تحریر : سعدیہ قریشی تاریخ اشاعت     16-05-2013

پاکستان کی جیت

بالآخر ملک میں عام انتخابات کا کٹھن مرحلہ بھی طے ہوا۔ دہشت گردی‘ بم دھماکوں کے سائے میں ہونے والا یہ الیکشن کئی حوالوں سے پاکستان کی تاریخ میں یاد رہے گا‘ اس لیے اسے کئی زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پچھلے انتخابات کے برعکس یہ الیکشن محض کسی ایک سیاسی پارٹی کی جیت اور دوسری سیاسی پارٹی کی ہار کے سطحی نتیجے سے بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے تو اس الیکشن کے ہر زاویے سے جیت ہی کا منظر نظر آتا ہے یہاں تک کہ پچھلے پانچ برس تک حکمرانی کرنے والی پیپلز پارٹی کی بدترین شکست بھی عوام کی جیت کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔ جیسے کوزہ گر کے چاک پر مٹی کا ایک بے ڈھب سا ڈھیلا گھومتے ہوئے چاک پر ایک خوشنما صراحی میں ڈھل جاتا ہے‘ بالکل اُسی طرح عوام بھی پانچ برس تک مہنگائی‘ بدامنی اور زوال پذیر حالات کے چاک پر پڑے رہے‘ مگر آفرین ہے عوام پر کہ مایوس ہونے کی بجائے‘ حالات کی ستم ظریفی نے افتادگان خاک کو ایک ایسی قوم کی شکل میں ڈھال دیا جسے سیاسی شعور ہے‘ جو جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور جو اپنے ووٹ کو امانت سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلقِ خدا نے دیکھا کہ وہ تو آئے روز کے دھماکوں میں اپنے پیاروں کو کھو رہے ہیں جبکہ تخت و تاج پر براجمان حکمران‘ اپنے شاہی محلات کی دیواروں کو اور اونچا کر کے اپنی سکیورٹی بڑھا لیتے ہیں۔ پانچ برس پہلے ووٹ کی طاقت سے انہوں نے جو حکمران چنے‘ وہ عوامی تکلیفوں سے غافل بے حسی کا ثبوت دیتے رہے۔ سو‘ پیپلز پارٹی کے ووٹرز نے اپنی وفائوں کے بدلے میں بے وفائی کرنے والوں سے جس طرح انتقام لیا وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ سیاست کے مائونٹ ایورسٹ مٹی ہو کر رہ گئے۔ بڑے بڑے برج الٹا دیئے گئے۔ پیپلز پارٹی کا وہ جیالا جو بھٹو کے نام پر دیوانہ وار رقص کرتا تھا‘ جو بھٹوز اور پیپلز پارٹی کی محبت سے سرشار تھا‘ یک لخت حرفِ محبت سے کیسے مُکر گیا۔ پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتائوں کو اس ہزیمت کے پہلوئوں پر غور کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کا ووٹر الیکشن کے روز شاید یہی سوچ کر گھر سے نکلا ہو: وہ چل دیا ہے بجھا کر چراغِ رسمِ وفا ہمیں بھی حرفِ محبت سے اب مکرنا ہے! الیکشن 2013ء کا ایک اور ناقابل فراموش پہلو عمران خان اور تحریک انصاف کی قوت ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی عوام سیاست اور سیاستدانوں سے خائف ہو چکے تھے‘ امید کے چراغوں کو حکمرانوں کی بے حسی نے بجھا دیا تھا؛ قابل‘ ذہین‘ تعلیم یافتہ‘ باشعور نوجوانوں کی صورت میں‘ ملک میں افرادی قوت کا ایک سیلاب موجود تھا مگر یہ نوجوان سیاسی حالات سے بُری طرح بد دل تھے اور ان میں فرسٹریشن بڑھ چکی تھی‘ ایسے میں عمران خان کی صورت میں نوجوانوں کو ایک نئی سوچ اور نئی امنگ سے لبریز سیاسی رہنما نظر آیا۔ عمران خان کی موجودگی نے حبس کے ماحول میں تازہ ہوا کی کھڑی کھول دی اور حبس کے موسم میں اس تازہ ہوا کو صرف نوجوان ہی نہیں‘ پختہ عمر کے لوگ بھی خوش آئند سمجھنے لگے۔ یوں آنے والے موسموں کے لیے پھر سے نا امیدی اور بجھتے ہوئے دلوں میں خوش امیدی کی فصل بونے والا عمران خان قابلِ تحسین ہے جس نے 17 برس تک کسی قسم کی ’’مددگار چھتری‘‘ کے بغیر خارزارِ سیاست میں قدم جمائے رکھے۔ اس کی آواز تب بھی شہر خامشی میں گونجتی تھی جب یہاں مفاہمت اور فرینڈلی اپوزیشن کی مصلحت کا راج تھا۔ ہم پاکستانی قوم ان کی شکر گزار ہے کہ اُن کی مستقل مزاجی اور مخالف ہوائوں میں ڈٹے رہنے کی صلاحیت نے اس قوم کو ایک نیا رہنما دیا۔ عمران کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک رہنما کا دل اور ظرف بڑا ہوتا ہے اور آنے والے دنوں میں انہیں اس کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ جذباتیت اور کھرا پن اپنی جگہ مگر بعض اوقات اس سے معاملات سنبھلنے کی بجائے بگڑ جاتے ہیں۔ انہیں رویّے میں گنجائش اور جمہوری طرزِ فکر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بہرحال اس الیکشن کا سب سے خوبصورت پہلو تحریک انصاف کا مضبوط سیاسی قوت بن کر ابھرنا ہے۔ الیکشن 2013ء کا ایک زاویہ یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) ملک بھر سے ایک بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ ایک سیاسی جماعت کی یہ شاندار کامیابی‘ پاکستان کے حق میں ہے کیونکہ اس طرح سے وہ مضبوط حکومت بنانے کے قابل ہوں گے‘ حکومت سازی کے لیے اتحادیوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یوں وہ اتحادی کی مفادپرستانہ بلیک میلنگ سے محفوظ رہیں گے۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان کی عیادت ہسپتال جا کر کی اور خوشی کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی توقع سے کم کامیابی پر افسردہ خاطر کپتان نے بھی خوش دلی سے کامیاب ہونے والی جماعت کے سربراہ میاں نوازشریف کو خوش آمدید کہا۔ الیکشن 2013ء دراصل عوام کی جیت ہے۔ اس بار ووٹرز کا ٹرن آئوٹ تمام تر دہشت گردی اور خوف کی فضا کے باوجود زیادہ رہا۔ لوگوں نے ثابت کیا کہ وہ بہادر‘ زندہ دل اور سیاسی شعور رکھنے والی قوم ہیں۔ الیکشن مہم کے دوران جس طرح سے دہشت گردوں نے پے در پے کارروائیاں کر کے انتخابی ماحول کو لہولہان کر دیا تھا‘ لگتا یہی تھا کہ اس بار ووٹر گھر سے نکلنے سے خوف زدہ ہوگا کیونکہ دہشت گردوں کے ایجنڈے پر یہ بھی تھا کہ ووٹروں کو خوف زدہ کر کے گھروں تک محدود کر دیا جائے۔ یوں انتخابات کے عمل کو سبوتاژ کیا جائے مگر سلام ہے بہادر پاکستانیوں پر جنہوں نے استقلال کا مظاہرہ کیا۔ ووٹ کی امانت کا صحیح استعمال کیا اور سچ تو یہ ہے کہ سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر‘ ہر شخص نے پاکستان کو ووٹ دیا اور پاکستان کی جیت کو یقینی بنایا…! پاکستانیوں نے ثابت کردیا کہ ہم زندہ قوم ہیں… پائندہ قوم ہیں ہم سب کی ہے پہچان… پاکستان پاکستان پاکستان کی جیت ہم سب کو مبارک ہو!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved