تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     06-04-2020

وبا یا بلا…

کورونا وبا ہے یا بلا؟ یہ معمہ جلد یا بدیر حل ہو ہی جائے گا۔ آئے روز کوئی نہ کوئی نئی تھیوری سننے اور پڑھنے کو مل رہی ہے۔ کوئی اسے وبا ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے تو کوئی وبا ماننے کو تیار نہیں اور اسے بائیولوجیکل جنگ قرار دے رہا ہے۔ جنگ جوہری ہو یا بائیولوجیکل ‘ صحیح اور غلط کا فیصلہ نہیں کرتی بلکہ یہ بتاتی ہے کہ بالآخر بچا کون۔ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ یہ بھید جاننے کے لیے بس حتمی بینیفشری پر نظر رکھنا ہو گی۔ چین کا میڈیا پوری دنیا کو یہ دکھا رہا ہے کہ وہ نہ صرف اس بد ترین صورت حال پر قابو پر پا چکا ہے بلکہ اس کی اقتصادی بالا دستی بھی قائم و دائم ہے جبکہ روس کا میڈیا ایک مخصوص تھیوری پر فوکس کیے ہوئے ہے‘ جو اس کورونا کو وبا ماننے کو ہرگز تیار نہیں۔ دوسری طرف ان دونوں ممالک کے ٹی وی چینلز اس تاثر کو بھی تقویت دیتے نظر آتے ہیں کہ امریکہ اس کورونا کے آگے نہ صرف گھٹنے ٹیکتا دکھائی دیتا ہے بلکہ اکثر مقامات پر بے بس بھی نظر آتا ہے جبکہ امریکہ کی معیشت کے لیے یہ کورونا کسی بھی ڈرون حملہ سے کم نہیں ہے۔
ایک اور تھیوری روز بروز زور پکڑتی دکھائی دیتی ہے کہ اس کورونا نے سب سے زیادہ شکار مسیحیوں کو بنایا ہے اور اس کے بعد دوسرا نمبر مسلمانوں کا ہے۔ دونوں کا سماجی اور اقتصادی ڈھانچہ نہ صرف ناقابل تلافی نقصان کا شکار ہے بلکہ مذہبی اجتماعات اور سرگرمیاں بھی معطل ہو چکی ہیں‘ جبکہ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے کورونا کی تباہ کاریوں پر فراہم کی جانے والی معلومات شکوک و شبہات اور ابہام پر مشتمل دکھائی دیتی ہیں۔ اس تھیوری پر مزید پیش رفت کے بعد تفصیلی بات ضرور کریں گے جبکہ بھارتی میڈیا یہ واویلا بھی کر رہا ہے کہ یہ کیسا وبائی مرض ہے جو چین کے شہر ووہان سے اٹلی، سپین ، امریکہ، ایران، سعودی عرب، بھارت اور پاکستان تک جا پہنچا لیکن چین کے کسی ہمسایہ شہر میں وہ تباہ کاری کیوں نہیں ہوئی جس کا سامنا ووہان شہر کو رہا ہے۔ گویا یہ کوئی کنٹرولڈ وائرس ہے جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے ووہان سے باہر نہیں جانے دیا گیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ چین میں نہ تو کوئی نیا مریض سامنے آ رہا ہے اور نہ ہی کسی ہلاکت کی خبر آ رہی ہے۔
ہمارے ہاں کورونا گردی نا صرف جاری ہے بلکہ حکومت کی طرف سے مزید برے وقت کی خبریں دی جا رہی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کچھ معلوم نہیں‘ یہ وائرس کب ختم ہو گا‘ اس کے آگے ترقی یافتہ ممالک نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کا کیا حال ہو گا۔ انہوں نے تحریک انصاف کے امیدواروں کو مشورہ بھی دے ڈالا ہے کہ یہ ان کے لیے ایک نادر موقع ہے کہ وہ اپنے حلقے مضبوط کریں اور حکومتی اقدامات کا کریڈٹ ان کے کھاتے میں جائے گا۔ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے لیے وزیر اعظم کا یہ مشورہ اپنی جگہ صائب ہے‘ لیکن صورت حال تا حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ ووٹ کی پرچیاں، قیمے والے نان اور بریانیاں لے کر عوام کے پیچھے بھاگنے والے آج برسر اقتدار آ کر مشکل کی اس گھڑی میں کہیں نظر نہیں آ رہے۔ ارباب اقتدار و اختیار ہیں کہ ویڈیو لنک سے باہر نہیں آنے کو تیار نہیںکہ عوام کو لگنے والا وائرس کہیں انہیں نہ لگ جائے۔
انصاف سرکار نے کورونا سے نمٹنے کے لیے ٹائیگر فورس کی بھرتی شروع کر دی ہے اور چھ لاکھ سے زائد ٹائیگر اپنی رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔ کورونا سے بچائو اور عوام کی بحالی کے لیے یہ ٹائیگرز کیا کریں گے اور ان کا دائرہ کار کس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے اس کے باقاعدہ ایس او پیز تاحال سامنے نہیں آئے ہیں؛ تاہم خبر ملی ہے کہ ان ٹائیگرز کے لیے ڈبل کیبن اور دیگر لگژری گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کام شروع ہو چکا ہے اور کافی بڑی تعداد میںگاڑیاں اکٹھی بھی ہو چکی ہیں۔ ان گاڑیوں کے کرایہ کی خطیر رقم یقینا ملک و قوم کے پیسہ سے ہی ادا کی جائے گی جبکہ ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر محکموں کی گاڑیاں بھی اسی کام میں لائی جا سکتی تھیں۔ اسی طرح وزراء، ارکان اسمبلی اور دیگر حکومتی عہدے داران کے گھروں پر موجود اضافی گاڑیاں کس دن کام آئیں گی؟ ممکن ہے کہ یہ ٹائیگرز صرف کرائے پر حاصل کی جانے والی لگژری گاڑیوں پر ہی سفر کرنے کے عادی ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے سے دستیاب سرکاری گاڑیوں پر بیٹھنے اور سفر کرنے کی انہیں کسی ڈاکٹر نے پرہیز بتائی ہو۔
اسی طرح انصاف امداد پروگرام کے تحت دیہاڑی دار مستحقین کے لیے ایک ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں ۔ خدا کرے کہ یہ خطیر رقم ان دیہاڑی لگانے والوں سے محفوظ رہے جو ایسا کوئی فنڈ اور کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سیلاب ہو یا زلزلہ... کوئی حادثہ ہو یا سانحہ... کوئی ریلیف فنڈ ہو یا پیکیج... ہاتھ کی صفائی دکھانے والے ہاتھ صاف کر ہی جاتے ہیں۔ انصاف سرکار اگر واقعی عوام کو کورونا ایمرجنسی میں کوئی ریلیف دینا چاہتی ہے تو ٹائیگر فورس بنانے کی بجائے فوری طور وسیع تر قومی مفاد میں بلدیاتی ادارے بحال کرے عناد اور بغض کی سیاست ایک طرف کر کے صرف عوام کو درپیش بد ترین مسائل اور آنے والے کڑے چیلنجز کا احساس کرے۔ بلدیاتی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کے پاس وہ تمام میکنزم موجود ہے جس کے تحت کورونا ایمرجنسی میں عوام کو ریلیف کے ساتھ ساتھ جملہ سہولیات بھی پہنچائی جا سکتی ہیں۔ ان اداروں کی موجودگی میں ٹائیگر فورس کا قیام اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کی خطیر رقم کا بوجھ ملک و قوم پر ڈالنا ناقابل فہم ہے۔
کورونا کی تباہ کاریاں، معاشی بد حالی اور حکمرانوں کی ترجیحات کا رونا تو اب روز کا رونا بنتا چلا جا رہا ہے۔ اس موقع پر انسانیت اور درد مندی کے حوالے سے چند ضروری معلومات شیئر کرتا چلوں کہ لاک ڈاؤن اور کاروباری زندگی معطل ہونے کے بعد تھیلیسیما کے معصوم مریض بچے خون کی بوند بوند کو ترس گئے تھے۔ ایسے میں صدر مملکت جناب عارف علوی سندس فائونڈیشن کے اسلام آباد سینٹر جا پہنچے اور اس موقع پر آئی جی اسلام آباد اور چیئرمین پاکستان بیت المال کو تاکید کی کہ انہیں خون کی فراہمی میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔ دعوتِ اسلامی کے امیر مولانا الیاس قادری نے ہنگامی طور پر اپنی مجلس شوریٰ کا اجلاس بلایا اور ہدایت کی کہ وہ زیر علاج بچوں کو بلا تاخیر خون کے عطیات فراہم کریں۔ اب تک 66 بلڈ کیمپ فنکشنل ہو چکے ہیں اور ملک بھر میں مصروفِ عمل فاؤنڈیشن کے 6 سینٹرز میں خون کا عطیہ دینے والوں کا تانتا بندھ گیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق بھی حصہ ڈالنے فائونڈیشن کے لاہور سنٹر پہنچے۔ جماعت اسلامی یوتھ نے بھی خون کے عطیات دیے۔ راولپنڈی پولیس کے سربراہ احسن یونس پہلے ہی اپنے جوانوں اور افسران سمیت سرگرم ہیں۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر شعیب دستگیر نے تمام ضلعی افسران کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ان معصوم بچوں کو کسی صورت خون کی کمی نہیں آنی چاہیے۔ انہوں نے بے وسیلہ اور مستحق افراد میں راشن تقسیم کرنے کے لیے خطیر رقم پر مشتمل فنڈ بھی قائم کیا ہے اور سب اس کارِ خیر میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ یہ فنڈ 20 ہزار خاندانوں کو راشن کی سہولت گھر تک پہنچائے گا۔ اسلام آباد پولیس کے آئی جی عامر ذوالفقار تو ایک سال سے اس کارِ خیر میں مستقل حصہ ڈال رہے ہیں اور انہوں نے اس مشکل گھڑی میں بھی یہ حصہ کم نہیں ہونے دیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کا عملی تعاون اور نیک خواہشات بھی قابلِ ذکر ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف اور نرسز کے شانہ بشانہ فرنٹ لائن پر کورونا سے لڑنے والے پولیس افسران اور فیلڈ فورس کا مورال بلند کرنے کے لیے وارڈنز، سب انسپکٹر، انسپکٹر اور ڈی ایس پی تک ترقی کے منتظر 317 افسران کا پروموشن بورڈ منعقد کرکے آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ بی اے ناصر اور ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ اشفاق خان سمیت ان کی تمام ٹیم نے کورونا ایمرجنسی کو عذر بنائے بغیر ترقیاں کرکے اور ان سبھی میں ایک نئی روح پھونک کر ثابت کردیا ہے کہ کورونا ایمرجنسی میں بھی روزمرہ کے فرائض بخوبی سرانجام دیئے جاسکتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved