تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     19-01-2020

آپ ہیں‘ پائلٹ !

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے ‘جیسے سب کچھ اپنے اختیار میں ہے اور کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے‘ جیسے ہمارے اختیار میں تو کچھ بھی نہیں۔ یہ معاملہ کم و بیش ہر انسان کے ساتھ ہے۔ شعور کو پروان چڑھانے اور اُس سے کام لینے والے ہر شخص کو بہت کچھ محسوس ہوتا ہے۔ معاشرے یا ماحول میں پائے جانے والے نشیب و فراز کا اثر ہر انسان پر مرتب ہوتا ہے۔ جن کے اعصاب مضبوط ہوں وہ سب کچھ آسانی سے جھیل جاتے ہیں‘ جنہیں کسی بھی مشکل صورتِ حال سے نمٹنے کا ہنر نہ آتا ہو‘ وہ ذرا سی پریشان کن صورتِ حال سے بدحواس ہو جاتے ہیں۔ اُن کے لیے معمولی بھی ناموافق صورتِ حال بہت بڑی ایمرجنسی کی حیثیت رکھتی ہے۔ 
ہم میں سے بیشتر اس نکتے پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ہماری زندگی اول و آخر ہمارے اختیار میں ہے۔ ہم جو چاہیں‘ کرسکتے ہیں۔ ہمیں اکثر ایسا لگتا ہے‘ جیسے سب کچھ ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور اب ہم اپنی زندگی کو راہِ راست پر لانے کے حوالے سے کچھ زیادہ نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ احساس بیشتر معاملات میں بہت حد تک بے بنیاد ہوتا ہے۔ باضابطہ ذہنی تربیت سے محروم رہ جانے والوں کو ہر نئی بات ڈراتی ہے۔ ایسے لوگ نئی صورتِ حال سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ 
ایسا کیوں ہے کہ ہم بیشتر معاملات میں خود کو بے بس سا محسوس کرتے ہیں؟ کیا واقعی انسان اِتنا ہی بے بس ہے جتنا وہ محسوس کرتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس معاملے کو خواہ مخواہ ذہن پر سوار کرلیا گیا ہو؟ کیا واقعی ماحول سب کچھ ہے‘ انسان کچھ نہیں؟ کیا انسان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں؟ ان سوالوں پر غور کیجیے تو اندازہ ہوگا کہ بیشتر معاملات میں انسان نے خود کو خواہ مخواہ کمزور یا بے بس تصور کر رکھا ہے۔ بہت کچھ ہے جو ہر اعتبار سے انسان کے اختیار میں ہے۔ ہر انسان ضرورت پڑنے پر اپنے لیے موزوں ترین راستہ منتخب ہی نہیں کرسکتا ‘بلکہ اُس پر چل بھی سکتا ہے۔ 
قدرت نے انسان کو بہت سے معاملات میں اختیار بخشا ہے۔ وہ اپنے لیے کوئی بھی طرزِ زندگی منتخب کرسکتا ہے‘ کسی بھی راستے پر چل سکتا ہے۔ کوئی اس حقیقت کو تسلیم کرے یا نہ کرے‘ معاملہ یہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی مرضی کے مطابق بھرپور زندگی بسر کرنے کا اختیار عطا کیا گیا ہے۔ جب جب کوئی انسان اپنے اس اختیار کو بروئے کار لاتا ہے‘ تب دنیا اُس کی بے مثال کامیابی بھی دیکھتی ہے۔ 
کسی بھی انسان کے لیے سب سے بڑی دولت کیا ہوسکتی ہے؟ وقت اور کیا؟ وقت ہی سب سے بڑی حقیقت اور دولت ہے‘ جس نے اس حقیقت کو سمجھ لیا وہ کامیاب رہا اور جس نے وقت کو سمجھنے اور اس کا احترام کرنے سے واضح طور پر گریز کیا وہ مارا گیا۔ 
شخصی ارتقاء کے شعبے سے تعلق رکھنے والے عالمی شہریت یافتہ مقرر اور مصنف مائیکل آلٹشولر کہتے ہیں کہ بُری خبر یہ ہے کہ وقت اُڑا جارہا ہے اور اچھی خبر یہ ہے کہ آپ پائلٹ ہیں! اس سے اچھی خبر کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ نفسی امور کے معروف امریکی ماہر ولیم جیمز نے کہا تھا کہ ہمارے دور کی ایک بہت اچھی خبر یہ ہے کہ ہر انسان اپنے معاملات کا جائزہ لے کر اُنہیں درست کرسکتا ہے یعنی اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرسکتا ہے۔ یہ بات 1890 میں جس قدر درست تھی ‘اُتنی ہی درست آج بھی ہے۔ 
بات بالکل درست ہے کہ وقت اُڑا جارہا ہے۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں‘ وقت کا کام گزر جانا ہے۔ اُسے کوئی روک نہیں سکتا‘ لگام نہیں دے سکتا۔ ہاں‘ وقت کی ہر نزاکت کو سمجھتے ہوئے جو لوگ اپنی زندگی کو منظم کرنے کا سوچتے ہیں وہ کامیاب رہتے ہیں۔ آج کل ٹائم مینجمنٹ کا غلغلہ ہے‘یعنی وقت کی تنظیم کاری۔ کوئی وقت کی تنظیم کاری کرسکتا ہے؟ بالکل نہیں۔ ہم جب وقت کی تنظیم کاری کہتے ہیں تو دراصل اشارا اپنی طرف ہوتا ہے‘ یعنی ہم اپنے آپ کو نظم و ضبط کا پابند بنا رہے ہوتے ہیں۔ وقت اس بات سے بے نیاز ہے کہ کوئی اُسے منظم کرے۔ ٹائم مینجمنٹ کا تعلق اپنی ذات سے ہے‘ اسی کو سیلف مینجمنٹ بھی کہتے ہیں۔ وقت کے حوالے سے ہم پائلٹ ہیں‘ یعنی ہم وقت کو اپنی مرضی کے مطابق بروئے کار لانے کا پورا اختیار رکھتے ہیں۔ ٹرانزلیشن اینیلسز کے حوالے سے عالمگیر شہرت کے حامل ماہر نفسیات ایرک برن نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ''گیمز پیپل پلے‘‘ میں لکھا تھا کہ انسان کا ایک عالمگیر اور ابدی مسئلہ یہ ہے کہ بیداری کی حالت میں میسر وقت کو کس طور منظم کیا جائے‘ بروئے کار لایا جائے۔ جب ہم نیند کی حالت میں ہوتے ہیں تب وقت پر ہمارا اختیار صفر ہوتا ہے۔ بیداری کی حالت میں ہم وقت کا احساس بھی رکھتے ہیں اور اُسے بہترین طریقے سے بروئے کار لانے کے بارے میں بھی سوچتے ہیں۔ جو لوگ اس حوالے سے غیر معمولی نوعیت کی تربیت پاچکے ہوں‘ اُن کے لیے وقت کو بہترین انداز سے بروئے کار لانا بہت حد تک آسان ہو جاتا ہے۔ وقت سے مستفید ہونے کی تربیت نہ پانے والے اپنے وقت کو معیاری انداز سے بروئے کار لانے میں شدید مشکلات محسوس کرتے ہیں۔ 
کسی بھی انسان کے لیے سب سے بڑی حقیقت وقت ہے۔ ہم آخری سانس تک وقت کے دائرے میں گھومتے رہتے ہیں۔ ہمارا پورا وجود وقت کے گھیرے میں رہتا ہے۔ ایسے میں لازم ہے کہ ہم وقت کو سمجھنے کی بھرپور کوشش کریں اور اِس حوالے سے اپنی زندگی کو ترتیب دینے پر متوجہ ہوں۔ نفسی امور کے ماہر اِس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ ہر انسان اپنی مرضی کے مطابق جی سکتا ہے۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں‘ ہر انسان کسی نہ کسی حد تک اپنے لیے گنجائش پیدا کرسکتا ہے۔ بات درست ہے۔ فرانسیسی مفکر والٹیر کے بقول دنیا کا ہر انسان آزاد پیدا ہوتا ہے‘ مگر ہم اُسے زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتے ہیں۔ بات اتنی سی ہے کہ انسان اپنی حقیقت کو بھول کر زنجیریں تخلیق کرتا ہے اور اُن میں بندھ جاتا ہے۔ زندگی وقت سے ہٹ کر تو کچھ بھی نہیں۔ وقت بظاہر اُڑا جارہا ہے ‘مگر ہم اس حقیقت کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ قدرت نے ہمیں پائلٹ بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے حصے کے وقت کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ سوال صرف مطلوبہ صلاحیت و سکت کے پیدا کرنے کا ہے۔ جو اِس مرحلے سے بخوبی گزر گیا وہ کامیاب رہا۔ جو تذبذب کے گڑھے میں گِرا رہا‘ وہ ناکامی کی طرف جانے سے خود کو نہ روک پایا۔ 
آج کا انسان بہت سے معاملات میں مجبور ہے۔ ماحول کی نوعیت ایسی ہوگئی ہے کہ انفرادی سطح پر ڈھنگ سے کچھ کر پانا آسان نہیں‘ مگر خیر ناممکن بھی نہیں۔ کوئی بھی انسان اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرسکتا ہے۔ اس کے لیے خاصی تگ و دَو کرنا پڑتی ہے۔ سب سے بڑا سوال تو ذہنی ساخت کی تبدیلی کا ہے۔ جب تک اس مرحلے سے کامیاب نہ گزرے‘ انسان کامیاب نہیں ہوسکتا۔ 
ایک پائلٹ جس طور کھلی فضاء میں ایئر کرافٹ کو کنٹرول کرتا ہے‘ بالکل اُسی طور آپ کو بھی اپنے حصے کا وقت کنٹرول کرنا ہے۔ وقت کو بہترین اور موزوں ترین طریقے سے بروئے کار لانا ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہونا چاہیے۔ ہر انسان کے لیے آپشنز کھلے ہیں۔ وہ چاہے تو وقت کو اچھی طرح بروئے کار لاکر قابلِ رشک انداز کی زندگی بسر کرسکتا ہے اور چاہے تو اپنے وقت کو ضائع بھی کرسکتا ہے۔ کوئی روکنے اور ٹوکنے والا نہیں ہے۔ الغرض اس سے فیصلے کا اختیار کوئی نہیں چھین سکتا ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved