تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     20-12-2019

ہوشیار کہ گر جائیں ‘نہ قلعوں کی فصیلیں

''ٹائمز آف انڈیا‘‘ نے (بدھ) اٹھارہ دسمبر کو جنرل بپن راوت کے حوالے سے اپنی رپورٹ شائع کی ہے کہ لائن آف کنٹرول(ایل او سی) پر کسی بھی وقت صورت حال خراب ہو سکتی ہے۔اس بابت جنرل راوت نے کہاہے:
Situation along LoC can escalate any time.
جبکہ دوسری جانب وطن ِعزیز میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 8 1دسمبر کا دن افواج پاکستان کی مایہ ناز فورس'' سپیشل سروسز گروپ‘‘ کے افسروں اور جوانوں کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے باتیں کرتے ہوئے گزارا۔ انہوں نے چراٹ ہیڈ کوارٹر میں روح کی گہرائیوں میں اتر جانیو الے ''من جانبازم‘‘ کے مورال کو غیروں کی سازشوں سے مرتعش ہونے سے بچانے کیلئے انہیں ایک نیا ولولہ دیا ۔انہوں نے دکھ سے اترے ہوئے اور غصے سے کپکپاتے ہوئے چہروں کو پیار اور محبت سے تھپکیاں دیتے ہوئے اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھایا۔انہوں نے چراٹ کی سر بلند چوٹیوں پر بنے ہوئے ایس ایس جی ہیڈ کوارٹر میںدفاع وطن کیلئے پاکستان کے اندر اور دشمن کی سر زمین میںگھس کر سر بکف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے جوانوں اور افسروں کی تصویروں اور یادگاروں کو تعظیمی سلیوٹ کرتے ہوئے وطن کیخلاف سازشوں کا حصہ بننے والے ہر فرد کو بتا دیا کہ قوم اور افواج پاکستان اپنے وطن کی سالمیت کیلئے سر کٹوانے والوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
دشمن شاید جانتا ہے کہ پاکستان کی ایس ایس جی فورس کے افسر اور جوان لائن آف کنٹرول پر اس کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی جارحانہ کارروائی پر جوابی کارروائی کرنے کیلئے تیارہیں اور اس نے بھارت کے کمانڈوز کے مورال پر اس طرح وار کیا کہ ایک لمحے کیلئے انہیں اپنی کارروائی پر کبھی شرمندگی تو کبھی غصہ آنا شروع ہو گیا۔ غالباً 2002ء کی بات ہے کہ اپنے ایک قابل قدردوست ‘جو پشاور میں رہا کرتے تھے‘ سے ملنے کیلئے نوشہرہ سے پشاور جاتے ہوئے میں نے بائیں ہاتھ پر سڑک کنارے ایک چھوٹا سا بورڈ دیکھا‘جس پرThe Few, The Proudلکھا ہوتا تھا ‘لیکن کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ کن کیلئے ہے اور اس کا کیا مطلب ہے؟تاہم اس پر بنے ہوئے نشان سے یہ ضرور پتا چل گیا کہ یہ بورڈ فوج سے متعلق ہے‘ لیکن اس بورڈ پر لکھی گئی عبارت کا ذاتی مشاہدہ اور عملی نظارہ2005 ء میں اس وقت ممکن ہوا‘ جب ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی ایک ٹیم کے ساتھ ایس ایس جی ہیڈ کوارٹر چراٹ جانے کا اتفاق ہوا اور جب ہم سڑک کنارے لگائے گئے‘ اسی بورڈ کی سمت چلتے ہوئے چراٹ کی بلند چوٹیوں تک پہنچے ‘توThe Few, The Proudکے الفاظ کی حقیقت اورپاکستان کی ایس ایس جی فورس کی ہمت اور بے خوفی کا عملی مظاہرہ دیکھنا اس طرح نصیب ہوا کہ20 گز کے فاصلے سے ایک کمانڈو ہاتھ میں پستول لئے سامنے کھڑے کمانڈو کے سر پر رکھے ہوئے ایک سیب جتنے نشانے کو ہٹ کرتا ہے تو نہ تو فائر کرنے والا خوف کا شکار ہوا‘ا ور نہ ہی جس کے سر پرر کھے سیب کا نشانہ لیا جا رہا تھا ‘وہ کسی خوف کا شکار نظر آیا۔
الغرض پاکستان کی ایس ایس جی فورس کے جوانوں کو مذکورہ بالا قسم کی سخت ترین اور خوفناک تربیت حاصل کرتے دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ کوئی گوشت پوست کے انسان ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل ہارون اسلام‘ کیپٹن سلمان‘ حوالدار خان محمد‘ نائیک افراسیاب‘ نائیک صدیق جیسے سینکڑوں جانباز دشمن کی سلگائی اور بھڑکائی ہوئی آگ بجھانے کیلئے میدان ِکار زار میں جب جب کودے ‘ تو انہیں اپنی مائیں اور بچے یاد آئے توہوں گے‘ یعنی جب کیپٹن بلال ظفر چوہدری‘ کیپٹن عمران‘ میجر عابد مجید اور لیفٹیننٹ عاطف قیوم ‘ لیفٹیننٹ علی شہید سوات کے ''آپریشن راہ ِراست ‘‘کے سفر میں موت کی وادیوں میں اترے ہوں گے‘ تو ان کے سامنے دنیا کی ہنستی مسکراتی اور تمام سہولتوں سے بھر پور پرکشش زندگی آئی ہو گی‘ لیکن وہ عہد جو وہ کاکول‘ مردان اور پھر چراٹ میں خاکی وردی پہنے‘ سبز ہلالی پرچم کے سائے تلے‘ اپنے اﷲ کو گواہ بناتے ہوئے کر کے آئے تھے‘ وہ عہد انہیں دنیا کی ہر قسم کی رنگینی سے بے نیاز کر تا چلا گیا۔یوں اﷲ کو گواہ بنا کر پاکستان کی عزت وحرمت پر مر مٹنے کی قسم ‘ انہیں دنیا کے ہر رشتے سے آزاد کر دیتی ہے۔ اس وقت ان کے دلوں میں فقط اﷲ کی عظمت و کبریائی کی روشنی رہنمائی کر تی ہے ۔ جب آپ چراٹ چھائونی کی حدود میں داخل ہوں تو چار ہزار فٹ سے زائد بلندی پر قائم پر شکوہ مسجد کے مینار آسمانوں کی بلندیوں کی طرف اٹھتے نظر آتے ہیں اور یہی چراٹ کا وہ ہیڈ کوارٹر ہے‘ جس کے سائے میں یہاں تربیت پانے والے جانباز ہر وقت اﷲ کی وحدانیت کے آگے سر جھکا ئے رہتے ہیں۔چراٹ چھائونی کی حدود میں ہر طرف ''اﷲ ہو‘ اﷲ ہو ‘‘کی سرسراہٹ جسموں میں سرایت کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وہ سرسراہٹ ہے‘ جو حوالدار زرک خان اور محمد رفیق جیسے ہزاروں جانبازوں کو نمرود کی بچھائی ہوئی آگ سے بے نیاز کر دیتی ہے۔
اے ہم وطنو... کبھی تصور میں جیتے جاگتے انسان کو ذبح ہوتے دیکھاہے ؟کبھی گردن پر چلنے والی چھری کا احساس ہوا ہے ؟نہیں ہوا ہو گا۔ ایک ہلکی سوئی کو اپنی انگلی میں چبھو کر دیکھو‘اپنی انگلی پر بلیڈ کی دھار کو ہلکا سا دبا کر دیکھو‘تمہیں احساس ہوجائے گاکہ بھارت کے تنخواہ داروں نے کس طرح لا الہ الا اﷲ کا ورد کرنے والے مسلمان ذبح کیے ۔ اس وقت ان پر کیا بیتی ہو گی‘ ان کی کیا حالت ہوئی ہو گی؟؎ 
وہ جان کنی کا سماں لا الہ الا اﷲ
شہیدوں کی وہ اذاں لا الہ الا اﷲ
ہم سب پاکستانیوں کو دشمن کی ہائبرڈ وار کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کی حفاظت کیلئے صبح و شام دشمن سے لڑنے والے اپنے تمام شہیدوں اور غازیوں کا ساتھ دینا ہو گا۔ افواج پاکستان کو بد نام کرنے وا لوںکا مقابلہ کرنا ہو گا۔''آپریشن راہ ِراست‘‘ میں جو سجدہ شبیری کی پیروی کرتے ہوئے وطن دشمنوں کے ہاتھوں ذبح ہوئے ‘مجھے قسم ہے ‘ان کے لہو کے ایک ایک بوند کی کہ '' شہادت ان کی میراث ہے‘‘ ان سے کوئی شکوہ نہیں ‘جو ہماری فوج سے خدا واسطے کا بیر رکھتے ہیں‘ سالہا سال ان کی تحریریں اور زبا نیں اپنے قومی اداروں کی کردار کشی میں مصروف رہتی ہیں‘ وہ پاکستان اور پاکستانیوں کے دوست کیسے ہو سکتے ہیں؟ جن کی دوستی ان کے مقابلے میں بے تحاشا اسلحہ تھامے ہوئے بھارتی فوج کے ساتھ ہو۔ ارض پاک کے پاک شہیدو...آپ کے بارے میں جس نے جو بھی کہا‘ اسے بھول جائو! تم شہید ہو ‘کیونکہ تم نے لا الہ کے نام پر بننے والے ملک کی حفاظت کی قسم کھائی ہے ۔تم شہید ہو ‘کیونکہ تم مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی خاطر بھارتی قابض افواج سے نبرد آزما ہو۔ تم شہید ہو‘ کیونکہ تم پاکستان کی ایک ایک مسجد کے نگہبان ہو۔ تم شہید ہو‘ کیونکہ تم ''نعرہ تکبیر: اﷲ اکبر ‘‘کی اذان ہو ...میری جان سے پیاری سپاہ وطن دشمن کی ففتھ جنریشن وار کا حصہ بننے والوں کے ہر قسم کے زہریلے پروپیگنڈے سے محتاط رہنا‘ہوشیار رہنا اور وطن کی حفاظت کیلئے اپنے اٹھنے والے قدم اسی طرح بڑھائے رکھنا ‘ کیونکہ ہوشیار کہ گرِ جائیں نہ قلعوں کی فصیلیں۔۔۔۔۔ عقابوں کے نشیمن پر قابض نہ ہوں چیلیں... لٹ جائیں ‘نہ کوثر و زم زم کی سبیلیں۔۔۔۔۔ چھن جائیں ‘نہ دریا تیرے چشمے تیری جھیلیں!!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved