تحریر : اسلم اعوان تاریخ اشاعت     28-03-2020

وبائی امراض اور جدید انسانی تمدن

چین کے شہر ووہان سے پھوٹنے والی کورونا وائرس کی وبا دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گئی ‘یورپ کے بعض متمول ممالک میں کورونا وائرس سے ہزاروں انسان لقمۂ اجل بن گئے۔جمعہ کی شام تک کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وبا نے اٹلی میں آٹھ ہزار سے زائد انسانوں کی جان لے لی ہے‘قبل ازیں چین میں اسی وبا سے چار ہزار کے قریب ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں۔ اس وقت تک اس وبا سے ہلاک ہونے والوںکی مجموعی تعداد چوبیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔پاکستان میں کورونا وائرس سے جن پہلی دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ان میں مردان کا پچاس سالہ سعادت خان‘جو عمرہ اداکرکے سعودی عرب سے لوٹا تھا جبکہ دوسرا ہنگو کا رہائشی چھتیس سالہ سعید احمد تھا‘جو یو اے ای کے سفرسے واپس آنے کے بعد پشاور میں مقیم تھا۔ اسی طرح ایران سے واپس پلٹنے والے زائرین میں کورونا کے بہت سے مریض پائے گئے ہیں۔تاحال چین کے راستے پاکستان میں کورونا کا کوئی مریض داخل نہیں ہوا‘اس سے ظاہر ہوتا کہ حکومت کا چین میں مقیم طلبہ اور شہریوں کو واپس نہ لانے کا فیصلہ درست تھا۔
جن یورپی ممالک نے ووہان میں وبا پھیلنے کے بعد چین سے اپنے شہریوں کو نکال لیا انہی ملکوں میں کورونا کی تباہ کاریاں پھیلتی چلی گئیں۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے ایران سے پلٹنے والے زائرین کی سکریننگ کیلئے ڈیرہ اسماعیل خان میں بڑا قرنطینہ مرکز قائم کر لیا‘جہاں اب تک 201 زائرین کو سکریننگ آؤٹ اور کم وبیش اڑھائی سو مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے بتایا کہ کورونا وائرس ٹیسٹ لینے والی صوبہ بھر کی واحد لیبارٹری یومیہ سو ٹیسٹ کرسکتی ہے‘ اس لیبارٹری کی صلاحیت600 ٹیسٹ یومیہ تک بڑھانے کیلئے کوشاں ہیں‘ڈیرہ اسماعیل خان کے مرکزی قرنطینہ سنٹر کو آٹھ وینٹی لیٹرز مہیا کر دیئے‘ وبا پہ قابو پانے کی خاطر صوبہ بھر کے35 اضلاع کوایک ارب73 کروڑ روپے جاری کردیئے گئے۔صوبہ میں دفعہ 144 کا نفاذ کر کے پہلے مذہبی‘سیاسی و سماجی اجتماعات کو ممنوع اور تفریح گاہوں میں داخلے پہ پابندی کے علاوہ سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند کئے گئے‘اب 29مارچ تک صوبہ بھر میں لاک ڈاؤن کر کے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری سمیت سرکاری دفاتر‘بازار‘مارکیٹیں ‘ہوٹلز اور ریسٹورنٹ بند کرا دیئے ہیں‘ تاہم ادویہ‘کریانہ‘دودھ‘بیکرز‘ پھل اور سبزیاں‘پٹرول پمپ اور موٹر مکینکس کی دکانیں لاک ڈاؤن کی پابندی سے مستثنیٰ ہیں‘ لیکن شہروں میں صفائی کی ناگفتہ بہ صورتحال پہ توجہ نہیں دی گئی۔لاک ڈاؤن اور سرکاری دفاتر کی بندش کے بعد تو اندرون شہر کی گلیاں غلاظت سے بھر گئی ہیں۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ وائرس پیداکیسے ہوا؟اس حوالے سے پہلی تھیوری یہ سامنے لائی گئی کہ کورونا وائرس سانپ اور چمگادڑکے (Genetical infusion) جینیاتی ادخال سے تخلیق ہوا‘ لیکن اس تھیوری کو تحقیق کی کسوٹی پہ پرکھنا ابھی باقی ہے‘ تاہم دنیا بھر کے ماہرین طب کورونا وائرس کے آوٹ پٹ کو سامنے رکھ کر اس کے ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہیں۔چند دن قبل امریکی شہری مائیکل کاؤڈرے نے ٹویٹ کیا تھا کہ فرانسیسی ماہرین نے ہائیڈرو کلوروکوئین اور ازتھرومائی سین کے اتصال سے پانچ دنوں میں کورونا کا علاج دریافت کر لیا۔اسی ٹویٹ کو لے کر صدر ٹرمپ نے بھی کلوروکوئین سے کورونا کے علاج کی نوید سنا دی‘ لیکن اس دوا کے مؤثر ہونے بارے مستند تحقیق سامنے نہیں آئی ۔ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ یہ وائرس فضا میں کتنی دیر زندہ رہتا ہے اوراس کے انتقال کو روکنے کیلئے ماسک‘دستانے‘سینی ٹائزر یا سماجی دوری کتنی مؤثر ہے؟
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کورونا کی روک تھام کیلئے لاک ڈاؤن کو بیکار قرار دے دیا ہے‘الغرض کورونا سے بچنے یا اس وبا کے علاج کے حوالے سے آنے والی متضاد آراء کے بعد تو کسی حفاظتی تدبیر یا طریقہ ٔعلاج پہ بھروسہ کرنا ممکن نہیں رہا۔اس وبا کی سحرانگیزیوں نے ریاستوں کی استعداد کار پہ بھی سوالات کھڑے کردیئے‘اسی ضمن میں اہم ٹویٹ امریکہ کی سابق وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کا تھا‘ جس نے بتایا کہ سکیورٹی ایجنسیز نے جنوری میں وائٹ ہاؤس اور کانگریس کو بتا دیا تھا کہ کورونا کی وبا پھوٹ سکتی ہے‘ لیکن کسی نے اس پہ توجہ نہیں دی۔لیکن چین نے مختصر وقت میں کورونا وبا پہ قابو پا کر جدید انسانی تمدن پہ برتری حاصل کر لی۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لی جیان نے یہ کہہ کر کہ ''امریکیوں نے مان لیا کہ 2019 ء میں کورونا کے چند مریضوں کی درست تشخیص نہیں کر سکے‘‘ امریکی مقتدرہ کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چین اور امریکہ ایک دوسرے پہ کورونا وبا پھیلانے کی ذمہ داری عائد کرکے اس المیہ کو ایسی بیالوجیکل وار میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جو نوع انسانی کو وبائی خوف(Epidemic Terror) میں مبتلا کر کے تہذیبی و اقتصادی تبدیلیوں کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ماضی میں بھی دنیا کی سب سے بڑی بازنطینی سلطنت اور رومن تہذیب طاعون کی وبا سے اجڑی تھی۔بعید نہیں کہ اب بھی مشرق ومغرب کی خوشحال ریاستیں ایسی وبا کا شکار بن جائیں۔
کورونا وبا کی صرف ایک لہر نے چین کو 404 کھرب ڈالر کا نقصان پہنچایا‘ممکن ہے چینی معیشت یہ خسارہ برداشت کر لے لیکن ایران‘عراق‘ ملائیشیا‘انڈونیشیا اور یورپ کی چھوٹی ریاستیں اقتصادی بوجھ تلے دب سکتی ہیں۔وبا نے خاص طور پہ سیاحت کی انڈسٹری کو ناقابل بیان زک پہچائی۔ایران‘عراق‘سعودی عرب اور روم کی عباد گاہیں اور مزارات‘ جہاں دنیا بھر سے ہر روز لاکھوں زائرین آتے تھے‘سب بند کر دی گئی ہیں۔اٹلی‘فرانس اور جرمنی کے بڑے شہروں کی پرہجوم مارکیٹیں جن پہ چینی تاجروں کا تسلط تھا‘اب اجڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔حتیٰ کہ دنیا کی ناقابل تسخیر قوت‘امریکہ‘کی ریاستی مقتدرہ پہ خوف طاری ہے‘لیکن اس کے باوجود جدید انسان کی ذہنی فسوں کاریوں کا اعجاز دیکھئے کہ کورونا وبا کے طلسماتی خوف کی لہروں کے ساتھ عالمی سیاست کی حرکیات بھی رقص کرتی نظر آتی ہیں۔
یورپی میڈیا نے خبر دی ہے کہ امریکی فوجی قیادت نے کورونا وبا پھوٹنے کی صورت میں متبادل منصوبہ بندی کر لی ہے کہ اگر سیاسی قیادت کورونا کا شکار ہوئی تو فور سٹار جنرل مارشل لاء نافذ کر دیں گے۔ریاستی مقتدرہ کی اسی سوچ سے عیاں ہے کہ معاشی جنگ کے آلات‘ جن میں مالیاتی وسائل اور ابلاغ کے ادارے شامل ہیں‘اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ ریاستی پالیسیوں کو کنٹرول کرنے کے علاوہ جب چاہیں مملکتوں کو مفلوج اور معاشروں کو گمراہ کر سکتے ہیں‘گویا سرمایہ دارانہ تمدن بلیک ہول کی مانند خیر کی ہرقدر کونگل رہا ہے۔اسی نظام کی دسیسہ کاریوں نے ریاست اورسماج دونوں کو پا بہ زنجیر بنا دیا ہے۔دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ بھی اُن ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاتھوں بے بس ہے جو ذرائع ابلاغ اور مالیاتی وسائل پہ اجاری داری کی بدولت جنگ و امن کوریگولیٹ کرنے لگی ہیں۔اس کے برعکس چین‘روس اور ایران جیسی ریاستیں جہاں اکانومی نیشنلائز ہے‘ وہاں ریاست کی حاکمیت اعلیٰ محفوظ اوراقتصادی نمو روز افزوں ہے۔
اس وقت اقتصادی مقابلے کا پلڑا مشرق کی طرف جھکتا دیکھ کر امریکہ اور یورپ کی ہوشیار اشرافیہ اسی وبائی خوف کی آڑ میں بلادِ مغرب سے سرمایہ دارانہ جمہوریت کی بساط لپیٹ سکتی ہیں۔ یورپ کی کئی مملکتیں پہلے ہی جزوی طور پہ اپنے مالیاتی نظام کو ریاست کے کنٹرول میں لانے کے تجربات آزما رہی ہیں۔ابھی حال ہی میں برطانیہ اور امریکہ نے مالی مشکلات میں گھرے کئی بینکوں کو قومیا لیا ہے۔ہماری مملکت میں بھی ایک بڑا میڈیا ہاؤس اور کئی پراپرٹی ٹائیکون ریاستی اتھارٹی پہ اثر انداز ہونے کی کوشش میں سرگرداں ہیں‘اگرچہ ہمارے حکومتی اہلکاروں کو نااہل‘جانبدار اور بددیانت سمجھا جاتا ہے‘ لیکن سچ پوچھئے تو یہ بات غنیمت ہو گی کہ یہ وسائل ریاست کے اختیار میں ہوں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved