تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     10-12-2019

سرخیاں‘متن‘ درستی اور عامرؔ سہیل کی تازہ غزل

حکمرانوں کی گردن سے سریا نکال دیا ہے: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''حکمرانوں کی گردن سے سریا نکال دیا ہے‘ کشتی ڈوبنے والی ہے‘‘ اور یہی سریا‘ پہلے شریفوں کی گردنوں میں تھا‘ اس لئے کافی زنگ آلود اور کمزور ہو گیا تھا‘ اس لئے اچھی طرح عمل نہیں کر رہا اور حکمرانوں کی گردن پہلے سے بھی زیادہ اکڑی ہے اور جہاں تک کشتی کا تعلق ہے‘ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ یہ ڈوبنے والی کشتی حکومت کی نہیں‘ بلکہ میری اپنی ہے‘ جو میرے بوجھ سے ہی ڈوب رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ساتھ ہی مجھے بھی لے ڈوبے گی‘ بلکہ میرے ساتھ یہ ہزاروں طلبا کو بھی‘ جو اب ‘سینکڑوں ہی کی تعداد میں رہ گئے ہیں اور اب‘ انہیں جان کے لالے بھی پڑے ہوئے ہیں ‘جبکہ موجودہ حکومت بھی بہت بزدل نکلی ہے۔ آپ اگلے روز پشاور میں پرچم کشائی کے بعد اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔
حکومتی گٹھ جوڑ کی حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے: شہباز شریف
سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''حکومتی گٹھ جوڑ کی حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے‘‘ ورنہ نئے کیسوں کا انکشاف اکیلے حکومت کے بس کا روگ نہیں تھا‘ کیونکہ اس پیسے کو بینکوں اور اشخاص میں اس قدر گھمایا پھرایا گیا تھا کہ خود ہماری سمجھ میں کچھ نہ آ رہا تھا اور اوپر سے اکٹھے اٹھارہ سوال مجھ سے پوچھ لئے گئے ہیں‘ جبکہ یہ بھی محض تکلف ہی کیا گیا ہے‘ کیونکہ ہر چیز تو دستاویزی طور پر ثابت ہو چکی اور یہ سب کچھ اس سازش کے تحت کیا گیا ہے کہ میں واپس ہی نہ آ سکوں اور اب‘ مریم نواز بھی آ جاتی ہیں‘ تو یہاں ہمارا کورم پورا ہو جائے گا‘ جبکہ بھائی صاحب کے حوالے سے ڈاکٹروں کا خیال یہ ہے کہ ہ پندرہ بیس سال تک ٹھیک نہیں ہو سکتے اور میری کمر درد کا یہ عالم ہے کہ یہ باقاعدہ چُک میں تبدیل ہو گیا ہے ‘جبکہ یہاں تو کبُے کو لات مارنے کی بھی گنجائش نہیں ہے‘ کیونکہ سبھی اپنے ہیں اور اسے گستاخی سمجھتے ہیں۔ آپ اگلے روز لندن میں عابد شیر علی سے گفتگو کر رہے تھے۔
حکمران خود اپنے لئے قبریں کھودنے میں لگے ہیں: سراج الحق
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ''حکمران خود اپنے لئے قبریں کھودنے میں لگے ہوئے ہیں‘‘ حالانکہ یہ کام وہ گورکنوں سے بھی کروا سکتے تھے اور اس طرح انہوں نے گورکھوں کی روزی پر بھی لات ماری ہے‘ جنہوں نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں ٹائر جلا کر بند کر دی ہیں اور ہمیں بتایا ہے کہ سڑکیں اس طرح بند کی جاتی ہیں اور مولاناصاحب‘ ان سے خطاب بھی کرنے لگے ہیں اور استعفے کا مطالبہ چھوڑ کر اب‘ وہ مہنگائی اور بیروزگاری کا رونا روتے نظر آ رہے ہیں‘ جس کی اصل وجہ ان کی اپنی بے روزگاری ہے؛ حالانکہ آج کل میں جو حکومت کے خلاف تابڑ توڑ بیانات دے رہا ہوں‘ ان کیلئے وہی کافی ہونا چاہئیں ۔ آپ اگلے روز مانسہرہ میں کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔
درستی
ایک موقر روزنامے کے نامور کالم نویس نے آج اپنے کالم میں بلوچ شاعر عمران ثاقبؔ کے دو شعر نقل کیے ہیں ؎
ہجوم اک منتشر ریوڑ کی طرح چل رہا ہے
کہ ان میں سمت کا جو سوچتا ہے لاپتا ہے
جہل بازار میں سب جھوٹ کے گاہک ہیں ثاقبؔ
جو اس ماحول میں سچ بولتا ہے لاپتا ہے
پہلے شعر کے پہلے مصرع میں لفظ ''طرح‘‘ کو غلط وزن میں باندھا گیا ہے‘ جبکہ اس کی جگہ لفظ ''صورت‘‘ ہوتا تو وزن ٹھیک رہتا۔دوسرے شعر کا پہلا لفظ ''جہل‘‘ بھی غلط وزن میں باندھا گیا ہے‘ کیونکہ ''جہل‘‘ پر زبر نہیں اور یہ ''فعل‘‘ کے وزن پر ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ غلطیاں خود شاعر کی ہیں‘ کالم نویس کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ شاعر کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے‘ کیونکہ موزوں ہونا شعر کی پہلی سیڑھی ہے اور اگر پہلی اینٹ ہی درست نہ رکھی جائے‘ تو ساری دیوار ہی ٹیڑھی ہو جائے گی۔
اور‘ اب آخر میں عامر ؔسہیل کی یہ تازہ غزل:
جی کے آزار سے گزر جائیں
پیار ایسے کریں کہ مر جائیں
اس اُداسی میں‘ بدحواسی میں
لمس پہنیں ترا‘ سنور جائیں
دیکھنے کے لئے ترستے رہیں
راہ چلتی ملو تو ڈر جائیں
ہم ارادہ کریں محبت کا
اور پھر پوچھیں اب کدھر جائیں؟
تم ہمیں بے وفا کہے جاؤ
ہم کہ الزام سے مُکر جائیں
بجھ گئیں موم بتیاں گھر کی
اب تری روشنی سے بھر جائیں
دل دکھاؤ کہاں کی حُور ہو تم
شاید اس درد سے نکھر جائیں
ڈوبتے جائیں تیری آنکھوں میں
سارے تعویذ بے اثر جائیں
عمر بجھنے کا کیا پتا عامرؔ
کب کسی کو اُداس کر جائیں
آج کا مقطع
کوئی پہلے کرامات ہو جو‘ ظفرؔ
اس زمیں کوذرا آسمانی کریں

 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved