تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     14-05-2013

ٹوٹے

الطاف بھائی ہاتھ ذرا ہلکا رکھیں…! الطاف بھائی کا یہ بیان کہ اسٹیبلشمنٹ کو اگر ایم کیو ایم کا مینڈیٹ پسند نہیں تو کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کردے، حیران کن بھی ہے اور پریشان کن بھی اور میرے جیسے ان کے غائبانہ بہی خواہوں کے لیے افسوسناک بھی۔ کراچی میں جا بجا دھاندلی اور ایم کیو ایم کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے اور جس کا نوٹس خود الیکشن کمیشن نے بھی لیا ہے اور یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ہم کراچی میں شفاف اور منصفانہ الیکشن کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ چنانچہ ممکن ہے کہ یہ بیان ایک پیش بندی کے طور پر دیا گیا ہو ۔کراچی میں ایک دوسرے پر جو الزام تراشی کی جارہی ہے اس کے پیش نظر وہاں دوبارہ انتخابات کرانے کا امکان اور خطرہ بھی موجود ہے۔ ایم کیو ایم بلاشبہ کراچی کی ایک واضح اکثریت کی حامل پارٹی ہے لیکن شاید وہ اس میں کسی اور پارٹی کی شراکت پسند نہیں کرتی‘ بیشک وہ میرٹ پر ہی کیوں نہ آتی ہو۔ ایم کیو ایم واقعتاً ملک میں ایک بڑی پارٹی کے طور پر ابھر رہی ہے اور سندھ سے باہر بھی اس نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے اور یہ اس کے اپنے مفاد میں ہے کہ میانہ روی سے کام لے اور جذباتیت سے اجتناب کرے ۔ اُسے اسٹیبلشمنٹ پر کوئی ڈائریکٹ الزام لگانے اور خواہ مخواہ اسے مشتعل کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ملک میں آزاد عدلیہ کی موجودگی ٹھوس ضمانت فراہم کررہی ہے۔ الطاف بھائی کو علیحدگی کا یہ نعرہ کسی صورت بھی زیب نہیں دیتا،نہ ہی اتنی واضح اکثریت رکھنے والی اس جماعت کے ساتھ کوئی بھی ادارہ کسی زیادتی کا اس سلسلے میں مرتکب ہوسکتا ہے کیونکہ سوال یہ ہے کہ اگر کراچی میں انتخابات دوبارہ ہو بھی جاتے ہیں تو بھی ایم کیو ایم کا مینڈیٹ کسی صورت تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ ایم کیو ایم جیسی قابل قدر جماعت کو کسی بھی طرح کا کوئی غیرضروری محاذ کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ملک میں ایک نئی صبح طلوع ہوئی ہے اور اس کی تعمیر و ترقی میں ایم کیو ایم کو بھی دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے، جس کے لیے ملک کو سیاسی استحکام کی شدید ضرورت ہے اور جس میں ایم کیو ایم جیسی بامعنی جماعت کا بھرپور حصہ ہونا چاہیے۔ اور درویش کی صدا کیا ہے ! مولانا صاحب کی خدمت میں انتخابات کے اختتام پذیر ہوتے ہی جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن نے میاں نوازشریف کو تجویز پیش کی ہے کہ اگر انہیں وزارت علیا دے دی جائے تو وہ ان کے اور شیرپائو گروپ وغیرہ کے تعاون سے خیبر پختونخوا میں وزارت بنا سکتے ہیں۔ بے شک یہ ان کا حق بھی ہے اور سیاست کاری میں ایسے اقدامات کی پوری پوری گنجائش بھی موجود ہوتی ہے لیکن جس جماعت کو وہاں اکثریت حاصل ہوئی ہے، اصولی طور پر اس کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔ اگرچہ میاں صاحب نے مستقبل میں ان کے ساتھ اپنے تعاون کا عندیہ دیا ہے لیکن ان سے ہرگز یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس سلسلے میں کوئی پیش رفت کریں گے اور شروع میں ہی ایک ناپسندیدہ اقدام کا الجھاوا اپنے گلے میں ڈال لیں گے جبکہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر انہیں ہمواریوں کی ضرورت ہے‘ دشوار گزاریوں کی نہیں‘ جبکہ یہ خود ان کے فرائض میں بھی شامل ہے کہ مثبت اقدامات کے ذریعے ملک کو مسائل کی اس دلدل سے نکالا جائے اور جس کو عوام نے جتنا مینڈیٹ دیا ہے اس کا احترام کیا جائے اور عوام نے اگر تحریک انصاف کو وہاں ایک موقع دیا ہے تو اس میں کسی بھی طرح کی مداخلت یا رخنہ اندازی وہ فضا پیدا کرنے میں یقینامزاحم ہوگی جس کی ملک کو اس وقت شدید ضرورت ہے۔ یقینا میاں صاحب بھی اس تجویز سے اتفاق نہیں کریں گے جبکہ جماعت اسلامی نے پہلے ہی وہاں تحریک انصاف کے ساتھ حکومت سازی میں تعاون کا اعلان کردیا ہے اور اس طرح اپنی روایتی اصول پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ خود خیبر پختونخوا کے عوام کا مفاد اسی میں ہے کہ ان کے مینڈیٹ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور سب سے بڑھ کر مولانا صاحب کی سیاسی شخصیت کا تقاضا ہے کہ ان کے اقدامات تعمیر ی ہوں اور سیاسی امن و امان بھی کسی طالع آزمائی کی نذر نہ ہوجائے۔ ان کے لیے مستحسن یہی ہے کہ وہ دوسروں کے مینڈیٹ کا احترام کریں تاکہ ان کے اپنے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ وہ صوبے کی وزارت علیا کی خواہش کرتے اس وقت ہی اچھے لگتے جب وہ اس کا مینڈیٹ بھی حاصل کرتے۔ لہٰذا دوسروں کے واضح مینڈیٹ پر حملہ آور ہونا خود انہیں بھی زیب نہیں دیتا۔ پیپلزپارٹی کا متوقع کردار پاکستان پیپلزپارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری نے یہ بیان دے کر بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے کہ جیتنے والوں کو مبارکباد‘ عوام نے جسے اپنا نجات دہندہ سمجھا‘ منتخب کیا۔ شکست کو عوامی فیصلہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں اور عوامی خدمت جاری رکھیں گے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر ایسا ہی بیان خود زرداری صاحب کی طرف سے آتا جن کا میاں صاحب کے ساتھ نہ صرف ماضی مشترک رہا ہے بلکہ انہی کے تعاون سے وہ اپنی 5 سالہ میعاد پوری کرنے میں بھی کامیاب ہوئے اور اس کے ساتھ انہیں اپنی ناکامی کی وجوہات کا بھی تجزیہ اور اعتراف کرنا چاہیے تھا اور یہ بھی کہ آئندہ ایسی غلطیوں سے اجتناب کیا جائے گا بلکہ اس کے علاوہ انہیں جہاں ضرورت ہو‘ نوازشریف کو اپنے تعاون کا بھی یقین دلانا چاہیے تھا کیونکہ مسائل میں پھنسے ہوئے اس ملک کو سب مل کر ہی بحال کرسکتے ہیں چنانچہ نئی حکومت کو ہر طرف سے اخلاقی مدد اور حمایت کی بھی ضرورت ہے اور جس ملک پر وہ پانچ سال تک حکمرانی کرتے رہے ہیں‘ اس کے بہتر مستقبل میں ان کا حصہ بھی ہونا چاہیے۔ کم از کم بڑے بڑے ایشوز پر اس وقت پورے ملک کو یکسو ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو اس منجدھار سے نکالا جاسکے اور اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو سب کے لیے باعثِ پشیمانی ہوگا۔ پنجاب میں اس شکست کے باوجود پیپلزپارٹی کے ایک عوامی سیاسی طاقت ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور کل کو اس نے اس راکھ سے اُبھرنا ہے اور زرداری ایک زیرک آدمی ہیں اور مستقبل پر ایک گہری نظر بھی رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں اگر نوازشریف ان کے ساتھ ایک طویل علانیہ اور درپردہ تعاون کا مظاہرہ کرسکتے ہیں تو زرداری بھی ملک کے حقیقی مفاد میں ایسا کرسکتے ہیں۔ بیشک اس پارٹی نے فی الحال اپنا بویا ہوا ہی کاٹا ہے‘ لیکن آئندہ کے لیے ایک نئی فصل بھی کاشت کی جاسکتی ہے تاکہ اس کے ثمرات سمیٹے جا سکیں۔ چنانچہ ملک عزیز میں پیپلزپارٹی کے ایک مستقل کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جس کے لیے اسے ابھی سے ایک دُوراندیشانہ روّیہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور جس کے لیے اسے سب سے پہلے پارٹی کے تالاب میں سے ان گندی مچھلیوں کو نکال باہر کرنا ہوگا جو اس سارے پانی ہی کو گندہ کرنے کا باعث بنیں۔قصہ مختصر پیپلزپارٹی کو اب ایک نئے اور بہتر چہرے کے ساتھ سامنے آنا ہوگا تاکہ وہ اپنا متوقع کردار احسن طریقے سے سر انجام دے سکے کیونکہ ملکی سیاست میں اس کا کردار ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ نئے سرے سے شروع ہونے والا ہے۔ آج کا مقطع جو رابطہ نہیں رکھتا کسی طرح کا‘ ظفرؔ وہ درمیان میں دیوار بھی نہیں کرتا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved