تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     26-05-2013

نوازشریف کو درپیش چیلنجز

ڈاکٹر مبشر حسن سے کسی نے پوچھاکہ اگر ’’نوازشریف آپ کو وزارت کی پیش کش کریں‘ تو آپ کا جواب کیا ہو گا؟‘‘ڈاکٹر صاحب نے برجستہ جواب دیا’’میں ان سے کہوں گا کہ وہ خود بھی وزیراعظم نہ بنیں۔‘‘ وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہی‘ نوازشریف کو جن بڑے بڑے تضادات کے ٹکرائو سے اپنی راہیں نکالنا ہوں گی‘ انہیں تلاش کرناآسان نہیں۔ وہ ڈرون حملوں کے خلاف موقف اختیار کر کے‘ ان عوامی تصورات کے گھوڑے پر بیٹھ گئے ہیں‘ جسے ایک مخصوص سوچ رکھنے والوں نے جذباتی دلیلوں سے تیار کیا ہے۔ وہ دلیلیں یہ ہیں۔ ڈرون حملوں کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بات کسی کو یاد نہیں کہ پاکستان کی سرزمین پر ‘ بیرونی دہشت گردوں نے‘ اپنے مراکز پہلے قائم کئے تھے یا ڈرون حملے پہلے شروع ہوئے؟ جن علاقوں میں ڈرون حملے ہوئے‘ وہاں کے مقامی لوگوں نے‘ ان پر کب احتجاج کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر ڈرون حملوں میں اصل دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا اور جو بے گناہ ان حملوں کا ہدف بنے‘ بیشتر حالات میں وہ دہشت گردوں کے یرغمالی تھے۔ وہ اس طرح کہ مسلح دہشت گرد کسی گھر یا ڈیرے پر قبضہ کر کے‘ مکینوں کو یرغمالی بناتے اور پھر وہاں گھر یا حویلی کے کسی محفوظ حصے میں پناہ لے لیتے۔ اکثر مقامات پر تو یوں ہوا کہ گھر‘ پہاڑ پر تھا تو انہوں نے سرنگ کھود کر اس کے نیچے اپنا ٹھکانا بنایا اور اوپر پرانے مکینوں کے خاندان اسی طرح بستے رہے۔ جب سراغ لگنے پر ڈرون سے چھوڑا گیا‘ راکٹ زیرزمین پناہ گاہ پر لگا‘ تو اس کے اوپر بسنے والے گھرانے کے افراد بھی نشانہ بن گئے اور شور یہ مچا کہ پرامن خاندان کو ہلاک کر دیا گیا۔ پاکستان کے دفاعی ماہرین اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ڈرون حملوں میں بے گناہوں کو نقصان پہنچانا مقصد نہیں ہوتا ۔ مگر ان کی آبادیوں میں پناہ گزین ہونے کی بنا پرپہلو بہ پہلو یا متوازی نقصان (Collateral Damage) ہوتا رہا ہے‘ جس سے بچنا کسی بھی جنگی صورتحال میں مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر دہشت گردوں کے حامیوں نے غیرارادی ہلاکتوں کو بنیاد بنا کر ایک جذباتی مسئلہ کھڑا کر دیا۔ جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں حرکت آ گئیں اور آج خود امریکہ میں بھی ڈرون حملوں کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ عالمی ردعمل اور خود امریکہ میں اٹھنے والی مخالفانہ آوازیں‘ امریکی حکومت کے لئے بھی پریشان کن ہیں۔ اس کے باوجود صدر اوباما نے اپنی تقریر میں ڈرون حملوں کی ضرورت پر اصرار کیا۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے بتا دیا ہے کہ امریکہ ڈرون حملے جاری رکھے گا۔ جو پاکستانی سیاستدان‘ صدر اوباما کی تقریر میں‘ اپنے موقف کی حمایت دیکھ کر بلندبانگ دعوے کر رہے ہیں‘ انہیں آج ہی پاکستان کی وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔ سفارتی امور کے ماہرین کا مرتب کردہ یہ بیان اصل حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک سپرپاور کا تصور اور پاکستان کی نئی منتخب قیادت کی سوچ میں گہرا تضاد ہے۔ نوازشریف اس تضاد کو کیسے حل کرتے ہیں؟ یہ ان کا پہلا امتحان ہو گا۔ بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لئے پورے برصغیر میں نوازشریف سے بڑی امیدیں وابستہ کر لی گئی ہیں۔ بھارت اور خود پاکستان میں اس محاذ پر ان کے عملی اقدامات کیا ہوتے ہیں؟ ان کا بے تابی اور بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ پاک بھارت تعلقات کے خلاف دونوں ملکوں میں مضبوط لابیاں پائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں ابھی سے بھارت کے ساتھ نرم پالیسی کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی ہیں اور یہ آوازیں کسی نہ کسی کے زیراثر ہیں۔ ایسی ہر آواز کے پیچھے طاقت کا کوئی نہ کوئی مرکز یا پاک بھارت کشیدگی سے فائدہ اٹھانے والا کوئی نہ کوئی سٹیک ہولڈر پایا جاتا ہے۔ پاک بھارت کشیدگی سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں اور استعداد بھی۔ ماضی میں دونوں ملکوں کی حکومتیں امن پالیسی کی طرف ایک قدم اٹھاتیں‘ تو انہیں اپنے ہی ملک کے اندر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر اوقات تو امن کی طرف پہلا قدم اٹھانے پر ہی جنگ کے بادل امڈ آتے ہیں۔ اس کی حالیہ مثال خودنوازشریف کا تجربہ ہے۔ انہوں نے بڑی بہادری سے بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکے کر کے‘ برصغیر میں طاقت کا نیا توازن پیدا کر دیا تھا اور ساتھ ہی یہ حقیقت بھی منوا لی تھی کہ آئندہ یہ دونوں ملک جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہ گئے۔ کیونکہ اس کا نتیجہ مکمل تباہی ہے اور یہ خطرہ کوئی پاگل ہی مول لے سکتا ہے۔ چنانچہ واجپائی لاہور آئے۔ اعلان لاہور جاری ہوا۔ بھارتی انتہا پسندوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدان نے پاکستان کے وجود کو تسلیم کر کے اکھنڈ بھارت کا نعرہ بیکار کر دیا۔ لیکن امن کے حق میں پیدا ہونے والی شاندار فضا ابھی ابتدائی مرحلوں میں تھی کہ چند پاکستانی جرنیلوں نے کارگل پر واردات کر کے‘ دونوں ایٹمی طاقتوں کو جنگ میں دھکیلنے کی حماقت کر دی تھی۔ نوازشریف نے اس احمقانہ مہم جوئی سے لاتعلقی ظاہر کر کے‘ زخم خوردہ واجپائی کے اشتعال میں کمی کی۔ ہم جنگ سے تو بچ گئے لیکن امن کی فضا دم توڑ گئی اور اس وقت سے آج تک‘ کشیدگی کسی نہ کسی صورت میں سر اٹھاتی رہتی ہے۔ وہ فضا آج بھی ختم نہیں ہوئی۔ ہم کم از کم دو مرتبہ جنگ کے کنارے پہنچ کر بچے ہیں۔ ایک مرتبہ بھارتی پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے وقت اور دوسری مرتبہ ممبئی میں دہشت گردی کے بعد۔ دونوں مواقع پر جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔ وہ فضا آج بھی برقرار ہے اور امن کے مخالفین کی طاقت 1999ء کے مقابلے میں اب کئی گنا زیادہ ہو چکی ہے۔ بھارت میں دور دور تک اب کوئی واجپائی نظر نہیں آ رہا اور بی جے پی کی حکومت‘ جس کی قیادت واجپائی کر رہے تھے‘ اب اس پارٹی کے اندر جلادصفت نریندرمودی کو وزیراعظم بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اگر یہ صورتحال رہی اور نریندرمودی نہ بھی آیا‘ تو ایک چھوٹا نریندرمودی آ جائے گا‘ واجپائی کے آنے کی کوئی امید نہیں اور کانگریس ہمیشہ سے ’’بغل میں چھری منہ میں رام رام‘‘ کی پالیسی پر گامزن رہتی ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان پر سارے حملے کانگریسی حکومتوں کے ادوار میں ہوئے اور امن کے حق میں بہترین امیدیں‘ اس وقت بیدار ہوئیں‘ جب بی جے پی کی حکومت تھی۔ برصغیر کے عوام بدقسمت ہیں کہ ان مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ نوازشریف آج کے بھارت کے ساتھ امن بحال کرنے کی کوششوں میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں؟ اس سوال پر انہیں ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران (جو کہ شروع ہو چکا ہے)‘ امریکی وہاں جنگ میں تیزی نہیں چاہتے۔ حامد کرزئی اور منصب صدارت کے لئے امیدوار ‘یعنی ان کے بھائی دونوں ہی پاکستان کے بارے میں اچھے تصورات نہیں رکھتے۔ وہ خطے میں بھارتی مفادات کو فروغ دینے کے حامی ہیں اور اسی نظر سے پاکستان کو دیکھتے ہیں۔ کرزئی کی بدنیتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بیرونی افواج کے انخلا کے وقت میں جبکہ انہیں ہم سے زیادہ امن کی ضرورت ہے اور پاکستان کا تعاون درکار ہے‘ انہوں نے سرحدی جھگڑے کھڑے کر دیئے ہیں۔ پاک افغان سرحدوں پر جھڑپیں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ جن کا دائرہ کسی وقت بھی پھیل سکتا ہے۔ ساتھ ہی کرزئی نے ایک ایسے تنازعے کو ہوا دینی شروع کر دی ہے‘ جو وقت کی پہنائیوں میں گم ہو چکا تھا۔ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ عملی طور پر طاق نسیاں کی زینت بن چکا تھا۔ لیکن کرزئی نے گرد میں دبی ہوئی فائلوں کو نکال کر‘ تنازعے میں جان ڈالنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ان کے ارادوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ کابل اور اسلام آباد میں کشیدگی کے شعلے بھڑکانا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے امریکہ اس صورتحال پر خوش نہیں ہو سکتا۔ وہ طالبان کی طرف سے پیدا ہونے والی بدامنی کو روکنے کی خاطر پاکستان کی مدد چاہتا ہے اور کرزئی پاکستان کو تصادم کی طرف دھکیلنے میں لگے ہیں۔ نوازشریف کو اس تضاد کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ وہ امن کے لئے راستہ نکالنے کی کیا تدبیر کرتے ہیں؟ اس پر بھی خطے میں امن کے مستقبل کا دارومدار ہو گا اور آخری تضاد خطے کی سیاست میں نوازشریف کی سٹریٹجک پوزیشن ہے۔ وہ سعودی عرب کی طرف زیادہ جھکائو رکھتے ہیں۔ پاکستان کے لئے ایرانی توانائی کا حصول انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر ہم ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے تحت جلد سے جلد تیل اور گیس حاصل نہیں کرتے‘ تو لوڈشیڈنگ کی مدت طویل ہو جائے گی اور ہماری معیشت کا پہیہ چلنے میں مزید کئی سال لگ جائیں گے۔ اس دوران ہمارے حالات بھی مزید بگڑیں گے اور اگر ایران سے توانائی حاصل کرنے کے انتظامات کو زیرعمل لایا جاتا ہے‘ تو پھر سعودی عرب کا ردعمل کیا ہو گا؟ اس کا اندازہ ہر کوئی لگا سکتا ہے۔نوازشریف کو اس مشکل سے نکلنے کی تدبیر بھی کرنا ہو گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئی منتخب حکومت ان چیلنجز کا سامنا کیسے کرتی ہے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved