تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     15-02-2020

صحرا میں اذان دے رہا ہوں!

کہیں کوئی شنوائی نہیں۔ کیا توقع کیجیے؟ کس سے امید قائم کیجیے۔ زخم ہی زخم ہیں۔ مداوا کوئی نہیں۔ اور یہ کوئی مبالغہ نہیں کہ بے بسی ہے۔ کالم نگار کے بس میں یا آنسو ہوتے ہیں یا آواز۔ اور یہی دو کام مسلسل کیے جاتے ہیں۔ اس امید پر کہ شاید کسی صاحب اختیار کے دل تک رسائی ہو سکے۔ سلیم احمد کا شعر یاد آتا ہے
شاید کوئی بندۂ خدا آ جائے
صحرا میں اذان دے رہا ہوں
لاہور میں کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ پتنگ بازی کا مکمل خاتمہ ہو سکتا ہے اور شادیاں نسبتاً سادہ طعام کے ساتھ رات دس بجے تک نمٹ سکتی ہیں۔ میاں شہباز شریف صاحب کو داد دینی چاہیے کہ یہ دونوں ناممکن کام ان کے عزم سے ممکن ہو سکے۔ لیکن ان دونوں منزلوں کا سر کر لینا دو دھاری تلوار ہے جو دوسری طرف بھی کاٹتی ہے۔ یہ بتاتے ہیں کہ اگر حکمران کوئی کام کرنا چاہیں تو مشکل ترین کام بھی کیے جا سکتے ہیں۔ یہی دلیل ہے کہ جو کام شہباز شریف صاحب کی وزارت اعلیٰ کے پینتیس سالہ ادوار میں نہیں ہو سکے‘ وہ ارادہ نہ ہونے کے سبب نہیں ہو سکے اور اب عثمان بزدار کے عہدِ وزارت میں بھی اسی لیے نہیں ہو سکیں گے کہ ان کے کرنے کا ارادہ ہی نہیں ہے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کام نہ ہو سکیں۔
جب یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ون ڈش مینو پر عمل کروایا جائے گا اور رات دس بجے تقریبات ختم ہو جایا کریں گی تو اس کا بنیادی مقصد لوگوں کو سادگی کی طرف مائل کرنا تھا اور شادی بیاہ کی تقریبات کم خرچ رکھنے والے شخص کے لیے آسان بنانا تھا۔ کوئی شک نہیں کہ بہت سی قباحتوں کے باوجود اور رشوت خوری کا ایک نیا راستہ نکل آنے کے باوجود امیر اور غریب سب کو کم و بیش ایک ہی سادہ طعام کی طرف آنا پڑا جس میں گنجائشیں بہت زیادہ نہیں تھیں۔ باراتیں اور مہمان وقت پر پہنچنے کے پابند ہوگئے اور تقریب کے جلد ختم ہوجانے سے وقت کا اسراف بھی کم ہوگیا۔
لیکن سادہ کھانے یا ون ڈش مینو کا اصل فائدہ عوام سے زیادہ شادی ہالوں کا کاروبار کرنے والوں نے اٹھایا۔ ان کے وقت کے دورانیے میں خاطر خواہ کمی ہوگئی اور اخراجات مثلاً بجلی اور ائیرکنڈیشنرز وغیرہ کے خرچ بھی کم ہوگئے۔ کھانے میں اپنا بھرپور بلکہ ناجائز منافع بدستور شامل کرنے کے لیے بڑے شادی ہالوں نے یہ کیا کہ باہر سے کیٹرنگ ممنوع قرار دے دی اور یہ طے کردیا کہ کھانا اور ہال کا اکٹھا نرخ ہوگا، علیحدہ علیحدہ نہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ ون ڈش مینو کے نرخ اتنے ہوشربا رکھ دئیے گئے کہ زیادہ کھانوں والے مینو کے بھی اتنے نہیں ہوں گے۔
میں نے سمجھنے کی کوشش کی کہ کراچی‘ جہاں ون ڈش کی پابندی نہیں ہے اور وقت کا دورانیہ بھی زیادہ ہے، کھانوں اور شادی ہالوں کے خرچ لاہور سے بہت کم کیوں ہیں۔ دونوں شہروں کے درمیان خوش خوراکی اور کھانے کے ضیاع کی گنجائشیں شامل کرکے بھی نرخ اور دیگر اخراجات میں نمایاں فرق تھا۔ سچ یہ ہے کہ یہ فرق صرف ناجائز منافع کا ہے۔ ذرا دیکھیں کہ یہ فرق کیا ہے اور کس طرح پنجاب کے چند بڑے شہروں کے شادی ہالوں کے سامنے لوگ بے بس ہیں۔ میں نے مختلف شہروں کے ایسے شادی ہالوں اور مارکیز سے رابطہ کیا جو بہتر علاقوں، مناسب پارکنگ، خوبصورت تزئین اور اچھے انتظامات کے لیے مشہور ہیں۔ سو تمام شہروں میں یہ شادی ہال کم و بیش ایک ہی معیار کے منتخب کیے گئے۔ کھانے میں چکن بریانی، مٹن قورمہ، دو طرح کے سلاد، دو طرح کے نان اور دو طرح کے میٹھے طے کیے۔ کولڈ ڈرنک بھی اس مینو میں شامل تھی۔
مختلف شہروں میں اس تحقیق کا جو خلاصہ نکلا، وہ یہ ہے۔
لاہور: 1600 تا 1800 فی کس (باہر سے کیٹرنگ کی اجازت نہیں)، راولپنڈی:1100 تا 1300 فی کس (کچھ جگہوں پر باہر سے کیٹرنگ کی جاسکتی ہے )، اسلام آباد: 1200 تا 1400 فی کس (باہر سے کیٹرنگ کی اجازت نہیں)، فیصل آباد: 1600 تا 2000 روپے فی کس (باہر سے کیٹرنگ کی اجازت نہیں)، کراچی:800 تا1000 روپے فی کس (باہر سے کیٹرنگ کی اجازت ہے۔ مجھے کراچی میں حال ہی میں کچھ شادیوں میں شرکت کا اتفاق ہوا‘ جن میں مٹن، مچھلی، مرغ، باربی کیو سمیت بھرپور مینو کا نرخ کیٹرنگ سمیت 1000 روپے معلوم ہوا)۔
آپ تصور کیجیے کہ کراچی اور لاہور کے نرخوں میں 700 روپے فی کس تک کا فرق ہے جبکہ کراچی کے نرخ میں منافع بھی شامل ہے۔ یہ 700 روپے کا فرق اس کے علاوہ ہے۔ 450 مہمانوں پر صرف یہ اضافی منافع 315,000 روپے بنتا ہے۔ اگر مہینے میں اوسطاً 20 ایسی تقریبات بھی ہوں تو 63 لاکھ روپے اضافی منافع۔ تقریبات تقریباً ہر روز اور بعض اوقات دوپہر اور شام دونوں وقت ہوتی ہیں۔ بکنگ اتنی زیادہ ہے کہ ایک ایک سال پہلے تاریخ لینا پڑتی ہے اور بنیادی تقریب صرف 3 سے 4 گھنٹے۔ کیا یہ پیسے وصول کرتے وقت کبھی یہ خیال آتا ہے کہ ان چند گھنٹوں کے لیے عام آدمی ساری عمر خون پسینے سے رقم جوڑتا ہے۔ ایک اور پہلو دیکھیے۔ کسی شادی میں شریک ہو جائیے۔ ایک جیسا ذائقہ ملے گا جسے گوارا ہی کہا جا سکتا ہے۔ کھانے کا تنوع تو اس طریقۂ کار نے ختم کیا ہی تھا معیار بھی دفن کرکے رکھ دیا۔ مجبوری یہ ہے کہ شادی ہال والے جیسا بھی پکا دیں آپ کو زہر مار کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس لیے کہ باہر سے اچھے باورچی سے کھانا پکوانے کا امکان ہی ختم کردیا گیا ہے۔
بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ شادی ہال والوں نے نئے نئے ہتھکنڈے بنا لیے ہیں۔ اگر دولہا دلہن کے لیے واک وے بنایا جائے گا تو 50 ہزار روپے الگ۔ سٹیج پر پھولوں کی آرائش کی جائے گی تو بہت سادہ آرائش بھی کم سے کم 25 ہزار روپے۔ زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ میزوں پرگلدستے، 20 ہزار روپے۔ فوٹو گرافر، 20 ہزار روپے۔ ویڈیو شوٹنگ 50 ہزار روپے۔ ڈی جے، 25 ہزار روپے کم سے کم۔ کسی خاص تھیم کے لیے مزید خرچ۔ کمال یہ ہے کہ بعض اوقات دوپہر یا پچھلی رات کی تقریب کے پھول آپ کی تقریب میں استعمال کر لیے جاتے ہیں لیکن رقم دونوں سے پوری ہتھیا لی جاتی ہے۔ اب تو مصنوعی پھول بھی لگائے جا رہے ہیں جو خراب ہی نہیں ہوتے لیکن ہر سٹیج کی قیمت پوری پوری اسی طرح موجود ہے۔
ناجائز منافع خوری اور ہر مرحلے پر شادی والوں کی مجبوری اور شوق کا فائدہ اٹھانا ان پر ختم ہے۔ والدین ناک اونچی رکھنے، شوق پورے کرنے، سسرالوں کے دباؤ اور اپنی مجبوری کی قیمت ادا کرنے کے لیے اپنے تن کے کپڑے بیچ کر بھی یہ سب کام کرتے ہیں اور یہ کمزوریاں لوٹنے والوں کے علم میں ہیں۔
ہمارے ہاں دردِ دل رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ شادی ہالوں اور کیٹرنگ کے مالکان میں کچھ صاحبِ دل تو یقینا ایسے ہوں گے جو اپنے ہم پیشہ ساتھیوں سے ایک اخلاقی ضابطہ منظور کروا سکتے ہوں گے‘ جس میں ان کا جائز منافع باقی رہے مگر عوام پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔ حکومت میں کچھ بااختیار لوگ تو یقینا ایسے ہوں گے جو اس بے مہار منافع کو کنٹرول کر سکیں۔ تین تجاویز ایسی ہیں کہ ان پر عمل درآمد سے مسئلہ کافی کم ہو سکتا ہے۔ (1) ہال اور کیٹرنگ کے اخراجات الگ الگ ہوں اور ہر ہال یا مارکی والے کو پابند کیا جائے کہ وہ باہر سے کیٹرنگ کی اجازت دے۔ (2) شادی ہال اور مارکی کے معیار، علاقے اور آرائش کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نرخ کی زیادہ سے زیادہ حدود مقرر کردے۔ (3) مینو کی مختلف اقسام کے زیادہ سے زیادہ کیٹرنگ نرخ مقرر کردے۔ یہ تین تجاویز ہیں۔ مسئلے کا حل نکالنا ہو توحل ضرور نکل آتا ہے۔ مجھے بتائیے کہ ایک عام آدمی کی تکلیف کس مقتدر فرد یا افراد تک پہنچاؤں۔ کیا کہیں شنوائی ہے؟ اے اراکین اسمبلی! کیا آپ کے گھروں میں شادیاں نہیں ہوتیں؟ ہم وہ معاشرہ ہیں جو مل کر محلے کی شادیاں نمٹاتا اور بیٹیوں کو سانجھی خیال کرتا ہے۔ کیا ہم اپنی بیٹیاں عزت سے نہیں بیاہ سکتے۔ وزیر اعلیٰ تو یقینا اپنے بچوں کی شادیوں کے مرحلوں سے دور ہیں لیکن کیا ہر افسر، ہر رکن اسمبلی اتنا مالدار ہے کہ پنج ستارہ ہوٹلوں میں شادی کرسکے۔ یہ حکومت سادگی پر بہت زور دیتی ہے۔ تو پھر عام آدمی پر یہ سادگی حرام کیوں کردی گئی ہے؟ کیا کوئی جواب دے گا؟کوئی اذان سنے گا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved