تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     27-05-2013

سرخیاں اُن کی، متن ہمارے

کارکن بلدیاتی الیکشن کی تیاری کریں …نواز شریف نامزد وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ’’کارکن بلدیاتی الیکشن کی تیاری کریں‘‘ جبکہ اس دوران اس کام کے لیے اپنے ایم پی اے حضرات کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے جن کے ہاتھوں سے اختیارات نکل کر مقامی حکومتوں کو جاتے ہیں اور سارے کاسارا ڈویلپمنٹ فنڈ ان کی بجائے منتخب بلدیاتی عہدیداروں کو دینا پڑے گا جس سے بڑا ظلم ان کے ساتھ اور کوئی نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ حضرات لاکھوں کروڑوں خرچ کرکے منتخب ہوئے ہیں، آخر انہوں نے یہ خرچے کہاں سے پورے کرنے ہیں۔ علاوہ ازیں، اگر یہ کام اتنا آسان ہوتا تو ہم اپنے گزشتہ پانچ سالہ دور میں ہی کرکے دکھادیتے، تاہم کارکن اپنی تیاری ضرور رکھیں، اگر اس بار نہیں تو اگلی بار بلدیاتی الیکشن ضرور کرادیں گے اور ’گے ‘ کا لفظ ایسا ہے جو موجودہ دور میں ہمارے بہت کام آئے گا کہ انشاء اللہ ہم یہ بھی کردیں گے اور وہ بھی کیونکہ کرنا تو سارا کچھ اللہ میاں نے ہے جن کی مرضی کے بغیر ایک پتہ تک نہیں ہل سکتا، ہمارا کام تو پورے خلوص نیت کے ساتھ وعدے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا چاہتے ہیں‘‘ اس لیے جن گھروں میں دہلیزیں نہیں ہیں وہ انہیں فوری طورپر لگوالیں، ہیں جی؟ آپ اگلے روز سرگودھا میں ملک نوید سے گفتگو کررہے تھے۔ خیبرپختونخوا میں ماڈل حکومت قائم کریں گے …عمران خان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ’’خیبر پختونخوا میں ماڈل حکومت قائم کریں گے ‘‘ اس لیے مختلف ماڈلز پر نہایت سنجیدگی سے غورہورہا ہے جو امید ہے کہ ایک آدھ سال میں مکمل ہوجائے گا کیونکہ ہم کوئی بھی کام جلد بازی میں نہیں کرنا چاہتے جو شیطان کا کام ہے چنانچہ ماڈل حکومت کی سونامی بھی اسی رفتار سے آئے گی جس رفتار سے انتخابات میں آئی تھی جبکہ سونامیاں رفتار کے لحاظ سے بالکل پیدل واقع ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’عوامی مسائل حل کریں گے‘‘ اگرچہ زیادہ ترووٹ ہمیں خواص ہی نے دیئے ہیں کیونکہ اکثر عوام کرکٹ کی بجائے گلی ڈنڈا کھیلتے ہیں، اس لیے وہ بلّے سے زیادہ واقف نہیں ہیں؛ چنانچہ آئندہ ہم ڈنڈے کا انتخابی نشان حاصل کرنے پر غور کررہے ہیں کیونکہ بلے سے پھینٹی بھی نہیں لگائی جاسکی۔ انہوں نے کہا کہ ’’کرپشن کے خاتمہ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے ‘‘ اگرچہ یہ وسائل خود کرپشن کے خطرے سے دوچار ہوں گے، تاہم اس سلسلے میں ہم پیپلزپارٹی سے بھی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ انہوں نے کرپشن کیسے ختم کی اور ہوسکتا ہے یوسف رضا گیلانی ، راجہ اشرف پرویز اور منظور وٹو کی خدمات حاصل کرکے تحریک کے لیے کچھ ریفریشر کورسز بھی کروائے جائیں کیونکہ تجربے کا بہرحال کوئی بدل نہیں ہے۔ آپ اگلے روز کوئٹہ کے پارٹی رہنمائوں سے گفتگو کررہے تھے۔ عمران دھاندلی چھپانے کے لیے احتجاج کررہے ہیں …فضل الرحمن جمعیت العلمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ’’عمران خان دھاندلی چھپانے کے لیے احتجاج کررہے ہیں‘‘ جبکہ اللہ کے فضل سے ہم نے اپنی کوئی چیز کبھی نہیں چھپائی اور ہماری حیثیت الحمد للہ ایک کھلی کتاب کی طرح ہے جسے پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارا شاندار ماضی سب کے سامنے ہے کہ ہم نے کبھی کوئی لالچ نہیں کیا اور مراعات سمیت روپے پیسے کا کبھی لالچ نہیں کیا کیونکہ یہ نعمتیں ازخود ہی ہمارے دروازے پر دستک دیتی رہی ہیں جن کے لیے دروازہ کھولنا ہمارا اخلاقی فرض بھی تھا اور جن کی ایک فہرست نواز لیگ بھی ہمارے تیار کررہی ہے جس پر باقاعدگی سے غور کیا جائے گا کیونکہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور کوئی کام بھی مشاورت کے بغیر نہیں کرتے جبکہ مشورہ دینے والے زیادہ ترخود بھی سٹیک ہولڈر ہوتے ہیں اور ان کی درویشانہ ضروریات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ، انہوں نے کہا کہ ’’ہم دھرنا دے کر بڑا دھاوا بول سکتے ہیں مگر ہم معمولات زندگی کو مفلوج نہیں کرنا چاہتے‘‘ کیونکہ معمولات زندگی کے مفلوج ہونے کا اثر ہم پر بھی پڑے گا جبکہ ہمارے معمولات سے ہر حکومت کماحقہ واقف ہوتی ہے اور ان کا احترام کرتی ہے جبکہ اس حمام میں سب کے ساتھ ہم بھی غسل فرمارہے ہیں، ماشاء اللہ۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک بیان جاری کررہے تھے۔ مسلم لیگ ن کے مینڈیٹ پر سوالیہ نشان ہے …خورشید شاہ پیپلزپارٹی کے رہنما اور متوقع اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ’’مسلم لیگ ن کے مینڈیٹ پر سوالیہ نشان ہے ‘‘ جبکہ ہماری پانچ سالہ کارکردگی پر کوئی بھی سوالیہ نشان نہیں ہے بلکہ سارے کے سارے ہی جوابیہ نشان ہیں کیونکہ ہرچیز صاف اور شفاف نظر آرہی تھی اور کسی کو اس بارے کوئی سوال کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اور اس دیدہ دلیری پر ہرشخص حیران بھی تھا جبکہ ہم نے جرأت اور جوانمردی کے کئی ریکارڈ بھی قائم کیے ہیں جنہیں رہتی دنیا تک کوئی نہیں توڑ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن توہین عدالت کی باتوں سے نہ ڈرائے‘‘ کیونکہ اپنے دو وزرائے اعظم سمیت یہ توہین عدالت ہم نے خوب بھگتی ہوئی ہے جبکہ ہم غیرمشروط معافی مانگنا اور اپنے آپ کو عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’مسائل حل کرنے میں نئی حکومت کے لیے مدد کریں گے ‘‘ اور اپنے بے پناہ تجربے کو بروئے کار لائیں گے کہ کس طرح ہم نے عوام کے جملہ مسائل چٹکیوں میں حل کردیئے ، شرپسند لوگ جنہیں ہمارے اپنے مسائل سمجھتے ہیں لیکن ہم نے کبھی اس کی پروا نہیں کی اور اس نیک کام میں دونوں ہاتھوں سے لگے رہے کہ اللہ برکت ڈالنے والا ہے اور جو سب کی آنکھوں کے سامنے بھی ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ نگرانوں کا کام انتخاب کرانا تھا اب گھر چلے جانا چاہیے …سیٹھی نگران وزیراعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ’’نگرانوں کا کام انتخاب کرانا تھا۔ اب گھر چلے جانا چاہیے ‘‘ اگرچہ مجھے تو گھرجانا بھی نصیب میں نہیں لگتا کیونکہ پردیس بھجوانے کی تیاریاں ہورہی ہیں کہ انتخابات میں جتنی خدمت میں نے اس صوبے کی کی ہے اس کے عوض امریکہ میں پاکستانی سفارت تو ویسے بھی میرا حق بنتا تھا جب کہ خودامریکہ نے بھی اشاروں اشاروں میں اپنی پسند کا اظہار کردیا ہے جبکہ حالیہ تعیناتی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی کیونکہ وہی سہاگن کہلائے جو پیامن بھائے۔ اگرچہ اس عمر میں سہاگن بننا کچھ عجیب سا لگتا ہے اور ابھی اس سلسلے میں برادرم حسین حقانی سے بھی ضروری ٹپس حاصل کرنا ہیں کیونکہ امریکہ میں پاکستان کی سفارت کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ اس میں امریکہ کی نمائندگی ذرا زیادہ ہوتی ہے جبکہ پاکستان تو اپنی نمائندگی کے لیے اکیلا خود ہی کافی ہے جیسا کہ ہراپنے پائوں پر کھڑا ملک ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ نے واضح طورپر فیصلہ کیا ہے کہ ’’نگران بنیادی فیصلے کرنے کے مجاز نہیں ہیں‘‘ لیکن وزیراعظم صاحب چونکہ زیادہ نگران ہیں اس لیے وہ یہ خدمت بھی سرانجام دے رہے ہیں اور دن رات تبادلے وغیرہ کررہے ہیں تاکہ آئندہ حکومت کو مشکلات پیش نہ آئیں کیونکہ ان کے کرنے کو اور بہت سے کام بھی ہوں گے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ آج کا مقطع مکان بیچ کے تاوان بھر دیا ہے ،ظفرؔ اور‘ اپنے لخت جگر کو چھڑا لیا گیا ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved