا حق حکمرانی تسلیم کرتے ہوں۔ دوسری جانب حکمران جماعت اپوزیشن کے اس حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتی ہے کہ وہ اس کی پالیسیوں پر کوئی سوالات کر سکے۔
جمہوریت احتجاج کرنے اور سیاسی حریفوں پر تنقید کرنے کا حق ودیعت کرتی ہے؛ تاہم یہ استحقاق لامحدود نہیں۔ یہ حق جمہوری کلچر، قانون اور احساس ذمہ داری کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہر جمہوری دستور کسی حکومت کی تبدیلی کیلئے قواعد و ضوابط طے کرتا ہے۔ کوئی بھی جمہوری آئین کسی کو ایسا حق نہیں دیتا کہ وہ دستور میں طے کردہ مروجہ طریقہ کار سے ہٹ کر اپنے سیاسی حریف پر تنقید یا احتجاج کرنے کے دوران حکومت کو جائز یا ناجائز طریقے سے گرانے کیلئے آخری حدود کو بھی پھلانگ جائے۔ جمہوریت کی بڑی کمزوری یہ ہے کہ اسے جمہوری اصولوں کے نام پر نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس امر کا اطلاق حکومت اور اپوزیشن دونوں پر ہوتا ہے۔ کوئی بھی حکومت ریاستی مشینری اور وسائل کو جماعتی مفادات کے حصول کیلئے نہیں استعمال کر سکتی‘ نہ ہی اپنی پارلیمانی اکثریت کے بل بوتے پر کوئی ایسا قانون زبردستی نافذ کر سکتی ہے جس سے جمہوریت کی روح متاثر ہوتی ہو۔ وہ ''اکثریت کے بل پر آمریت‘‘ قائم نہیںکر سکتی۔ اسی طرح اپوزیشن کو بھی چاہئے کہ وہ جمہوری جذبے کو بروئے کار لاتے ہوئے اور احساس ذمہ داری کے ساتھ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کام کرے۔ اسے مخالفت برائے مخالفت کی روش سے گریز کرنا چاہئے۔ حکومت اور اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ ایسے پیرامیٹرز پر متفق ہو جائیں‘ جن کی مدد سے پارلیمان کے قانون سازی اور عوامی شکایات و جذبات کا اظہار کرنے کا بنیادی فریضہ ادا کیا جا سکے۔ اگر جمہوری ادارے اپنے فرائض موثر طریقے سے ادا کریں تو جمہوریت مزید مستحکم ہوگی۔ اس طرح سویلین اداروں اور قیادت کے ہاتھ بھی مضبوط ہوں گے۔ سویلین لیڈر سیاسی نظام میں اپنا کردار تبھی مضبوط کر سکتے ہیں اگر وہ اچھی حکومتی عملداری اورجمہوری اقدار کے احترام کے ذریعے جمہوری اداروں کو مستحکم کریں۔
پاکستان میں 1988ء سے لے کر اب تک ہر سویلین حکومت کو ماورائے پارلیمان دبائو کا سامنا کرنا پڑا جس میںکبھی لانگ مارچ، کبھی ٹرین مارچ اور کبھی دھرنوں کے ذریعے بڑے شہروں کے تجارتی مراکز اور معمولات زندگی کو مفلوج کردیا گیا۔ ماضی کے ان واقعات سے حکومت اور اپوزیشن کو بڑا واضح سبق ملتا ہے۔ حکومت گرانے یا اسے مفلوج کرنے کیلئے کبھی کوئی واحد جماعت احتجاجی تحریک شروع نہیں کر سکی۔ احتجاجی تحریک کی کامیابی کی کنجی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے پاس رہی ہے۔ مذہبی سیاسی جماعتیں اسی صورت موثر رہیں اگر وہ متحد ہو گئیں یا کسی مشترکہ سیاسی ایجنڈے کیلئے انہوں نے بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اشتراک کر لیا۔ کوئی واحد مذہبی سیاسی جماعت صرف اپنی سیاسی قوت اور اثرورسوخ کی بدولت کسی وزیر اعظم کو استعفیٰ دینے پر مجبور نہیں کر سکی۔
سڑکوں پر چلنے والی کوئی بھی احتجاجی تحریک اس امر کی لازمی گارنٹی نہیں دے سکتی کہ ٹارگٹ حکومت کی جگہ کوئی حقیقی جمہوری حکومت قائم ہو جائے گی۔ یہاں 1968-69ء اور 1977ء میں سڑکوں پر ہونے والے احتجاج جمہوریت تو بحال نہ کروا سکے مگر فوج کو سیاسی اقتدار سنبھالنے کا جواز ضرور فراہم کر دیا۔ 2007-09ء میں چیف جسٹس کو بحال کرانے والی تحریک اس لئے کامیابی سے ہمکنارہوئی کہ تمام سیاسی، سماجی جماعتوں اور گروپوں‘ بشمول مذہبی سیاسی جماعتوں‘ میں چیف جسٹس کی بحالی پراتفاق رائے تھا۔ اس سب کے باوجود آرمی چیف کی ذرا سی مداخلت نے چیف جسٹس کی بحالی کی راہ ہموارکر دی تھی۔
حکومت بھی ماضی میں چلنے والی احتجاجی تحریکوں سے سبق سیکھ سکتی ہے۔ کسی بھی حکومت کی سب سے بڑی مضبوطی اور قوت اس کی گورننس یا عملداری ہوتی ہے۔ اگر وہ اچھی عملداری دیتی ہے، عام آدمی کے مسائل حل کرتی ہے اور ان کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتی ہے تو کوئی جماعت اس کے خلاف احتجاجی تحریک شروع نہیںکر سکتی؛ چنانچہ جب کبھی ایک یا دو سیاسی جماعتیں حکومت ہٹانے کی باتیں شروع کرتی ہیں تو حکمرانوں کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ اس طرح کی سیاسی سوچ کیوں اور کہاں سے جنم لے رہی ہے۔ انہیں پتہ چلے گا کہ اہم وجہ گورننس ہے جو اپوزیشن کو احتجاج کیلئے سڑکوں پر لاتی ہے۔
حکومت کیلئے ایک مشورہ یہ ہے کہ وہ اپوزیشن کو مثبت انداز میں ڈیل کرنے کا عمل جاری رکھے۔ مذاکرات کا عمل اور سلسلہ جاری رہنا چاہئے تاکہ اپوزیشن کے گلے شکوے اور مطالبات حکومت تک پہنچتے رہیں۔ حکومت کو کبھی اپوزیشن کو مسترد کرنے والا رویہ نہیں اپنانا چاہئے۔
پاکستان میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی طرف سے وزیر اعظم کو ہٹانے کیلئے لانگ مارچ اور اسلام آباد میں دھرنا دینے کی جو کوشش ہورہی ہے‘ اگر دو بڑی جماعتیں ن لیگ اور پی پی پی پوری طرح کھل کر اس کا ساتھ نہیں دیتیں تو اس کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں۔ مولانا کے عمران خان کی حکومت ہٹانے کے ایجنڈے سے متفق ہونے کے باوجود دونوں جماعتیں خود اپنے طور پر یہ تحریک شروع کرنے سے گریزاں ہیں۔ توقع ہے کہ مسلم لیگ نون مولانا کے جلسے میں تو شرکت کرے گی مگر وہ ان کے مجوزہ دھرنے میں شریک نہیں ہوگی۔ پیپلز پارٹی ان کے مظاہرین کوسندھ سے اسلام آباد روانگی میں سہولت فراہم کریگی مگر ایک چھوٹی سی مذہبی جماعت جے یو آئی (ف) کی سربراہی میں وہ اسلام آباد کی طرف کسی مارچ یا دھرنے میں شامل نہیں ہوگی۔ 
مولانا‘ جو ابھی تک عمران خان کے استعفے کے مطالبے کی صورت میں حکومت کو ٹف ٹائم دے رہے ہیں‘ سے مذاکرات کیلئے وفاقی حکومت نے بھی ایک پینل تشکیل دے دیا۔ حکومت اس احتجاجی تحریک کا زور توڑنا چاہتی ہے تو اسے اپنی گورننس بہتر کرنے اور عام آدمی پر پڑنے والے معاشی دبائو میںکمی لانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مولانا صاحب کو بھی چاہئے کہ وہ اسلام آباد میںصرف عوامی ریلی تک محدود رہیں اور دھرنے کا خیال ترک کر دیں۔ انہیں حکومت کی تشکیل کردہ مذاکراتی ٹیم کے ساتھ غیر مشروط بات چیت کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
حکومت کو ادراک ہونا چاہئے کہ عام آدمی اور پاکستان کے کاروبار ی اور صنعتی حلقے اس کی پالیسیوں سے خوش نہیں۔ شاید ان میں سے بھی کچھ افراد ایک دن کیلئے اس ریلی میں شامل ہو جائیں؛ تاہم اس بات کا امکان نہیں ہے کہ وہ ان کے کسی دھرنے میں بھی شامل ہوں گے کیونکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اس دھرنے کے نتیجے میں پاکستان میں کوئی عوام دوست حکومت قائم ہو جائے گی۔
سیاسی تنازعات طے کرنے کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو پارلیمنٹ کی طرف مراجعت کرنا پڑے گی۔ اس مقصد کیلئے انہیں اپنے سیاسی رویوں میں بہتری لانا ہوگی تاکہ پارلیمنٹ قانون سازی کے علاوہ سیاسی و سماجی ایشوز سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی وضع کرنے میں موثر کارکردگی دکھا سکے۔ اس عمل سے پاکستان میں جمہوریت کو پھلنے پھولنے اور سویلین سیاسی قیادت کے کردار کو مضبوط ہونے کا موقع ملے گا۔ اگر سیاسی قیادت محاذآرائی جاری رکھتی ہے تو یہ سیاسی اقدام ریاست کے غیرجمہوری اداروں کو اپنا کردارادا کرنے کا جواز فراہم کرے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved