تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     27-03-2020

کل کے کاموں کا بوجھ

ایسا معلوم ہوتا ہے‘ وقت تھمنے لگا ہے۔ سب ضروری اور غیر ضروری مصروفیات یکدم ایک جھٹکے کے ساتھ بے معنی اور بے وقعت ہو چکی ہیں۔ آنے والے ہفتوں‘ مہینوں اور برسوں کے لئے فقط اس نا چیز نے ہی نہیں‘ سب لوگوں نے اپنی عمر‘ پیشے اور دلچسپیوں کے مطابق منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ یہی بات ہم تمام عالم انسانیت کے بارے میں کہہ سکتے ہیں۔ آخر کار بات وہیں پہ ٹھہری‘ جو دانش مند اور اہل فکر صدیوں بلکہ ہزاروں برسوں سے کہہ رہے ہیں کہ انسانی زندگی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی۔ سب کو معلوم ہے کہ بے ثباتی کیا ہوتی ہے‘ مگر ادھر دھیان کم یا ہرگز نہیں جاتا۔ ہم اپنے کام کاج‘ کاروبار‘ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور پیسہ جمع کرنے کی فکر کے علاوہ سماجی حیثیت‘ مقام اور دھن دولت میں بڑھوتری کی فکر میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ برق رفتاری سے گزرتے ہوئے ماہ و سال کو تھامنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ ہم تو فقط چلتی دوڑتی دنیا کے ساتھ خود بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ بچپن سے لے کر تعلیمی اداروں اور جوانی تک ہماری شخصیت کی تشکیل کے مختلف مراحل میں جاری و ساری رہتا ہے۔ ہم جو کچھ ہیں‘ زیادہ تر معاشرے کا عکس ہے۔ اس کے طور طریقوں سے بغاوت کی جا سکتی ہے‘ لیکن لوگ اگرچہ بہت کم الگ سے اپنا راستہ‘ اپنی منزل اور منفرد طرزِ زندگی اختیار کر سکتے ہیں۔ ہمارے جیسے روایتی معاشرے میں سماج کے ساتھ چلنا ایک جبر ہے کہ انفرادیت کا فلسفہ ابھی اپنی جگہ نہیں بنا پایا۔ بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاں بھی انفرادیت آہستہ آہستہ اپنے جھنڈے گاڑے گی۔ یہ سب کچھ تیزی کے ساتھ بغیر کسی اعلان اور نظریاتی مباحث کے ہو جاتا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ دنیا کا کوئی معاشرہ کبھی اپنی سرحدوں کے اندر مقید نہیں رہا ہے‘ عالمی رجحانات کے ساتھ جڑ پکڑ چکا ہے۔ 
جدید دنیا کے ترقی اور کامیابی کے فلسفے نے دورِ جدید کے انسان کو صدیوں سے مشینی زندگی میں تبدیل کر رکھا ہے۔ مشینوں کا استعمال نہیں‘ بلکہ خود ایک مشین کی صورت۔ ربط‘ باقاعدگی اور ایک ہی محور میں زندگی گزارنے کا مسلسل عمل۔ کامیابی کی خواہش نے سب کی دوڑیں لگوا رکھی ہیں کہ کہیں مسابقت میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ صنعتی دور میں سب لوگ سب لوگوں کے ساتھ مقابلے میں ہیں‘ لیکن ہر ایک اپنے میدان‘ شعبۂ زندگی‘ ہنر اور ادارے کی نوعیت کے اعتبار سے سرگرم ہے۔ ترقی‘ خوشحالی‘ سہولت اور ''کامیابی‘‘ محنت‘ لگن اور کام اور صرف کام سے عبارت ہے۔ 
سماجی علوم کے ماہرین کا خیال ہے کہ گزشتہ نصف صدی میں جس تیزی سے دنیا تبدیل ہوئی‘ جس سرعت کے ساتھ صنعتی ترقی مشاہدے میں آئی اور جس برق رفتاری سے ٹیکنالوجی کو فروغ ملا‘ ان خیرہ کن تبدیلیوں کے لیے انسان نفسیاتی طور پر تیار نہ تھا۔ ہم ایک ایسی دوڑ میں پڑ گئے‘ جس کے لیے کبھی نہ تو ہماری مکمل تربیت ہوئی اور نہ ہی ہمیں اس بات کا ادراک تھا کہ اس ''کامیابی‘‘ کی وجہ سے آخر کار مسئلہ کیا ہو گا۔ مکان‘ گاڑی‘ سماجی مقام‘ شہرت‘ نام اور دولت میں سے سب یا کچھ‘ خواب سب کا دنیا کے ایک کونے سے لے کر دوسرے کونے تک یہی ہے کہ کامیابی سے کسی نہ کسی طرح سرفراز ہوں۔ میری نسل کے لوگوں کی ابتدا اور شروعاتی پرورش زرعی‘ دیہی معاشرے میں ہوئی۔ میں اس نوعیت کے معاشروں کو پس ماندہ ہرگز نہیں سمجھتا‘ کیونکہ ترقی اور پس ماندگی کے معیار مصنوعی اور خود ساختہ ہیں۔ ہم اس دوڑ کے لیے تیار نہیں تھے۔ بالکل اسی طرح جب مغرب میں سرمایہ داری نظام جڑ پکڑنے لگا تو ترقی کی چمک‘ آزادی کا تصور بہت جاذب تھے۔ شہر بسنا شروع ہوئے۔ لوگ زراعت سے نکل کر اس نئی معیشت میں رچ بس گئے۔ سب بہت خوش تھے۔ ہر نوع کے جدت پسند جاگیردارانہ معاشرے کی ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت کو انفرادیت اور جدید جمہوری معاشرے کی فتح قرار دیتے ہیں۔ آزادی کا تصور ضمیر اور عقیدے سے لے کر کچھ بننے اور اپنی زندگی کی ڈگر خود تلاش کرنے تک بہت سہانا اور پُر کشش رہا ہے۔ آئینی اور قانونی طور پر تو یہ آزادی سب کو میسر ہے‘ مگر حقیقی آزادی کا تعلق ہر فرد کی اقتصادی استعداد سے ہے۔ اگر آپ کے پاس تعلیم‘ ہنر‘ جائیداد‘ پیسہ‘ دولت اور کاروبار نہیں‘ تو غربت اور محتاجی میں قانونی طور پر حاصل کردہ آزادیاں دم توڑ دیتی ہیں۔ مادیت پرستی کے جدید دور میں دستِ نگر ہونا انسان کو انسانیت سے محروم کر دیتا ہے۔ معاشی آزادی سب کی خواہش‘ خواب کی تعبیر اور زندگی کی دوڑ میں ایندھن کا کام کرتی رہی ہے۔
اس دوڑ کو اس ناچیز نے امریکہ‘ یورپ اور دیگر ممالک میں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میں خود اس دوڑ میں شامل رہا ہوں اور ابھی تک بھاگم بھاگ میں روز و شب گزرتے رہے ہیں۔ ہفتہ وار دو چھٹیاں دم لینے کے لیے ہیں‘ کہ کہیں انسان کام کرتے کرتے مفلوج اور بیکار نہ ہو جائے۔ اسے تازہ دم کرنے کے لیے اکثر جگہوں پہ اڑتالیس گھنٹے (دو دن) دفتر سے دور کر دیا جاتا ہے۔ ایسا نہ کرنے سے اس کی پیداواری صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔
انیسویں صدی کے آخر میں جب امریکہ کی سول وار ختم ہوئی تو وہاں لوگ ترقی اور ترقی پسندی کی طرف ایسے مائل ہوئے کہ پیچھے پلٹ کر کبھی نہ دیکھا۔ اینڈریو کارنیگی نے ایک مختصر سا پمفلٹ لکھا تھا‘ جو کروڑوں کی تعداد میں بکا تھا۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ آپ کیسے دولت کما کر امیر بن سکتے ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ سو سال سے سب سے زیادہ چھپنے اور بکنے والی کتابوں کا تعلق کامیابیوں کا راز تلاش کرنے سے ہے۔ وطن عزیز میں ان کتب کے چربے ہر جگہ دستیاب ہیں۔ دوسری جانب ایسے اہل علم و دانش بھی مغرب اور ہمارے معاشروں میں پیدا ہوئے ہیں‘ جو قناعت‘ ٹھہرائو اور زندگی کی دوڑ سے گریز کا درس دیتے رہے ہیں۔ یہ کہ سب کچھ یہیں رہ جائے گا کہ مال و اسباب کو صرف اکٹھا ہی نہ کرتے رہو‘ بلکہ جو ہے‘ اس کو غنیمت جانو‘ شکر کرو اور اس سے لطف اٹھائو۔ مقابلوں اور موازنوں سے نکلنا بہت بڑی جرأت مندی ہے۔ وہ بھی ہیں جو مال و دولت کی دُھن میں لگ کر امیر و کبیر ہو سکتے ہیں مگر زندگی اور اس کی دوڑ کو کچھ اور زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ قناعت پسندی کا شعار ہی ہمیں زندگی کا فطری ادراک بخش سکتا ہے۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ خالی خیالی باتیں ہیں‘ کون ایسا کرتا ہے؟ جو ایسا سوچ سکتے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا نایاب گُر پا لیتے ہیں ان کی زندگی ٹھہرائو‘ مشاہدہ‘ وسیع مطالعہ اور وقت کی قدر جیسی دولت سے مالا مال ہوتی ہے۔
پتہ نہیں ہم زندگی کو کیا سمجھ بیٹھے ہیں۔ وقت ہی تو زندگی ہے‘ اگر یہ بھی ہم کھو بیٹھیں تو وہ کامیابی اور دولت کس کام کی؟ وقت کی اہمیت کا راز یہ ہے کہ دن رات کی گردش کی غلامی سے نجات حاصل ہو‘ مگر یہ موجودہ سرپٹ دوڑتی زندگی میں کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ روزی کی تلاش‘ کمائی کا شغف اور دولت کے انبار کی خواہش ہر جگہ غالب نظر آتی ہے۔ وقت کو تھامنے کے لیے وہ جبری بریک لگانا ہو گی جو بڑے حادثے سے بچنے کے لیے لگائی جاتی ہے۔ بعض اوقات بریک بھی کام نہیں کر سکتی کہ بر وقت کام میں نہ لائی جا سکی۔ تاریخ میں دنیا نے تیز رفتار زندگی میں کبھی بریک پہ اتنی زور سے پائوں نہیں رکھا‘ جس طرح ہم گزشتہ ایک ماہ سے دیکھ رہے ہیں۔ شاید وہ سبق ہمیں پھر سے از بر ہو جائے جو کامیابی کے کئی سرابوں کے دھوکے میں بھول چکے ہیں۔ وقت ہی تو حقیقت میں زندگی ہے۔ ابھی جو ہے‘ بہت تیزی سے گزر جائے گا۔ رکیں‘ ذرا سانس لیں‘ تازہ دم ہونے کی مہلت ملی ہے۔ بہت عرصے بعد یہ تنہائی‘ یہ خلوت ملی ہے۔ میں کل کے کاموں کے بوجھ سے اپنے آپ کو ہلکا محسوس کر رہا ہوں۔ اپنے لئے اور آپ سب کے لیے دعا اور خواہش کہ دوڑ سے باہر‘ کوئی الگ منزل اور مقام بنا سکیں۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved