تحریر : عمار چودھری تاریخ اشاعت     02-01-2020

اہداف کیسے حاصل ہوتے ہیں؟

ہم ہر آنے والے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں‘ اس سے نئی امیدیں بھی لگاتے ہیں اور کچھ نیا اور اچھوتا ہوتا بھی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن عجیب بات ہے کہ ہر دسمبر میں جب سال رخصت ہونے کو آتا ہے تو ہماری بے چینی میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے اور ہم یہ سوچتے ہیں کہ کیا یہ سال بھی پرانے برسوں کی طرح بے ثمر ہی گزر جائے گا۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ آپ کا نیا سال کیسا گزرتا ہے اس بات کا انحصار آپ کے ایک دن یا چوبیس گھنٹوں پر منحصر ہے۔ اگر تو آپ ہر دن میں ہر گھنٹے اور منٹ کا استعمال بہترین انداز میں کرتے ہیں‘ کوئی لمحہ ضائع نہیں جانے دیتے اور ہر ضروری کام کو ٹالنے کی بجائے بروقت نمٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر آپ ایک سال گزرنے کے بعد آپ اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیں گے۔ جس طرح ایک مکان میں ایک اینٹ ایک اکائی کی حیثیت رکھتی ہے‘ اسی طرح ایک سال میں ہر دن کی اپنی اہمیت ہے۔ جس طرح آپ مکان بناتے وقت اچھی اینٹ کا استعمال کرتے ہیں‘ ہر اینٹ کو مناسب انداز میں لگاتے ہیں اور ایک دن انہی اینٹوں پر مکان کھڑا کر لیتے ہیں‘ اسی طرح اگر آپ ہر دن کو اچھی طرح پالش کریں گے‘ اپنی تعلیم‘ صحت‘ نوکری‘ کاروبار‘ مذہب‘ فیملی اور اپنی ذات پر برابر توجہ دیں گے تو نہ صرف آپ درست ٹریک پر چل پڑیں گے بلکہ زندگی کے من پسند شعبوں میں بے پناہ ترقی بھی کر لیں گے۔ اب مگر یہ باتیں سمجھنا اور سمجھانا مشکل ہو چکا ہے۔ ایسی ایسی عجیب حرکات ہو رہی ہیں کہ خوف آتا ہے‘ یہ قوم جا کس طرف رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں برگر کم از کم وقت میں ختم کرنے کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ یہ جانوروں سی حرکتیں کرکے ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ برگر کھانا ویسے ہی صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔ چلیں آپ جیسے تیسے کھاتے ہیں لیکن اسے منہ کے ذریعے معدے میں ٹھونسنے کا انجام کیا ہو گا‘ یہ تب معلوم ہوتا ہے جب انسان فوڈ پوائزننگ کی وجہ سے ہسپتال جا پہنچتا ہے۔ کہیں دیکھیں تو جگتوں کا مقابلہ ہو رہا ہے اور اس میں مخالف کی شکل و صورت کے حوالے سے تضحیک کی جا رہی ہے اور لوگ قہقہے لگا رہے ہیں۔ قرآن مجید میں دوسروں کو غلط القابات سے پکارنے سے منع کیا گیا ہے لیکن کوئی پروا کرنے کو تیار نہیں۔ پرینک کے نام پر ایک ایسی انڈسٹری وجود میں آچکی ہے جو کسی بھی وقت کہیں بھی آپ کے ساتھ سنگین مذاق کر سکتی ہے۔ پہلے اس طرح کے مذاق صرف یکم اپریل کو اپریل فول کے طور پر کیے جاتے تھے۔ وہ بھی انسانی تضحیک کی ناجائز ترین قسم تھی‘ لیکن اب تو بات حد سے آگے بڑھ گئی ہے۔ آپ اپنی فیملی کے ساتھ کسی پارک‘ کسی شاپنگ مال اور کسی پبلک مقام پر محفوظ نہیں۔ خفیہ کیمروں سے ویڈیوز بن رہی ہوتی ہیں۔ بھیس بدل کر کوئی آپ کے پاس آئے گا۔ آپ سے عجیب عجیب سوال کرے گا۔ آپ کو غصہ چڑھے گا اور اسے دو چار سنائیں گے تو یہ سب کسی ویڈیو میں ریکارڈ ہو کر اگلے دن سوشل میڈیا کی نذر ہو چکا ہو گا اور آپ سٹپٹاتے رہ جائیں گے کہ یہ آپ کے ساتھ ہو کیا گیا۔ پہلے پہل ایک سرکاری ٹی وی یا ریڈیو ہوتا تھا جہاں محدود تعداد میں اداکاری کے مواقع دستیاب تھے لیکن وہاں اس طرح کے بھونڈے اور گھٹیا مذاق نہیں ہوتے تھے بلکہ سونا چاندی‘ الف نون‘ گیسٹ ہائوس جیسے ایور گرین ڈرامے تخلیق ہوئے جنہیں آج بھی دیکھیں تو اتنا ہی لطف آتا ہے جتنا تب آتا تھا۔ جبکہ آج سوشل میڈیا کے پرینکس اور فنی ویڈیوز چند سیکنڈ کی ہنسی کے سوا کچھ نہیں دیتیں اور اگلے روز آپ کو یاد بھی نہیں ہوتا کہ آپ نے کل کیا کچھ دیکھا تھا۔ یہ مقولہ سنتے تھے کہ کھانا انسان کیلئے بنا ہے‘ انسان کھانے پینے کیلئے نہیں۔ اسی طرح ٹیکنالوجی انسان کیلئے بنی ہے‘ انسان ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا وغیرہ کیلئے نہیں بنا۔ یہ بات ہمیں خود سمجھنا اور بچوں کو بھی سمجھانا پڑے گی۔ موبائل ہاتھ میں پکڑنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بڑے معزز ہو گئے ہیں۔ جدید ممالک میں بھی موبائل فون کا استعمال بہت زیادہ ہے لیکن اتنا زیادہ نہیں جتنا پاکستان‘ بھارت جیسے ممالک میں‘ جہاں صبح سے رات گئے انٹرٹینمنٹ کا حصول لازمی قرار ہو چکا ہے۔ بچے تو بچے بڑے بھی کھانا اس وقت تک نہیں کھاتے جب تک ساتھ میں یوٹیوب یا فیس بک پر مزے کی کوئی ویڈیو نہ دیکھ لیں۔ جدید ممالک میں کتاب کی اہمیت ابھی تک کم نہیں ہو سکی۔ کتابوں کی بڑی بڑی موبائل ایپس حتیٰ کہ ٹیبلٹ متعارف کرائے گئے لیکن آج بھی امریکہ میں کوئی کتاب یا ناول شائع ہوتا ہے تو اس کی لاکھوں کاپیاں ابتدائی دنوں میں ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں تو ایک ہزار کا ایڈیشن بھی بمشکل بکتا ہے۔ چند ایک بڑے ناموں کے سوا کتابیں اب فروخت نہیں ہو رہیں۔ لوگ ہر چیز ہر مزا ہر دکھ اور ہر سُکھ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جیسے ہی ایک منٹ کی فراغت ملتی ہے تو موبائل فون اٹھا لیتے ہیں‘ جیسے ان کے ہر غم کا علاج یہی ہو۔ اب جو قوم چوبیس گھنٹوں میں سے آٹھ‘ نو یا دس گھنٹے روزانہ سوشل میڈیا پر ضائع کرے گی اس سے یہ کیسے امید کیا جا سکتی ہے کہ وہ نئے سال کے لئے اپنے طے کردہ مثبت اہداف بروقت حاصل کر لے۔ آپ سکیورٹی گارڈ سے لے کر ٹریفک وارڈن اور ایک نجی ورکر سے لے کر سرکاری افسر تک ملاحظہ کر لیں‘ ہر کوئی تازہ وائرل ویڈیوز کے بارے میں ہی بات کرتا ملے گا۔ حریم شاہ کی نئی ویڈیو آ گئی‘ میشا نے علی ظفر پر نیا الزام لگا دیا‘ فلاں وزیر کی خفیہ آڈیو ٹیپ لیک ہو گئی، سارا دن آپ کو یہی کچھ گھومتا گھماتا ایک دوسرے سے سننے کو ملے گا۔ بچپن میں یہ سوچتے تھے کہ فلاں کولڈ ڈرنک کا سب کو پتہ چل چکا ہے ہم روز پیتے ہیں اور ہر دکان میں پڑی بھی ہوتی ہیں لیکن بار بار اس کی اتنی تشہیر کیوں کی جاتی ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ مہم برین واشنگ کا حصہ ہوتی ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان کو ایک چیز اتنی زیادہ مرتبہ دکھا دی جائے کہ اس کے لا شعور میں اس چیز کی معلومات اور عکس کندہ ہو جائے۔ وہ جب بھی کچھ کھانے لگے تو اس کے سامنے فلاں کولڈ ڈرنک کی طلب آ جائے۔ اب سوشل میڈیا پر جس طرح سے وائرل ویڈیوز کا ٹرینڈ چل پڑا ہے تو لوگوں کو اس کی لت پڑ گئی ہے بلکہ یہ عادت اب نشے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
نئے سال میں جہاں ہم بہت سے منصوبے بنا رہے ہیں وہاں ہمیں اپنے سوشل میڈیا کے استعمال پر نظرثانی بھی کرنی چاہیے بالخصوص بچوں کے بارے میں بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ اپنی پلاننگ میں زیادہ سے زیادہ آئوٹ ڈور سرگرمیاں شامل کریں‘ اس سے موبائل کا استعمال خودبخود کم ہو جائے گا۔ باقی جب تک آپ خود وہ کام نہیں چھوڑیں گے جس سے بچوں کو منع کروانا چاہتے ہیں‘ تب تک آپ کو مرضی کے نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ اگر آپ خود نماز کے وقت موبائل پر فیس بک دیکھنے میں لگے ہوں گے‘ خود کھانے کے ساتھ لازمی ویڈیو دیکھیں گے تو بچوں کو کیسے ان چیزوں سے باز رکھ سکیں گے۔ جب بچہ آپ کے ہاتھ میں زیادہ وقت کتاب دیکھے گا تو خود بخود اس میں بھی جستجو پیدا ہو گی۔ آپ روزانہ ورزش کریں گے تو اس میں بھی یہی عادت پیدا ہو گی۔ ویسے بھی بچے اچھل کود جیسی سرگرمیوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں لیکن ٹیکنالوجی کے سیلاب میں بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی بہتے جا رہے ہیں۔ ہم لاکھ نئے سال کی پلاننگ کر لیں لیکن جب تک سوشل میڈیا اور موبائل کو اپنی زندگی سے دُور نہیں کریں گے ہماری ساری کی ساری پلاننگ دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ نیا سال شروع ہو چکا۔ اگر آپ کا ہر دن پچھلے سال کی طرح گزر رہا ہے‘ آپ کے نئے سال پلان ڈائری میں لکھے ہوئے ہیں لیکن اگر آپ اسی طرح سے وقت ضائع کرنے اور غیر ضروری مشغلوں میں مگن ہیں تو پھر بہتر ہے کہ ڈائری اٹھائیں اور نئے سال کی پلاننگ کا صفحہ نکال دیں تاکہ سال کے آخر میں اپنے اہداف پورے نہ ہوسکنے پر مایوسی سے بچ سکیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved