تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     20-02-2020

امریکی فوجی انخلا اور افغانستان میں امن کے امکانات

افغانستان میں امریکا کی طویل ترین جنگ کو ختم کرنے کے لیے دوحہ مذاکرات میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ پچھلے سال ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک مذاکراتی عمل معطل کرنے کا اعلان کیا اور پھر دوبارہ مذاکرات بحالی کے بعد اب دونوں فریق ایک معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں۔ اس معاہدے کے بنیادی دو نکات وہی ہیں جو پچھلے سال اگست میں طے پائے تھے۔ پہلا‘ امریکیوں کی طرف سے فوجی انخلا کا وعدہ اور دوسرا‘ افغان طالبان کی طرف سے افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی یقین دہانی۔
مجوزہ امن معاہدے پر دستخط سے پہلے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان سات دن کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، عارضی جنگ بندی کی کامیابی کی صورت میں ہی اس ماہ کے آخر پر معاہدے پر دستخط ہوں گے۔ معاہدے پر دستخط کے فوری بعد امریکا افغان طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرے گا جبکہ طالبان ایک ہزار افغان قیدیوں کو رہا کریں گے۔ اس معاہدے کے بعد افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات کا مرحلہ شروع ہو گا‘ جو افغانستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔
اب تک جن اقدامات پر اتفاق ہوا ہے انہیں فیس سیونگ کہا جا سکتا ہے اور اگر ان پر عمل ہو جاتا ہے تو یہ اعتماد سازی کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ہوں گے۔ ان اقدامات سے امریکی صدر کو افغان امن عمل کے لیے ساکھ بحال کرنے میں مدد ملے گی جبکہ اشرف غنی انتظامیہ کا بھی جنگ بندی کا مطالبہ پورا ہو جائے گا۔ امن معاہدے سے پہلے سات دن کی عارضی جنگ بندی کے لیے امریکی جو الفاظ استعمال کر رہے ہیں وہ بہت مبہم ہیں، امریکی اس سات دن کے دوران ''تشدد میں کمی‘‘ کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں، جس سے یوں لگتا ہے کہ افغان طالبان نے جنگ بندی کا مطالبہ نہیں مانا اور اس سات روزہ وقفے کو جنگ بندی کا نام دینے کو تیار نہیں ہوئے۔ افغان طالبان کی مجبوری یہ ہے کہ جنگ بندی کی صورت میں انہیں جنگجوؤں کو دوبارہ محاذ پر لانے میں مشکلات ہوں گی اور وہ جنگجوؤں کو معاہدے سے پہلے جنگ بندی پر مطمئن بھی نہیں کر پائیں گے۔ امریکی صدر کی مجبوری یہ ہے کہ انہیں نومبر میں دوسری مدت کے لیے انتخابات سے پہلے امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کا وعدہ پورا کرنا ہے۔ اس طرح یہ لگتا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں۔ اس کی ایک مثال مذاکرات کے ابتدائی مرحلے کا ایک ڈائیلاگ ہے، افغان طالبان نے امریکی مذاکراتی وفد سے کہا تھا، ''تم لوگوں کے پاس گھڑیاں ہیں اور ہمارے پاس وقت ہے‘‘۔
تشدد میں کمی ایک ایسی شرط ہے جس کے پورا کرنے پر اختلاف ہو سکتا ہے، تشدد میں کمی نہ ہونے کی بنیاد پر اگر ڈیل ناکام ہوتی ہے تو امن کی امیدیں دم توڑ جائیں گی اور مذاکرات کی بحالی مشکل ترین ہدف بن جائے گا۔ پچھلے سال ستمبر میں صدر ٹرمپ کا اچانک مذاکرات معطلی کا اعلان افغان طالبان کے لیے ایک دھچکا تھا اور دوبارہ ایسا ہوا تو افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا ناممکن ہو گا۔
اگر تشدد میں کمی کی شرط پوری ہو جاتی ہے تو اس ماہ کے آخر میں دوحہ میں معاہدے پر دستخط کی تقریب، دس سالہ امن کوششوں میں پہلا بڑا سنگ میل ہو گی۔ دوحہ میں ہونے والا معاہدہ بھی دراصل حتمی امن ڈیل نہیں ہو گی بلکہ اس کی طرف پیش رفت ہو گی۔ دوحہ میں دستخط کی تقریب دراصل افغان دھڑوں کے درمیان سیاسی مستقبل پر مذاکرات کا نقطہ آغاز ہو گی۔ افغان طالبان امریکی انخلا کے وعدے سے پہلے اس طرح کے مذاکرات پر تیار نہیں تھے۔ دوحہ میں دراصل امریکی فوجی انخلا کا تحریری وعدہ دیا جائے گا‘ جس کی ضامن عالمی برادری ہو گی۔ مشکل ترین مرحلہ افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات کا ہے، جس کا اندازہ تو سب کو ہے‘ لیکن افغان صدارتی الیکشن کے زیر التوا نتائج کا اچانک اعلان، اشرف غنی کی دوبارہ کامیابی اور عبداللہ عبداللہ کی طرف سے نتائج کو مسترد کیا جانا، آنے والی مشکلات کی ایک جھلک دکھاتا ہے۔ اگر افغان دھڑے کسی سیاسی حل پر متفق نہیں ہو پاتے تو امریکا کی طرف سے بھی انخلا کے وعدے سے مکر جانے کے امکانات موجود ہیں۔ اگر امریکا نے ہر صورت افغانستان سے نکلنے کی ٹھان لی ہے تو جس طرح وہ بن بلایا آیا تھا‘ اسی طرح وہ واپس بھی جا سکتا ہے۔ یہ دونوں صورتیں افغانستان میں امن کے امکانات کو معدوم کرنے اور خانہ جنگی کو ہوا دینے کے لیے کافی ہوں گی۔ اگر امریکا نے انخلا کا وعدہ پورا نہ کیا تو افغان طالبان بھی دہشتگردی روکنے کا وعدہ پورا کرنے کے پابند نہیں رہیں گے اور یوں بے گناہوں کا خون بہتا رہے گا۔
افغان دھڑے اگر مذاکرات میں سنجیدگی دکھاتے ہیں تب بھی ان مذاکرات کی تکمیل میں ایک سال یا اس سے زیادہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات میں سب سے مشکل سوال شراکت اقتدار کا فارمولہ ہو گا۔ تمام فریقوں کو شریک اقتدار کرنے کے لیے نظام حکومت اور افغان آئین میں تبدیلیاں بھی مشکل سوال ہے۔ افغان طالبان کی طرف سے نظام اور آئین میں تبدیلیاں ان کے مذہبی نقطہ نظر کے مطابق کرنے کا مطالبہ ہو گا اور افغان طالبان اس پر موقف میں لچک پیدا نہیں کریں گے۔
عارضی جنگ بندی یا تشدد میں کمی کے ہدف کو امن نہ چاہنے والی طاقتیں سبوتاژ بھی کر سکتی ہیں۔ دوحہ میں معاہدے پر دستخط کے بعد افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات کے دوران بھی پُرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہنے کا اندیشہ ہے جو مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان مذاکرات کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ ہی سب سے اہم عنصر ہو گا۔
افغانستان میں دیرپا امن کے لیے ایک غیر جانبدار ثالث کا ہونا بھی ضروری ہے جو تمام دھڑوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرے اور تمام فریق اس پر اعتماد بھی کریں۔ افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات میں امریکا تو کسی صورت ثالث نہیں ہو سکتا‘ لیکن امریکی حمایت کے بغیر بھی ثالث کا تقرر مشکل ہو گا۔ افغان امن کے لیے ثالث کے تقرر میں اس بات کا دھیان رکھنا ہو گا کہ وہ افغانستان کے ہمسایہ ملکوں کے لیے بھی قابل قبول ہو۔
افغان امن معاہدے سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔ امریکی صدر نے دو ہزار سترہ میں جنوبی ایشیا کے متعلق امریکی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان میں بھارت کے کردار کی بات کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ بھارت امریکا کے ساتھ تجارت میں اربوں ڈالر کماتا ہے‘ ہم چاہتے ہیں وہ افغان مسئلہ میں ہماری مدد کرے۔ ٹرمپ سے پہلے امریکی صدور افغان مسئلہ میں بھارت کو کوئی کردار دینے سے گریزاں تھے، اس کے باوجود بھارت نے افغانستان میں اثر و رسوخ کے لیے ہمیشہ کوششیں کیں۔ موجودہ امریکی صدر کی طرف سے کردار ملنے کے بیانات کے بعد بھارت کے عزائم اور کوششیں بڑھ گئی ہیں۔ افغان حکومت کے سکیورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب نے پچھلے ماہ بھارت کا دورہ کیا اور امریکی انخلا کی صورت میں بھارتی فوجی دستوں کو امن مشن کے طور پر افغانستان میں تعینات کئے جانے کے امکانات پر بات کی۔
افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کا کردار اہم ہے۔ افغانستان کے سیاسی مستقبل کے تعین میں بھارت کو کسی بھی طرح کا کردار دینے کا مطلب دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی جانی اور مالی قربانیوں کا انکار ہو گا۔ پاکستان کے خارجہ امور کے ذمہ داروں کو امریکی صدر کے دورہ بھارت اور اس کے نتائج پر نظر رکھ کر افغان مسئلہ پر بھرپور سفارتی مہم چلانا پڑے گی اور امریکا سمیت دنیا کو باور کرانا ہو گا کہ افغانستان میں بھارت کے کردار کا نتیجہ ایک نئی پراکسی جنگ کی صورت میں نکلے گا۔ کالعدم تحریک طالبان سمیت پاکستان کے اندر دہشتگردانہ کارروائیاں کرنے والے گروہوں کو بھارتی قونصل خانوں سے ملنے والی مدد کے ثبوت دنیا کے سامنے رکھنا ہوں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved