تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     09-02-2020

سرخیاں‘متن‘ درستی اور اسحق وردگ کی شاعری

مہنگائی کے مجوزہ اعداد و شمار میں کوئی سیاسی حکومت نہیں چل سکتی: اسد عمر
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ ''مہنگائی کے مجوزہ اعداد و شمار میں کوئی سیاسی حکومت نہیں چل سکتی‘‘ اس لیے اب ضروری ہو گیا ہے کہ غیر سیاسی حکومت آئے اور اسے چلائے‘ کیونکہ ویسے بھی ان سیاسی حکومتوں کو سولہ سترہ سال تو ہو ہی چکے ہیں اور ایمانداری کی بات یہ ہے کہ اب باری بھی غیر سیاسی حکومت ہی کی ہے‘ بلکہ اس نے اپنی باری سے زیادہ مدت گزاری ہے اور اب خود بھی اس کے ہاتھوں میں کھجلی ہو رہی ہو گی کہ آرام سے آ کر اپنے دس پندرہ سال مکمل کر لے‘ جبکہ ملک میں خوشحالی کا سب سے بڑا دور ایوب خان کی غیر سیاسی حکومت ہی کا تھا‘ جسے لوگ اب تک یاد کرتے ہیں؛ اگرچہ یاد تو ہمیں لوگ اب بھی کیا کریں گے کہ ہمارا یہ یادگار زمانہ لوگوں کو قیامت تک نہیں بھول سکتا ؛بشرطیکہ وہ قیامت تک زندہ رہنے سے پہلے ہی بھوک پیاس کے ہاتھوں اللہ کو پیارے نہ ہو گئے۔ آپ اگلے روز ایک ٹی وی چینل میں گفتگو کر رہے تھے۔
مریم نے خاموش رہنا ہے تو پھر والد کی خدمت کریں: فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''مریم نے خاموش رہنا ہے تو پھر والد کی خدمت کریں‘‘ اور حکومت بالآخر انہیں باہر جانے کی اجازت دے ہی دے گی‘ کیونکہ حکومت جب سے انسانی ہمدردی میں مبتلا ہوئی ہے‘ اس کے پیش نظر شاید یہ ملک ویسے ہی خالی ہو جائے اور خاکسار ہی رہ جائے‘ ورنہ موجودہ صورت ِ حال میں تو شاید میری قسمت میں یہی لکھا ہے کہ میں اپنے آخری سانس تک مارچ ہی کرتا رہوں‘ بلکہ میں نے کہہ دیا ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں کیلئے میرے دروازے کھلے ہیں اور اگر کھلے نہ بھی ہوں تو دیوار پھاند کر بھی آ سکتی ہیں‘ کیونکہ اگر یہ بے معنی اور فضول مارچ وغیرہ جاری رہ سکتے ہیں تو ملک میں کچھ بھی ہو سکتا ہے‘ ماسوائے وزیراعظم کے استعفے کے‘ اور ایسا لگتا ہے کہ یہ عہدہ انہیں جن کی طرح چمٹ گیا ہے ‘جسے نکالنے کیلئے کسی عامل وغیرہ کی ضرورت نہیں‘ بلکہ اس کے سامنے میرا نام ہی لے دیا جائے تو اسی وقت نکل بھاگے گا۔ آپ اگلے روز کلفٹن میں جے یو پی کے سیکرٹری جنرل مولانا اویس نورانی کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کر رہے تھے۔
نیب پلی بارگین کر لے‘ ورنہ عدالت جائوں گا: احسن اقبال
سابق وفاقی وزیر داخلہ اور نواز لیگ کے مرکزی رہنما چوہد ری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''نیب پلی بارگین کر لے‘ ورنہ عدالت جائوں گا‘‘ کیونکہ اگر میں شرافت سے پیسے واپس کر رہا ہوں تو تاخیری حربے کیوں استعمال کیے جا رہے ہیں‘ جبکہ نیک کام میں دیر کرنے کا حکم نہیں‘ کیونکہ میں چوتھا حصہ دینے کیلئے بالکل تیار ہوں اور ہمارے قائدین کو بھی یہی کرنا چاہیے‘ کیونکہ اس سے اُن کا کچھ نہیں بگڑے گا اور ملکی خزانہ مفت میں بھر جائے گا اور امید ہے کہ حکومت زیادہ لالچ کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور چوتھے حصے پر راضی ہو جائے گی‘ کیونکہ یہ بھی یوں سمجھیے کہ میں نے اپنے گوشت کا چوتھا حصہ کاٹ کر دینا ہے‘ جبکہ اس میں ہڈیاں بھی ہوں گی ۔ آپ اگلے روز عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا کے نمائندوںسے گفتگو کر رہے تھے۔
درستی
مفتی منیب الرحمن صاحب نے اپنے ایک کالم میں کچھ اشعار درج کیے ہیں‘ جن میں سے یہ دو خارج از وزن ہو گئے ہیں؎:
گفتمش اے خاصّۂ خاصانِ عشق 
عشقِ تو سِرِّے مَطلعِ دیوانِ عشق
پختہ از دستت اساسِ کارِ ما
چارہ فرمائے آزارِ ما
پہلے شعر کا دوسرا مصرعہ اس طرح ہوگا ع
عشقِ تو سر مطلعِ دیوانِ عشق
جبکہ دوسرے شعر کے دوسرے مصرعے میں کوئی لفظ چھپنے سے رہ گیا ہے‘ جس کے بارے میں مفتی صاحب بہتر جانتے ہوں گے۔
سعد اللہ شاہ نے اپنے کالم میں ایک شعر اس طرح درج کیا ہے ؎
پھول خوشبو کے نشے میں بکھر جاتے ہیں 
لوگ پہچان بناتے ہوئے مر جاتے ہیں
اس کا پہلا مصرعہ کوئی لفظ چھوٹ جانے سے بے وزن ہو گیا ہے‘ جو شاید اس طرح سے ہو ع
پھول خوشبو کے نشے میں ہی بکھر جاتے ہیں
اور‘ اب آخر میں پشاور سے ڈاکٹر اسحق وردگ کی یہ غزل:
وہ راستا جو فلک کے لیے بنا ہوا ہے
وہ راستا بھی مری ذات سے گیا ہوا ہے
ہماری جلد ہی قسمت بدلنے والی ہے
ہمارا اپنے ستارے سے رابطہ ہوا ہے
اسے بھی تیرے تصور کا فیض جانا ہے
کہیں کہیں سے جو موسم نیا نیا ہوا ہے
میں اپنے خواب کی تشکیل کر نہیں سکتا
کسی کا خواب مری آنکھ میں رُکا ہوا ہے
............
مری ہستی سزا ہونے سے پہلے
میں مر جاتا بڑا ہونے سے پہلے
بہت مضبوط سی دیوار تھا میں
کسی کا راستا ہونے سے پہلے
ہمارے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا
وہ اک بندہ‘ خدا ہونے سے پہلے
خزاں میں پھول سا لگتا تھا مجھ کو
وہ پتھر آئینہ ہونے سے پہلے
وہ قبلہ اس گلی سے جا چکا ہے
نازِ دل ادا ہونے سے پہلے
آج کا مقطع
دیکھا تھا ظفرؔ جس کو ابھی نہر کے پُل پر
روشن ہیں وہی شمع کتابوں کی دُکاں میں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved