تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     09-11-2019

پہلے دروازہ یقینی بنائیے

دنیا امکانات سے بھری پڑی ہے۔ قدم قدم پر کوئی نہ کوئی امکان آپ کا خیر مقدم کرنے کو بے تاب ہے۔ جو لوگ اپنے ماحول کو سمجھنے پر توجہ دیتے ہیں وہ مشکلات کے ساتھ ساتھ امکانات کو بھی دیکھتے رہتے ہیں۔ جو کچھ اُن کے لیے ممکن ہو اُسے تیزی سے اپنانے اور گلے لگانے کی کوشش کرتے ہیں اور عام طور پر کامیاب رہتے ہیں۔ 
ہر طرح کا ماحول اپنے اندر متنوع امکانات رکھتا ہے۔ انتہائی بُری صورتِ حال میں بھی کچھ لوگوں کے لیے سنہرے مواقع چُھپے ہوتے ہیں۔ سوال سوچ کے رخ کا ہے۔ اگر کسی نے منفی انداز سے سوچنے ہی کو زندگی کا بنیادی شعار بنا رکھا ہے تو کوئی اچھا موقع بھی اُسے کچھ نہیں دے پاتا۔ مثبت انداز سے سوچنے والوں کو کسی بُری صورتِ حال میں بھی بہت کچھ دکھائی دیتا ہے اور اُس کی مدد سے وہ بہت کچھ حاصل کرنے میں کامیاب بھی رہتے ہیں۔ 
کسی بھی نوع کا ماحول اپنے اندر سبھی کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور رکھتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو زندگی کا سفر جاری نہ رہ سکے۔ منظم اور ترقی یافتہ معاشروں کی تو خیر بات ہی کچھ اور ہے‘ ترقی پذیر معاشرے بھی اپنے ارکان یعنی افراد کے لیے اپنے دامن میں بہت کچھ رکھتے ہیں۔ یہ سب کچھ اُنہیں دکھائی دیتا ہے جو محض دیکھنا ہی نہیں چاہتے‘ بلکہ عملی سطح پر بھی کچھ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ 
بگڑے ہوئے اور پس ماندہ معاشروں میں امکانات تلاش کرنا ایک دشوار گزار مرحلہ ہوتا ہے۔ نچلی سطح پر غیر معمولی مسابقت کے باعث کچھ کر دکھانا انتہائی دشوار ثابت ہوتا ہے۔ جہاں گزارے کی سطح برقرار رکھنا بھی دردِ سر ہو وہاں غیر معمولی کامیابی یقینی بنانے والوں کو کئی جاں گُسل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ 
ترقی یافتہ معاشروں میں گزارے کی سطح سے بلند ہوکر درمیانے حجم کی کامیابی یقینی بنانا بہت بڑا دردِ سر نہیں ہوتا۔ ہاں‘ اعلیٰ سطح پر کچھ کر دکھانے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑا ہے۔ مسابقت کی شدت انسان کو نچوڑ لیتی ہے۔ یہی کیفیت پس ماندہ معاشروں میں ہر سطح پر ہوتی ہے۔ بالکل نچلی یعنی گزارے کی سطح پر جینے والوں کو بھی حالات نچوڑ لیتے ہیں۔ پھر بھی سمجھنے اور سوچنے والوں کے لیے امکانات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ سوال صرف اُنہیں شناخت کرکے بروئے کار لانے کا ہوتا ہے۔ 
ماحول کیسا ہی گیا گزرا کیوں نہ ہو‘ چند ایک مواقع ضرور پیش کرتا ہے۔ ان مواقع سے مستفید ہونا صرف اُن کے بس میں ہوتا ہے جو اس حوالے سے خود کو تیار کرتے اور تیار رکھتے ہیں۔ 
ملٹن برل نے کہا ہے کہ سنہرا موقع دستک ضرور دے گا مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے پاس دروازہ ہو! یہ ہے بنیادی نکتہ۔ ہمیں سفر کے لیے ہموار راستہ مل سکتا ہے۔ ہموار راستہ ملنے پر بھی سفر کی ہمت وہی کر پاتے ہیں جن کی ٹانگیں سلامت ہوں اور سفر کرنے کے لیے درکار سکت بھی ان میں پائی جاتی ہو۔ محض راستہ مل جانے سے سفر شروع نہیں ہو جاتا۔ اور ہاں‘ سفر کی لگن بھی تو لازم ہے۔ اگر کوئی اپنے اندر سفر کی لگن ہی نہ پاتا ہو تو کیسے چلے گا؟ بہت سوں کا یہی تو معاملہ ہے۔ اُنہیں اچھے مواقع ملتے ہیں مگر وہ اُن مواقع سے استفادہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ بالکل فطری بات ہے کیونکہ کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے صلاحیت‘ سکت اور لگن... تینوں کا پایا جانا لازم ہے‘ ناگزیر ہے۔ 
اگر حالات کی مہربانی سے کوئی سنہرا موقع آپ کو میسر ہو تب بھی لازم ہے کہ آپ کے پاس اُس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے درکار ''بنیادی ڈھانچا‘‘ ہو۔ اگر آپ کی صلاحیتوں سے متاثر ہوکر کوئی آپ کو بڑا ٹھیکا دینے پر رضامندی ظاہر کرے تو؟ کیا آپ اُس کی رضامندی سے کچھ حاصل کرسکیں گے؟ یقیناً مگر لازم ہے کہ آپ کے پاس کسی بڑے ٹھیکے کے مطابق پیداوار یقینی بنانے کے لیے درکاربنیادی ڈھانچا بھی ہو۔ سوال وہی دروازے کا ہے۔ حالات دستک دیں گے‘ مگر اس کے لیے دروازہ لازم ہے۔ 
1950 ء اور 1960 ء کی دہائی میں پاکستان کی ترقی کی رفتار غیر معمولی تھی۔ اس کا ایک بنیادی سبب تو یہ تھا کہ ملک نیا نیا بنا تھا۔ لوگوں میں کچھ کر دکھانے کے حوالے سے غیر معمولی جذبہ تھا۔ پہلی بار ایک خطے میں پورے برصغیر سے آئے ہوئے مختلف نسلوں اور قومیتوں کے لوگوں کو مل کر رہنے اور کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ گوناگوں صلاحیتوں کے حامل افراد ایک پلیٹ فارم پر آئے تو کام کرنے کی غیر معمولی لگن پیدا ہوئی۔ معاشی ترقی ظاہر کرنے والے تمام اشاریے قابلِ رشک پیش رفت ظاہر کرنے لگے۔ یہ دیکھ کر دنیا حیران رہ گئی۔ پاکستانیوں کی صلاحیتوں کا لوہا امریکا اور یورپ میں بھی مانا جانے لگا۔ اُس دور میں بہت سے انتہائی قابل نوجوانوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے مغرب کا رخ کیا اور پھر وطن واپس نہیں آئے۔ انہیں وہیں بہتر امکانات نے آغوش میں لے لیا۔ 
اُن دو دہائیوں کے دوران پاکستان نے جو کچھ حاصل کیا اُسے کسی حد تک 1970ء کی دہائی میں بھی سنبھالا گیا‘ بچایا گیا۔ یہ پوری دہائی بھی امکانات سے آراستہ تھی۔ پاکستان کا جذبۂ عمل بے مثال تھا۔ مشکل صرف یہ تھی کہ وقتاً فوقتاً ملنے والے سنہرے مواقع سے کماحقہ مستفید ہونے کے لیے جو کچھ لازم تھا وہ نہیں کیا گیا‘ نہیں بنایا گیا۔ اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں کو زیادہ مضبوط بنانا اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا لازم تھا۔ یہ کام یہاں نہ ہوسکا۔ سیاسی عدم استحکام اور علاقائیت پر مبنی سوچ نے معاملات کو ایسا الجھایا کہ قومی ترقی کے حوالے سے لازم سمجھی جانے والی سوچ کو پیدا ہونے اور پنپنے کے لیے موزوں ماحول نہ مل سکا۔ وقت نے بھرپور دستک دینے کی تیاری کرلی تھی مگر ہم دروازہ یقینی بنانے میں ناکام رہے۔ 
1980 ء کی دہائی انتہائی غیر یقینی حالات سے عبارت تھی۔ سیاسی عدم استحکام بھی وسیع البنیاد تھا اور بھرپور قومی سوچ کا بھی بہت حد تک فقدان تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم غیر معمولی رفتار سے معاشی پیش رفت یقینی بنانے میں ناکام رہے۔ 
آج دنیا بہت بدل گئی ہے۔ مگر یہ سمجھنا لازم نہیں کہ بہت کچھ بگڑ گیا ہے۔ ہر تبدیلی چند ایک منفی تو چند مثبت پہلوؤں کی حامل ہوتی ہے۔ اکیسویں صدی کا دوسرا عشرہ اختتام کے نزدیک ہے۔ پاکستان سمیت تمام پس ماندہ معاشروں کے لیے مشکلات کے ساتھ ساتھ امکانات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بات اتنی سی ہے کہ ع
جس دِیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا 
ہم شدید نوعیت کی مسابقت کے دور میں جی رہے ہیں۔ انتہائی پست درجے کی زندگی کا آپشن بھی موجود ہے‘ مگر اسے آپشن نہیں کہا جاسکتا۔ اگر کچھ کرنا ہے‘ کچھ بننا ہے تو محنت کرنا ہوگی۔ سنہرے مواقع کی دستک سُننے کے لیے دروازہ تیار کرنا ہوگا۔ ہر بدلتی ہوئی صورتِ حال کچھ نہ کچھ لے کر آتی ہے ‘مگر چونکہ وصولی کے لیے تیار نہیں ہوتے اس لیے ٹرین مِس کردیتے ہیں۔ 
پاکستان اُس مقام پر کھڑا ہے جہاں کوئی بھی سنہرا موقع ضائع نہیں کیا جاسکتا۔ خیر‘ مواقع ضائع کرنے کا ''آپشن‘‘ تو قدرت نے کسی بھی ملک یا معاشرے کے لیے نہیں رکھا۔ کچھ کرکے وہی دکھائے گا جس میں صلاحیت اور سکت کے ساتھ ساتھ کام کرنے کی بھرپور لگن بھی پائی جائے گی اور متعلقہ بنیادی ڈھانچا بھی۔ اور ہاں‘ غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved