تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     20-01-2020

کاشت کار کہاں جائیں‘ کیا کریں؟

آپ اور ہم جب کھانے کی میز پر بیٹھ کر تین مرتبہ روزانہ اور کہیں اس سے بھی زیادہ مرتبہ‘ رنگا رنگ قسم کی سبزیاں‘ پھل‘ اجناس اور میوہ جات کھاتے ہیں تو ہمارا دھیان کبھی ان افراد کی طرف نہیں جاتا‘ جو جاڑے کی جما دینے والی سردی اور گرمیوں کی تن سوز دھوپ میں یہ سب کچھ اُگاتے ہیں۔ گھروں میں‘ ڈھابوں پہ اور بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانا ضائع ہوتا ہے۔ گھروں میں اور دوسری جگہوں پر بھی چپاتیاں اگر بچ جائیں تو دوسرے وقت کوئی کھانے کو تیار نہیں ہوتا۔ مرد حضرات کو تازہ گرم گرم چپاتیاں پسند ہیں‘جو رہ جائیں کوڑے میں ڈال دی جاتی ہیں۔ کچھ گھروں میں یہ بچی ہوئی روٹیاں جمع کرتے رہتے ہیں اور پھر بیچ دی جاتی ہیں۔ عام کھانے کی جگہوں یعنی ہوٹلوں وغیرہ پر شام تک ان ادھ کھائی چپاتیوں کا ڈھیر لگ جاتا ہے۔ یہی حال چاول‘ دال‘ خوردنی تیل اور سبزیوں کا ہے۔ ذرا سوچیں ہم کیا کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ بہت محنت اورجانفشانی کے ساتھ اور سرمایہ لگا کر پیدا کیا جاتا ہے۔ شادی بیاہ کی کوئی تقریب ہو‘ کہیں خیرات بٹ رہی ہو یا ذاتی زندگی کے معاملات ہوں‘ وطن عزیز میں کھانا وہ قدر نہیں رکھتا جو دیگر مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں ہے۔ تہذیب‘ سلیقے اور شائستگی کا تقاضا یہ ہے کہ کھانے پینے کی ذرہ بھر چیز بھی ضائع نہ ہو‘ لیکن کیا کریں کوئی بات سنتا ہے‘ نہ مانتا ہے۔
بنیادی وجہ یہ ہے کہ کھانے پینے کی اشیا عام طور پر اور عام جگہوں پر سب کو دیگر ممالک کی نسبت سستی دستیاب ہیں۔ ہمارے گھروں میں جتنا خوردنی تیل استعمال کیا جاتا ہے‘ کسی مغربی گھرانے میں شاید پورے سال میں بھی نہ ہوتا ہو گا۔ اپنے ہی کِچن میں کچھ دیر ٹھہریے اور مشاہدہ کیجئے کہ درآمد شدہ تیل کس بے دردی سے ضائع کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال ہم نے تین ارب ڈالر کا تیل بیرونی ممالک سے درآمد کیا۔ عادات بگڑ چکی ہیں۔ پاکستان کے کسی گائوں‘ قصبے یا شہر کے کسی بھی محلے یا کوچے میں چلے جائیں‘ دوپہر کے بعد بڑے بڑے کڑاہوں میں پکوڑے‘ سموسے اور جلیبیاں تلی جا رہی ہوتی ہیں۔ ماہِ رمضان میں تو کوئی گھرانہ ان کے ذائقے سے محروم نہیں رہ سکتا۔ آدھی سے زیادہ ہماری آبادی یہ سب کچھ پیدا کرنے میں مصروف ہے اور اس کے برابر یا کچھ کم کاشتکار کی محنت سے اُگائی گئی اجناس اور پھل اُڑانے میں مگن ہے۔ کوئی اپنی ہفتہ وار خرید کو کم کرنے کو تیار نہیں۔ مہنگائی کا رونا رونے کے ساتھ ساتھ کم از کم متوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے جی بھر کر اناج‘ سبزیاں اور پھل خریدتے ہیں۔ عمومی طور پر معاشرے میں ہر سطح پر اسراف کا رجحان بڑھ چکا ہے۔ اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ شہروں میں مجھے ہر دوسرے مرد کا وزن بڑھا ہوا نظر آتا ہے۔ چالیس سال قبل ایسا نہیں تھا۔ دیہات میں کاشتکاروں کو چھوڑ کر سب مرد اور خواتین موٹاپے کی بیماری کا شکار ہیں۔ دوسرے‘ پاکستان میں شوگر اور فشار ِخون کے مریضوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ایک طرف مضر صحت تیل اور تیار شدہ اشیائے خورونوش درآمد کرکے وزن بڑھانے کے ساتھ بیماریوں میں اضافہ کر رہے ہیں‘ دوسری طرف باہر کے ملکوں سے ان بیماریوں سے نمٹنے کیلئے اربوں روپے کی ادویات درآمد کر رہے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں علاج معالجے کے فی کس اخراجات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ کاش ان اخراجات کا کچھ حصہ کاشتکار کی جیب میں بھی جاتا‘ جو اس وقت باہر کے ملکوں کی کمپنیوں کو جا رہا ہے۔
اس ناچیز نے دنیا کے کئی ملکوں کا سفر کیا ہے اور یہ سفر برابر جاری ہے‘ لیکن کہیں اس نوعیت کا طرزِ زندگی نہیں‘ جہاں ایک طرف لوگ کھا کھا کر بیمار پڑ رہے ہوں اور دوسری طرف ہمارے صحرائی علاقے تھرپارکر میں بچے غذائی قلت کی وجہ سے دم توڑ رہے ہوں۔ سندھ حکومت کے وزیروں‘ مشیروں اور سیاسی وڈیروں کا طرزِ زندگی مشاہدہ کریں‘ ان میں سے ہر کوئی مغل بادشاہوں سے کم تر زندگی گزارنے کا قائل نہیں۔ بدعنوانی کی ایسی مثالیں صرف پاکستان جیسی کمزور ریاستوں میں ملتی ہیں۔ سندھ ہو‘ پنجاب‘ یا بلوچستان‘ ہر طرف وڈیروں کا راج ہے۔ اس وڈیرہ شاہی کا ہماری زراعت اور اس شعبے کے امور پر منفی اثرات ہیں۔ چونکہ میں خود بھی ایک معمولی سا کاشتکار ہوں‘ اس لیے مجھے بھی متاثرین میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ نہری پانی کی تقسیم کاغذوں میں کچھ اور عملی طور پر کچھ اور ہے۔ جس علاقے سے میرا تعلق ہے وہاں بڑے زمینداروں کا غلبہ ہے۔ سیاسی طور پر وہ حکمران ہیں اور زمین اور قبیلے کی بنیاد پر معاشی اور سماجی طور پر طاقتور۔ نہروں پر موگے یا کھالے جائز اور منظور شدہ حد سے بہت بڑے ہیں۔ محکمہ انہار والے کبھی کبھار ان کو اصلی حد میں لانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں ‘مگر موقع پاتے ہی وہی پہلے جیسی چوری شروع ہو جاتی ہے۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ پانی چوری ہوتے ہوتے آخر کے کاشتکاروں کے حصے میں بہت کم آتا ہے۔ مجبوراً چھوٹا کاشتکار ٹیوب ویل ڈیزل پر چلا کر فصلوں کو سیراب کرتا ہے۔ اس سے فی ایکڑ اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ اکثر ایسے کاشتکاروں کی آمدنی مسلسل کم ہو رہی ہے‘ کچھ تو خسارے میں ہی رہتے ہیں۔ کیا کریں زمین خالی چھوڑ دیں تو خراب ہو جاتی ہے اور اس کو دوبارہ قابلِ کاشت بنانے کیلئے پھر سے سرمایہ کاری لازم ہو جاتی ہے۔ 
مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پنجاب میں ایک زبردست کام کیا ہے‘ ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرضہ لیا اور چھوٹی نہروں کو پختہ کر دیا۔ زراعت میں ایسی ہی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود پانی کی چوری ختم نہیں ہوئی البتہ کہیں کم ضرور ہوئی ہے۔ بگاڑ اتنا ہے معاشرے میں کہ ہر ایک کمزور کا نقصان کرنے کے درپے نظر آتا ہے۔ بڑے زمیندار نہیں چھوٹے بھی‘ اگر ان کی زمین پختہ نہر کے کنارے واقع ہے تو وہ رات کو پائپ ڈال کر پانی چوری کرتا ہے۔ ایسے معاشرے کو صرف قانون ہی ٹھیک کر سکتا ہے‘ مگر کس میں اتنی سکت ہے کہ چوروں پر ہاتھ ڈالے اور کمزور کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ ہو؟ 
بیجوں کی تیاری‘ پیداوار اور تحقیق میں کچھ نمایاں فرق محسوس نہیں ہو رہا۔ ہر سال گندم‘ کپاس اور دیگر اجناس کے نئے بیج متعارف تو کرائے جاتے ہیں مگر منڈی میں دو نمبر حضرات اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔ تھیلے وہی‘ مہریں وہی‘ رنگ ڈھنگ وہی‘ مگر بیج دو نمبر۔ چھوٹے کاشتکار کو تو فصل تیار ہونے پہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ بیج اصلی تھا یا نقلی۔ جنوبی پنجاب کے جنوبی اضلاع میں گزشتہ سال کپاس کی فصل اس طرح خشک ہو کر کالے رنگ میں تبدیل ہوئی اور اس تیزی سے کہ جس طرح اسے آگ میں جھلسایا گیا ہو۔ بے شمار کاشتکار تباہ ہو گئے۔ اب وہ بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ نہ جانے ہمارے محکمہ زراعت کے ملازمین کیا کرتے ہیں۔ ایک ہی بہانہ ہے اور وہی ہمیشہ دہرا دیتے ہیں کہ یہ سب کچھ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ساتھ ہی دیگر کھیت ہرے بھرے کیوں رہے؟ یہی حال کرم کش ادویات میں ملاوٹ کا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ زراعت کے شعبے کو تباہ کرنے میں جعلی کمپنیوں اور ان کے نمائندوں کا بڑا کردار ہے۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ ان میں سے کتنے لوگ آج قانون کی گرفت میں ہیں؟ ہر سال کاشتکاروں کا اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
کہنے کو یہ بات درست ہے کہ بڑا زمیندار تو اسمبلیوں میں بیٹھا ہوا ہے‘ وہ کیوں حرکت میں نہیں آتا؟ درست مگر اس کے تو ہر جگہ وارے نیارے ہیں۔ کہاں جائیں چھوٹے کاشتکار؟ کب ہو گا ان کا استحصال ختم؟ اور وہ کب تک خون پسینہ ایک کرکے آپ کو خوراک فراہم کرتے رہیں گے‘ جو آپ ضائع کرتے رہیں گے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved