تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     23-12-2019

’’احتجاجستان‘‘

چارماہ سے زائد مدت گزری ہے کہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اُسے بھارت کا باضابطہ حصہ بنانے کا اعلان کیا گیا۔ اس پر بھارت میں کچھ خاص ہنگامہ برپا نہیں ہوا۔ مقبوضہ وادی کو ہر اعتبار سے لاک ڈاؤن کردیا گیا۔ پورے خطے کی کیفیت ایسی کردی گئی ‘گویا 80 لاکھ سے بھی زائد آبادی ہوتے ہوئے بھی وہاں کوئی نہ رہتا ہو! مودی سرکار نے اپنی مرضی کے مطابق ‘عمل کیا اور بین الاقوامی معاہدوں کی دھجیاں بکھیر دیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنانے کی خواہش پر عمل کرنے کی دُھن نریندر مودی کے ذہن پر ایسی سوار ہوئی کہ وہ بہت سی زمینی حقیقتوں کو یکسر نظر انداز کرنے پر تُل گئے۔ سالِ رواں کے اوائل میں مغربی بنگال‘ آسام‘ منی پور‘ تری پورہ اور دیگر شمال مشرقی ریاستوں کے حوالے سے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کا غلغلہ بلند ہوا۔ شہریت کا جواز فراہم کرنے والے شواہد کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مودی سرکار کا یہ وار زیادہ کارگر ثابت نہ ہوسکا۔ لاکھوں مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دینے کی کوشش تو خیر کیا کامیاب ہونی تھی‘ لاکھوں بنگالی ہندو بھی شہریت سے محروم ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے! این آر سی کے ذریعے‘ جن خرابیوں کو پھیلانے کی کوشش کی جارہی تھی ‘اُنہیں قبول کرنے سے متعدد ریاستوں نے صاف انکار کردیا۔ 
این آر سی کے تجربے کو توسیع دینے کی خاطر شہریت کا ترمیمی بل لانے کا عندیہ دیا گیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا کہ شہریت کا ترمیمی بل (CAB) متعارف کرایا جائے گا‘ جس کے تحت پاکستان‘ بنگلہ دیش اور افغانستان میں مشکل حالات کا سامنا کرنے والے ہندو‘ جین‘ سکھ‘ بدھسٹ‘ مسیحی اور پارسی بھارت کی شہریت حاصل کرسکیں گے۔ شہریت کے ترمیمی بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوان (لوک سبھا اور راجیہ سبھا) منظور کرچکے ہیں۔ نریندر مودی نے اسے اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ یہ کامیابی کتنی بڑی ہے؟ اس کا اندازہ آج پورے بھارت میں برپا ہنگامہ آرائی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ شہریت کے ترمیمی بل کی منظوری نے شمال مشرقی ریاستوں کے علاوہ آندھرا پردیش‘ تلنگانا اور مغربی بنگال میں بھی شدید احتجاجی لہر کو جنم دیا ہے۔ ویسے تو خیر پورے بھارت میں اس وقت احتجاج کا موسم چل رہا ہے‘ تاہم مشرقی اور شمال مشرقی ریاستیں زیادہ نمایاں ہیں۔ آسام اور دیگر شمال مشرقی ریاستیں اِس متنازع قانون کو تسلیم کرنے سے انکار کرچکی ہیں۔ 
مغربی بنگال کی وزیر اعلٰی ممتا بینرجی نے 16 دسمبر کو کولکتہ میں ایک ریلی کی قیادت کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ قانون صرف میری لاش سے گزر کر ہی نافذ کیا جاسکتا ہے۔ 16 دسمبر کو ملک بھر میں احتجاجی لہر نے زور پکڑ لیا۔ نئی دہلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کیخلاف پولیس نے جو بہیمانہ انداز کی کارروائی کی تھی‘ اُس کے ردعمل میں ملک بھر کی جامعات کے طلبا و طالبات سڑکوں پر آگئے۔ نئی دہلی کے بیشتر علاقے میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتے دکھائی دیئے۔ جامعہ ملیہ یونیورسٹی کی وائس چانسلر نجمہ اختر بھی ڈٹ کر میدان میں آگئی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ پولیس نے جو غیر انسانی سلوک طلبا و طالبات سے روا رکھا‘ اُس کیخلاف چلائی جانے والی تحریک میں وہ طلبا و طالبات کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اور پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔ گجرات کے مسلمان بھی شہریت کے متنازع قانون کے خلاف میدان میں آگئے ہیں۔ خواتین نے احتجاج میں مردوں کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ بہت سی خواتین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ 
مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمان ایک زمانے سے دل دہلا دینے والے مصائب اور انسانیت سوز جرائم کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ اُن کے حق میں آواز اٹھانے والے بھارت میں خال خال ہی دکھائی دیئے۔ یہ کسر اب‘ متنازع قانون کے حوالے سے کیے جانے والے احتجاج نے پوری کردی ہے۔ مودی سرکار نے ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام جنم بھومی مندر کی تعمیر سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے 9 نومبر 2019ء کو گھٹنے ٹیکنے والا فیصلہ سناکر مودی سرکار کو فخر سے سینہ پھلاکر مزید بے لباس ہونے کا موقع فراہم کردیا۔ اب‘ تو مودی سرکار نے یہ سمجھ لیا کہ اُسے کوئی روکنے والا نہیں۔ طے کرلیا گیا کہ انتخابی مہم کے دوران جو کچھ بھی منہ سے نکالا گیا ہے ‘اُس پر عمل کرنے سے یکسر گریز نہ کیا جائے۔ حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی مودی سرکار کے گلے کی ہڈی میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ سوال انانیت کا ہے۔ بہت کچھ ایسا ہے‘ جو کسی بھی اعتبار سے بھارت کے مفاد میں نہیں ‘مگر دھڑلے سے کیا جارہا ہے۔ اب‘ یہی دیکھیے کہ شہریت سے متعلق متنازع ترمیمی بل کے حوالے سے مودی سرکار کو بہت سوں نے ہوش سے کام لینے کا مشورہ دیا‘ مگر نریندر مودی نے معاملات وزیر داخلہ امیت شاہ کے ہاتھ میں دے کر وسیع البنیاد خرابی کی راہ ہموار کردی۔ 
بھارت‘ اس وقت معاشی اعتبار سے بہت اچھی اور مضبوط پوزیشن میں ہے۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے نالج ورکرز اور دیگر ہنر مندوں کی کمائی سے بھارتی معیشت کو غیر معمولی استحکام حاصل ہوا ہے۔ بیرونی سرمایہ کار بھی بھارت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں مودی سرکار جو کچھ بھی کر رہی ہے‘ وہ انتہائی حیرت انگیز ہے۔ جب ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو ہی چکا ہے‘ تو حقیقی عمومی خوش حالی یقینی بنانے کی بھی بھرپور کوشش کی جانی چاہیے۔ ایسا لگتا ہے‘ مودی سرکار کو قدرت نے بھارت کی بربادی کا ٹاسک سونپ دیا ہے۔ اچھے خاصے ملک کو داؤ پر لگایا جارہا ہے۔ مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کا عمل تیز کرکے مودی سرکار یہ سمجھ رہی ہے کہ پورے ملک کو اپنی مٹھی میں کرلے گی‘ یعنی ملک بھر کے ہندو اُس کی پسند کا راگ الاپنے لگیں گے۔ فی الحال یہ خواہش پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ ایک اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ ملک بھر کے مسلمانوں میں بیداری کی لہر اٹھی ہے۔ وہ احتجاج کے معاملے میں تساہل کا مظاہرہ کر رہے ہیں نہ خوف کا۔ نئی دہلی میں طلبا و طالبات نے سڑکوں پر آکر ایک درجن سے زائد ریاستوں میں بھرپور احتجاجی لہر پیدا کردی ہے۔ دوسری اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف منظور کیے جانے والے متنازع قانون کے خلاف انصاف پسند ہندو بھی بول رہے ہیں اور ڈٹ کر بول رہے ہیں۔ اس معاملے میں بھی نئی نسل نمایاں ہے۔ نئی نسل نے ملک کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو دیوار سے لگانے کی مودی سرکار کی کوشش کو ناکام بنانے کی بھرپور کوشش شروع کردی ہے۔ 
تیزی سے بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات کی روشنی میں مودی سرکاری کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے ایسی پالیسیاں مرتب کرنے سے گریز کرنا چاہیے ‘جن کے نتیجے میں معاشرہ صرف تقسیم ہوتا ہو۔ نریندر مودی کے پاس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے کئی آپشن ہیں ‘مگر وہ ملک کو تباہی کے گڑھے میں گرانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اُن کی غیر دانش مندانہ اور غیر متوازن پالیسیوں ہی کے نتیجے میں آج بھارت ''احتجاجستان‘‘ بنا ہوا ہے۔ یہی وقت ہے کہ بھارت بڑی کاروباری شخصیات اور دانشور مل کر مودی سرکار پر دباؤ ڈالیں کہ وہ پاکستان‘ بنگلہ دیش اور افغانستان سے نام نہاد مظلوم اقلیتوں کو قبول کرنے کے نام پر بھارت کے مسلمانوں کے دلوں میں شدید نفرت کے بیج نہ بوئیں۔ بھارت بھر کے لبرل اور اعتدال پسند ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کیلئے یہ وقت خاموش بیٹھنے کا نہیں ‘بلکہ اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرنے کا ہے۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved