تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     12-01-2020

سرخیاں‘متن‘ درستی اور ابرارؔ احمد کی نظم

پارٹی کو منظم کرنے کیلئے نچلی سطح پر تنظیم سازی کی جائے: احسن اقبال
سابق وفاقی وزیر داخلہ اور نواز لیگ کے مرکزی رہنما چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''پارٹی کو منظم کرنے کیلئے نچلی سطح پر تنظیم سازی کی جائے‘‘ کیونکہ اوپر کی سطح تو لندن کو پیاری ہو چکی اور باقی ماندہ سرکاری مہمان بننے والی ہے‘ اس لیے نچلی سطح ہی باقی رہ جاتی ہے‘ تاہم اوپر والی سطح کو لندن میں منظم کیا جا سکتا ہے ‘جہاں مریم بی بی بھی جانے کو تیار بیٹھی ہیں ‘جبکہ رانا ثنا اللہ مقدمے سے تو فارغ ہوتے نظر آتے ہیں؛ البتہ آمدن سے زیادہ اثاثوں والا معاملہ ابھی باقی ہے‘ جو زیادہ سنگین بھی ہے؛ حالانکہ ‘اگر آمدن نہ ہو تو اثاثے کیسے بن سکتے ہیں؟ بلکہ ان کی تو آمدن اس سے بھی زیادہ تھی اور ابھی وہ اثاثوں میں اپنی مزید آمدنی کے مطابق‘ اضافہ کرنے ہی والے تھے کہ انتقامی کارروائی کر کے انہیں اندر کر دیا گیا۔ آپ اگلے روز پارلیمنٹ ہائوس میں صوبائی عہدیداروں کو ہدایات جاری کر رہے تھے۔
ہمارے منصوبوں پر تختیاں لگا کر عوام کو بیوقوف بنا یا جا رہا ہے: سعد رفیق
سابق وزیر ریلوے اور نواز لیگ کے اہم عہدیدار خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ '' ہمارے منصوبوں پر تختیاں لگا کر عوام کو بیوقوف بنا یا جارہا ہے‘‘ حالانکہ عوام کو بیوقوف بنانے کے اور بھی کئی طریقے ہیں‘ مثلاً تیز رفتار ترقی کے نام پر خود اپنی ترقی کرنا وغیرہ‘ نیز عوام کو ہم پہلے ہی اس قدر بیوقوف بنا چکے تھے کہ اب‘ ان میں مزید بیوقوف بننے کی گنجائش ہی نہیں تھی‘ جبکہ یہ سارے منصوبے اس لیے ادھورے رہ گئے تھے کہ ہم عوام کی خدمت میں لگے رہے اور ان منصوبوں کو مکمل کرنے کا ہمیں وقت ہی نہ ملا‘ تاہم ان نامکمل منصوبوں میں بھی اصل خدمت تو ہم کر ہی چکے تھے اور خیال تھا کہ انہیں اپنی دوسری باری میں توڑ چڑھا لیں گے‘ لیکن پھر ہماری باریاں ہی بند کر دی گئیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
2023ء کے انتخابی نتائج کیلئے منصوبہ بندی شروع ہو چکی : سراج الحق
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ''2023ء میں مرضی کے انتخابی نتائج کیلئے منصوبہ بندی شروع ہو چکی‘‘ اوریہ اطلاع دونوں بڑی پارٹیوں کیلئے ہے‘ کیونکہ انتخابات کے نتائج ہمارا تو کبھی مسئلہ ہی نہیں رہے اور نہ ہی ہم نتائج کی خاطر انتخابات لڑتے ہیں‘ جبکہ نتائج ہمیں پہلے ہی اچھی طرح سے معلوم ہوتے ہیں اور محض وضع داری کی خاطر الیکشن میں حصہ لیتے ہیں ‘ کیونکہ ہم نے نشستوں کا کبھی لالچ نہیں کیا اور نہ ہی تاریخ نے کبھی ہماری پروا کی ہے اور ہم بقول شاعر: ؎
بیکار مباش کچھ کیا کر
کپڑے ہی ادھیڑ کر سیا کر
آپ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
درستی
محترم میم سین بٹ نے اپنے کالم میں پانچ شعر درج کیے ہیں‘ جو غالباً ٹائپ کی غلطی سے بے وزن ہو گئے ہیں‘ مثلاً:؎
یہ کاروبارِ فراغت تمام کرنے کو
صبح گھر سے نکلتا ہوں شام کرنے کو
اس کے دوسرے مصرعے کے شروع میں لفظ ''میں‘‘ شامل ہونے سے رہ گیا ہے۔ دوسرا شعر اس طرح درج ہے: ؎
خیال و خواب کی حجت نے کر دیا مجبور
اپنی نیند سے نکلا ہوں کام کرنے کو
اس کے بھی دوسرے مصرع میں لفظ ''میں‘‘ چھپنے سے رہ گیا ہے‘ تیسرا شعر اس طرح نقل کیا گیا ہے؎:
کلی کو پھول بنا کر گزر گئی بہار
ٹھہر گیا ہے یہ نم احترام کرنے کو
پہلے مصرع میں ''گزر گئی‘‘ کے بعد لفظ '' ہے‘‘ آتا ہے۔ اگلا شعر:
جہاں میں کوئی میسر نہیں تو کیا غم
سکوتِ لالہ و گل ہے کلام کرنے کو
پہلے مصرع کے آخر میں سے لفظ '' ہے‘‘ غائب ہے اور پانچواں شعر: 
میں اُس کی آنکھ میں وہ خواب چھوڑ آیا
جو اُس نے بھیجا تھا نیندیں حرام کرنے کو
اس کے پہلے مصرع کے آخر میں لفظ ''ہے ‘‘غائب ہے۔
اور‘ اب آخر میں ابرارؔ احمد کی یہ نظم:
حرفِ گماں
رقص تھا میرے چار سُو
دُھول ہے ہر طرف رواں
نکلے تھے خوابِ صبح میں
آ گئیں‘ شب کی بستیاں
گردشِ بے اماں میں ہیںبڑھتے‘ بکھرتے کارواں
سیلِ وصال و ہجر میں
بندشِ ماہ و سال ہے
خود میں ہے عمر کی دُکھن
سانس میں وقت کی چُبھن
دل جو رہا‘ تمہارا گھر
مسکنِ آرزو بھی تھا
گھر میں مکیں رہا کہاں
اور مکیں کو گھر کہاں
لوحِ فلک ہو یا زمیں
دائمی کیا رہا یہاں
اسمِ فنا پذیر میں
حرفِ گماں رہا کہاں
آج کا مقطع
تارے سے دل میں ٹوٹتے رہتے ہیں ظفرؔ
اور ساری ساری رات دھڑکتا ہے آسماں

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved