تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     28-11-2019

کیاکچھ چھپایا جارہا ہے ؟

کیا کوئی ایک شخص‘کسی کمپنی‘ادارے یا ملک کی سکیورٹی کیلئے ناگزیر ہوسکتا ہے؟ بظاہر تو اس دلیل میں کافی وزن ہے ‘تاہم ماضی میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں‘ جن کا اگر ذکر کیا جائے ‘تو لگتا ہے کہ کبھی کبھی کچھ قوانین‘ کچھ شخصیات یا کچھ ادارے ایک خاص وقت کیلئے ناگزیر ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ستمبر1965ء کی جنگ سے پہلے ''آپریشن نصرت‘‘ میں جب پاکستان کی بری فوج چھمب جوڑیاں کراس کرتے ہوئے پونچھ کی جانب بڑھ رہی تھی‘ تو اچانک اس آپریشن کی کمانڈ تبدیل کر دی گئی‘ جس سے کشمیر فتح کرنے کی بجائے پاکستان کو سیالکوٹ اور گوجرانوالہ تک کی جی ٹی روڈ بچانے کے لالے پڑ گئے ۔ میرے جیسا باہر بیٹھا ہوا عام شخص ‘جسے ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی سکیورٹی کے خطرات کے متعلق حساس اور خفیہ اطلاعات کے چھوٹے سے حصے تک بھی رسائی نہیں ہوتی‘ وہ یہ کیسے اندازہ کر سکتا ہے کہ کوئی ایک خاص کمانڈ چھ ماہ کیلئے ہونی چاہیے یا ایک سال کیلئے۔ یہ تو وہی جان سکتے ہیں‘ جو میدان ِکار زار میں موجود ہوتے ہیں۔ اب‘ اگرمیں یا آپ یہ دلیل دیں کہ کمانڈ تبدیل ہونے سے کیا فرق پڑ جا نا تھا ‘تو یہ سمجھ سے با لاتر ہے‘ نیزاگر یہ کہا جائے کہ دوران ِجنگ یا آپریشن کوئی ایک خاص شخص یا کمانڈر ایک وقت کے بعد اہم یا ناگزیر نہیں رہتا‘ تو پھر نپولین کو بھی چند سال بعد گھر چلے جانا چاہیے تھا۔
الغرض اس بات کی تہہ میں کچھ اور ہے ‘جسے نہ جانے کیوں چھپایا جا رہا ہے؟ ایسالگتا ہے کہ کچھ معاملات کے پیچھے وہی سفید سامراج ہے‘ جو مسلم ممالک میں بے چینی کو اپنا مقصد بنائے بیٹھا ہے۔ اب‘ اگر میاں نواز شریف کی صحت کے متعلق متضاد بیانات اور میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لیں‘ تو مکڑی کے جالے کی طرح بے ترتیب قسم کی لکیریں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ سرو سز ہسپتال کے کسی جونیئر ڈاکٹر کے حوالے سے ایک ٹی وی چینل پر دکھائے گئے مبینہ پروگرام کے بعد ایک بار پھرقیاس آرائیاں عروج پر ہیں کہ میاں نواز شریف کی بیماری کی رپورٹس اصلی تھیں یا جعلی؟ سینئر اور اعلیٰ پائے کے ڈاکٹر ز کے چھ رکنی بورڈ نے ‘جن میں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی شامل تھے‘ ان کی جانب سے عدالت ِعالیہ میں جو رپورٹس پیش کی گئیں‘ ان کے مطا بق‘ میاں نواز شریف کی صحت تشویشناک صورت اختیار کر چکی تھی اور ضروری تھا کہ ان کا بروقت اور بہترین علاج کیا جا ئے۔ جب حکومت کی جانب سے پاکستانی ڈاکٹروں سے کہا گیا کہ ہمیں فخر ہے کہ آپ دنیا کے بہترین ڈاکٹر ہیں‘ اس لئے آپ سب مل کر فوری طور پر میاں نواز شریف کا علاج شروع کر دیں‘ تو ان تمام ڈاکٹرز کی جانب سے یہ تاویل پیش کی گئی کہ ہم میاں نواز شریف کے ٹیسٹوں کی رپورٹس آنے کے بعد علاج نہیں کریں گے‘ کیونکہ ہم کوئی رسک نہیں لے سکتے ‘کیونکہ اگر خدا نخواستہ ہم سے کچھ غلط ہو گیا تو عمر بھر کیلئے ہماری زندگیاں تباہ ہو کر رہ جائیں گی‘ اس لئے ہماری کوشش یہی ہو گی کہ جلد از جلد میاں نواز شریف کے علاج کی ذمہ داری سے اس طرح علیحدہ ہو جائیں کہ انہیں ملک سے باہر بھیج دیا جائے اور ہماری سفارشات بھی یہی ہیں ‘کیونکہ ہم اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیاں دائو پر نہیں لگانا چاہتے۔
ادھر وزیر اعظم عمران خان نے بائیس نومبر کو میانوالی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ان کے سامنے میاںنواز شریف کی میڈیکل رپورٹس آئیں تو یہ انتہائی قابل تشویش تھیں اور میرے لئے ممکن نہیں تھا کہ کسی ایسے شخص کے فوری اور من پسند ڈاکٹروں سے علاج کروانے کی بجائے ‘ان پر پابندیاں عائد کر دی جائیں ‘ اس لئے ان کے با ہر جانے پر پابندی اٹھا لی‘ لیکن جیسے ہی وہ لندن پہنچتے ہیں تو ان کی ہشاش بشاش شکل اور سخت سردی میں مختلف شاپنگ سینٹرز میں چلتے ‘پھرتے اور گھومتے ہوئے تصاویر دیکھ کر میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ یہ سب کچھ کیا ہے؟نیز تہہ در تہہ کچھ ایسے بیانات اور میڈیا رپورٹس کی میاں نواز شریف کی صحت کے متعلق بھر مار ہوتی رہی‘ جس سے شکوک و شبہات نے سر اٹھانا شروع کر دیا‘ ورنہ کسی کی بیماری پر سیا ست کرنا اخلاقی طور پر درست نہیں ‘لیکن جب ڈاکٹروں کے بورڈ کی جانب سے تکرار شروع ہو گئی کہ ان کے جینیٹک ٹیسٹ کروانا ضروری ہیں اوربد قسمتی سے یہ ٹیسٹ پاکستان میں دستیاب نہیں‘ بلکہ لندن سے ہی ہو سکیں گے۔
اب‘ یہاں پر معاملات کچھ اس قدر مشکوک ہو جاتے ہیں‘ جن سے لگتا ہے کہ شاید کچھ سرکاری لوگ بھی اس گیم کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔ جو معلومات میرے سامنے ہیں ‘ان کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد کو خبر ہی نہ ہو کہ اگست سے اکتوبر تک کنگ ایڈورڈ ہسپتال لاہور میں پانچ سے زائد جینیٹک ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔ لاہور کے چلڈرن ہسپتال کی ایک نامور ڈاکٹر پروفیسر ہما ارشد چیمہ پاکستان میں موجود ہیں‘ جنہیں بین الاقوامی طور پر جینیٹک ٹیسٹ میں ریسرچ کرنے پرانٹرنیشنل لائیو اچیو منٹ ایورڈ سے بھی نوازا جا چکا اور وہ میاں نواز شریف کے جینیٹک ٹیسٹ کر سکتی تھیں۔ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد‘ اگر چاہیں تو اس بات کے ثبوت ان کی خدمت میں کسی بھی وقت پیش کر دیئے جائیں گے‘ لیکن اگر وہ بضد ہیں کہ ان کے سامنے میاں نواز شریف کی بیماری کے جو ٹیسٹ رکھے گئے‘ وہ درست تھے تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ کسی ماہر پیتھالوجسٹ کی خدمات حاصل کرتے ہوئے اس بابت تصدیق کروا لی جائیں‘ جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو کر سب کے سامنے آ جائے گا اور اس طرح سب قیاس آرائیاں دم توڑ جائیں گی‘ یعنی ماہر پیتھالوجسٹ ‘میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ میں دیئے گئے خون کا ٹیسٹ کرتے ہوئے اصلی اور نقلی کا فرق سمجھا سکتے ہیں‘لیکن اگرماہر پیتھالوجسٹ کے پاس یہ مواد نہیں بھیجا جاتا‘ تو پھر سمجھا جائے گا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔
دریں اثناامریکن ڈپلومیٹ ایلس ویلز نے پاکستان کی سیا ست میں ابھرتے ہوئے اتار چڑھائو کے پس منظر میں سی پیک کے متعلق جو رائے زنی کی ہے‘ وہ کسی آنے والے سیا سی خطرے کی خبر دے رہی ہے۔ مجھے خوف آنے لگا ہے کہ راحیل شریف کا وہ بیان ‘وہ گارنٹی‘ جو انہوں نے بحیثیت ِآرمی چیف دیتے ہوئے دی تھی کہ سی پیک کیلئے سکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کے اقدام سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور ہم اس بات کی گارنٹی دے رہی ہیں کہ وہ سی پیک کے خلاف تمام سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے اسے ہر حال میں مکمل کروائے گے۔میاں نواز شریف نے سی پیک کا شور تو بہت مچائے رکھا ‘لیکن بات سوائے سڑکیں بنانے سے کچھ آگے نہ بڑھنے دی ؛حتیٰ کہ لاہور کی میٹرو ٹرین کو بھی سی پیک کیلئے مخصوص فنڈز میں جھونک دیا۔اب‘پاکستان تحریک انصاف کے سینٹرل انفارمیشن سیکرٹری احمد جواد نے ایلس ویلز کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے ان سے سوال کیا ہے کہ آپ کی ہیومن رائٹس پر پریشانی اس وقت کہاں چلی جاتی ہے‘ جب اسرائیل کے بعد دنیا کے دوسرا بڑا فاشسٹ نر یندر مودی مقبوضہ کشمیر میں116 دن تک80 لاکھ سے زائد انسانوں کو محصور کرنے کیلئے مسلسل کرفیو نافذ کرتا ہے۔ احمد جواد نے کہا کہ اس وقت ایلس ویلز کیوں نہیں بولتیں‘ جب پانچ سے پندرہ برس کی عمر کے کشمیری بچوں اور لڑکوں کو بھارتی فوج پیلٹ گنوں سے ان کے چہروں کے ڈائریکٹ نشانے لے کر انہیں عمر بھر کیلئے اندھا کر رہی ہوتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved